کالی بلی


انسانی تاریخ بلاتفریق جغرافیہ، ”توہم پرستی“ سے لبریز نظر آتی ہے، سائنسی ترقی نے اسے جزوی طور پر نقصان ضرور پہنچایا ہے لیکن شاید گوشت پوست سے بنا یہ کمزور انسان، جان بوجھ کر اس سے جان نہیں چھڑانا چاہتا، کسی انجانے خوف کے مقابلے میں اپنی لاعلمی اور اس پر کمزوری شاید کہیں نہ کہیں کسی تسکین کا باعث بنتی ہو۔

اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، اس وسیع و عریض کائنات کے ایک چھوٹے سے عنصر (جسے ہم زمین کہتے ہیں ) میں موجود دیو ہیکل پہاڑ، بڑے بڑے گہرے سمندر اور ان پر قدرتی آفات کے مقابلے میں انسان نے اپنے آپ کو بہت خوفزدہ اور ان کے مقابلے میں بہت نحیف پایا ہے، یہی خوف بے شمار نظریات اور عقائد کی پیدائش کا سبب بنا، جب غیر معمولی شخصیت کے حامل انسانی نمائندوں نے اس طاقتور ترین قدرت کے مقابلے میں انسان کی ساتھی کسی ایسی قوت کا پتا دیا کہ جو ان سب چیزوں سے زیادہ طاقتور ہے، چند شرائط کے ساتھ وہ انسان کی محافظ اور مددگار ہے۔

ہر دور میں ان کے مختلف روپ رہے ہیں، دیوی دیوتاؤں پر عقیدے ( جن کا مختلف قدرتی عناصر پر کنٹرول بتایا جاتا رہا ہے ) پر یقین انسان کو اپنی طبعی عمر پوری کرنے میں مددگار رہا ہے۔

ہمارا خطہ ”برصغیر پاک و ہند“ توہم پرستی کو لے کر اپنا ایک مقام رکھتا ہے، شاید اگر توہم پرستی کا ورلڈ کپ کروایا جائے تو یہ خطہ ہمیشہ ورلڈ چیمپئن رہے گا۔

ہم نے بھی بچپن سے ہی ایسے بے شمار قصے کہانیاں سن رکھے تھے جو کبھی نہ کبھی، کسی بھی جگہ، آپ کی تنہائی میں اچانک آپ کے سر پر سوار ہو کر آپ کو ”دندل“ ڈال سکتے ہیں، آپ کی پڑھائی، سائنس پر یقین، روشن خیالی، حتیٰ کہ مضبوط مذہبی عقیدہ بھی ان لمحات میں ”ہوا“ ہو جاتا ہے۔

ایک دفعہ لاہور کے علاقے ”قلعہ گجر سنگھ“ میں ایک دوست کے ہمراہ ایک گھر کرائے پر لیا، تقریباً 120 سال پہلے تعمیر کیا گیا یہ تین منزلہ گھر vintage lovers کے لیے انتہائی دلچسپی کا حامل ہو سکتا تھا، اسے کسی ہندو نے بنوایا تھا، گھر کے ماتھے پر آج بھی ہندی میں کچھ لکھا ہوا تھا، ہم تیسری منزل پر رہائش پذیر تھے، جس میں ایک صحن اور دونوں طرف ایک ایک کمرہ تھا، ایک کمرہ (جو ذرا بڑا تھا) ایک چھوٹی سی لابی میں کھلتا تھا جہاں سے گول شکل میں سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں، ان کے سامنے مختلف چیزیں رکھ کر سیڑھیوں کو بند کر دیا گیا تھا، کیونکہ نیچے والے پورشن میں مالک مکان رہتے تھے، اسی لابی میں ایک طرف باتھ روم کا دروازہ تھا اور دوسری طرف کچن کا، کچن کی بڑی کھڑکی کے باہر تقریباً ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر بڑے صحن کی منڈیر تھی، یہ صحن نیچے تک تینوں پورشنز کا مشترکہ تھا۔

میں سارے گھر کا جائزہ لے رہا تھا کہ گھر کی چھت پر مجھے ایک کالی بلی نظر آئی، جو خاموشی سے منڈیر پر بیٹھی مجھے مسلسل تک رہی تھی، کالی سیاہ رنگت والی یہ بلی سائز میں بھی نارمل بلی سے زیادہ بڑی تھی، میں نے اسے چند ایک مرتبہ دیکھا اور نظر انداز کر دیا، شاید یہ پورشن اس کی رہائش گاہ تھا جہاں اب کرائے دار آنے والے تھے، ہو سکتا ہے اجنبی چہروں کی اپنے آستانے پر موجودگی اسے ناگوار لگ رہی ہو، جس کمرے کی چھت پر وہ بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی اس کے سامنے والے کمرے کی چھت پر چڑھ کر میں نے گردونواح کا جائزہ لینا چاہا، بائیں طرف والا گھر بھی اتنا ہی پرانا تھا اور اس کی تیسری منزل بے آباد، پرانی چارپائیاں جن کی رسیاں ٹوٹ پھوٹ کر لٹک رہی تھیں جا بجا بکھری پڑی تھیں، سامنے والا گھر مکمل بند تھا، ہمیں بتایا گیا کہ یہاں رہنے والے لوگ کینیڈا شفٹ ہو گئے ہیں، وہ اس گھر کو نہیں بیچنا چاہتے کیونکہ ان کے آبا و اجداد یہاں رہ چکے ہیں، سال میں ایک بار اس گھر کی چھت آباد ہوتی تھی، جب ہمیں وہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گھومتے پھرتے اور ہنستے نظر آتے، جس طریقے سے انہوں نے شلواریں قمیضیں پہنی ہوتی تھیں صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہ ان کا پرائمری ڈریس نہیں ہے، بقیہ سارا سال وہ گھر خالی رہتا۔

آفس آتے جاتے یا گھر کا کوئی کام کرتے ہوئے مجھے وہ بلی اکثر نظر آتی، جو کسی نہ کسی خاص انداز میں بیٹھے مجھے دیکھ رہی ہوتی، اسے چلتے پھرتے میں نے کم ہی دیکھا تھا، شاید وہ بہت بوڑھی بھی تھی، ہمارے گھر میں قیام کی وجہ سے اب وہ اکثر ہمسائے میں موجود بے آباد تیسرے پورشن کے مختلف علاقوں میں براجمان ہوتی۔

کچھ عرصے کے بعد زندگی معمول پر آ چکی تھی، ارد گرد کا ماحول اب ہمارے لئے نارمل تھا، ایک ویک اینڈ میں گھر میں اکیلا تھا، اگلے دن چھٹی تھی اس لیے رات دیر تک کتاب پڑھتا رہا اور ساتھ ٹی وی پر کچھ نہ کچھ چلتا رہا، تقریباً رات ایک بجے شدید بارش اور طوفان کی آوازیں آنا شروع ہوئیں، ہمارے گھر کے کچن کی کھڑکی وینٹیلیشن کے لیے اکثر کھلی رہتی تھی، صرف پتلے لوہے کی جالی میں سے کچن کا دھواں وغیرہ باہر اور باہر کی تازہ ہوا اندر آتی رہتی تھی۔

اچانک بجلی بند ہو گئی، میں خاموشی سے کچھ دیر گھپ اندھیرے میں ادھر ہی بیٹھا رہا، آسمانی بجلی کے کڑکنے اور کھڑکیوں کے کھلنے اور بجنے کی آواز سے مجھے یاد آیا کہ کچن کی کھڑکی کھلی ہے، اسے بند کر دینا چاہیے تاکہ کچن میں مٹی نہ آ سکے، میں جلدی سے اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے کمرے کے ساتھ لابی سے ہوتا ہوا کچن کی طرف لپکا، کچن میں گھستے ہی مجھے اچانک کچھ غیر معمولی سی کیفیت کا احساس ہوا، میں ادھر ہی جامد ہو گیا، اندھیرے میں میں محسوس کرنا چاہ رہا تھا کہ کیا غیر معمولی ہے؟

میں کھڑکی سے چند فٹ کے فاصلے پر کھڑا تھا، مجھے محسوس ہوا کہ کھڑکی میں سے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، اندھیرے میں مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ایک ہیولے کے، میرے پورے جسم پر ایک جھرجھری تیر گئی، مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ میں آگے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی بند کر دوں، ماتھے پر ہلکا ہلکا پسینہ آنا شروع ہوا تو اچانک بجلی کڑکی، چند لمحوں کے لیے کھڑکی کے باہر فل روشنی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بارش میں بھیگتی وہی بڑی کالی بلی منڈیر پر کھڑی مجھے تک رہی ہے، غیر معمولی بڑی تو وہ تھی ہی لیکن اب اس کی جسامت پہلے سے بھی بڑی محسوس ہو رہی تھی، (شاید میرے اندر کے خوف کی وجہ سے ) ، انتہائی چمکدار دو آنکھیں، میں ایک چھلانگ کے ساتھ پیچھے کو کودا، کچن کی شیلف پر ہاتھ پڑا تو وہاں ایک بڑا سا چمچ میرے ہاتھ لگ گیا، میں نے ایک کھلاڑی کی سی پھرتی سے وہ چمچ کھڑکی میں دے مارا، کھڑکی سے منڈیر کا فاصلہ صرف ڈیڑھ فٹ تھا، لیکن مجال ہے جو بلی پر اس بڑے چمچ کے کھڑکی سے زور سے ٹکرانے کا کوئی اثر ہوا ہو، وہ ادھر کی ادھر، وہی دو آنکھیں اور میں مرکز نگاہ۔

اب کیا کیا جائے؟ بلی پر کسی قسم کی خوفزدگی کے کوئی آثار نہیں تھے، باہر مسلسل بجلی کڑک رہی تھی اور بارش ہو رہی تھی، اسی آسمانی بجلی کی روشنی میں میں اسے دیکھ پا رہا تھا، اچانک روشنی کے بعد جب اندھیرا چھا جاتا تو صرف دو چمکدار آنکھیں رہ جاتیں۔

ایک اور کوشش کے لئے میں نے اپنی تمام ہمت جمع کی، نیشنل جیوگرافک چینل پر اکثر بتایا جاتا ہے کہ اگر بڑے جانور کو خوفزدہ کرنا ہو تو اپنے آپ کو اس سے بڑا دکھانا چاہیے، میں نے دونوں ہاتھ ہینڈز اپ کی پوزیشن میں اوپر کیے ، ہاتھوں کی تمام انگلیاں کھولیں اور خوف ناک آواز نکال کر کھڑکی کی طرف بڑھا، لیکن وہ کالی بلی پتھر کی طرح ٹس سے مس نہ ہوئی، اب میرے اور بلی کے درمیان صرف دو فٹ کا فاصلہ اور لوہے کی جالی تھی، میں نے اسے غور سے دیکھا تو بارش کے باوجود بلی کے جسم پر بھیگنے کے نشان نہیں تھے۔

اب میں نے کچن سے نکل جانے کا فیصلہ کیا اور الٹے پاؤں ہوتا ہوا لابی میں آ کر جلدی سے کچن کا دروازہ بند کیا، پھر میں اپنے کمرے میں آیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا، میرے کمرے کی کھڑکی سے کچن کی کھڑکی کے ساتھ والی منڈیر (جس پر بلی کھڑی تھی) نظر آتی تھی، میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی ہلکی سی کھول کر جب باہر جھانکا تو میرے خوف میں اور اضافہ ہو گیا جب بلی کو دیکھا کہ وہ مڑ کر میری ہی کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی، میں نے جلدی سے کھڑکی بند کی، اور دبک کر اپنے بستر میں گھس گیا۔

کچھ ہی دیر کے بعد بجلی آ گئی، میں نے خوف کے مارے تمام لائٹس آن کر دیں، ٹی وی چلایا تو اس پر کوئی Horror Film چل رہی تھی، جلدی سے چینل چینج کیا، نیوز چینل پر صبح ہوئے کسی دھماکے کی خبر اور لاشوں کی تعداد بتائی جا رہی تھی، گھروں میں صف ماتم، میں نے گھبراہٹ میں تین چار چینل چینج کر دیے، شکر خدا کا ایک چینل پر ”منا بھائی ایم بی بی ایس“ لگی تھی، میں نے آواز اونچی کر دی اور یہ فلم جو پہلے کئی دفعہ دیکھ چکا تھا پورے انہماک کے ساتھ پھر دیکھنی شروع کردی، جب فلم ختم ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ بارش تھم چکی تھی، اس دوران مجھے باتھ روم کی حاجت بھی ہوئی لیکن میں نے یہ ارادہ بھی صبح تک مؤخر رکھا۔

اس گھر کو دونوں طرف سے گلیاں لگتی تھیں، پچھلی گلی میں شریفے نائی کی دکان تھی جو شادیوں پر کھانا بنانے کا کام کرتا تھا، تقریباً رات تین بجے اس کی دکان پر دیگوں کے دھلنے کی آواز آنی شروع ہوئی اور میری جان میں جان۔

نجانے میں کب سو گیا، صبح اٹھا، باہر نکل کر صحن کا جائزہ لیا، وہ منڈیر دیکھی، ادھر ادھر بلی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے کہیں نظر نہ آئی، چھت پر چڑھ کر بے آباد تیسرے پورشن میں جھانکا، وہاں بھی آج بلی کا کوئی نشان نہیں تھا۔

میں نے ناشتہ بنایا اور معمول کے کام کیے، اس دن اور رات مجھے بلی نظر نہیں آئی، اگلے دن صبح جب میں آفس جانے لگا تو مجھے چھت کی منڈیر پر اسی بے اعتنائی اور لاپرواہی کے عالم میں (مجھے تکتے ہوئے ) وہ نظر آئی، مجھے شدید غصہ آیا، میں نے کہا آج تو میں تمہاری خبر ضرور لوں گا، میں نے ارادہ کیا کہ چھت پر جا کر اس سے نمٹا جائے، میں کچھ نہ کچھ بڑبڑاتا سیڑھیوں کی طرف لپکا، آخری چھت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے ایک انتہائی ضروری کام یاد آ گیا، میں بیچ راستے رکا اور سوچا کہ آج تو میں بہت مصروف ہوں پھر کسی دن تمہیں دیکھ لوں گا، یوں بلی کی خبر لینے کا ارادہ میں نے غیر معینہ مدت تک کے لیے موخر کر دیا۔

اس کے بعد بھی وہ مجھے اکثر نظر آتی رہی، جب میں نے وہ گھر چھوڑا، تو چند دن پہلے وہ کہیں غائب ہو گئی، آخری دن جب میں تمام پیکنگ کر کے وہاں سے نکلنے لگا تو میں نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی، میں اسے دیکھے بغیر وہاں سے نہیں جانا چاہتا تھا، نہ جانے کیوں میں ایک بار ان دو چمکتی آنکھوں کو دیکھنا چاہ رہا تھا، گھر کے دونوں اطراف کی چھتیں، سیڑھیاں، ہمسایوں کی چھتیں، میں نے ہر طرف جھانکا لیکن وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی

Facebook Comments HS