ملکو کا گیت اور اہل یوتھ

سال 2023 ء اختتام کو پہنچے ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ہم نے 2023 ء میں کیا کارنامے سرانجام دیے۔ پچھلے سال ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ یہ باتیں ایک طرف رکھتے ہوئے معمول کے موضوعات پر بات کر لیتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل جس کی ذہن سازی حسب معمول ایک اداکار نے کی پاکستانی سیاست اور سماج پر غالب نظر آتی ہے اپنے اندر تعمیر وطن کی بجائے محض شور شرابے پر یقین

Read more

پی ٹی آئی کی قیادت کو سزائیں اور بلوچستان میں شورش

آج کی اس مختصر سی تحریر کا مقصد یہ تھا کہ بلوچستان کے شورش زدہ حالات اور بلوچستان اور ایران میں معصوم سرائیکیوں کی شہادت پر کچھ بات کی جائے مگر دیگر اہم موضوعات بھی آج کے بلاگ میں در آئے۔ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں عدالت نے دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اسی طرح توشہ خانہ کیس میں بھی عمران

Read more

حلقہ این اے 186 اور پی پی 291 میں جیت کس کی ہوگی؟

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاست بھی اپنی شکل تبدیل کر لیتی ہے۔ سیاسی اصول و ضوابط بھی بدل جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ کلیے بھی تبدیلی کے مراحل طے کر لیتے ہیں جن کے ذریعے عوامی رائے کو اپنے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا حکومت کرنے کے لیے صرف طاقت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کوئی بھی حملہ آور جب کسی خطے پر قبضہ کرتا تو طاقت ہی اس غاصب کا آخری حربہ ہوتا تھا۔

Read more

ارباب اقتدار کا مبہم موقف

یہ بات میرے لیے پہلے کی طرح سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار کی وفاداری کس کے لیے ہے اور ان کا جھکاؤ کس طرف ہے۔ ؟ روز اوّل سے حکمران کہتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کاکوئی وجود ہی نہیں ہے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہورہی۔ ! اور باربار یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردموجو د ہیں اور پاکستان خطرناک ترین دہشت گردی کا شکار ہے جس کے خلاف آرمی اور دیگر سلامتی کے ادارے برسرپیکار او رنبر د آزما ء ہیں۔ ! اس میں تو شک نہیں کہ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے وہ یقینا دشوار ترین حالات ہیں۔ ریکارڈ قربانیا ں دینے کے باوجود بھی ہم اس عفریت سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔

Read more

علاج ِ ظلمت ِ شب

سوچیں مصلوب ہورہی ہیں اور مفکرین کو سولی پر لٹکا یا جارہارہے ہزار ہا غم ہیں کہ جو ہستی کو لاحق ہیں۔ اس صورت میں اگر افکار پر پابندی لگ جائے تو یقینا تاریکیاں مقدر بن جائیں گی اور ظلمتیں تقدیر کی طرف سے ہمیں بھی تقسیم ہو جائیں گی جیسا کہ اندھیرے اس وقت ہم سب کا مقد ر ہیں۔ اندھیروں کا رواج آج کل اقدار کے طور پر معروف ہے۔ جس کا اطلاق ہماری قدریں بن چکا ہے ان حالات کو دیکھ کر ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ اقدار جو فی زمانہ رائج ہیں معاشرے کا مثبت پہلو اور اہم نکتہ ہیں

Read more

سزائے موت کا قانون، پراسیکیوشن اور نا انصافیاں

عجیب لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ سزائے موت کا عمل معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث ہے۔ اس عمل سے جرائم پیشہ عناصر اعمال بد سے توبہ تائب ہو کر راہ راست پر چل پڑتے ہیں۔ غرضیکہ معاشرہ مستقبل طور پر امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہ دلائل محض بے وقوفانہ ہیں۔ اس خیال کو اگر خوش فہمی کا نام دے دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سزائے موت کا قانون صرف اور صرف انتقامی کار روائیوں اور اپنے سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

بلکہ انہی اغراض مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے! میری ان سطور پر یقینا حکام مملکت و عدلیہ خفاء تو ضرور ہوں گے۔ کہ سزائے موت کا عمل نہایت ہی ایماندارانہ طریقے سے انجام پاتا ہے۔ لیکن اگر ہمارے عدالتی حکام یعنی ججز حضرات عملی زندگی میں بذات خود ان تمام معاملات کو مانیٹر کریں تو حقائق سامنے آ جائیں گے کہ کس حد تک تحقیق و تفتیش کا عمل شفاف ہے۔ سردار انہ و جاگیر دارانہ نظام کی مداخلت پر مقدمات کا قائم کرنا۔

Read more

نوید صبح

ساجد! شہر ڈو ونج، مگر شرط ہے ایہا سینہ جے میڈی جان! زمانے دا صاف ہے ہمارے وسیب، ہماری دھرتی اور ہمارے خطے کے عالمگیر شاعر فرید ساجد کا یہ شعر عکاس ہے ان جذبات کا، عکاس ہے اس کا خوف جو ہم سب کو لاحق ہے، یہ خوف محض واہمہ نہیں یقین ہے۔ اس خوف سے لاپروائی خود کو خطرات سے دو چار کرنے کے مترادف ہے۔ ”مائیں“، اس خوف سے اپنے جگر گوشے شہر نہیں بھیجتیں کہ ان

Read more

لالے کی حِنا بندی

کہا جاتا ہے کہ تلخ ماضی اور اس تلخ ماضی کی یادیں عذاب اورغضب ناک ہوتی ہیں۔ ماضی میں واقع ہونے والے حادثات، نازل ہونے والے مصائب اور تکالیف مستقبل اور حال کے لمحات کو سوگوار کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اِن سوگوار اَیام کا مداوا حال اور مستقبل کا خوشگوار سامان قرار پاتے ہیں۔ اگر موجودہ اور آنے والے زمانے کو خوشحالی کی طرف گامزن کرنے کے اقدامات نہ کیے جائیں تو تلخیوں اور تلخ یادوں سے چُھٹکارا اور خلاصی نا ممکن ہو جاتی ہے۔

آج اس خطۂ زمین کہ جہاں ہم رہائش پذیر ہیں کے عوام (دوسرے لفظوں میں حیوانوں ”خصوصاَ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ“ کی شکل میں نا اتفاقی کی زندگی گزار رہے ہیں ) ۔ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بَرا ہونے کی بجائے فرائض سے پہلو تَہی کر رہے ہیں۔ تلخ ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے کاہلی کا شکار ہیں۔ یہ کاہلی در حقیقت غفلت کا دوسرا نام ہے۔ یہاں ”اگر“ سے کام لیا جاتا تو بہتر نتیجہ اخذ ہو سکتا تھا۔ وہ اِس لئے کہ اگر یہ ادراک کر لیا جاتا کہ توانائی کے ذرائع جو اللہ تعالیٰ کی نعمت غیر مترقبہ کا دَرجہ رکھتے ہیں، کو ضائع ہو نے بچایا جاتا۔ تو۔ حال و ماضی میں ہماری ترقی پر ”نا ممکن“ جیسی اصطلاحات غالب نہ آسکتی تھیں۔ اوراس طرح مستقبل بھی روشن ہو جاتا۔

Read more