عمران خان کے طرز سیاست کے بارے میں مجھے ہی دوبارہ سوچنا چاہیے


 

چونکہ آج کل عمران خان کی سیاست سے مخالفت کا اظہار اپنے آپ پر نشانے کی دعوت دینے کے مترادف ہے (یعنی انگریزی میں ؛ پینٹ آ ٹارگٹ آن ونز اون بیک) اس لئے مجھے خود ہی اس طرز سیاست کے بارے میں دوبارہ سوچ لینا چاہیے۔ کوشش تو کی تھی کہ تاریخ کے مطالعہ اور دیگر ملکوں کے آج کل کے حالات سے، جو کچھ پاکستان میں بیشتر دس سال سے سیاسی اور معاشرتی تناظر میں ہو رہا ہے اسے سمجھا جائے۔ ایک رائے بنا لی، جواب بھی سوچ لئے اور اطمینان محسوس ہوا ان کی تاریخی دلیل پر مگر شاید سوال ہی ٹھیک نہیں کیے تھے۔

مثلاً آج کل عمران پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد کے سب سے نمایاں استعارہ سمجھے جا رہے ہیں۔ تو ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ یہ سب کوششیں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہی ہیں یا کہیں اسی اسٹیبلشمنٹ کو (دوبارہ) ساتھ ملا لینے کے لیے تو نہیں یا اس میں انتشار پیدا کر کے فائدہ اٹھا لینے کے لیے تو نہی؟ مثلاً جیسے حکومتی برطرفی کا عمران کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار قرار دیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے ایک سے زیادہ رہنماؤں کی طرف سے اس بات کا اظہار کہ فوج کے اعلی افسران یعنی جرنیل تو نہیں لیکن نیچے کے تمام رینک عمران خان کے ساتھ ہی ہیں۔

یہ کہنے کو تو بے ضرر بات ہی ہے اور شاید سچ بھی ہے مگر ایسے ادارے کے لوگ جن کو حکم ملنے پر اپنی جان بھی گنوا دینے کا خطرہ قبول ہے ان کے لیے ایسی بات کا کسی کی طرف سے سیاسی فائدے کے لئے اظہار شاید ایک مشکل صورتحال ہو؟ ایسے ہی چاہے اگر کوئی حکومت برطرفی کے بعد کی عمران کی تقریروں کو مورد الزام نہ بھی سمجھے مگر ان تقریروں اور ان سے تحریک پائے جذبات کا سوشل میڈیا پر جیسے اظہار ہوا وہ اپنی ہی فوج کے خلاف نفرت کے علاوہ کچھ اور تھا؟

جیسی نفرت کا اظہار ایک جرنیل سمیت چھ فوجیوں کے سیلاب کی امداد کے لیے اڑے ایک ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں اموات پر ہوا گویا وہ ایسی موت کے ہی حقدار تھے۔ یا گوادر میں فوجی قافلہ پر تخریبی کارروائی کے بعد یا ایسے کچھ اور مواقع پر ۔ اور جیسے ابھی حال میں ایران کے پاکستان پر حملہ اور جوابی کارروائی کو آپس کی ملی بھگت اور فوج کی طرف سے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش سمجھا گیا۔ یعنی دو دنوں میں شام عراق سمیت پاکستان پر حملے کو ایران میں تازہ ہوئے خود کش دھماکے کے بعد اس کی اپنی اندرونی مشکلات کا ردعمل سمجھنے کی بجائے ایران کی طرف سے پاکستانی فوج کی مدد سمجھنا ٹھیک ٹھہرا۔

اور اس پر یہ سوچنا کہ یہ سب جو ہوا اس میں غلط کیا تھا؟ یعنی جس فوج نے مارشل لاء لگائے (اور 1950 سے سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات لگاتی آئی ہے)، جس کی پالیسیاں ملک ٹوٹنے کا باعث بنیں، جنہوں نے جمہوری حکومتوں کو چلنے نہیں دیا، ان سے نفرت کا اظہار نہ ہو تو کیا ہو؟ اور میں تو فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف اور جمہوری حکومتوں (سمیت عمران حکومت) کے تسلسل کے حق میں دی گئیں آراء کو ہی سپورٹ کرتا رہا تھا، تو میں پھر عمران کی سیاست کا مخالف کیسے ہو سکتا ہوں اور اس کا مطلب تو بلاواسطہ فوج کی حمایت نہ ہوئی؟

یعنی مجھے دوبارہ سوچنا چاہیے کہ عمران حکومت سے نکالے جانے کے بعد (صرف) اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات کرتا ہے، تو اس کا مطلب دراصل دوبارہ طاقت کے حصول کی کوشش نہیں ہے۔ اور پھر یہ بھی تو سوچنے کا ٹھیک انداز نہ ہوا کہ ایک طاقتور (اسٹیبلشمنٹ) سے مذاکرات کر کے جیسی حکومت حاصل ہو گی وہ بھی تو پھر پہلے جیسے بیساکھیوں پر ہی ہو گی۔ اور وہ سیاستدان جن کی حکومتیں خود اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور دراندازی کا نشانہ بنیں، تشدد برداشت کیا اور جیلوں میں بھی رہے ان سے مذاکرات کا کیا فائدہ؟

اور وہی سیاستدان اب چاہے عمران خان کو مذاکرات کی دعوت دیں اور آپس میں جمہوری طریقہ پر چلنے کے معاہدے کی کم از کم ایک مثال بھی بنا چکے ہوں، قابل قبول نہیں ہیں۔ تو گویا ٹھیک یہ ہوا کہ اگر وہی سیاستدان جن کو عمران مذاکرات کے قابل نہیں سمجھتا اب اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کر لیں تو غلط ہے۔ لیکن یہ بھی تو ہے کہ وہ سیاستدان تو چور ہیں، ملک کو لوٹ کر کھا گئے وغیرہ وغیرہ اور اگر ایسی دلیل پر میں نے یہ جواب دیا کہ پھر تو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات خود اس کو کرپشن کے الزامات سے پاک قرار دینے کے مترادف ہے، تو ایسا جواب بھی تو پھر غلط ہی ہوا نا؟

ایسی سوچ بھی تو غلط ہی ہوئی کہ ہماری علاقائی حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتوں اور پالیسیوں کا تسلسل ہی ترقی کا باعث بنتا ہے، اور بھارت میں یہ سب ایسے متعدد لیڈروں کی وجہ سے بھی ہوا جو بطور وزیراعظم اعتماد کا ووٹ ہارنے اور حکومت سے نکالے جانے کے باوجود پارلیمان کا حصہ رہے۔ اور پھر یہ کیسے ہو گیا کہ ہمارے ہمسایہ ملکوں کے لیڈران پر بھی ان کے سیاسی مخالف کرپشن کے الزامات لگاتے رہے، مقدمات کا سامنا بھی ہوتا رہا لیکن ملک کا سسٹم چلتا بھی رہا اور ترقی بھی کر گئے۔ اس بارے میں کیا یہ سوچا جا سکتا ہے کہ یہ ترقی ان ملکوں کے سیاستدانوں کے آپس میں شدید مخالفت کے باوجود بعض اوقات مخلوط حکومتیں بنانے، ایک دوسرے کی حقیقت کو تسلیم کرنے اور طاقت کی دوڑ میں ان سیاستدانوں کے صرف باہمی مذاکرات کے باعث ہی وقوع پذیر ہو سکی؟

لیکن پھر یہ خیال بھی آیا کہ فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا جو الزام پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹوں پر لگا وہ پی ٹی آئی ہی کے خلاف سازش بھی تو ہو سکتی ہے، جیسا کہ 9 مئی کے واقعہ کے بارے میں بھی پی ٹی آئی کے ہمدردوں کی جانب سے سوچا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ کیا عمران یا پی ٹی آئی کے بارے میں رائے سوشل میڈیا پر موجود سب سے پست درجہ کے اظہار سے قائم کرنا ٹھیک ہو گا؟ اب اگر 9 مئی جیسے واقعات امریکہ اور برازیل میں بھی ہوئے ہوں، امریکہ میں انہیں ملک سے بغاوت سمجھا گیا ہو اور اس حملہ میں ملوث لوگوں کو 18 سال تک کی سزا بھی سنائی جا چکی ہو تو اس بارے میں کیا سوچنا چاہیے؟

اور وہاں بھی اس پارٹی کے لوگوں کی طرف سے امریکہ کی پارلیمنٹ پر حملے کو اپنے لیڈر کے خلاف ریاستی اداروں کی سازش سمجھا جا رہا ہو تو پھر؟ اور جیسا پاکستان میں ہوا یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے پیغامات سے اپنے لیڈر کی مخالفت پر کسی کی بھی شدید کردارکشی، دوسرے سیاسی لیڈروں کی انتہائی تضحیک اور نتیجتاً معاشرے اور خاندانوں میں تقسیم وغیرہ کی مثالیں امریکی، بھارتی، برازیلی اور برطانوی معاشروں میں بھی مل جائیں تو پھر؟

پھر یہ بھی کہ اپنے ہی سوشل دائرے میں موجود لوگوں کو بھی سوشل میڈیا پر موجود کچرے کو خوشی سے اچھالتے ہوئے دیکھا ہو تو ؟ گویا یہ سوچنا کہ ایک تیسری پارٹی اور اس کے لیڈر کی جگہ بنانے کے لئے نفرت کے پھیلاؤ کو ہتھیار بنا لیا گیا (یعنی سوشل میڈیا کا بطور ہتھیار استعمال جو اب فوج کے اپنے خلاف بھی چل رہا ہے) ٹھیک تو نا ہوا؟ کیا تاریخ کا یہ سبق ٹھیک نہیں ہے جو یہ بتائے کہ یہ سب جو آج ہو رہا مکافات عمل بھی ہے، اور اس سے پہلے بھی ہوتا آیا ہے بس اب نشانہ مختلف ہے۔

بہرحال ماضی کی غلطیوں کو حال میں ہوئے غلط کی ڈھال نہیں بنانا چاہیے یا دوسرے الفاظ میں حال میں ہو رہا غلط صرف اس لئے ٹھیک نہیں مانا جا سکتا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مگر چونکہ پی ٹی آئی کے حامی دوسرے سیاسی رہنماؤں کی قید، ہراسانی وغیرہ اور پچھلی حکومتوں کی برطرفی کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے اٹھائے اقدام کا دفاع کرتے ہیں، اسی لئے شاید مجھے دوبارہ سوچنا چاہیے۔

اب عمران کے اٹھائے اقدام مثلاً 2014 کی قومی اسمبلی کا بائیکاٹ اور دھرنا، 2022 کی قومی اسمبلی سے استعفی اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل، اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد بنائے گئے بیانیہ وغیرہ کے بارے میں کیسے سوچنا چاہیے؟ مجھے عمران خان کی لیڈرشپ کا اسٹائل؛ مائے وے اور دا ہائی وے لگتا ہے۔ یعنی اگر میری بات مانو تو سب ٹھیک ورنہ سب نشانے پر ملک کے بین الاقوامی تعلقات، معاشرتی اور معاشی صورتحال سمیت۔ قومی ریاستوں کی تاریخ تو ایسی لیڈرشپ کے بارے میں یہی بتاتی ہے کہ ان کا بیانیہ قوم کو جذباتی تحریک تو دے دیتا ہے لیکن عام طور پر مذہب، نسل، ملک سے وفاداری اور کرپشن کے نام پر بس تقسیم ہی کر رہا ہوتا ہے اور خاص طور پر اس صدی میں تو ایسی مثالیں امریکہ، برازیل، برطانیہ ہنگری اور انڈیا وغیرہ میں مل جاتی ہیں۔

اور اس طرز سیاست کے بارے کیا سوچا جائے جو اپنی حکومت کے وقت تو قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے سے باز نہ رہے مگر برا وقت آنے پر اسی آئین کی پناہ مانگے؟ اور اگر اس کا جواب یہ ہو کہ سارے اپنے وقت پر ایسا ہی کرتے ہیں تو پھر دوسروں سے فرق کہاں اور کیسے ڈھونڈنا ہے؟ کیا قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے (اپنی تمام پارٹی کے مشورہ کے خلاف) انخلا تاکہ معاشی طور پر بے حال ملک وقت سے پہلے الیکشن پر مجبور ہو جائے، مائے وے اور دا ہائی وے کا طرز سیاست، اور آئین کا بازو مروڑنے کی ویسی ہی چال نہیں تھی جیسی ایک مثال میں امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان جنوب میں سیاہ فام امریکیوں کو 1960 تک حقوق سے محروم رکھنے کے لئے استعمال کرتے آئے تھے؟ حالانکہ وہ سب آئینی دائرے کے اندر ہی ہو رہا تھا۔

میرا خیال ہے کہ ہم پاکستان اور اس کے نازک امن کو فار گرانٹڈ لے رہے ہیں (حالانکہ وہ خوش قسمت ہی سمجھے جانے چاہیں جو اور ان کے خاندان دوست احباب پچھلی دہائیوں کی بدامنی سے بچ گئے، بچے پڑھ گئے اور کاروبار و ملازمتوں میں ترقی کر گئے)، کرپشن جس کا دفاع مقصود نہیں مگر جو بیماری کی بجائے ایک علامت ہے سیاسی فائدہ کی خاطر اس کے (دوسرے سیاستدانوں پر) الزامات کو (ہمیشہ کی طرح) استعمال کر کے قوم کو تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں، اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل (اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے رویہ میں تبدیلی کی بتدریج مشترکہ کوشش سمیت) کی اہمیت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

کیا عمران خان کے طرز سیاست کے بارے میں مجھے ہی دوبارہ سوچنا چاہیے؟

Facebook Comments HS