تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا احوال
پس منظر و بنیادی حقائق:
23 نومبر 2023 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے مبینہ طور پر 10 جون 2023 کروائے گئے پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کو منسوخ قرار دینے سمیت دوبارہ 20 دنوں کے اندر پی ٹی آئی کو دوبارہ پارٹی انتخابات کروانے کی ہدایت کی، جس پر عمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے 2 دسمبر 2023 کو پھر سے پارٹی انتخابات کروائے، لیکن الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے پارٹی الیکشن کمشنر، سیکٹری جنرل وغیرہ کا پارٹی آئین کے مطابق تعینات نہ ہونے اور پارٹی آئین کے مطابق الیکشن منعقد نہ کرنے جیسی مختلف اور بنیادوں پر ، دوبارہ منعقد کیے گئے پارٹی انتخابات کو نہ صرف کالعدم قرار دیا بلکہ الیکشن کمیشن ایکٹ کے دفعہ 215 ( 5 ) کے تحت پی ٹی آئی کو بلے کے انتخابی نشان سے بھی محروم کر دیا۔ اس حکم نامے کو پی ٹی آئی نے پشاور ہائی میں بذریعہ رٹ پٹیشن چیلنج کیا۔
بنیادی سوالات:
اس کیس میں عدالت کے سامنے بنیادی طور پر درج ذیل سوال حل طلب موجود تھے :
1: جب نا صرف الیکشن کمیشن کا ہیڈ آفس، بلکہ 2 دسمبر، 2023 کا چیلنج شدہ آرڈر بھی اسلام آباد میں ہی دیا گیا ہے، جہاں پشاور ہائی کورٹ علاقائی دائرہ اختیار نہیں رکھتا، تو کیا ایسی صورتحال میں پشاور ہائی کورٹ اس پٹیشن کو سن سکتا ہے؟
2: الیکشن کمیشن جو کہ ایک آئینی ادارہ ہے، کے احکامات عدالت میں زیر غور آ سکتے ہیں؟
3: کیا الیکشن کمیشن، آئین پاکستان یا الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کی چھان بین کرنے، اس پر اعتراض یا اس سے متعلق کوئی فیصلہ سنانے کا اختیار رکھتا تھا؟
تحریک انصاف کے وکلاء کے دلائل:
1: پی ٹی آئی (پٹیشنر/مدعی) کے وکلاء کے مطابق الیکشن کمیشن (مدعا علیہ) کا مذکورہ آرڈر آئین پاکستان کے آرٹیکل 17 میں درج سیاسی پارٹی کو بنانے یا اس کا حصہ بننے سمیت اس آئینی حق سے اخذ ہونے والے اور حقوق جیسے سیاسی پارٹی چلانا یا اپنے ووٹرز کی آسانی کے لئے مشترکہ انتخابی نشان کے حصول جیسے حقوق کی خلاف ورزی بھی کر رہا ہے۔ اس موقف کے حق میں PLD 1989 SC 66 اور PLD 1988 SC 416 کو پیش کیا گیا۔
2: الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے محدود دائرہ اختیار کی بنا پر پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات پر سوالات، اعتراضات اٹھانے یا اس کی چھان بین کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
3: چیلنج شدہ آرڈر میں چونکہ الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کے انعقاد سے انکار کے بجائے محض قانونی طور پر اختیار نا رکھنے والے اشخاص کی طرف سے پارٹی انتخابات کروانے کا دعوی کیا ہے، لہذا عدالتی نظائر میں تسلیم شدہ defective doctrine rule یعنی نتائج کو متاثر نہ کرنے والی سطحی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کی نظریہ کی بنا پر اس خلاف ورزی کو بھی معاف کیا جا سکتا ہیں۔
4: پی ٹی آئی کی طرح اور سیاسی پارٹیاں بھی پارٹی انتخابات نہیں کروا سکی لیکن الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف ایسا کوئی قدم نہ اٹھا کر ین صرف آئین پاکستان کے آرٹیکل 25، جو سب سے یکساں سلوک کرنے کی تلقین کرتا ہے، کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ یہ دوہرا رویہ مذکورہ آرڈر کا نیک نیتی سے پاس نہ ہونا بھی ثابت کرتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکلاء کے دلائل:
1: آئین کے آرٹیکل 218 ( 3 ) ، 219 اور الیکشن ایکٹ 2017 سے اختیارات کشید کرنے کی بنیاد پر الیکشن کمیشن عام انتخابات سمیت پارٹی انتخابات کی نگرانی کے اختیارات بھی رکھتا ہے۔
2: الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت چونکہ پارٹی انتخابات، پارٹی آئین کے مطابق کروانا ضروری ہیں تو اس بات کو یقینی بنانے اور اس حوالے سے خود کو مطمئن کرنا کہ پارٹی الیکشن، پارٹی آئین کے مطابق ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
3: چونکہ پی ٹی آئی کی طرف سے اسی نوعیت کی ایک آئینی پٹیشن نمبر 2024 / 287 لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے بعد خارج کر دی گئی ہے، اور جس کی انٹرا کورٹ اپیل پر ابھی تک فیصلہ ہونا باقی ہے، اس لیے Doctrine of Proprietary، یعنی اگر قانونی طور پر با اختیار کسی عدالت میں ایک کیس زیر سماعت ہو، تو دوسری عدالت، باوجود اختیار سماعت رکھنے کے، اس مخصوص کیس کو سننے سے گریز کرے اور اس پہلی عدالت کو فیصلہ کرنے دے، کی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ اس کیس کو نہیں سن سکتی۔
4: PLD 2018 SC 189 میں چونکہ الیکشن کمیشن کے لئے پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے حقائق، معلومات جمع کرنے کا اختیار تسلیم کیا گیا ہے، جس سے فطری طور پر پارٹی آئین کے مطابق پارٹی انتخابات کے منعقد ہونے سے متعلق، الیکشن کمیشن کے پاس ثبوت جمع کرنے کا اختیار بھی آ جاتا ہے۔ جبکہ اسی مذکورہ کیس کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے PLD 2018 ISLAMABAD 300 میں پارٹی انتخابات کی صداقت کو جانچنے اور اعتراض اٹھانے کا الیکشن کمیشن کا حق تسلیم کیا ہے۔
5: الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہونے کی بنا پر اپنے کام کے حوالے سے مکمل با اختیار اور آزاد ہے، اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے دوران دیے گئے اس کے احکامات عدالتی نظرثانی کے تابع نہیں ہیں، جب تک آرڈر میں واضح طور پر کوئی قانونی سقم موجود نہ ہو۔
6: الیکشن کمیشن کے اسلام آباد میں واقع ہونے اور مذکورہ آرڈر کے اسلام آباد سے جاری کیے جانے کی وجہ سے پشاور ہائی کورٹ اس پٹیشن کو سننے کے لئے درکار علاقائی دائرہ اختیار چونکہ نہیں رکھتا، پس پشاور ہائی کورٹ اس کیس کو نہیں سن سکتا۔
بنیادی سوالات و اعتراضات پر عدالتی جوابات:
جواب 1 :
پشاور ہائی کورٹ کے اختیار سماعت سے متعلق پہلے بنیادی سوال اور الیکشن کمیشن کے اعتراض کے جواب میں عدالت نے مختلف نظائر کی بنیاد پر یہ موقف اپنایا کہ آئین یا وفاقی قانون کے تحت بنایا گیا کوئی ادارہ، چاہے اس کا کام آئینی نوعیت کا ہو یا وفاق سے متعلق ہو، اور قطع نظر اس بات کے، کہ اس کا ہیڈ آفس کس جگہ پر ہے، اگر اس کے کسی حکم/عمل سے کسی صوبے کا شخص یا اشخاص متاثر ہو رہے ہوں، یا اس کا آرڈر جس واقعہ (cause of action) سے متعلق ہو، وہ کسی صوبے میں وقوع پذیر ہوا ہو، تو اس صوبے کی ہائی کورٹ مذکورہ ادارے کے اس آرڈر/عمل سے متعلق اختیار سماعت کا رکھتی ہے۔ چونکہ الیکشن کمیشن کے چیلنج شدہ آرڈر سے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا کے باسی جیسے پی ٹی آئی کے نئے منتخب ہونے والے چیئرمین اور عوام وغیرہ متاثر ہوئے ہیں بلکہ مذکورہ پارٹی انتخابات بھی خیبر پختونخواہ میں منعقد ہوئے ہیں، پس پشاور ہائی کورٹ اس پٹیشن کو سن سکتی ہے۔
جواب 2 :
پشاور ہائی کورٹ کے اختیار سماعت کو ، لاہور ہائی کورٹ میں اسی نوعیت کی پٹیشن خارج ہونے اور اب انٹرا کورٹ اپیل کے مرحلے پر زیر سماعت ہونے کی بنا پر چیلنج کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے وکلاء کے دلیل، کو عدالت نے اس بنیاد پر رد کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی مذکورہ پٹیشن نمبر 2024 / 287 سے پہلے ہی اسی معاملے سے متعلق پی ٹی آئی نے پٹیشن نمبر 2023 /P۔ 5791 پشاور ہائی کورٹ میں دائر کر دی تھی، اور لاہور ہائی کورٹ نے بھی میرٹ کے بجائے اس وجہ کی بنیاد پر ، پٹیشن نمبر 2024 / 287 کو خارج کیا تھا۔
جواب 3 :
بنیادی سوال نمبر 2 کے حوالے سے عدالت نے 1166 SCMR 2018 کی بنیاد پر یہ قرار دیا کہ ایک آزاد اور آئینی ادارہ ہونے کی بنا پر ، الیکشن کمیشن کے احکامات اگر آئین اور قانون کے مطابق ہوں تو اس حوالے سے عدالت کم سے کم مداخلت کرے گی، لیکن اگر احکامات قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہوں یا اس میں بدنیتی کا عنصر شامل ہو، تو عدالت اس میں مداخلت کر سکتی ہے۔
جواب 4 :
سب سے اہم بنیادی سوال، کہ کیا الیکشن کمیشن، پارٹی انتخابات کی چھان بین کرنے، اس پر اعتراض یا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، کا جواب دینے سے پہلے عدالت نے آئین کے آرٹیکل 218 ( 3 ) اور 219 (e) سمیت الیکشن ایکٹ 2017 کی مختلف دفعات جیسے 202، 209، 210 وغیرہ کا بغور جائزہ لیا اور یہ قرار دیا، کہ مختلف عام انتخابات کے انعقاد کو صاف شفاف طریقے سے ممکن بنانے کی خاطر گو کہ، آئین کے مذکورہ آرٹیکلز نے الیکشن کمیشن کو کئی اختیارات دیے ہیں، لیکن آئین سمیت الیکشن ایکٹ 2017 میں کہیں پر بھی الیکشن کمیشن کو پارٹی انتخابات کی چھان بین کرنے، اعتراض کرنے کے اختیارات نہیں دیے گئے، بلکہ جب کوئی سیاسی پارٹی، پارٹی انتخابات کے انعقاد کیے جانے کے بعد متعلقہ سرٹیفیکیٹ الیکشن کمیشن کو جمع کروا دے تو قانونی طور پر الیکشن کمیشن پابند ہے کہ وہ اس کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع کرے۔ اپنے اس موقف کے حق میں 1921 SCMR 1999 کو بطور نظیر پیش کیا گیا۔
اسکے علاوہ عدالت نے یہ قرار دیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 215 ( 5 ) ، کے تحت کسی سیاسی پارٹی کو انتخابی نشان سے تب ہی محروم کیا جا سکتا ہے جب وہ اس ایکٹ کی دفعہ 209 اور 210 پر عمل درآمد میں ناکام رہے، یعنی یا تو پارٹی انتخابات کے انعقاد یا پارٹی فنڈز و اکاؤنٹس سے متعلق سرٹیفیکٹ الیکشن کمیشن کو نہ جمع کروا سکے، کیونکہ کسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم کرنا، آئین کے آرٹیکل 17 میں درج آئینی حقوق جیسے پارٹی بنانا، چلانا یا اس میں شامل ہونے کے ساتھ اس آئینی حق سے اخذ ہونے والے اور حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عدالتی فیصلہ:
مندرجہ بالا بحث اور جوابات کی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر، 2023 کے حکم، جس میں پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیا گیا تھا، کو منسوخ کرنے کے ساتھ، الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 209 کے تحت جمع کروائے گئے سرٹیفیکیٹ کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع کرے جبکہ تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان کے لیے بھی اہل قرار دیا گیا۔


