امیر بلوچستان کے غریب لوگ
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچستان کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے اور یہ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس کی سرزمین میں معدنیات کی کمی نہیں ہے۔ اللہ پاک نے بلوچستان کو سونا، چاندی، تیل، کوئلہ اور دیگر معدنیات سے نوازا ہے۔ اب تک تقریباً چالیس انتہائی قیمتی زیر زمین معدنیات کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں۔
مگر افسوس اس کے باوجود امیر بلوچستان کے غریب عوام غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یو این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق سر زمین بلوچستان سب سے پسماندہ اور غریب ترین صوبہ ہے۔ اگر وسائل کی بات کی جائے تو اس سرزمین میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن اس سرزمین کے لوگ تمام وسائل اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان سے نکلنے والے وسائل سے وفاق سردار اور کمپنیاں ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بلوچستان کو اس کے اپنے ہی خزانوں سے محروم رکھا گیا ہے اور رکھا جا رہا ہے۔ اس سرزمین کے وارث ہر چیز سے محروم ہیں چاہے وہ تعلیم، گیس یا دیگر وسائل کے شکل میں ہو۔
پاکستان کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ سرزمین بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں ہے اور سوئی کا گیس پاکستان میں ہر جگہ پہنچا دی گئی ہے لیکن جہاں سے یہ گیس نکلتی ہے وہاں کے لوگ اب تک گیس سے محروم ہیں۔
دوسری طرف گوادر کو سی پیک کا دل/جھومر کہا جاتا ہے لیکن ترقی پنجاب میں ہو رہا ہے۔ گوادر کے عوام کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا اندازہ کوئی لگا نہیں سکتا۔ گوادر کے عوام کو صاف پانی پینے کے لے میسر نہیں ہے۔ پہلے تو ہر طرف گوادر ہی گوادر تھا۔ گوادر اب سنگاپور یا دبئی بنے گا۔
اگر تعلیم کی بات کی جائے تو تعلیم قوموں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جن قوموں نے آج ترقی کی ہے تو تعلیم کی وجہ سے۔ بد قسمتی سے ہر چیز کی طرح بلوچستان کے لوگ اس سے بھی محروم ہیں۔ بلوچستان میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں دی جاری ہے۔ بلوچستان میں بیشتر سکولوں کی قلت ہے۔ بلوچستان کے بچوں کو پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن افسوس امیر بلوچستان میں سہولیات نہ ہونے کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔
بلوچستان کی ہسپتالوں کی بات کی جائے تو ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور دوائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کسی کو ایک چھوٹی سی بیماری ہو تو اسے کراچی جانا پڑتا ہے بلوچستان میں اسپتال نام کی چیز نہیں ہے۔
بلوچستان کے عوام کو تو وسائل سے محروم کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان کے غریب مظلوم عوام کی گزر بسر اور زندہ رہنے کا آخری سہارا بارڈر تھا، لوگوں کے گھر کا چولہا بارڈر کے ذریعے سے چلتا۔ لوگوں کا بند کرنا کسی ظلم و جبر سے کم نہیں ہے۔ پورے بلوچستان کا ہر مزدور طبقہ نان شینہ کا محتاج ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ باڈر کے ذریعے اپنے بچوں کو پڑھاتے تھے اب یہ بھی وسائل کی طرح بلوچستان کے غریب عوام کو نصیب نہیں۔


