فلسفہ کے بنیادی اصول
نسل انسانی میں دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک مکتب روحانیت پرستی اور دوسرا فلسفہ پسندی کا ہے۔ ان کے انداز فکر اور خصوصیات میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ روحانیت پرستی کی معروف شکل عقیدہ پسندی ہے، ظاہر ہے کہ اس کے بنیادی اصول اور ضابطے کوئی روحانی پیشوا ہی بہتر بتا سکتا ہے۔ البتہ خاکسار فلسفہ کا قاری ہے، اس لئے میرے نزدیک فلسفہ کے جو بنیادی اصول اور قانون ہیں، ان کا ذکر اس کالم میں کیا جا رہا ہے۔
واضح ہو کہ فلسفہ کا بنیادی مشن آفاقی حقائق اور سچائیاں تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ رہنمائی کرتا ہے کہ تحقیقی سرگرمیوں میں کن اصولوں اور ضابطوں کو مد نظر رکھا جائے۔ یونانی اور بعد میں آنے والے فلاسفہ کی تعلیمات میں ان کے واضح اشارے ملتے ہیں، لیکن وہ جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ اسی لئے فلسفہ کی حقیقت کو سمجھنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ خاکسار نے ضروری سمجھا کہ فلسفہ شعوری کی خاطر اس کے بنیادی اصول مرتب کر دیے جائیں تاکہ الجھنوں سے بچا جا سکے۔ میرے نزدیک وہ قانون، اصول اور ضابطے حسب ذیل ہیں۔ انہیں ہم فلسفہ کے بنیادی اصول ( Basic Principles of Philosophy) کہہ سکتے ہیں۔
پہلا اصول۔ نظام کائنات فطری قوتوں کے تحت چل رہا ہے، جنہیں دریافت کرنا اور کام میں لانا فلسفہ کی ذمہ داری ہے۔
فلسفہ کا یہ اصول اعلان کرتا ہے کہ نظام کائنات فطری قوتیں چلا رہی ہیں۔ یہ وہ اصول ہے جسے تسلیم کر کے ایک انسان فلسفہ کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے انکار سے وہ غیر فلسفی بن جاتا ہے۔ بلا شبہ ان فطری قوتوں کا شعور حاصل کرنا فلسفہ کا میدان عمل ہے کیونکہ ان سے کائناتی اور سماجی حقائق کی بہتر تشریح کی جا سکتی ہے۔ یونانی فلاسفہ نے اس قانون کو خوب سمجھا اور اس کے تحت روایتی نظریات میں جدتیں پیدا کیں اور کائنات کے کئی پوشیدہ راز آشکار کیے ۔ ایسے نظریے مر تب کیے جو آج بھی قابل قبول ہیں۔
دوسرا اصول۔ فلسفہ، سماج اور طبیعی کائنات کے زمینی حقائق کا مطالعہ کرتا ہے۔
فلسفہ اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا رابطہ ٹھوس عناصر سے ہو جاتا ہے۔ یوں اس کا تعلق انسان کی جیتی جاگتی دنیا اور طبیعیاتی کائنات سے جڑ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جملہ انسانی سر گرمیاں زمینی حقائق سے وابستہ ہیں۔ گویا انسان کا ہر بیانیہ، قول، موقف، قانون، نظریہ، دلیل، ضابطہ اور داستان وغیرہ کسی زمینی حقیقت سے منسلک ہوتے ہیں، گویا وہ کسی مادی وجود کی کہانی سنا رہے ہوتے ہیں۔
البتہ غیر فلسفی انسانی فکر زمینی حقیقت کی تشریح تصوراتی نظریات سے کرتا ہے۔ مثلاً جب وہ ایک کمہار کو گیلی مٹی سے گلاس اور گملا بناتے ہوئے دیکھتا ہے تو نظریہ قائم کیا کہ گلاس اور گملا کائنات میں کسی جگہ پڑے ہوئے ہیں۔ اسی لئے ان کی شکل کمہار کے ذہن میں آئی ہے۔ پھر اس سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جملہ مادی اشیاء جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں، وہ کسی نامعلوم مقام پر کائنات میں پڑی ہوتی ہیں۔ اس سوچ نے نظریہ مثالیت پسندی کو پروان چڑھایا۔
جبکہ فلسفہ، کمہار کے واقعہ کو سائنس و ٹیکنالوجی کا ایک کرشمہ قرار دیتا ہے۔ کمہار کا فنی ذہن گلاس اور گملے کا استعمال ذہن میں لاتا ہے اور پھر اپنی ضرورت کے مطابق ان کو شکل دیتا ہے۔ گویا یہ کمہار کی ذہنی سوچ اور ہاتھ کی فنکاری کا کمال ہے۔ کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ انسان کے تعمیر کردہ پل، پارک، دیوہیکل عمارتیں اور ڈیم وغیرہ کائنات میں کسی جگہ پڑے ہوئے ہیں اور انسان نے وہیں سے سیکھے ہیں؟ وہ جملہ ایجادات اور تعمیرات اگر سطح زمین سے ہٹا دی جائیں تو ہر سو ویرانے نظر آئیں۔
فلسفہ جب زمینی حقائق کا مطالعہ کرتا ہے، تو سماج اور کائنات کے جملہ مضامین اور ان کے ذیلی شعبے اس کا موضوع بن جاتے ہیں۔ اسی لئی سکاٹ لینڈ کا فلسفی کیرڈ (Caird) کہتا ہے کہ کل سرچشمہ حقیقت اور تمام تجربی شواہد انسانی میں سے کوئی بھی ایسی شے باقی نہیں رہ جاتی کہ اس کا مطالعہ فلسفہ کی حدود سے باہر ہو۔
تیسرا اصول۔ فلسفہ کا حصول علم کا واحد ذریعہ عقل و خرد ہے، وہ اسی سے آفاقی حقائق اور سچائیاں تلاش کرتا ہے۔
فلسفہ صرف عقل و دانش کو حصول علم کا ذریعہ سمجھتا ہے، وہ کبھی ان سے الگ نہیں ہوتا۔ وہ حصول علم کے لئے کوئی غیر معقول ذرائع نہیں اپناتا۔ فلسفہ جانتا ہے کہ حضرت انسان کا عقل و خرد ہی وہ عقربی جوہر ہے، جو حالات و واقعات کے اسباب و اثرات کا مطالعہ کرتا ہے۔ پھر استدلال سے پوشیدہ ضابطوں کا انکشاف کر سکتا ہے۔ جو نئی دریافتوں اور ایجادوں کی راہیں ہموار کریں۔
فلسفہ کسی بیانیہ کو محض اس بنا پر سچ نہیں مانتا کہ وہ کسی ”بزرگ“ کا فرمایا ہوا ہے، خواہ وہ بزرگ کوئی معروف دانشور اور فلسفی ہی کیوں نہ ہو۔ فلسفی ہر فرمان کو زمینی حقائق کی کسوٹی پہ پرکھتا ہے۔ اس کے حواس تصدیق کریں تو وہ قبول کرتا ہے، ورنہ اسے رد کرتا ہے۔ کیونکہ فلسفہ شخصیت پرست نہیں ہے، وہ معقولیت اور منطق پسند ہے۔
چوتھا اصول۔ فلسفہ، آفاقی حقائق کے پوشیدہ راز جاننے کے لئے سوال اٹھاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کیسے ہے؟
مطالعہ فطرت میں فلسفہ در پیش مسائل کے پوشیدہ راز جاننے کے لئے سوال اٹھاتا ہے۔ گویا وہ سوالات گری کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ۔ ”جہاں سوال نہیں، وہاں فلسفہ نہیں اور جہاں فلسفہ نہیں، وہاں ٹھوس حقائق نہیں“ ۔ اسے معلوم ہے کہ جو انسانی فکر سوال نہ اٹھائے وہ جمود کا شکار ہوتی ہے، اس کے نہ کوئی عزائم ہوتے ہیں اور نہ کوئی منزل ہوتی ہے۔ فلسفہ یہ بھی جانتا ہے کہ نظریاتی جمود دراصل سستی، کاہلی، بیکاری اور موت کا دوسرا نام ہے۔
فلسفہ اپنے پیش کردہ حقائق اور سچائیوں پر بھی سوال اٹھانے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سوال اٹھانے سے ہی ان کے پوشیدہ گوشے وا ہونگے۔ جس سے وہ ارتقائی منازل طے کر کے بہتر سچائی کی طرف بڑھے گا۔ پس سوال اٹھانا بھی فلسفہ کا ایک بنیادی ضابطہ ہے۔
پانچواں اصول۔ فلسفہ سمجھتا ہے کہ کائناتی حقائق اور سچائیوں میں ہم آہنگی (Harmony) اور یکسانیت (Uniformity) پائی جاتی ہے۔
فلسفہ کا یہ نظریہ بتاتا ہے جملہ کائناتی اشیاء کی ہیئت، ان کے خواص اور بنیادی قوانین و ضوابط بنیادی طور پر مشترک ہیں۔ غالباً انہیں کو ارسطو نے فلسفہ کے اصول اولیہ کہا تھا۔ فلسفی، اس اشتراک کی تلاش میں سر گرداں رہتا ہے۔ وہ جدید ایجادوں اور دریافتوں کو بھی مشترک قوانین اور ضابطوں کے تابع لانے میں کوشاں رہتا ہے۔ بلا شبہ ہم آہنگی اور یکسانیت کا یہ اصول نظام کائنات کو سمجھنے میں بخوبی معاونت کرتا ہے اور محققین کی راہ میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
ڈنمارک کے سائنس دان حینز اورسٹڈ Hans Oersted کو جب فلسفہ کے اس اصول کا علم ہوا کہ فطری قوتوں میں ہم آہنگی پائی جا تی ہے۔ تو اس نے اس کے تحت برق اور مقناطیس پر تحقیق کی اور ثابت کر دیا کہ۔ ”برقی کرنٹ، مقناطیسی میدان تعمیر کرتا ہے اور مقناطیسی میدان، برقی رو پیدا کر تا ہے۔“ یہ راز دیگر سائنس دانوں نے بھی پایا اور یہی دریافت الیکٹرک موٹر بننے کا باعث بنی۔
قارئین کرام جان چکے ہوں گے کہ مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں، فلسفہ کیا ہے؟ کے سوال کا جواب بخوبی مل جاتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ، کیا فلسفہ نہیں ہے؟ پس معلوم ہوا کہ جو انسانی فکر نظام کائنات فطری قوتوں کے تحت چل رہا ہے کو تسلیم نا کرے۔ زمینی حقائق سے منسلک نہ ہو۔ عقل و خرد کو حصول علم کا ذریعہ نہ سمجھے۔ زمینی حقائق پر سوال نہ اٹھائے اور کائناتی ہم آہنگی کی قائل نہ ہو۔ تو جان لیں کہ وہ انسانی فکر فلسفہ نہیں ہوتی۔ البتہ ان دونوں نظریات کو قبول کرنے کی مکمل آزادی ہونا ضروری ہے۔
ان اصولوں سے فلسفہ کی ذات اور اس کے خواص بخوبی معلوم ہو جاتے ہیں۔ ان سے فلسفہ کا ہر دانشور متفق ہو گا، کیونکہ یہ آفاقی اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ ان کے تحت دریافت کردہ سچائیوں اور حقائق میں اختلاف ہو سکتا ہے اور وہ فلسفہ کا حسن ہے، کیونکہ فلسفہ آزادی اظہار کا حامی ہے۔ نظریاتی اختلاف استاد اور شاگرد میں بھی ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ باپ اور بیٹے میں بھی۔ البتہ کسی نظریہ کی اہمیت اور افادیت اس سے واضح ہوتی ہے کہ اس نے انسان کو کیا دیا؟
فلسفہ سب کے لئے
واضح ہو کہ فلسفہ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ اس کے اصول صرف دانشوروں کے لئے ہی نہیں ہیں۔ یہ عام آدمی کو بھی بتاتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی اور روزمرہ کی زندگی کے پوشیدہ حقائق اور سچائیاں کیونکر جان سکتا ہے؟ یہ نسل انسانی کو پیغام دیتے ہیں کہ اگر وہ عقل و شعور کو بیدار رکھیں اور درپیش مسائل پر سوال اٹھائیں، تو وہ کئی پوشیدہ راز جان جائیں گے۔ اس سے انہیں منطقی نتائج کا شعور حاصل ہو گا، جو مجرمانہ حرکتوں سے باز رہنے میں معاونت کرتا ہے۔ ہر مجرم عدلیہ سے سزا پا نے کے بعد پشیمان ہوتا کہ کاش یہ منطقی نتائج پہلے سے جان جاتا اور یہ سانحہ نہ ہوتا۔
واضح ہو کہ فلسفیانہ فکر کے انکشافات اور دریافتیں انسان کی فرحت اور اطمینان کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی لئے یونانی فلسفی اپیکورس نے اسے ”مسرت“ کہا تھا اور فیثاغورث اسے ”نغمہ“ کہا کرتا تھا، جو کائنات کی مدھر تاروں پر مسلسل بج رہا ہے۔


