چائے ہے میری چاہ
یار اس شہر میں چائے پانی کے سوا کوئی کام ہوتا بھی ہے؟
فیصل بھائی یہ چائے کے نام کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور صرف اس بات کو شہر تک محدود کر کے تم نے اس شہر کو بدنام کرنے کی اک گھناؤنی سازش کی ہے مرے بھائی صرف شہر نہیں پورے ملک کہئے۔ چائے ایک معزز شے ہے اس کے اس طرح کے بے جا استعمال کے میں سراسر خلاف ہوں۔
کیا مطلب ہے تمہارا۔
میرے لئے چائے صرف چائے نہیں بلکہ اس کے بہت سارے مطلب ہیں، جیسے، آرام، سکون، تسلی، بھروسا، دوائی، امید، دوستی، وقت، حسرت، خوشی، پیار، دوستی، محبت، عشق، بس یوں سمجھئے کہ میں چائے کو ضابطہ حیات سمجھتا ہوں۔
دیر تک جاگنا ہو تو چائے، پڑھنا ہو تو چائے، صبح اٹھتا ہوں تو چائے، دفتر کے لئے نکلتا ہوں تو چائے، دفتر پہنچ کر چائے، لنچ کے بعد چائے، شام میں چائے، سردی ہوتو چائے گرمی ہو تو چائے، سر میں درد ہو کہ پیٹ میں دونوں صورتوں میں چائے، یقین کر میں تو ہر بیماری کا علاج بھی چائے ہی سمجھتا ہوں اس کے بعد کوئی دوا۔
بھائی اتنی چائے صحت کے لئے ٹھیک نہیں، گرین ٹی بھی پی لینی چاہیے،
یار گرین ٹی پینے سے صرف گھر میں گرین ٹی کم ہوتی ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے بقول مفتی صاحب جیسے کسی لایعنی میں پڑ گئے ہیں کوئی حاصل نہیں۔
بول بول کر تھک گیا، پانی منگواؤں؟
جب پینا ہی ہے تو چائے کیوں نہیں۔
ایمی تمہیں پتہ ہے ہم پاکستانی 120 ارب کی چائے پی جاتے ہیں یار، یعنی کم و بیش 900 کپ سالانہ فی بندہ۔ چھوٹے بچوں کو اور جو نہیں پی رہے اگر انہیں ہٹا دو تو یہ اعداد و شمار اور بڑھ جاتے ہیں؟
فیصل بہت دکھ ہوا یہ جان کر کہ لوگ چائے نہیں پیتے۔
یار تمہیں اس اعداد و شمار پہ کوئی دکھ نہیں۔
یار میری چائے اس ملک کی معیشت پہ اتنی بھاری نہیں مجھے سکون سے چائے پینے دے۔
کیا واقعی چائے اتنی لازمی چیز ہے؟
بھائی اس کا انڈائریکٹ اثر بھی بہت ہے؟
انڈائریکٹ مطلب؟
مطلب یہ کہ چائے خود تو نہیں مگر کوئی کھانے کا نسخہ ہو یا دوائی استعمال کرنے کی ترکیب سب جگہ یہی لکھا ہوتا ہے ایک چائے کا چمچہ یا دو چائے کے چمچے، چائے خود تو نہیں مگر یہ انڈائریکٹ دیکھو کتنا کام آ رہی ہے، اب اسے پوری مصالحہ جات کی صنعت اس لفظ کی مرہون منت ہی رہی۔
ریسیپی سے یاد آیا تمہاری نظر میں چائے کا کوئی نسخہ ہے۔
فیصی بھائی چائے کے لئے پتی فرض کی حیثیت رکھتی ہے، دودھ یا پانی کو واجبات میں جانیے اور چینی مستحب کا درجہ رکھتی ہے۔ ویسے جس طرح نارمل چائے سب کے ہاں ہی بنتی ہے نسخہ تو کم و بیش وہی ہے مگر آج کل روسٹڈroasted چائے کا رواج زور پکڑ رہا ہے، بہت ہی کوئی عمدہ چائے بنتی ہے بھائی لیکن اس میں چینی کی حیثیت وجوب کے درجے میں ہے۔ جو چائے ہم پیتے آرہے ہیں اس میں دودھ و پانی دونوں ہی عوام الناس میں مستعمل ہیں، چائے اور پانی کی آمیزش سے ہی غالباً چائے پانی نے زور پکڑا ہے۔
عجیب بات ہے ایمی یہاں دودھ میں دودھ صحیح نہیں ملتا ہمیں چائے میں دودھ چاہیے۔
یار برصغیر گندمی رنگت پہ فریفتہ ہے اس لئے چائے میں دودھ اچھا لگتا ہے۔ بقول شاعر
جان لیوا تھا اس کا سانولا رنگ
اور ہم چائے کے شوقین بھی تھے
صحیح کہہ رہے ہو میرا ایک دوست تھا اسے بیڈ ٹی کی عادت پڑ گئی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بیڈ ٹی سے کیا ملتا ہے تمہیں اچھی طرح ہاتھ منہ دھوکر چائے پی لو۔
تو نواب صاحب کہنے لگے شیر منہ نہیں دھوتے۔
میں نے اسے یہی کہہ کر بات ختم کردی کہ غور سے دیکھنا کبھی منہ تو گدھے بھی نہیں دھوتے۔
تجھے پتہ ہے میرا اک دوست تھا ان کے ہاں چائے پلانے کا ایسا رواج تھا کہ الامان الحفیظ، رشتہ لے کر آنے والوں کو اس کی امی رشتہ دیں یا نہ دیں چائے ضرور دیتی تھیں، وہ کہتا تھا کہ اسے ایسا لگتا ہے کہ قیامت والے دن بھی اماں کہیں گی فرشتے آرہے ہیں جاؤ چائے کا انتظام کرو۔
یہ چائے کے ساتھ بسکٹ کا کیا جوڑ ہے؟
یار فیصی بسکٹ تو پھر قابل بھروسا ہے مگر یہ جو پاپے ہیں یہ ساری چائے پی جاتے ہیں ان کے ڈبونے کے بعد چائے اتنی بھی میسر نہیں رہتی کہ کچھ اور ڈبو سکیں۔ ویسے ڈبونے سے یاد آیا چائے میں بسکٹ گرنے کا غم بچپن سے آج تک جوں کا توں ہے۔
ویسے ایمی واقعی چائے ہمارے معاشرے کا لازم و ملزوم حصہ ہوتا جا رہا ہے۔ اک وقت تھا یہ بات مشہور تھی کہ شاعر شراب کے بغیر شاعری نہیں کر پاتے اور آج کل چائے کے بغیر۔ ویسے یہ اچھا چلن ہے کم از کم مے نوشی سے تو بہتر ہے۔ اور تم دیکھو اس بات کو شاعروں نے پھر نبھایا بھی شاعری میں چائے کو باقاعدہ استعمال کیا اور عمدہ سے عمدہ اشعار کہے، چاہے وہ سنجیدہ ہو یا مزاحیہ۔
یہ شعر و تغزل ہی ہے یار چائے خانے آباد رہتے ہیں، اور تم تو میرے اشعار سنتے ہو تم سے بہتر کون جانتا ہے فیصل کہ شاعری سننے کے لئے چائے کتنی ضروری ہے۔
ہاں۔ برداشت ہوجاتا ہے تیرا شعر۔
خوب کہی بھئی ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ شاعری میں آ کر چائے اور شاعری دونوں ہی نکھر گئی ہیں شاعروں نے چائے کے اک اک انگ کو اجاگر کیا ہے، چائے بننے اور چائے پیش ہونے تک کے انتظار کو ، محبوب کے انتظار کی شدت سے کیسے جوڑا شعر دیکھو
نہیں ہے کوئی بھی امید تیرے آنے کی
میں اور چائے کو کتنا ابال سکتا ہوں
پتہ ہے اک بزرگ شاعر ہیں جو شاید دنیا میں آئے ہی مشاعروں کی صدارت کے لئے ہیں کم از کم میں انہیں کوئی دس، پندرہ سال سے اس مسند پہ براجمان دیکھ رہا ہوں وہ فرماتے ہیں اس وقت شعر و ادب کی محافل میں اچھا شعر ملے نہ ملے مگر اچھی چائے ضرور ملتی ہے۔
تو ایک نوجوان شاعر نے کہہ دیا سر تھوڑی سی ترمیم ہو جائے، اچھا شعر ملے نہ ملے آپ ضرور مل جاتے ہیں۔ بہت ناراض ہوئے اور اتنا ناراض ہوئے کہ چائے ادھوری چھوڑ گئے۔
بزرگ شاعر کو یاد کرتے ہم نے چائے ضرور ختم کی، کہ اس مشروب کی قدر ہماری گھٹی میں ہے۔


