عالمی عدالت اور اسرائیل:تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا


آئی سی جے ”انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس“ نیدرلینڈز (ہالینڈ) کے شہر دی ہیگ میں واقع امن محل میں قائم ہے۔ اس کا قیام 1945 میں ممالک کے مابین تنازعات کے تصفیے کی غرض سے عمل میں آیا۔ اسے عالمی عدالت ’بھی کہا جاتا ہے جو اقوام متحدہ کے چھ بنیادی اداروں، جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، معاشی و سماجی کونسل، تو لیتی کونسل اور سیکرٹریٹ میں سے ایک ہے۔ یہ واحد ادارہ ہے جو نیویارک سے باہر قائم ہے۔ یہ اسی وقت کسی تنازع پر سماعت کرتی ہے جب ایک یا زیادہ ممالک درخواست کریں۔ 17 ججوں پر مشتمل عدالت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نو سال کے لیے منتخب کرتی ہیں۔ ہر تین سال بعد پانچ ججوں کا انتخاب ہوتا ہے جن کے متواتر منتخب ہونے پر کوئی پابندی نہیں۔ یہ جج حکومتوں کی نمائندگی کے بجائے آزادانہ حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ کسی ملک کا صرف ایک جج ہی منتخب ہو سکتا ہے۔

’آئی سی جے‘ دو طرح کے مقدمات ”قانونی تنازعات“ اور ”مشاورتی قانونی کارروائی“ پر فیصلے دے سکتی ہے۔ 29 دسمبر 2023 کو جنوبی افریقہ کی جانب سے درج کرایا گیا مقدمہ اسرائیل کے خلاف نزاعی دعوے کی مثال ہے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ انسداد نسل کشی سے متعلق 1948 میں منظور کردہ اقوام متحدہ کے کنونشن کو مدنظر رکھتے ہوئے غزہ کے معاملے پر فیصلہ دے۔

تین سال قبل اسی طرح کے ایک اور مقدمے میں عدالت نے میانمار کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی اقلیتی روہنگیا آبادی کو تحفظ مہیا کرے۔ یہ مقدمہ گیمبیا نے درج کرایا تھا۔ اس میں تب میانمار کی حکومت کی رہنما آنگ سان سو کی بھی اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔

جہاں تک ’مشاورتی قانونی کارروائی‘ کا تعلق ہے تو 20 جنوری 2023 کو جنرل اسمبلی نے عدالت سے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر رائے دینے کو کہا تھا۔

اقوام متحدہ کا ہر رکن ملک، دوسرے ملک کے خلاف مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔ جب عالمی برادری کا مشترکہ مفاد خطرے میں ہو تو عدالت میں مقدمہ لانے والے ملک کا متنازع معاملے میں فریق ہونا لازمی نہیں۔ گیمبیا نے اسلامی تعاون کی تنظیم کی جانب سے میانمار کے خلاف نسل کشی کے الزامات میں مقدمہ درج کرایا جبکہ گیمبیا خود اس مسئلے کا فریق نہیں تھا۔

’آئی سی جے‘ کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں جن کے خلاف اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ان فیصلوں کا اپنے قومی دائرہ اختیار میں اطلاق متعلقہ ممالک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

اگر کوئی ملک عدالت کے کسی فیصلے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کرے تو متاثرہ ملک آخری چارہ کا رکے طور پر سلامتی کونسل سے رجوع کر سکتا ہے۔ سلامتی کونسل قرارداد کی منظوری دے سکتی ہے۔ 1984 میں امریکہ کے خلاف نکارا گوا کے مقدمے میں یہی کچھ ہوا تھا۔ ’آئی سی جے‘ نے نکارا گوا کے حق میں فیصلہ دیا جسے امریکہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ نکارا گوا یہ معاملہ سلامتی کونسل میں لے گیا جہاں اس کے حق میں قرارداد پیش کی گئی۔

تاہم امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کے خلاف جو عبوری فیصلہ سنایا اس میں 15 ججوں نے حمایت کی جبکہ دو ججز یوگنڈا کی جو لیا سیبوتاندی اور اسرائیل کے آہارون باراک نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ اسرائیلی وکیل نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا، کہ اسرائیل، اپنے دفاع کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔ فیصلے کے اہم نکات یہ ہیں۔

•عالمی عدالت انصاف نے کیس معطل کرنے کی اسرائیلی درخواست مسترد کردی۔

• غزہ میں فلسطینیوں کو نسل کشی کی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے حق کو عدالت تسلیم کرتی ہے۔ اسرائیلی فورسز نسل کشی کے اقدامات فوری روک دیں۔ اسرائیل ایک ماہ کے بعد رپورٹ پیش کرے جس میں یہ بتایا جائے کہ اس نے غزہ میں نسل کشی سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے اور مبینہ نسل کشی کے شواہد کو محفوظ رکھا جائے۔

• اسرائیل غزہ میں انسانی امداد پہنچنے دے اور صورتحال بہتر بنائے۔ • غزہ کے تنازع میں شامل تمام فریق عدالت کے احکامات کے پابند ہیں ’غزہ میں اسرائیلی حملوں میں بڑے پیمانے پر شہری اموات ہوئیں‘ عدالت غزہ میں انسانی المیے کی حد سے آگاہ ہے۔ • جنوبی افریقہ کے عائد کردہ الزامات میں سے کافی درست ہیں۔ اسرائیل کے خلاف نسل کشی مقدمے میں فیصلہ دینا عدالت کے دائرۂ اختیار میں ہے۔ اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات نسل کشی کنونشن کی دفعات میں آتے ہیں۔

• 7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی کارروائیوں سے 17 لاکھ افراد بے گھر، بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان، فلسطینیوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور اور بنیادی حقوق کی پامالی کی گئی۔ ہسپتالوں پر بھی حملے ہوئے، غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی نفسیاتی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا ہے۔

اب فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے حقائق پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

•یہ ایک ایسے فورم کا فیصلہ ہے جو اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکتا۔ روس نے یوکرائن کے معاملے پر عدالت کا حکم ٹھکرا دیا تھا۔

•یہ عدالت عالمی تنازعات پر اقوام متحدہ کو اپنی رائے فراہم کرتی اور اس کی رائے کی بنیاد پر اقوام متحدہ اقدامات کرتی ہے۔

•اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا انحصار عالمی طاقتوں کے رویے پر ہے۔ فیصلے کو سلامتی کونسل کا کوئی بھی مستقل رکن ویٹو کر سکتا ہے۔

• فیصلے میں اسرائیل کو غزہ پر حملے بند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کی دہشت گردی جاری رہے، اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ عدالتی فیصلے کے پابند نہیں۔

اسرائیلی فوج نے فیصلے کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی تازہ حملوں میں کم از کم 300 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ جس طرح اقوام عالم ہنگامی بنیادوں پر عراق اور افغانستان میں مداخلت اور ساری قوتیں بیک وقت حملہ کرتی ہیں وہ رویہ اسرائیل کے خلاف دیکھنے میں کیوں نہیں آ رہا؟

سچ یہ ہے کہ اگر انسانوں اور عالمی عدالتوں سے انصاف ملتا تو دنیا میں بے انصافی نظر نہ آتی۔ انصاف ہوتا تو اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا۔ پیغمبروں کی اہانت آزادیٔ اظہار نہ کہلاتا۔ تاریخی حقیقت ہولو کاسٹ پر بات کرنا جرم نہ ٹھہرایا جاتا۔ فلسطینیوں کو 76 سال سے بے انصافی ہی کے تحفے ملے۔ اب ان کا فیصلہ ہے ”مارو یا مر جاؤ“ حماس کے جانباز نہ کسی ملک کی طرف دیکھ رہے ہیں ’نہ کسی دنیاوی عدالت کی طرف۔ اب اس بڑی عدالت میں ان کا مقدمہ پہنچ چکا ہے، جہاں نا انصافی نہیں ہوتی۔ اسی عدالت نے فرعونوں کے شکنجے سے بنی اسرائیل کو نجات دی تھی، وہی اسرائیل کی فرعونیت کے چنگل سے فلسطینیوں کو نجات دے گی۔

عالمی عدالت کا فیصلہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف جرائم سے باز نہیں رکھ سکتا لیکن مستقبل میں ایک خاص زاویے سے عالمی لڑائی میں اس کی اہمیت ضرور ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو مستقبل میں اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنے اپنے حکمرانوں کو مجبور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مغرب کے اثر سے باہر آئیں۔ اسرائیل سے فیصلہ نافذ کرانے کے لیے عالمی برادری اور اس کے تمام اداروں اور تنظیموں کو بھی اسی طرح اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جس طرح ماضی میں امریکا ان سے ہنگامی بنیادوں پر افغانستان، عراق اور مسلم ممالک کے خلاف کراتا آیا ہے۔

غزہ میں امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کی عالمی دہشت گردی کی کھلی حمایت نے انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی ٹھیکیداروں کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ سمیت با اثر عالمی قوتیں اقوام متحدہ کو ”داشتہ بکار آید“ کے طور پر اپنے مفادات کے تحفظ اور کمزور ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ آج تک اپنی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکا۔ اس کا کردار مذمتی بیانات تک محدود ہے، جنگ بندی تو کجا ’غزہ میں ادویات اور خوراک کی ترسیل بھی ممکن نہیں بنا سکا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ انسانی حقوق کے ٹھیکیدار مغربی ممالک میں سے کسی ایک نے بھی عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمے کی حمایت نہیں کی۔ اسرائیل اور اس کے حامی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں یہ تو ان کے طرز عمل سے صاف دکھائی دے رہا ہے کیونکہ طاقتوروں کا علاج ایک ہی ہے :

تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں

Facebook Comments HS