حلقہ این اے 186 اور پی پی 291 میں جیت کس کی ہوگی؟


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاست بھی اپنی شکل تبدیل کر لیتی ہے۔ سیاسی اصول و ضوابط بھی بدل جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ کلیے بھی تبدیلی کے مراحل طے کر لیتے ہیں جن کے ذریعے عوامی رائے کو اپنے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا حکومت کرنے کے لیے صرف طاقت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کوئی بھی حملہ آور جب کسی خطے پر قبضہ کرتا تو طاقت ہی اس غاصب کا آخری حربہ ہوتا تھا۔ وہاں کے باشندے طاقتور قابض طبقے کی غلامی قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ان حقائق کو نہیں دیکھا جاتا تھا۔

مقبوضہ خطے کی ترقی خصوصاً وہاں کے لوگوں کی تعلیم، صحت، خوراک، ذرائع نقل و حمل، آزادیٔ اظہار و دیگر سہولیات اور بنیادی حقوق پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ الٹا مجبور و مقہور اقوام پر ظالمانہ قوانین نافذ کر دیے جاتے تھے تاکہ مظلوم مقبوضہ خطے کے باسی اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا انسانی شعور بھی ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا کچھ حد تک ایک عام آدمی کے حقوق بارے سوچنے لگا۔ عوامی حلقوں کی جد و جہد جب قدرے کامیاب ہوئی تو حکمران طبقہ اپنی رعایا کو برائے نام حقوق دینے پر مجبور ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام ابتدائی تعلیم حاصل کرنے لگے اور رائے کے اظہار کے لیے کتب، جرائد اور رسائل کا رفتہ رفتہ رواج ہونے لگا۔ اس سے ناصرف اس وقت کے دانشور اپنا پیغام ایک عام آدمی تک پہنچانے لگے بلکہ خطے کو درپیش مسائل اور قابض حکمرانوں کے پیدا کردہ مسائل بھی زیر بحث آنے لگے۔

نتیجتاً حکمران اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لانے لگے۔ اسی طرح بتدریج انسانی اذہان کے ارتقائی عمل نے مزاحمتی جد و جہد کے ذریعے دنیا کو موجودہ اور اس وقت تک کا جدید ترین جمہوری نظام دیا۔ اس نظام نے ناصرف شہریوں کو بلاتفریق بنیادی حقوق عطاء کیے بلکہ ایک عام آدمی کو برابری کی بنیاد پر قانونی حقوق بھی مہیا کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جدید جمہوری ممالک میں قانون کی نظر میں امیر اور غریب سبھی برابر ہیں۔ تمام شہری صحت، قانون اور دیگر بنیادی سہولیات و حقوق کی فراہمی میں برابر کھڑے نظر آتے ہیں۔ حکمران طبقہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت بھی گھسا پٹا سیاسی نظام چل رہا ہے۔ یہاں محض نام کی جمہوریت رائج ہے۔ برطانوی سامراج سے لے کر اب تک اس خطے میں عالمی سامراج کے دلال حکمرانی کرتے آ رہے ہیں۔ کبھی لندن کا آلہ کار طبقہ یہاں کے نظام پر مسلط ہے تو کبھی امریکہ کی غلامی کا طعنہ ہمارے مقدر کا لکھا قرار پاتا ہے اور کبھی روس کی غلامی کا اشتیاق ہمارے سیاسی ڈھانچے کو تہہ و بالا کرنے لگتا ہے۔ پاکستانیوں کی حرماں نصیبی ہے کہ انھیں مخلص سیاسی رہنماء نہیں مل سکے۔

اب جبکہ 8 فروری 2024 ء کو وطن عزیز میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ادارے اپنی روایتی اور ناکام پالیسیوں میں کچھ ترامیم متعارف کرواتے ہوئے حالیہ انتخابات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ایسے میں ڈیرہ غازی خان کا حلقہ برائے قومی اسمبلی 186 اور صوبائی اسمبلی کا حلقہ 291 اس وقت بھی صدیوں پرانے دور کی یاد دلا رہا ہے کہ جب انسان ”قابضین“ کے رحم و کرم پر ہوتا تھا۔ نوابوں اور جاگیرداروں کا حکم ہی جمہوریت کہلاتا تھا تھا۔ مطلق العنان فرمانرواؤں کی حکم عدولی کو ناقابل بخشش گناہ کے طور پر لیا جاتا تھا۔ چنانچہ ان بدقسمت قومی اور صوبائی حلقوں پر بھی یہی مشق آزمائی جا رہی ہے مگر نسل نو گنہگار روایتی سیاسی نظام کو مکمل طور پر ٹھکرا چکی ہے۔ درباری لوگ یہاں کے جاگیرداروں کو ”سب ٹھیک ہے“ کی غلط اطلاع/ رپورٹ دے رہے ہیں۔

ڈیر غازی خان کے حلقہ این اے 186 پر سابق صدر پاکستان فاروق لغاری کا بیٹا سابق وفاقی وزیر اویس لغاری پاکستان مسلم لیگ ”ن“ کی طرف سے امیدوار ہے جبکہ ان کا قریبی رشتہ دار احمد خاں لغاری حلقہ پی پی 291 میں صوبائی نشست پر ”پی ایم ایل این“ ہی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ مذکورہ قومی اور صوبائی حلقے میں اس وقت دونوں لغاری صاحبان کی شکست نظر آ رہی ہے کیونکہ ووٹرز کے ساتھ روا رکھا جانے والا ان کا رویہ، مطلق العنان حکمرانوں والا ان کا سلوک اور ترقیاتی کاموں میں عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ اپنے ووٹرز سے دوری جیسے حقائق اویس لغاری اور احمد خاں لغاری کو عبرتناک شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔

اسی قومی و صوبائی حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی سابق وزیراعلٰی پنجاب دوست محمد کھوسہ اور ملک رمضان قادر بھی جیت سے کوسوں دور نظر آ رہے ہیں۔ ہاں۔ البتہ دوست محمد کھوسہ کو ”ملک رمضان قادر“ کی وجہ سے قابل ذکر حد تک ووٹ مل سکتا ہے جبکہ دوست محمد کھوسہ ”رمضان قادر“ کو رتی برابر سیاسی فائدہ نہیں دے سکتا۔ مقامی سطح پر پائی جانے والی رائے کے مطابق حلقہ این اے 186 اور پی پی 291 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سجاد چھینہ اور فہیم سعید چنگوانی مضبوط ترین پوزیشن پر ہیں۔

Facebook Comments HS