این اے 127: بلاول کی کامیابی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو واپس لا سکتی ہے
عام انتخابات 2024 ء 8 فروری کو منعقد ہو رہے ہیں جس میں ابھی تقریباً ڈیڑھ ہفتہ باقی ہے، الیکشن کی روایتی گہما گہمی کہیں نظر نہیں آ رہی، سیاسی میدان میں پیپلز پارٹی الیکشن کا ماحول گرمانے کی کوشش کر رہی ہے، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون ٹھنڈی جا رہی ہے، اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا کہنا ہے ”ساڈی گل ہو گئی اے“ ، اس لئے الیکشن میں زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی کا اللہ ہی حافظ ہو چکا ہے، اس پارٹی کو ویسے بھی الیکشن لڑنے کا تجربہ ہی نہیں ہے، 2018 میں ان کو غیبی مدد نہ ملتی تو وہ کبھی بھی حکومت نہ بنا سکتی، یہ دوسرا الیکشن ہے جو تین سیاسی جماعتوں کے درمیان ہو رہا ہے، دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی میدان میں ہیں مگر ان کا ”حصہ“ مختص ہے، وہ ایک، دو ، چار سے چھ، آٹھ، دس نشستیں لے کر پورے پانچ سال حکمران جماعت کو بلیک میل کر کے اقتدار کے مزے لیتی ہیں، یعنی حصہ بقدر جثہ والی بات ہے
2013 ءسے پہلے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں جن میں سے ایک پاکستان مسلم لیگ نون اور دوسری پاکستان پیپلز پارٹی ہیں، 2013 ءکے الیکشن میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی انٹری ہوئی یا یوں کہہ لیں کہ انٹری کرائی گئی اور وہ بھی بھرپور، یہ ویسی ہی انٹری تھی جیسے کسی نئی ہیروئن کی فلم میں پہلی انٹری کرانے کے لئے بہت بڑا بجٹ رکھا جاتا ہے، پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے کیونکہ اگر ہیروئن ہٹ ہو جائے تو پھر ستے خیراں، پیسہ ہی پیسہ۔
2013 ءمیں مسلم لیگ نون کو حکومت دلائی گئی، نون لیگ کے قائد نواز شریف کامیابی کے اعلان کے لئے اتنے بے تاب تھے کہ شام پانچ بجے پولنگ بند ہوئی اور رات 8 بجے ہی فتح کا جشن منانے کا اعلان کر دیا جس نے الیکشن میں دھاندلی کے جواز پیدا کر دیے جس کا عمران خان نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے بات شروع ہوئی اور 126 روز کے دھرنے تک پہنچ گئی، اس دھرنے نے نواز شریف کے حکومت کرنے کے مزے کو کرکرا کر دیا تھا، عمران خان کو وہیں سے سپورٹ مل رہی تھی جہاں سے ہمیشہ نواز شریف کو ملا کرتی تھی، یعنی اب ڈارلنگ نواز شریف نہیں عمران خان تھا
عمران خان کی طرح نواز شریف بھی لاڈلے رہے تھے جیسے آج کل ہیں، 2013 ءکے انتخابات میں اس وقت کے لاڈلے نے بلاول کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکنے کی فرمائش کی اور پھر لاڈلے کے چاہنے والوں نے اس فرمائش کو ڈنڈے کے زور پر پورا کرایا، بلاول اس الیکشن میں صرف رحیم یار خان میں ایک جلسہ کرسکے جس کے بعد ان کے والد کو ”پیغام“ پہنچا دیا گیا تھا جس پر آصف زرداری نے نہ صرف بلاول بلکہ پنجاب کی پیپلز پارٹی کی قیادت کو باہر نکلنے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مزید لاشیں نہیں اٹھا سکتے، اس طرح (ن) لیگ پنجاب میں دندناتے ہوئے الیکشن، الیکشن کھیلتی رہی
لاڈلا کسی دور کا بھی ہو وہ انوکھا ہی ہوتا ہے اور کھیلنے کے لئے ہمیشہ چاند ہی کی فرمائش کرتا ہے، آمر ضیاءالحق نے اپنی زندگی میں ہی پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے پنجاب سے نواز شریف اور سندھ میں الطاف حسین کو جنم دیا تھا اور نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے تمام گر بھی سکھائے تھے، ضیاءالحق کی عبرتناک موت کے بعد میاں نواز شریف نے اس آمر کی کمی محسوس نہ ہونے دی اور بھٹو کی بیٹی کے لئے زندگی اجیرن کیے رکھی
مسلم لیگ نون کی قیادت نے شہید بی بی بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمے بنائے، آصف علی زرداری کو گیارہ سال بے گناہ جیل میں رکھا گیا، پنجاب میں پیپلز پارٹی کا خاتمہ کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اپنایا گیا جو اب 9 مئی کے نام پر پی ٹی آئی کو ختم کرنے کے لئے آزمایا جا رہا ہے، دوسری جانب آصف علی زرداری کی مفاہمت کی پالیسی نے پنجاب میں پارٹی کو تباہ کر کے رکھ دیا کہ پارٹی کو الیکشن کے لئے امیدوار تک نہیں ملتے تھے
اب جب آگ عمران خان کی شکل میں شریف فیملی کے گھر تک پہنچی ہے تو تب جاکر پیپلز پارٹی کو پنجاب میں الیکشن میں اترنے کے لئے فیلڈ دی گئی مگر وہ بھی لیول پلیئنگ نہیں ہے مگر اب آل شریف کی مجبوری ہے کہ وہ ایک وقت میں دو بڑی جماعتوں سے ٹکر نہیں لے سکتی دوسری وجہ یہ ہے کہ نون لیگ کسی حد تک آصف علی زرداری کی ممنون بھی ہے جس کی سیاسی سوجھ بوجھ کی وجہ سے ان کی جان عمران خان سے چھڑوائی اور 16 ماہ کی حکومت بھی دلا دی جس کا نون لیگ نے خواب بھی نہ دیکھا تھا
ایک طویل مدت بعد پنجاب کے جیالوں کے لئے بلاول کی شکل میں بہار آئی ہے جس میں جیالوں کی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی شبیہ نظر آتی ہے، دہائیوں بعد شہر کے حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم لہرائے جا رہے ہیں جس سے جیالوں کی روح کو تازگی مل رہی ہے گو کہ رات کے اندھیرے میں اکثر مقامات پر پیپلز پارٹی کے جھنڈے اتارنے کی شرمناک حرکتیں ہو رہی ہیں مگر پھر بھی حالات پہلے سے بہتر ہیں
لاہور میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حلقہ این اے 127 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، بھٹو، شہید بی بی کے بعد اب بلاول لاہور کے سیاسی میدان میں اترے ہیں جس سے جیالوں کی پیپلز پارٹی سے سوئی ہوئی محبت جاگ اٹھی ہے جو جیالے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے میدان میں نہ ہونے کے باعث تحریک انصاف کے سپورٹر بن گئے تھے وہ واپس اپنی پارٹی میں آرہے ہیں، این اے 127 کی کئی بزرگ خواتین بلاول کو دیکھ کر روتی دیکھی گئی ہیں، ان کے ذہنوں میں ماضی کی یادیں پھر تازہ ہو گئیں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی تھی اور پھر 1986 میں بلاول کی والدہ آمر ضیاءالحق کی حکومت میں جلاوطنی کے بعد لاہور ائر پورٹ اتری تھیں تو عوام کا سونامی (حقیقی معنوں میں سونامی) آ گیا تھا
این اے 127 میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول خود سیاسی میدان میں اترے ہیں، ان کے مدمقابل مسلم لیگ نون کے امیدوار عطاءاللہ تارڑ جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ظہیر عباس کھوکھر ہیں، عطاءاللہ تارڑ کو نون لیگ نے بظاہر خانہ پری کے لئے کھڑا کیا ہے جس کا اس حلقہ میں کوئی خاص اثر نہیں ہے بلکہ ان کی انتخابی مہم بھی ٹھنڈی ٹھار ہے جبکہ ظہیر عباس کھوکھر پی ٹی آئی اور کھوکھر برادری کی حمایت سے کچھ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں، ظہیر عباس کھوکھر 2002 ءمیں پہلی بار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے اور پھر وہ پٹریاٹ میں شامل ہو گئے تھے جس کی وجہ سے ووٹر کی نظر میں ان کی خاص اہمیت نہیں ہے، 2002 کے بعد ظہیر عباس کھوکھر نے کئی الیکشن لڑے مگر ایک آدھ بار ہی جیت سکے، دوسری بات اس وقت پی ٹی آئی کی پوزیشن بہت کمزور ہے اس لئے ظہیر عباس کھوکھر کا بلاول سے مقابلہ بنتا نظر نہیں آ رہا
اس حلقہ میں زیادہ تر ووٹ مسیحی برادری کا ہے جن کے مذہبی رہنما آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے بلاول کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں جس سے بلاول بھٹو زرداری کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے اس حلقہ میں بھرپور کام کیا ہے، انہوں نے نوجوانوں کو موبلائز کیا ہے، شہید بے نظیر بھٹو کی بیٹی اور بلاول کی بہن آصف بھٹو زرداری بھی حلقے کا دورہ کرچکی ہیں جس سے خواتین ووٹر کی کافی حمایت ملی ہے، ان حالات میں اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار بلاول بھٹو زرداری کی جیت یقین نظر آ رہی ہے، بلاول اگر یہ سیٹ جیت گئے تو پیپلز پارٹی کی پنجاب میں مردہ لاش میں دوبارہ جان پڑ سکتی ہے اور پارٹی ماضی کی طرح پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام پا سکتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس وقت جو غیب پنجاب میں پیدا ہوا ہے اس کا فائدہ اٹھایا جائے، اب مفاہمت کی پالیسی کو سائیڈ پر رکھ کر سیاسی میدان میں نون لیگ کا مقابلہ کیا جائے۔


