گرم روٹی اور نئی بہو
میں تو ٹھنڈی روٹی کھا ہی نہیں سکتی۔ نہ ہی میرے بچوں کو اس کی عادت ہے۔ تمہارے ماموں رات کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔ رات بارہ بجے کے بعد ہی گھر آتے ہیں۔ ہمیشہ اس پہر تازہ روٹی بنا کر دیتی ہوں۔ کبھی اگر میری صحت خراب ہو تو بچیوں میں سے کوئی ایک یہ ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ لیکن چپاتی ہاتھ کے ہاتھ توے سے اتار کر دیتے ہیں۔ ٹھنڈی روٹی بھی بھلا حلق سے نیچے اترتی ہے؟
بیٹے کی شادی کو ایک مہینہ ہونے کو آیا تھا۔ نو بیاہتا کو ہر آیا گیا، چھوٹا بڑا، سسرال، اس کے رہن سہن کے طریقے، اصول، رسم و رواج بہانے بہانے سے اس کے کانوں سے گزار رہا تھا۔ دن چڑھے تک سونا سسر کو گراں گزرتا ہے۔ بڑوں کو چارپائی اور بیڈ کے سرہانے کی طرف بٹھانا ہوتا ہے۔ کریلے ہمیشہ بھرے ہوئے بنا زائد مصالحے کے بنتے ہیں۔ چاول مرغوب غذا ہے بھلے دال کے ساتھ ہوں یا شلجم پالک کے ہمراہ۔ مونگ مسور کی مکس دال کی بجائے چھلکے والی ماش اور چنے کی دال بنتی ہے۔ لسی نمکین کی بجائے میٹھی سب کو پسند ہے۔ بڑا گوشت نہیں بنتا۔ اس کا بس قیمہ۔ ایک وقت کی روٹی دوسرے وقت کھانا ناممکن ہے۔ گائے اور مرغیاں کس لئے ہیں۔ روٹی سب کے لیے تازہ، جب، جیسی جس کو چاہیے، اسی وقت بنے گی۔ پراٹھا، سادہ، چپڑی، مسی، بل دار بنانا تو آتی ہو گی۔
اتنی پڑھی لکھی بہو پہلی دفعہ خاندان میں آئی ہے۔ ہمیں تمہاری کسی بات پر اعتراض نہیں۔ نوکری کرو، مزید پڑھائی کرو۔ لیکن ہمارے ہاں نعمت خانے عورتیں ہی سنبھالتی ہیں۔ ہمارے مردوں کو کھانا خصوصاً چپاتی ایک دم گرم چاہیے ہوتی ہے۔ اس میں کوتاہی برداشت نہیں ہوتی۔ سارا دن کی دوڑ دھوپ کے بعد اتنا تو حق بنتا ہے۔ اب یہ نہ ہو کہ اعلی تعلیم یافتہ بہو میرے بیٹے کو ٹھنڈی یا بازاری روٹیوں پر ٹرخائے رکھے۔
خاندان میں جوان مرگ ہو گئی تھی۔ دوست، احباب، عزیز و اقارب قرب و جوار سے آئے ہوئے تھے۔ مرحوم کے ورثا کا خیال ہو نہ ہو ہر کسی کو اپنے پیٹ کی فکر ستائے رکھتی تھی۔ بعد از نماز جنازہ کھانا بھی پیش کیا گیا۔ لیکن پھر بھی دیوار پار تایا کے گھر میں مہمانوں کا کھانے کے لئے تانتا بندھا تھا۔ کسی کو بریانی خشک لگی تھی۔ کسی کو بوٹی نہیں ملی تھی۔ کسی سے چاول کھائے ہی نہیں گئے۔ کسی کو پرہیزی چاہیے۔ کسی کو چائے نہ ملنے پر سر درد تھا۔
خیر سبھی کی فرمائشیں، ضرورتیں پوری کرنے کا انتظام ہوا۔ ساتھ ساتھ میزبان کے فوتگی والے گھر کے چکر الگ لگ رہے تھے۔ اب جب وہ اپنے گھر مہمانوں کی خیر خبر لینے آئیں تو کچھ مہمان ابھی بھی غیر مطمئن تھے۔ کہ آپ کے ہاں بھی ٹھنڈے نان ہی کھانے کو ملے۔ تمہیں پتہ تو ہے کہ تمہارے بھائی اور بھانجا جب تک پھولی ہوئی، نرم گرم روٹی نہ ہو، کھانا نہیں کھا سکتے۔ ابھی بھی تنگ ہو رہے ہیں۔ جلدی واپسی کا کہہ رہے ہیں۔ ایک اور نے شکوہ کیا کہ دانت کچھ کمزور ہیں۔ جب تک خستہ گرم روٹی نہ ہو۔ بھوکی ہی رہتی ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ خاتون خانہ نے ایک خاموش نظر اکلوتی بیٹی کی جانب کی جو گاؤں کے کشادہ گھر میں الگ دوڑیں لگا لگا ہلکان تھی۔
گھر میں آج چھوٹا بیٹا ناراض، صبح سے منہ پھلائے پھر رہا تھا۔ دن کا کھانا بھی اسی خفگی کی نذر ہوا تھا۔ ماں کا بلڈ پریشر آسمان کو چھو رہا تھا۔ کہ ان کا لاڈلا صبح سے بھوکا بیٹھا ہے۔ اور ان کا سارا نزلہ بیٹیوں پر گر رہا تھا۔ جن کی سستی اور کاہلی کی بدولت یہ سب ہوا۔ وہ ناشتے کے بعد کسی کی عیادت کو گئی تھیں۔ اس تاکید کے ساتھ کہ بھائی جاگے تو تازہ، بل دار پراٹھا بنا کر دینا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پہلے سے بنا ٹھنڈا پراٹھا جو اس کے سامنے رکھا تو تب سے اب شام ہو گئی تھی، وہ اسے منانے میں ہلکان تھیں۔
یہ ہمارے ملک کے کچھ رویوں کے عکاس منظرنامے ہیں۔ جہاں کھانا اور کھانے کے دسترخوانوں پر گرم روٹی عموماً ایک اہم جز ہے۔ کچھ دیر کو آنکھیں ان کی طرف سے بند کریں اور اب ایران چلتے ہیں، اپنی آنکھیں کھولیں۔ جہاں جس بھی ہوٹل پر کھانا کھانے جائیں۔ باقی لوازمات کے ہمراہ خمیری، پتلی، ٹھنڈی روٹی میز پر آپ کے سامنے رکھی جاتی ہے۔ روٹیوں کا ایک ڈھیر کسی ٹب نما برتن میں کچن میں باقی کھانوں کے ساتھ ڈھانپا ہوا ملے گا۔ جدھر سے روٹی ہر آرڈر کے ساتھ دینے کو نکالی جاتی ہے۔
پبلک تندور ہیں۔ جدھر سے مرد و زن موٹی، پتلی، لمبی، بیضوی روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ڈھیر بازووں پر لٹکائے، بازار، گلی، محلوں سے گزرتے گھروں کو لے جاتے ہیں۔ جہاں ہفتہ بھر وہی روٹی استعمال ہوتی ہے۔ گرم روٹی عام طور پر اسی وقت دستیاب ہوتی ہے جب آپ خریدتے ہیں۔ وگرنہ ٹھنڈی روٹی کھانا عام ہے۔ ہر کسی کے بستے میں وہ روٹی، پنیر، شہد موجود ہوتا ہے۔ حسب ضرورت، وقت بے وقت نکالا اور کھایا جاتا ہے۔ بھلے سیاح ہوں یا امام رضا علیہ السلام اور بی بی قم کے روضوں کے زائر، دکاندار ہوں یا نوکری پیشہ۔ یہ آسان اور فوری حل اکثر کے پاس ہوتا ہے۔
دوسرے ملک کی یہ مختصر جھلک دکھلانا اس لئے منظور ہے کہ ہم تقابلی اندازہ کر سکیں کہ کسی بھی اچھی روایت، عادت میں بھی جب اصراف کا عنصر آنے لگے اور توازن بگڑنے لگے تو اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانا کھلانا، تواضع کرنا، مہمان نوازی کرنا، اپنے پیاروں کے لئے استطاعت کے مطابق عمدہ پروسنا سب بہت اعلی خصوصیات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ شکرانہ بھی ہم پر واجب ہے۔ کھانے کی میزوں پر ’گرم روٹی‘ کو وہ معیار نہ بنائیں جو کسی بیٹی کو چوبیس گھنٹے، سات دن ہفتے میں کچن میں کھڑا رکھے۔
کسی بہو کی محبت اور سلیقہ کی پیمائش ہو۔ کسی ملازم پیشہ خاتون کے لئے وبال جان ہو۔ کسی گھریلو عورت کے لئے ہر وقت کا ایک امتحان ہو۔ کٹھن لمحوں میں اپنی پسند ناپسند سے کم پر مان جانے پر تحقیر نہیں بڑائی ہے۔ کھانا ملنا بذات خود ایک نعمت ہے۔ اور گھر کی بنی روٹی اس سے بڑی۔ اس لئے ’گرم روٹی‘ کے بخار سے خود کو نکالیے۔ کبھی کبھی ٹھنڈا کھائیں۔ اور اپنے ہاں کی خواتین کو وہ وقت کسی اور تربیتی، تخلیقی دلچسپی میں گزارنے دیں۔


