”گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے“
پنج ست مرن گوانڈھناں، رہندیاں نوں تاپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے
عام انتخابات کے انعقاد میں دو ہفتے رہ گئے ہیں دہشت گردی کے خطرات کے باوجود غیر یقینی صورت حال ختم ہو گئی ہے اب انتخابات کے انعقاد میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن وہ انتخابی ماحول نہیں بن سکا جو ماضی میں ہونے والے عام انتخابات میں دیکھا گیا ہے سیاسی ماحول پر اداسی چھائی ہوئی ہے سڑکیں ویران ہیں جلسہ گاہیں روایتی رونق سے محروم ہیں بس مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے وجود کا احساس دلانے کی کو شش کر رہی ہیں شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موسم کی شدت جلسوں کے انعقاد میں رکاوٹ بن رہی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ عام انتخابات میں بڑا کھلاڑی ”بلا“ کہیں نظر نہیں آ رہا پی ٹی آئی کے امیدواروں کی فہرست تو جاری ہو گئی ہے لیکن پورے ملک میں پی ٹی آئی کا پرچم خال خال نظر آ رہا ہے بظاہر پی ٹی آئی نے عام انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے کا اعلان کا رکھا ہے لیکن عملاً پی ٹی آئی میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اس نے شکست تسلیم کر لی ہے اڈیالہ جیل میں ”سرکاری مہمان“ شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں خواہ کچھ بھی نتائج برآمد ہوں وہ آخری گیند تک کھیلنا چاہتے ہیں ان کی سوچ ہے کہ 8 فروری 2024 کو نوجوان ووٹر پورے جوش و فروش باہر نکلے گا اور مطلوبہ انتخابی کے حصول کے لئے بچھائی گئی بساط الٹ دے گا۔
”کپتان“ کے مخالفین کو ان کی اس سوچ کا بخوبی علم ہے لیکن ان کا کہنا ہے عام انتخابات کے انعقاد میں چند روز رہ گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت گھروں سے باہر نہیں نکل سکی، اس پر انجانا خوف طاری ہے جس کی وجہ سے انتخابی ماحول نہیں بن پا رہا۔ اڈیالہ جیل سے ”کپتان“ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو جلسے کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی، جمعیت علما ء اسلام، ایم کیو ایم جلسے جلوس کے ذریعے انتخابی ماحول گرمانے کی کوشش کرر ہی ہیں لیکن ان سب کا اصل مخالف کھلاڑی میدان میں نظر نہیں آ رہا لہذا وہ گہما گہمی نظر نہیں آ رہی جو انتخابات کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ عمران خان چو مکھی لڑائی لڑتے لڑتے جیل چلے گئے ہیں۔ ان کے بیشتر ساتھی اپنی جانیں بچانے کے لئے ڈوبتی کشتی سے چھلانگیں لگا چکے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کی قیادت وکلاء کے پاس آ جانے سے ملک کی ایک بڑی پارٹی کا بوجھ نہیں اٹھا سکی جس کے باعث اب پی ٹی آئی کہیں نظر نہیں آ رہی۔
پی ٹی آئی کو نوجوان نسل سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور وہ سمجھتی ہے اس کا ووٹر خود باہر نکلے گا اور سب کچھ الٹ پلٹ کر دے گا اس لئے پی ٹی آئی جلسے جلوس کی بجائے سوشل میڈیا پر انحصار کر رہی ہے جب کہ دیگر جماعتیں ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کر رہی ہیں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جہاں جلسے کر رہی ہیں وہاں وہ ڈور ٹو ڈور روایتی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان ”بلا“ نہ ملنے سے اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔
ہر حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشان ملنے سے ووٹر کنفیوز ہے- بینگن، بوتل جیسے انتخابی نشانات پی ٹی آئی کے امیدواروں کا مذاق اڑانے کا باعث بن گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے ہیں۔ مسلم لیگی رہنما الگ الگ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ تاہم نواز شریف اور مریم نواز اکٹھے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں نواز شریف نے مریم نواز کی قیادت کو تسلیم کرانے کے لئے ان سے پہلے خطاب کرنا شروع کر دیا ہے۔ یوں نواز شریف نے مریم نواز سے پہلے خطاب کر کے عوام کو یہ تاثر دیا ہے کہ اب اس جماعت کی قیادت مریم نواز کے پاس ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی پارٹی قیادت ان کو سونپ دی ہے۔
نواز شریف کے بعد مریم نواز کے جلسہ سے خطاب کے دوران اسی طرح لوگوں کھڑا رہنے کا یہ مطلب ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے حامی لوگوں میں مریم نواز کی قیادت کو قبولیت کا درجہ حاصل ہو گیا ہے دوسری طرف پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین آصف علی زرداری انتخابی مہم میں کہیں نظر نہیں آ رہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک کے مختلف حصوں میں جلسے کر کر پیپلز پارٹی کے وجود کا احساس دلا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ آصفہ زرداری بھی جلسوں سے خطاب کر رہی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری لاہور سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ انہوں پنجاب میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور وہ مسلسل نواز شریف کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور شیر کو تیر سے شکار کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کی تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود اعلیٰ مسلم لیگی قیادت نے بلاول بھٹو زرداری کو جواب نہ دے کر نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان لڑائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے مسلم لیگ (ن) نے ملک بھر ایم کیو ایم، استحکام پاکستان پارٹی، باپ، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور جمعیت علما اسلام سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے 51 حلقوں میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا لیکن پیپلز پارٹی سے ایک سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی۔
اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے آپ کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پیش کر دیا ہے لیکن وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ پاور بیس پنجاب میں اکثریت حاصل کیے بغیر کوئی جماعت وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کے لئے پی ٹی آئی کے ووٹرز سے مدد مانگ لی ہے پی ٹی آئی کے ووٹرز مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے ہیں وہ پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں آصف علی زرداری کے کردار کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں لہذا پنجاب سے پی ٹی آئی کا ووٹر ان کی جماعت کو ووٹ نہیں دے گا
عام انتخابات سے قبل گیلپ سروے جاری ہوتے رہتے ہیں عام طور پر ووٹرز گیلپ سروے پر یقین نہیں رکھتے لیکن بعض اداروں کی کریڈبلٹی کو پیش نظر رکھ کر ان پر یقین کیا جا سکتا ہے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ (آئی پی او آ) کئی سالوں سے گیلپ سروے کر رہا ہے فی الحال اس نے پنجاب کی حد تک سروے کیا ہے جو 3 ہزار سے زائد افراد کی رائے پر مشتمل ہے جس میں بتایا گیا ہے پنجاب کی سب سے زیادہ مقبول جماعت مسلم لیگ (ن) ہے سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو 45 فیصد، پی ٹی آئی کو 35 فیصد اور پیپلز پارٹی کو 8 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت 32 فیصد سے 45 فیصد ہو گئی ہے جب کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں ایک فیصد کمی اور پیپلز پارٹی کی مقبولیت 5 فیصد سے 8 فیصد ہو گئی۔
پنجاب کے 51 فیصد شہری وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ 34 فیصد پی ٹی آئی اور 7 فیصد پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے حق میں رائے دے رہے ہیں اگرچہ گیلپ سروے مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے پاس بلا نہ ہونے کے باوجود اڈیالہ جیل کا ”سرکاری مہمان“ عام انتخابات میں خوف کی علامت بن گیا ہے۔ ممکن ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے بیشتر امیدوار ہار جائیں لیکن پھر بھی 40، 45 امیدوار منتخب ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں آزاد امیدوار منتخب ہو کر حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آزاد امیدوار پارلیمنٹ کی بساط پلٹ سکتے ہیں۔


