پانی پر لکیر (افسانہ)


کتاب پر رملا کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ الفاظ دھندلا چکے تھے۔ آج درختوں پر کوکتی کوئل کی آ واز بھی پر سوز تھی۔ ہر طرف اداس فضا نے پر پھیلا رکھے تھے۔ رملا کا دل بھنور میں پھنسی ناؤ کی طرح ڈوب رہا تھا۔ اسے ہر طرف لالچ اور خود غرضی کا لبادہ اوڑھے لوگ نظر آ رہے تھے۔

رملا کے لیے ساتواں پرپوزل آیا تھا جو کم جہیز کی نذر ہو گیا تھا۔ رملا کے غریب والدین لڑکے والوں کے جہیز کے مطالبات پورے کرنے سے قاصر تھے۔ اس غربت میں گھرکا چولھا عزت کے ساتھ جل جائے تو وہ ہی غنیمت تھا۔ لڑکے والوں کی اتنی بڑی ڈیمانڈ پوری کرنا رملا کے والد کے بس میں نہ تھا۔ اس طرح آ نے والا ہر سال رملا کی عمر میں اضافہ کرتا گیا۔

جہیز میں کوئی ہنر، تعلیم، حسن یا کام کا مطالبہ نہیں آ یا تھا۔ آسمان کو چھوتے ہوئے مطالبات تھے جو رملا کے والدین کے بس کی بات نہیں تھی۔ رملا ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی، جو اپنی ہر کلاس میں نمایاں پوزیشن ہولڈر تھی۔ لیکن ہر آنے والا رشتہ اس کی تعلیم سے کم، غربت کو زیادہ مد نظر رکھتا تھا۔ سوچتے رملا کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔ سماج کی اس روش اور رسم کی آگ میں جھلستے اور اپنے ساتھ جنگ کرتے کئی سال بیت گئے تھے۔

وہ سوچتی تھی، ”کاش! میں پیدا ہی نہ ہوتی یا پھر لڑکا ہوتی۔ کتنی بے حسی ہے؟ کتنی بے بسی ہے؟ میں اپنے والدین کے لیے آزمائش سے کم نہیں ہوں۔ اوہ میرے خدا! کیا کروں؟ کتنی بے بس ہوں میں؟“ مگر اس کے سوچنے سے کیا ہو سکتا تھا؟

ایک دن اداسی کے جلتے سورج کے نیچے لان میں رملا بیٹھ گئی تھی۔ اس کے کانوں پر آواز گونجی:

”رملا کیا بات ہے؟ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو“ رملا نے خیالوں میں سے نکلتے دیکھا تو اس کا کلاس فیلو ہشام تھا۔

” کوئی بات نہیں“ رملا نے کہہ کر منھ پھیر لیا تھا۔

ہشام ایک امیر خاندان کا لڑکا تھا۔ وہ رملا کو پسند کرتا تھا لیکن اظہار محبت سے ڈرتا تھا۔ اگر رملا نے اسے ڈانٹ دیا یا اسے قبول نہ کیا تو وہ اسے کیسے برداشت کرے گا۔ اسی اندرونی محبت کو دل میں چھپائے ہشام اس کے ساتھ تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا۔ کافی عرصے بعد ہشام رملا کے پاس آیا تھا۔ اس نے پھر پوچھا:

”رملا آج کل کہاں ہوتی ہو؟ نظر نہیں آئی۔ گھر میں سب خیریت ہے نا؟ ، پریشان لگ رہی ہو؟“ ہشام کے سوالوں پر رملا نے صرف اپنی گھنی پلکیں اٹھائیں جن میں نمی کے بادل تیر رہے تھے۔ پپوٹوں میں سوجن، سرخ ڈورے صاف بتا رہے تھے کہ رملا کا دل اداس فضا میں گھر چکا ہے۔

ہشام بھی دیکھ کر بہت گھبرایا۔ کئی وسوسے اس کے دل سے گزرے تھے لیکن صحیح اندازہ لگانے سے قاصر رہا تھا۔ وہ رملا کے گھریلو حالات سے زیادہ واقف نہ تھا اور اسے صرف رملا سے دلچسپی تھی۔ اسے کسی اور سے تعلق نہ تھا۔ جب اس نے اپنی محبت کو آنسوؤں میں ڈوبا دیکھا تھا تو تلملا اٹھا تھا۔

”رملا کیا بات ہے؟ خاموش کیوں ہو؟ مجھ سے سب کچھ شیئر کر سکتی ہو؟“ ہشام نے ہمدردی سے کہا۔
”کچھ نہیں، کچھ نہیں۔ تم میرے مسئلے نہیں سمجھ سکتے“ رملا دھیمے لہجے میں کچھ مایوسی سے بولی۔
”کیوں نہیں سمجھ سکتا؟ ہم کلاس فیلوز ہیں۔ تم بتاؤ تو سہی۔“ ہشام نے اصرار کیا۔
”اس لیے کہ تم لڑکے ہو، تم با اختیار ہو“

رملا بولی۔ ساتھ ہی آنسو زمین پر گرنے لگے۔ ہشام کا اصرار بڑھا تو رملا نے اپنے بارے بتا دیا کہ اس کے والدین لڑکے والوں کے جہیز کے مطالبات پورے نہیں کر سکتے۔

ہشام جب رملا کے پاس سے اٹھا تو فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ جہیز کے بغیر رملا سے شادی کرے گا۔

ہشام کے والدین بھی روایتی والدین ہی تھے۔ انھوں نے ہشام کی ضد پر رملا کے گھر جانے کا وعدہ تو کر لیا تھا۔ مگر جب گھر کی سادگی اور غربت دیکھی تو ہشام کے والدین نے انکار کر دیا تھا۔ اور کہا تھا:

”نہ بیٹا ہشام، تم ہمارے اکلوتے بیٹے ہو۔ ہم برادری والوں کو کیا منھ دکھائیں گے۔ کن کنگلوں کے گھر بیاہ دیا ہے۔ بیٹے کوئی ہمارے بھی ارمان ہیں“

ہشام رملا کی محبت سے دستبردار ہونا بھی نہیں چاہتا تھا۔ وہ فیصلہ کر چکا تھا۔

”میں کسی بھی صورت میں رملا کو نہیں چھوڑوں گا“ یہ سوچ کر ہشام رملا کے پاس پہنچا اور کہا تھا۔ ” رملا ہم کورٹ میرج کریں گے“ کورٹ میرج کا سنتے ہی رملا چکرا کر رہ گئی تھی۔ والدین کا کیا قصور ہے جو ان کو اس دکھ سے گزاروں۔ رملا سوچتے ہوئے کہنے لگی تھی۔

”ہشام تم چلے جاؤ، مجھے دوبارہ کبھی نہ ملنا۔ کورٹ میرج پانی پر لکیر سمجھو“

ہشام اس کی طرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ چل پڑا تھا۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن کچھ نہ کہہ سکا تھا۔ رملا مٹی کا ڈھیر ہو چکی تھی۔

وہ رات رملا پر بہت بھاری اور طویل تھی۔ سوچتے سوچتے کئی پہر گزر گئے تھے لیکن نیند کہیں دور بسیرا کر چکی تھی۔ اس رات سوچتے ابدی نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔ وہ زندگی کی جنگ ہار گئی تھی۔ اذان کی آ واز سے رملا کی والدہ اٹھی تھی تو رملا کو نماز کے لیے آوازیں دیتی رہی تھی۔ رملا کی آنکھیں کھلی تھیں مگر وہ کسی اور دنیا میں پہنچ چکی تھی۔ اب اسے نہ کسی رشتے کی ضرورت تھی اور نہ ہی جہیز کی۔ وہ اب ہر شے سے بے نیاز ہو چکی تھی۔ جہیز کی وجہ سے سماج میں رملا کی زندگی بھی پانی پر لکیر بن چکی تھی۔

Facebook Comments HS