کہا جاتا ہے کہ تلخ ماضی اور اس تلخ ماضی کی یادیں عذاب اورغضب ناک ہوتی ہیں۔ ماضی میں واقع ہونے والے حادثات، نازل ہونے والے مصائب اور تکالیف مستقبل اور حال کے لمحات کو سوگوار کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اِن سوگوار اَیام کا مداوا حال اور مستقبل کا خوشگوار سامان قرار پاتے ہیں۔ اگر موجودہ اور آنے والے زمانے کو خوشحالی کی طرف گامزن کرنے کے اقدامات نہ کیے جائیں تو تلخیوں اور تلخ یادوں سے چُھٹکارا اور خلاصی نا ممکن ہو جاتی ہے۔
آج اس خطۂ زمین کہ جہاں ہم رہائش پذیر ہیں کے عوام (دوسرے لفظوں میں حیوانوں ”خصوصاَ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ“ کی شکل میں نا اتفاقی کی زندگی گزار رہے ہیں ) ۔ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بَرا ہونے کی بجائے فرائض سے پہلو تَہی کر رہے ہیں۔ تلخ ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے کاہلی کا شکار ہیں۔ یہ کاہلی در حقیقت غفلت کا دوسرا نام ہے۔ یہاں ”اگر“ سے کام لیا جاتا تو بہتر نتیجہ اخذ ہو سکتا تھا۔ وہ اِس لئے کہ اگر یہ ادراک کر لیا جاتا کہ توانائی کے ذرائع جو اللہ تعالیٰ کی نعمت غیر مترقبہ کا دَرجہ رکھتے ہیں، کو ضائع ہو نے بچایا جاتا۔ تو۔ حال و ماضی میں ہماری ترقی پر ”نا ممکن“ جیسی اصطلاحات غالب نہ آسکتی تھیں۔ اوراس طرح مستقبل بھی روشن ہو جاتا۔
Read more