صندلی ہواؤں کا دیس۔ میرا گاؤں
پچھلے ایک ہفتہ سے گاؤں میں بسرام ہے تو سوچا آپ کو اپنے گاؤں کی سیر کروائے دیتے ہیں۔ ہر گاؤں کی فضا ایک جیسی ہوتی ہے مگر جو چیزیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کو ممتاز کرتی ہیں وہ خاصی لطیفے کی بات ہے۔ میرا گاؤں بھی ایک ایسا ہی گاؤں ہے جہاں سے گزرتی پکی سڑک سبز لہلہاتی کھیتوں میں لیٹی پگڈنڈیوں پر رشک کرتی ہے۔ ایکا دکا گزرتی بس کا ہارن، چڑیوں کی مدھر چہچہاہٹ اور دوسرے پرندوں کی ملائم بولیاں سن کر، منہ چھپائے اپنی تقدیر پر نوحہ کرتا ہے۔
جہاں بچے کنچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور گڑیا کا بیاہ رچا کر رقص کرتے ہیں۔ کرکٹ کو افضل ترین کھیل تصور کرتے ہیں مگر تان پٹھو گرم اور گلی ڈنڈے پر ٹوٹتی ہے۔ جہاں عصر کے وقت سے شام تک بھٹی پر چاولوں اور چنے کے دانے بھوننے کا عمل جاری رہتا ہے اور دکان پر سبزی خریدنے کے لیے عورتوں کا جمگھٹا۔ اگر گاؤں کی عورتوں کو ایک یونی ورسٹی کہا جائے تو اس یونی ورسٹی کا سیمینار ہال یہی بھٹہی اور میٹنگ روم سبزی والی دکان ہے۔ گاؤں میں کیا حالات ہیں، کون سے موضوعات سر اٹھا رہے ہیں اور گھریلو زندگی کس ڈگر پر ہے، سب معاملات کی خبر آپ کو بھٹہی پر اور ان حالات سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے کے لیے مشورے سبزی والی دکان پر مل جائیں گے۔
یہ ہے میرا گاؤں، دو سو تیس گرم چولہوں کی بستی۔ چاروں سمت دور تک پھیلے سر سبز کھیت، ان کھیتوں میں کام کرتے کسان، کہیں کسی جانور کی آواز تو کہیں چراگاہوں میں چرتے مویشیوں پر جھولے لیتے پرندے۔ گاؤں کے آخری کونے پر کھڑے ہو کر مغرب کی سمت کا نظارہ ڈچ آرٹسٹ ونسنٹ ولیم وان گوگ کی لینڈ سکیپ پینٹنگز کا خام مواد محسوس ہوتا ہے۔ میرے گاؤں کی گلیوں کو کشادہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ اس کشادگی کو کوئی اور نام دیا جانا چاہیے۔
گلیوں سے گزرتے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ماں کی آغوش میں بیٹھے انسانیت کے آغاز کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسی آغاز کا خواب جب پانی میٹھے، مٹی کی خوشبو سے لتھڑی خوراک، چہرے روشن اور رشتوں میں جذبات کی گرمی ہوا کرتی تھی۔ گلیوں میں سے گزرتے چہروں پر ہیپاٹائٹس کے بجائے اپنائیت کا رنگ نظر آئے گا۔ پینڈو پن (دیہاتی پن) ہونا معصومیت کی علامت ہے مگر افسوس اسی بات کا ہے کہ یہ معصومیت ختم ہوتے جا رہی ہے۔ آئیے گاؤں کی سیر کرتے ہیں پہلے آپ کی ملاقات گاؤں کے کچھ کرداروں سے کرواتا ہوں پھر کھابوں کے ذائقے چکھیں گے۔
ہر گاؤں میں کچھ مخصوص کردار ہوتے ہیں جن سے کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، رونق کا سامان ہوتا رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک کردار فلاسفر شیدے کا ہے۔ ہر کام کا خود کو ماہر جاننا اور ہر معاملے پر اپنی رائے دینا اس کی گھٹی میں شامل ہے۔ دو لوگوں کے درمیان اگر کسی بات پر ٹھن جائے، اسے گالی گلوچ سے ہاتھا پائی تک پہنچانا اور آخر خود ہی صلح کے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنے آپ کو امن کا دائی قرار دینا فلاسفر شیدے کے کارناموں کی ادنی سی مثال ہے۔
ایک کردار چاچی رسولاں کا ہے، یہ کردار پنجابی فلموں کی چاچی تاڑکا سے دو چار ہاتھ آگے ہو نہ ہو کم ہرگز نہیں۔ گاؤں میں اگر کوئی خبر رساں ادارہ ہوتا تو چاچی رسولاں اس کی سی ای او ہوتی۔ کہانی کہنے کا فن اسے خوب آتا ہے، اور کہانی گھڑنے کی صلاحیت تو رب کی طرف سے ودیعت کردہ ہے۔ کس عورت کی اپنے خاوند سے چپقلش ہو تو بات کو طلاق تک لے جانا، اس کردار کا خاصا ہے۔ گاؤں میں کوئی بات اڑانا ہو تو اس کو بلاؤ اور چائے بسکٹ کھلا پلا کر بات بتا دو۔ رات تک ہر زبان پر وہ بات نہ ہو تو پھر چاچی رسولاں تو نہ ہوئی۔
ایک کردار ایسا بھی ہے جسے کسی سے کوئی غرض نہیں۔ نام ہے مسٹر پردیسی۔ جہاں بیٹھے گا وہاں دنیا کے فریبی، دھوکہ باز، ظالم، سفاک، بے وفا، کٹھور دل اور فانی ہونے کے قصے ایسے رقت انگیز لہجہ میں سنائے گا کہ آپ کا مرنے کو جی چاہے گا۔ اسی لمحہ آپ کو چرس بھرا سگریٹ پیش کرے گا اور کہہ گا ”آؤ! عالم بالا میں حوروں کا حسن دیکھنے چلیں۔“ ایسے ہی سات آٹھ لوگ حوروں کی تلاش میں گئے تھے مگر ابھی تک نہیں لوٹے۔
ایک اور بھی کردار ہے جو لوگوں کو حوروں کے فریب سے نکال کر خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر سکھانے میں سرگرم ہے۔ ہمارے گاؤں کی روایت رہی ہے کہ میٹرک کے امتحان کے دو چار پرچوں میں کمپارٹمنٹ نہ آنا، باعث شرم ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ کردار ہے جس نے اس روایت پر کاری ضرب لگائی اور روایت کو نئے دھارے پر ڈالنے کی جرات کی۔ اس کے لگائے گئے پودے برگ و بار لانے کے قابل ہو رہے ہیں۔
اور بھی کئی کردار ہیں جن کا ذکر پھر سہی اب ہم کھابوں کی طرف چلتے ہیں۔ ہمارا گاؤں اور چائے باہم مترادف ہیں۔ اگر کوئی شخص ہمارے گاؤں آئے اور چائے پینے سے انکار کر دے، اس کے آدمی ہونے پر شک ہوتا ہے۔ چائے کو افضل المشروبات کا درجہ حاصل ہے اور ہر گھر میں تین وقت اس کا پیا جانا خاندانی سنت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہمارے گاؤں کی برفی کی مثال نہیں۔ چالیس پچاس سال سے زائد عرصہ سے یہ برفی بنائی جا رہی ہے، اور علاقہ بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے گاؤں کی سڑک پر سے گزریں اور برفی کا ذائقہ چکھے بغیر آگے بڑھ جائیں تو سفر کی کہانی نامکمل رہتی ہے۔
گاؤں کے چاروں اطراف گائے بھینسوں کو رکھنے کے لیے جگہیں بنائی گئی ہیں جنہیں مقامی زبان میں ”ڈھاری“ کہتے ہیں۔ صبح صبح جب سورج پہلی انگڑائی لے رہا ہو خالص دودھ کی خوشبو چار سو پھیل جاتی ہے۔ کماد اور سرسوں کے کھیت سے گزرتی صندلی ہوا گنے کی مٹھاس اور سرسوں کی خوشبو کو فضا میں گھول دیتی ہے۔ درخت وجد کرتے ہیں اور پرندے زندگی کی خبر اڑاتے ہیں۔
رات کا منظر بیان سے باہر ہے۔ رات کے پہلے پہر کے اختتام سے قبل گاؤں پر نیند طاری ہو جاتی ہے۔ یہ نیند شہر لاہور کی نیند جیسی نہیں جہاں بوجھل چھت کے نیچے تھکے دماغ نیند کے منتظر صبح کو دفتر چل دیتے ہیں۔ گاؤں کی نیند میں تاروں بھرا آسمان، مستی بھری ہوائیں، ماں کی لوری، بلیوں کی آوازیں، کتوں کا رکھوالی کے لیے صدا لگانا اور گیدڑوں کے جوابی نعرے شامل ہیں۔ یہ ایسی نیند ہے جو انسان کو زمان و مکان سے ماوراء خوابوں کے دیس لے جاتی ہے۔
یہ تھی میرے گاؤں کی ایک جھلک، اور کچھ لکھنے کا ارادہ تو ہے مگر یہ ہوائیں اور پرندوں کے گیت اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ ہمیں رخصت دیجئے اور آپ اس منظر کو اپنے اوپر طاری کریں اور لطف لیں۔
(نوٹ: تمام کرداروں کے نام فرضی ہیں )


