عشق نامہ شاہ حسین تصوف، ملامت، سنگیت، کلام


شاہ حسین کے لیے فرخ یار کا اظہار عقیدت ایک تحقیقی کتاب کی شکل میں سامنے آیا جس سے اس دور کی پنجابی شاعری اور اس کے سیاق و سباق کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

فرخ یار کی یہ شان دار کتاب بک کارنر جہلم نے شایع کی ہے اور اس کی پیشکش بھی کتاب کی شایان شان ہے۔

چار سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس کتاب پر گفتگو کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس کے مصنف پر تھوڑی بات کرلی جائے۔ فرخ یار جدید اردو ادب میں ایک جانا پہچانا نام ہیں جنہوں نے نظم کی شاعری میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے۔ شاعری کے بعد یہ نثر نگاری کی طرف مائل ہوئے اور اپنی دھرتی اور زبان کے تعلق سے ادب و تحقیق کی نئی جہتوں میں سفر کیا ہے۔

فرخ یار کی پہلی نان فکشن کتاب ”دوراہے“ تھی جسے مکتبہ دانیال نے دو ہزار اکیس میں شائع کیا۔ اس کتاب میں برصغیر کے عقائد اور اساطیری کہانیوں کو محور بنا کر خاص طور پر پنجاب کی تاریخ و ثقافت پر بات کی گئی ہے۔

غالباً دوراہے نے ہی فرخ یار کی سمت کا تعین کیا کہ وہ مزید تحقیقی کام کریں اور انہوں نے صوفی شاعری شاہ حسین کو اپنا اگلا موضوع بنایا۔ عشق نامہ شاہ حسین اسی سمت میں سفر کا ایک نیا سنگ میل ہے جسے فرخ یار نے عبور کیا ہے۔

پاکستان میں فکشن لکھنے اور شاعری کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں لیکن ایسے لکھنے والے کم ہی ملتے ہیں جو غیر افسانوی ادب میں تحقیقی کام کر سکتے ہوں۔

نان فکشن یا غیر افسانوی ادب ہمارے یہاں ایک نظر انداز کیا جانے والا شعبہ ہے کیوں کہ اس میں فکشن لکھنے کے مقابلے میں زیادہ عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔

فرخ یار کا عشق نامہ شاہ حسین قاری کو تاریخ کے وسیع پس منظر سے روشناس کراتا ہے جو پنجابی شاعری کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

اس کتاب سے مصنف کی تاریخ پر مضبوط گرفت عیاں ہوتی ہے اور خیالات و تصورات کی رنگا رنگی نے ان کی تحریر میں جان ڈال دی ہے۔

عشق نامہ کی تحقیق کم از کم ایک ہزار سالہ دور کا احاطہ کرتی ہے جس میں صوفی ادب اور صوفیانہ روایات کے مختلف سلسلوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔

جب ہماری نئی نسل اپنے ثقافتی ورثے سے دور ہوتی جا رہی ہے یہ کتاب اپنی تہذیب و ثقافت کو طاق نسیاں سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔

اس خطے کی تاریخ میں جن ثقافتی عناصر نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ اس خطے کی سیاسی تاریخ کے مقابل ایک امتیازی شناخت رکھتے ہیں۔

پاکستانی ریاست کی طرف سے منظور شدہ کتابوں میں ہمیں یہ تاریخ اور اس کے سیکولر عناصر شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔

ہماری ریاست کے یک طرفہ بیانیے نے اپنی ثقافتی جڑوں سے ایک طرح کی بے گانگی پیدا کردی ہے جو زیادہ تر مذہب اور دو قومی نظریے کے گرد گھومتی ہے اور فرخ یار اسی بیانیے کو اپنی تحریروں میں للکارتے ہیں۔

کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا یا برصغیر جیسے کابل سے کلکتے تک محیط دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ثقافتی رنگا رنگی کا تسلسل ہے جسے ہم اپنی تاریخ سے کاٹ کر پھینک نہیں سکتے۔

اس رنگا رنگ تعلق کو ہمیں قائم رکھنا چاہیے اور اس سے منسلک رہنا چاہیے۔ بے شک ہمارے مقتدر حلقے اس سے کتنی ہی نفرت کرتے ہوں اور مذہبی تنگ نظری کی طرف دھکیلتے ہوں اور یہ تنگ نظری اب ہمیں سرحد کے دونوں طرف نظر آ رہی ہے۔

فرخ یار اس مشترکہ ثقافت کے علم بردار ہیں اور اس کے ارتقاء پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب کئی زاویوں سے اس ورثے کی عکاسی کرتی ہے تاکہ قاری کو دلچسپ طریقے سے سمجھایا جا سکے۔ گو کہ ”وحدت میں کثرت“ تقریباً فرسودہ فقرہ بن چکا ہے لیکن پھر بھی یہ کلچر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے کارآمد ہے۔

شاہ حسین سولہویں صدی کے شاعر تھے جنہوں نے پنجابی زبان و ادب کے ارتقاء میں خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی شاعری اس خطے کے لوک ادب کا شان دار حصہ ہے جسے پنجاب کے لوگ عزیز رکھتے آئے ہیں۔

اس کتاب میں ملامت کا تذکرہ بھی ہمیں تواتر کے ساتھ ملتا ہے کیوں کہ شاہ حسین کی شاعری اور ملامت کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ملامت کی وضاحت کرنا خاصا مشکل کام ہے کیوں کہ اس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں۔ الزام اور تہمت سے لے کر بدنامی اور تنقید تک ملامت کا دائرہ بڑا وسیع معلوم ہوتا ہے۔

فرخ یار نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس کے صوفیانہ مطالب کے ساتھ مختلف پہلو اجاگر کیے ہیں۔

یہ وہ ملامت ہے جو صوفی اپنے ساتھ لیے پھیرتے تھے اور جس سے حکم ران وقت نہ صرف نالاں تھے بل کہ اسے اپنے لیے خطرہ بھی سمجھتے تھے مگر یہی ملامت عام لوگوں کو ان صوفیا کے قریب بھی لاتی تھی۔ یہی ملامت بڑی حد تک بھگتی تحریک کا نشان بھی بن گئی تھی جو صوفی شعراء بڑے فخر سے قبول کرلیتے تھے لیکن اپنی عاجزی برقرار رکھتے تھے۔

صدیوں تک بھگتی اور صوفی شاعری برصغیر میں اسی ملامت کے زیر اثر پروان چڑھتی رہی اور مقامی اقوام پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہی جو آپس میں گھل مل کر رہ رہے تھے۔ اس شاعری کا بنیادی مقصد سماجی اختلاف کو کم کرنے کے ساتھ ہم آہنگی کا فروغ بھی تھا۔ مگر بیسویں صدی تک یہ ہم آہنگی کچھ لوگوں کی نظروں میں کھٹکنے لگی اور مقامی ادب و فن کو مشترکہ ورثہ سمجھنے کے بجائے مذہبی سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جانے لگی۔

شاہ حسین جیسے صوفی شاعر اچانک ناپسندیدہ ٹھہرائے جانے لگے جو مشترکہ اور رنگارنگ ثقافت کے علم بردار تھے جو صدیوں میں پروان چڑھی تھی۔

فرخ یار جس شاہ حسین کو پیش کرتے ہیں ان کی دنیا آج سے بہت مختلف ہے۔ عشق نامے کی دنیا ایک متحرک دنیا ہے جس میں صرف مادیت کا گزر نہیں بل کہ روحانیت اور ذاتی نفسیاتی تجربات کا بھی دخل ہے جہاں مکالمے اور رقص و موسیقی کا چلن ہے جسے اکیسویں صدی کے پاکستان سے دیس نکالا دیا جا چکا ہے۔

مصنف کو الفاظ سے کھیلنا آتا ہے اور وہ زبان و بیان پر عبور رکھتے ہیں۔ فرخ یار کو اظہار رائے کے تنوع سے عشق ہے اور یہی عشق نامے میں بہت واضح ہے۔ فرخ یار کے نزدیک شاہ حسین زبان کا ماہر اور بیان کا دیوتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتا ہے۔

کتاب میں تصوف کی تاریخ ابتدائی باب سے شروع ہو کر تقریباً سو صفحوں تک پھیلی ہوئی ہے جن میں فتوت اور ملامت کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ سولہویں صدی کے نصف آخر میں شاہ حسین ادب پر چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بڑے طویل عرصے تک محمد پیر کی تحریر کردہ کتاب ”حقیقت الفقراء“ کو شاہ حسین کے بارے میں واحد ماخذ سمجھا جاتا رہا۔ یہ کتاب سن سولہ سو ساٹھ میں شاہ حسین کی وفات کے تقریباً ساٹھ سال بعد لکھی گئی تھی اور اس میں بہت سے افسانوی قصے تراش لیے گئے ہیں جن پر فرخ یار نے تفصیل سے بات کی ہے۔

کتاب کا دوسرا باب سنگیت کے بارے میں ہے جس میں جنوبی ایشیا کی موسیقی کی روایات پر بحث کی گئی ہے اور ان پر شاہ حسین کے اثرات واضح کیے گئے ہیں۔

تیسرے باب میں شاہ حسین کی تحریروں کا ذکر ہے جب کہ کتاب کے آخری دو سو صفحوں میں شاہ حسین کا کلام اور اس کی مختلف اصناف پیش کی گئی ہیں جیسے کافی، ڈھولا اور اشلوک۔

کتاب کی اہم خاصیت یہ ہے کہ اس میں فرخ یار کی پنجابی زبان سے محبت بڑی متاثر کن ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہے۔ مصنف نے شاہ حسین کے ہر مصرع اور ہر لفظ کے اردو معنی پیش کیے ہیں جو اردو قارئین کے لیے بڑے کارآمد ہیں۔

عشق نامے کا سرورق علی عباس سید نے بنایا ہے اور کتاب بہت اچھی طرح شایع کی گئی ہے جس میں غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

البتہ کچھ تاریخوں میں گڑبڑ کردی گئی ہے مثلاً صفحہ تیس پر امام شافعی کی زندگی کا دورانیہ سن 1058 سے 1111 لکھا گیا ہے جو درست نہیں۔ دراصل یہ امام غزالی کی زندگی کا دورانیہ ہے۔

اسی طرح نظام الملک طوسی کا سن پیدائش 1064 دیا گیا ہے جب کہ یہ 1018 ہونا چاہیے۔ صفحہ نمبر 37 پر حضرت امیر حمزہ ( 625۔ 568 ) لکھا گیا ہے جب کہ اسے صرف حضرت حمزہ ہونا چاہیے۔ امیر حمزہ داستان امیر حمزہ کا ایک افسانوی کردار ہے جسے حضرت حمزہ سے گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کی غلطیوں کو اگلے ایڈیشن میں درست کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS