کیا معاشرہ ایک خاتون کے خفیہ نکاح اور بچوں کو برداشت کر سکتا ہے


کچھ واقعات ضمیر پر بوجھ ہوتے ہیں، بطور لکھاری انہیں شیئر کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہمارا سماج کچھ اس طرح کا ہو چکا ہے کہ جہاں پر منافقت کا راج ہے۔

اپنی اناؤں، فنکاریوں اور ڈرامہ بازیوں کو تسکین پہنچانے کے لیے مذہبی گیٹ اپ اختیار کر لیا جاتا ہے تاکہ مستقل طور پر معاشرے میں ایک مستند سند حاصل ہو جائے، جس کی بنیاد پر آپ جو بھی کرنا چاہیں اسے مذہبی تحفظ حاصل ہو جائے۔ لباس انسانیت میں چھپے ان مکروہ کرداروں کو بے نقاب کرنا ضروری ہوتا ہے جو اپنے چہروں پہ ہر وقت پارسائی کا مکھوٹا چڑھائے رکھتے ہیں اور بات بات پہ مذہبی حوالے دینا اور لوگوں کو حلال و حرام کی تمیز سکھاتے رہنا ان کا لازمی سا فریضہ بن جاتا ہے۔

اس قسم کی پارسائی کو ”مورل سنوبری“ کہا جا سکتا ہے۔ کھلے لفظوں میں کہیں تو یہ ایک طرح کا ”زعم یا وہم“ ہوتا ہے جو ایک نارمل انسان کی تمام تر مثبت ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کا ستیا ناس کر کے رکھ دیتا ہے۔

یہ ایک طرح کا ذہنی عارضہ ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ عادت میں ڈھل جاتا ہے۔

انسان خود کی تشکیل کردہ باؤنڈری یا پارسائی کے دائرے کا اسیر ہو جاتا ہے، خود کے قائم کردہ اسی پارسائی کے دائرہ سے باہر اسے سب مایا، فضول اور بے کار سا دکھنے لگتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے اسی پارسائی کے زعم میں اپنی زندگی برباد کر ڈالتے ہیں

” ہم جس راستے پہ چل رہے ہیں بس وہی صراط مستقیم ہے باقی تمام راستے گمراہی کے ہیں اور جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں“

بدقسمتی سے اس قسم کے تفاخرانہ سے رجحانات کے تانے بانے مذہب سے جا ملتے ہیں۔

ہر مذہب یا فرقہ کے ماننے والوں کا دوسرے مذہب یا فرقے کے متعلق یہی خیال ہوتا ہے اور وہ اس موقف پر قائم رہتے ہوئے اسی پارسائی کے زعم کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

اس قسم کے لوگ فطرت کے برعکس جانے کی کوشش کرتے ہیں، فطرت کے بندوبست کو سمجھنے کی بجائے اس پر قدغنیں لگانے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور زندگی کی حقیقی خوبصورتیوں کو پس پشت ڈال کر بدصورتیوں میں اضافہ کر لیتے ہیں اور خود کو ایک ایسے مکروہ سانچے میں ڈھال لیتے ہیں کہ کردار بھی سڑاند زدہ ہو جاتا ہے۔

پھر یہی مکروہ اور بدصورت کردار معصوم سی پانچ سالہ زینب کے جسم کو بھنبھوڑ نے کے بعد قتل کرنے، چھوٹے اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، قبروں سے مردہ خواتین کی لاشیں نکال کر جنسی بھوک مٹانے، بقول حریم شاہ خواجہ سراؤں اور بکریوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، برقع میں ملبوس خاتون کی پشت میں انگلی ڈالنے کی ہوس سے لے کر موٹر سائیکل کے سائلنسر میں اپنا عضو تناسل تک گھسانے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

جس ”نگاہ“ کو یہ تسبیحات و عملیات یا ریاضت و عبادت کے ذریعے سے متقی و پرہیزگار بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ساری زندگی اسے بہلاتے رہتے ہیں مگر وہ پھر بھی ”سوراخ“ کی ہی متلاشی رہتی ہے۔

اسی لیے تو اس قسم کے پارساؤں میں جنسی تمیز تک ختم ہو جاتی ہے۔
اس بدبودار معاشرے میں ایسا بہت کچھ ہوتا ہے جسے سانجھا کرنا بہت ضروری ہے۔

ہمارا خاندانی پس منظر انتہائی مذہبی ہے اور ہم ”دیوبند اسکول آف تھاٹ“ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذہبی تعلیمات ہمارے خاندان کے بڑوں میں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہیں، بات بات پہ دینی حوالے دینا اور خود کے مسلک کو برحق جاننا، دوسروں کو گمراہ سمجھنا دنیا بھر کے مذہبیوں کی طرح ہمارے بڑوں کا بھی یہی طرہ امتیاز ہے۔ خاندان کے جس گھر کا میں حوالہ دینے جا رہا ہوں وہ بھی انتہائی مذہبی، پنج وقتہ اور با شرع ہیں لیکن زندگی کی رنگینیوں کو انجوائے کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔

بچیوں کی شادی تو انتہائی سادگی، برقی قمقموں اور باجوں گاجوں سے بچتے بچاتے سیلیبریٹ کی گئی۔
اگر کسی نے ٹوک بھی دیا کہ بھائی! اتنی بھی کیا سادگی؟
تو انہیں یہ کہہ کر کے چپ کروا دیا گیا۔
” میاں یہ سب اللے تللے شریعت میں حرام ہیں“
لیکن جب بیٹوں کی باری آئی تو سب کچھ لپیٹ لپاٹ کے ایک طرف رکھ دیا۔

رنگ برنگے برقی قمقموں کی بہاریں، چوکس اور خوبرو خواجہ سراؤں کا ڈانس اور بہترین قسم کے بینڈ کے علاوہ پٹاخوں کا زبردست بندوبست تھا۔

پوچھنے والوں نے پوچھ ہی لیا کہ میاں! کیا بیٹوں کی بار شرعی اصول بدل گئے ہیں جو اتنا ہنگامہ برپا ہے؟

خاندان کے بڑے بزرگ نے ہنستے ہوئے کہا
” بھائی! اب ہماری کہاں چلتی ہے؟ بچے اب اپنی مرضیاں کرتے ہیں“
اب اس منافقت اور دہرے معیار کا کیا کریں؟

بچیوں کی بار تو بھائیوں کی عزت بھی بیدار ہو جاتی ہے اور خاندانی بڑوں کی عزت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے اور جیسے تیسے اپنے سر سے بس بوجھ اتار کر سکھی ہو جانے کی جلدی ہوتی ہے اور پھر بھائیوں کے لیے میدان بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ وہ جو کرنا چاہیں کریں کیا فرق پڑتا ہے؟

عزت کا امام ضامن تو بچیوں کے ساتھ بندھا ہوتا ہے بیٹے تو اس سے مبرا ہوتے ہیں۔

تمام خاندان کی عزتیں اور عصمتیں تو بیچاری بچیوں کے ناتواں کندھوں پر ٹکی ہوتی ہیں اور ان کا اٹھایا ہوا کوئی بھی قدم خاندان والوں کی عزت کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

لیکن حیرت ہے بیٹے کے کچھ بھی کر لینے سے خاندان والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ایسا کچھ ہو بھی جاتا ہے تو سب سے پہلے خاندانی بزرگ ہی اپنے بگڑے نواب یا شہزادے کو پروٹیکشن دینے کی کوشش کرتے ہیں، یہی تحفظ بچیوں کی بار کہاں رخصت ہو جاتا ہے؟

کیا غلطی صرف بیٹے کر سکتے ہیں بیٹی سے سرزد نہیں ہو سکتی؟

اب آگے سنیں اور منافقت کا مزید قریب سے مشاہدہ کریں۔ سب بچوں کی شادی کے بعد ایک بیٹا ایسا بھی تھا جو سب سے بڑا تھا، خاندان کے بڑوں کے اصرار کے باوجود وہ شادی کرنے پر رضامند ہی نہیں ہوتا تھا، جب بھی اسے شادی کا کہا جاتا تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوتا کہ میرا تعلیمی اور جاب کیریئر ایک ساتھ چل رہا ہے، جب مناسب سمجھوں گا شادی کر لوں گا۔

خاندان والوں نے بڑی بڑی باتیں کیں، دوست احباب نے تو یہ تک کہہ ڈالا
” بھیا! تمہیں کوئی جنسی مسئلہ تو نہیں“ ؟

ان سب باتوں سے بھی وہ بے اثر رہا، وضع قطع کے لحاظ سے با شرع، زندگی مذہبی حوالوں سے بھرپور ہونے کے علاوہ زندگی کے ٹشن مشن بھی سارے چلتے رہے۔

ایک طویل عرصہ کے بعد موصوف نے شادی کے متعلق اپنی چپ کا روزہ بالآخر توڑ ہی دیا۔

کہنے لگا کہ شادی تو میں نے بہت عرصہ پہلے کر رکھی تھی جو کہ خفیہ تھی، جس کا میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا، اس میں سے میرے چار بچے ہیں۔

خاندانی بزرگ پہلے تو سن کر سٹپٹائے اور کہنے لگے کہ تم نے یہ خفیہ چکر کیوں چلایا؟

تو موصوف نے عذر کے طور پر وہی مخصوص پارسائی والا جواب دیا فرمانے لگے کہ میں نے نیکی کی ہے، عورت امریکن نژاد ہے، اس کے بطن سے تین بچے ہوئے تھے اور کسی وجہ سے شوہر نے طلاق دے دی۔ وہ پاکستان آ گئی اور ملازمت کرنے لگی، اسے مردانہ سہارے کی ضرورت تھی تو میں نے اسے بطور ہمدردی اپنا کندھا پیش کر دیا۔ اب تین بچے اس کے ہیں اور ایک بچہ میرا ہے۔

خاندانی بزرگ نے کہا کہ بیٹا وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن سماج کو کیا منہ دکھائیں گے؟

موصوف نے حل تجویز کیا کہ ہم بارات کی صورت میں اسے باعزت گھر لے آتے ہیں، زمانے والے باتیں کرتے ہیں تو کرتے رہیں کیا فرق پڑتا ہے؟

ظاہر ہے بڑوں نے تجویز تسلیم کر لی، یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے کسی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

مگر ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی کچھ بیٹی کر لیتی اور بالکل اسی طرح کا معاملہ اسے بھی درپیش ہوتا تو کیا خاندانی بزرگ اسے بھی تحفظ دیتے اور باعزت طریقے سے گھر آنے کی اجازت دیتے؟ کیا بیٹی کے عذر کو بھی وہی مقام ملتا جو بیٹے کے عذر کو ملا؟

کیا انہی بھائیوں کے ضمیر اسی طرح سے شانت رہتے جس طرح سے اپنے بڑے بھائی کی داستان سن کر کے پرسکون رہے اور کھلے دل سے بڑے بھائی کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے باعزت طریقے سے گھر لے آئے؟

کیا معاشرہ مرد اور خاتون کے گناہ کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟
غلطی تو غلطی ہوتی ہے چاہے کوئی بھی کرے مگر ایک کی قابل برداشت اور دوسرے کی ناقابل برداشت کیوں؟

Facebook Comments HS