ڈاکٹر خالد سہیل اور گرین زون
گرین زون میرے لیے جنت جیسی سٹیٹ آف مائنڈ ہے جہاں ہم پرسکون ہوتے ہیں۔ چونکہ میرا تعلق عظیمی سکول آف تھاٹ سے ہے، سو مراقبے کے وسیلے سے اپنے انر سیلف سے متعلق کچھ خیالات واضح طور پر میرے من میں موجود تھے۔
میں نے اپنے استاد خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے توسط سے ایک بات ذہن نشین کر رکھی تھی کہ اگر تم خوش نہیں ہو تو بھی خوش رہنے جیسی شکل بنا لو کیونکہ خدا اپنے بندوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے ثبوت میں عظیمی صاحب نے قرآن کریم کی ایک آیت کی دلیل دی جس میں کہا گیا ہے کہ خدا کے دوست وہ ہوتے ہیں جو نہ مغموم ہوتے ہیں نہ انہیں کسی بات کا اندیشہ ہوتا ہے۔
گویا میرے پاس خدا کا دوست بننے کا پیمانہ آ چکا تھا مگر اس تک میں مکمل طور پر رسائی نہ حاصل کر سکتی اگر میرا تعارف ڈاکٹر خالد سہیل سے نہ ہوتا گو میں ان کو آج تک نہیں ملی مگر میری غیب کی آنکھ نے ان کا مشاہدہ کیا۔
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا جب مجھے علم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب خدا کو خداحافظ کہہ چکے ہیں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ حلیم الطبع، درویش صفت مسیحا خدا کے بندوں سے محبت بھی کرتے ہیں اور ان کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ اقبال کا ایک شعر یاد آ گیا جو پی ٹی وی کے دور میں ٹی وی سکرین پر بار بار دہرایا جاتا تھا۔
خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا۔
یہ انسانوں کو اس جنت کا راستہ بتاتے ہیں جہاں صوفی انسانوں کو پہنچانا چاہتے ہیں۔ جیسے کہ ایک صوفی کا پیغام محبت ہے۔ ان کا پیغام بھی یہی ہے۔
یہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ اپنی اپنی جنت میں رہیں۔ یہ نفسیاتی بیماروں کے قریب رہ کے اس جہنم کو بہت قریب سے دیکھتے رہے ہیں جس میں انسان بدقسمتی سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے عوامل جو بھی ہوں مگر ایک انسان دوست طبیب ہونے کے ناتے انہیں اپنی مدد آپ کے تحت ایک ایسی سٹیٹ آف مائنڈ میں رہنے کا گر سکھاتے ہیں جو خود آگاہی سے شروع ہوتی ہے۔
خود آگاہی اور اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت گرین زون میں کیسے رہا جائے؟
سب سے پہلی چیز خودکار ریڈنگ ہے۔ بروقت خود پر نظر رکھنے کی عادت جسے میں ریڈنگ کہتی ہوں۔
جب ایک انسان الجھے ہوئے خیالات اور سلگتے ہوئے جذبات کا شکار ہوتا ہے وہ ایک بے مہار گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ عین حالت جنگ میں خود کو اپنے سسٹم کو calm mode کی طرف دھکیلنے کے لیے کیا کیا اور کیسے کرنا ہے۔ کیسے بچاؤ کرنا ہے کیسے تلافی کرنی ہے؟ کیسے تصادم سے پرہیز کرنا ہے؟
بظاہر یہ آسان نظر آتا ہے مگر اپنے اندر کے بگڑے ہوئے انسان کو سدھارنے کی یہ مشقت اتنی آسان نہیں لیکن ”آرٹ آف لونگ ان گرین زون“ کی مدد سے یہ بہت پریکٹیکل اور آسان ہو جاتی ہے۔ نیت یعنی ارادے، دہرائی اور مشق کے ذریعے ہم خود کو گرین زون میں رکھ سکتے ہیں۔
اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیوں ہر صوفی کچھ ٹولز دیتا ہے کیوں ہر طبیب کچھ نسخے لکھ کے دیتا ہے خود کو پرسکون رکھیں۔
پرسکون رہنا کیوں ضروری ہے؟
اس مسائل سے بھری دنیا میں اس انداز سے جینا کہ خود بھی مسکراتے رہیں اور پازیٹیو انرجی بکھیرتے رہیں کیسے ممکن ہے۔ اگر کوئی سیکھنا چاہے تو ڈاکٹر صاحب سے سیکھ سکتا ہے۔
یہ سکھاتے ہیں غصہ جو حرام ہے اس پر آپ کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ غصہ کے علاوہ بھی بہت سے منفی جذبات۔
اپنے بے قابو بے لگام جذبات کو کیسے نکیل ڈال سکتے ہیں۔ خود سے کیسے محبت کر سکتے ہیں۔ اپنے اندر کے چھپے انسان سے کیسے ملاقات کر سکتے ہیں۔ دوسروں سے کیسے پیش آنا ہے۔ کہاں اپنی ذات کی گاڑی روکنی ہے؟ کہاں موڑنی ہے؟ کہاں پارک کرنی ہے۔ کیونکر سڑک پر چلتے راہگیروں کے گریبان کو نہیں پکڑنا بلکہ خود کو محسوسات کے گرداب سے، عذاب سے، بچانا بھی ہے دوسری طرف کمال ہنر سے محسوسات کے گلاب اور خواب مہکائے رکھنے ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل صرف دریا دل نہیں بلکہ اخلاقی اور تخلیقی طور پر بہتا ہوا دریا ہیں۔
سب کو معلوم ہے کہ دریا پانی کے ایسے راستے ہیں جو مسلسل حرکت میں رہتے ہیں کیونکہ وہ پانی کے دوسرے بڑے راستوں جیسے جھیلوں اور سمندروں سے جڑتے ہیں۔ دریا کھلے دل کے ہوتے ہیں، ہمیشہ بہاؤ میں رہتے ہیں، حرکت ان کی فطرت ہوتی ہے، پہاڑوں کی گود سے نکلتے ہیں آس پاس کے میدانوں کو سیراب کرتے ہیں، زرخیزی ان کے دم سے ہوتی ہے۔ اباسین جیسے بڑے پانیوں والے دریا۔
یہ وہ دریا نہیں ہیں جسے الطاف حسین حالی کے مطابق
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
یہ وہ دریا ہیں جن کو ہر ایک کی نیا پار لنگھانے کی فکر ہے۔ اپنی ہم احساسی طبیعت اور پیشے کے اعتبار سے طبیب ہونے کی وجہ سے یہ بہت قریب سے انسانی دکھوں کو جان گئے اور تمام عمر انہیں سکھوں میں بدلنے کے لیے جی جان سے اپنی تخلیق و تحقیق سے اپنے علم و عمل سے اپنے علم اور قلم سے کوشاں رہتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ان کے دم سے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں صحت مندانہ بدلاؤ آیا۔ غیر روایتی طریقہ علاج کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ ایک ذہنی بیمار کس طرح دکھوں کی صلیب اٹھائے پھرتا ہے۔ یہ اس اذیت کو سمجھتے ہیں جسے عام انسان نہیں سمجھ سکتا۔
ایک دور میں یہ بحث چل نکلی تھی کہ جنت کیا ہے؟
کیا جنت کسی مکانی جگہ کا نام ہے یا ذہنی کیفیت ہے۔ یہ مرنے کے بعد ملے گی یا اسے انسان اپنے اعمال سے بناتا ہے۔ یہ انسان کے پیس آف مائنڈ میں چھپی ہے۔ انر سیلف جسے ہم من کہتے ہیں۔ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو ڈاکٹر خالد سہیل کا ماننا ہے کہ اس من کو شانت رکھنے میں عافیت ہے۔
اور ان کی گرین زون فلاسفی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان عام طور پر دماغ کی تین حالتوں میں رہتے ہیں جسے علامتی طور پر ٹریفک لائیٹ سے جوڑ کے ریڈ ییلو اور گرین کا نام دیا گیا۔
جب ہم شانت ہوتے ہیں تو پر سکون پانیوں کی طرح بہتے جاتے ہیں۔ اپنی موج میں مست۔ سرسبز، ہرے بھرے خوش باش، شاد باد۔
جب ییلو زون میں ہوتے ہیں تو ہمارے موڈ پر اداسی کی پیلی خزاں اترتی ہے اور ہماری مانوس کھنک دور کہیں دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی فیز طویل ہو جائے توہم اداس پھرتے ہیں سردیوں کی شاموں میں، یونہی بے وجہ۔ اور کبھی کبھار معقول مسائل کی وجہ سے۔
ایک وقت آتا ہے جب یہ شعلہ بے نوا بھڑک اٹھتا ہے اگ رنگا بن جاتا ہے لال بھبھوکا۔ اشتعال کا رنگ بہرحال ڈاکٹر خالد سہیل کی گرین زون فلاسفی ہمارے ہاتھ میں ایک ریڈنگ انسٹرومنٹ پکڑاتی ہے یعنی ہم میں سے ہی ہمارا (کانشئیس سیلف ) شعور تربیت حاصل کر کے اس سٹیج پہ پہنچ جاتا ہے جب ہم بھڑک رہے ہوتے ہیں یہ بریک لگاتا ہے۔ فائر بریگیڈ کو بلاتا ہے۔
ہماری گاڑی کو موڑتا ہے، بھگاتا ہے اور گرین زون میں جا کھڑا کرتا ہے۔ یہ سیلف اویرنیس یعنی اپنی خود آگاہی کا پروگرام ہے جو ذہن میں تعمیر کر دیا جاتا ہے۔ انسان جان سکتا ہے کہ میرے کون سے ٹچی پوائنٹ ہیں۔ حساس بٹن۔ کون سے لوگ ہیں جن سے بات کر کے میں لال ذون میں جا کھڑا ہوتا ہوں، کون سے موضوعات ہیں جو اختلاف کی وجہ ہیں۔ لال زون یعنی جہنم میں۔ کیسے مجھے اپنے باغ عدن میں لوٹ آنا ہے۔ کبھی کبھار لگتا ہے یہ پریکٹس انسان کو صوفی بنا سکتی ہے۔
انسان اس کی مدد سے ایک ایسے مقام پہ پہنچ سکتا ہے جس کے بارے میں خدا فرماتا ہے کہ خدا کے دوست وہ ہیں جنہیں نہ اندیشہ ہوتا ہے اور نہ وہ مغموم ہوتے ہیں۔ یہ نار سے نکل کر گلزار تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ اس کی مشق سے کوئی بھی انسان ایک خوشگوار کیفیت میں رہنا سیکھ سکتا ہے۔ جو نہیں جانتے وہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ صرف باتیں ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کے پاس ہر شے کا ایک حل ہے۔ یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ذہنی صورت حال کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جس کا خیال اچھا ہو جائے یعنی معتدل اس کے حال کو اچھا ہونا قرین قیاس ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنی عمر کے پچاسویں برس میں اس فلاسفی کو ایک بچے کی طرح جنم دیا، اسے خون جگر دے کر پالا پوسا، جوان کیا اور اب ملکوں ملکوں دیس پردیس میں خدمت خلق کی خاطر عام کر رہے ہیں۔ جیسے مفتی جی نے الکھ نگری میں اعتراف کیا تھا کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشاہدہ قدرت اللہ شہاب ہیں۔ مجھ ناچیز کا سب سے بڑا مشاہدہ خود ڈاکٹر خالد سہیل ان کی شخصیت کے رنگ اور ان کی گرین زون فلاسفی ہے جسے میں نے سات سمندر پار لفظی اور فنی رابطوں کی مدد سے اپنی ہمت اور بصیرت سے حاصل کیا ہے۔ ممنون ہوں۔ اس میں قدرت اور خود ڈاکٹر صاحب کی کرم فرمائی بھی شامل حال رہی۔
ہم جان سکتے ہیں کس طرح خود پہ قابو پانے سے انسان نہ صرف ذہنی بیماریوں سے نجات پا سکتا ہے بلکہ جسمانی بیماریاں جو کہ ٹینشن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ان سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل کی پوری زندگی انسانیت کے لئے وقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے عطا کردہ نسخوں میں جان بھی ہے جہان بھی ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں جو کرتے ہیں۔ وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں ان کے نسخے سادہ بھی ہیں آزمودہ بھی ہیں۔


