محبت اب صرف قلبی نہیں رہی
محبت ایک ہونے کا نام ہے۔ محبت سب کچھ تیاگ کر محبوب کو اپنا بنانے کی لاشعوری کوشش کا نام ہے۔ محبت قید نہیں بلکہ آزادی کا نام ہے۔ یہ صرف زبان سے کہنے کا نام ہی نہیں بلکہ عمل کر کے دکھانے کا نام ہے۔
محبت میں برا کچھ نہیں ہوتا، سب کچھ اچھا ہی لگتا ہے۔ ہر ٹھوکر، اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ محبت نہیں ہوتی جس میں بدلے کی امید ہو، وہ تو فقط ایک معاہدہ ہے جس میں معاوضے کی غرض شامل ہے۔
احمد جاوید صاحب کہتے ہیں، ”محبت وہ کیفیت ہے جو دل کو گلے پر دھڑکنے پر مجبور کرے۔“ مزید کہتے ہیں، ”محبت جبلتوں کو سپریچوالائز کرنے والی قوت ہے۔“
”محبت اپنے آپ کو قربان بلکہ مائل اور راغب کرنے والی نعمت ہے۔“
صرف قلبی سمجھی جانے والی محبت اب شعوری بن چکی ہے۔ محبت اندھی ہوتی ہے، محبت دیوانگی کا نام ہے، اب یہ سب باتیں غلط ثابت ہونے لگی ہیں۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق میں محبت اور دماغی عوامل کے باہمی تعلق کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی سائنسی تحقیق ہے جس میں یہ معلوم کیا گیا کہ دماغ کیسے محبوب کو مرکز کا مرکز اور سینٹر آف اٹینشن بناتا ہے۔
یہ تحقیق بنیادی طور پر Brain ’s behavioral action system (BAS) اور رومانوی محبت کے درمیان رابطے کا احاطہ کرتی نظر آتی ہے۔
اس کے لئے سائنسدانوں نے 1556 ایسے بالغ نوجوانوں کو لیا جو کسی طور سے محبت میں گرفتار تھے یا کسی کے لئے احساسات رکھتے تھے یا جو اپنے پارٹنرز کے بارے میں جاننے کے لیے متجسس تھے۔
اس پر انہوں نے یہ دریافت کر لیا کہ ایسے لوگوں میں دماغ بالکل الگ طریقے سے کام کرتا ہے اور محبوب کو ان کی آنکھوں کا تارا بنا دیتا ہے۔ ان میں سے ایک محقق کا کہنا تھا رومانوی محبت انسان کے برتاؤ کو اور جذبات کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
ہمارے جسم میں خارج ہونے والے ایک خاص ہارمون Oxytocin جسے love hormone بھی کہا جاتا ہے۔ جیسے ممتا کی محبت بچے کے لئے بے انتہا اسی ہارمون کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ہارمون خون میں شامل ہو کر پورے شریر میں اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے۔
اسی طرح سے پیار میں گرفتار شخص کے جسم میں آکسی ٹاکسن اور دماغی خلیوں سے خارج ہونے والا کیمیکل ڈوپامین (خاص کیمیائی مادہ جو دماغی خلیوں سے تبھی خارج ہوتا جب انسان محبت میں گرفتار ہوتا ہے تسکین حاصل کرتا ہے ) جب مل جاتے ہیں تو دماغ پر اثر ہوتے ہیں اور مثبت احساسات کا باعث بن جاتے ہیں۔
یوں ہمارا دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے، کیا مستقبل میں محبت اغراض و مقاصد سامنے رکھ کر کی جائے گی؟ کیونکہ دماغ اس پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔


