شمالی ایران میں ایک گاؤں کی سیر
چمان گاؤں کا یحییٰ حسینی ہمارا میزبان اپنے گاڑی کے ساتھ ہمیں لینے آیا تھا۔ مازندران میں لوگ واقع مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ ہمیں یہ سب اپنے میزبان کی خدمت خلوص سے معلوم ہو رہا تھا۔ ہمارے میزبان اپنے کار کے ذریعے ہمیں اپنے گاؤں لے جا رہا تھا۔ شمال میں یحیی کا گاؤں تہران سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ سڑک کے دونوں طرف پہاڑوں کا وسیع سلسلہ تھا، دور دور تک مختلف قسم کے درخت نظر آرہے تھے۔ ان دشوار گزار پہاڑوں میں بہت بڑی بڑی سرنگیں بنی ہوئی تھیں۔
جو نہایت ہی دلکش تھے۔ راستے میں ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ جو بے حد لذیذ تھا۔ کھانا مکمل ایرانی تھا۔ اس میں قسم قسم کے پکوان تھیں۔ جہاں ہم نے کھانا کھایا اس کے باہر کا نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد ہمارا سفر جاری رہا۔ ایک جگہ ہم روک گئے، ۔ موسم خوشگوار تھا۔ راستے میں تمام نظارے دلکش تھے۔ لیکن ایک منظر نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈالا۔ جب دو پہاڑوں کے درمیان جن کا سلسلہ ٹوٹا ہوا تھا، اس پہاڑی سلسلے کے درمیان جو خلا تھا اس میں ایک پل بنا یا گیا تھا، جس میں ریل گزرتی ہے۔
ہمارے میزبان نے کہا کہ جب پہاڑوں کے اوپر یہ پل بنایا گیا۔ اس وقت شاہ ایران نے پل دیکھ کر اس کی مضبوطی پر شک کیا، شاہ کا خیال تھا کہ یہ پل ریل کی طاقت کو برداشت نہیں کر سکتا، اس پل کو بنانے والے جرمن انجینئر نے گارنٹی دی کہ یہ پچاس سال تک ریل کی وزن سے نہیں گرے گا، روایت ہے کہ جب پہلی مرتبہ اس پل پر ریل چلی تو وہ انجینئر اس کے نیچے کھڑا رہا۔ مقامی لوگوں کے بقول اس وقت سے لے کر اب تک پچاسی سال سے ٹرین اس پل پر چلتی ہے اور پل مضبوطی سے آج بھی کھڑا ہے۔ ان دو پہاڑوں کے درمیان جو پل بنائی گئی، یہ پہاڑ تقریباً 110 میٹر اونچے ہیں۔ یہ پل 1936 میں بنا گیا ہے اور آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ اس پل کی خوبصورتی کا اندازہ اہل ذوق اچھی طرح لگا سکتے ہیں۔
پل کے نظارہ کرنے کے بعد کافی سفر کے بعد ہم چمان نامی گاؤں پہنچے، چمان شمال کا ایک خوبصورت گاؤں ہے۔ اس میں زندگی کے تمام بنیاد سہولتیں میسر ہیں۔ جب ہم چمان گاؤں میں یحییٰ حسینی کے گھر پہنچے خاتون نے خانہ نے ہمارا استقبال اپنے دروازے پرکیا، اور ہمیں اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔ ہمارے میزبان یحیی نے ہماری خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چمان میں جس گھر میں ہم رہے، اس میں ایک خوبصورت مالٹوں کی باغ تھا، اور مالٹوں کی باغ پہلی مرتبہ میں نے دیکھی۔
صبح گھر میں موجود مرغ کی اذان سے ہم اٹھے۔ ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوئے۔ ہمارے میزبان ہمیں اپنے علاقے کو دکھانے کے لئے باہر نکلے۔ جیسے ہی ہم گھر سے نکلے، روڈ کی دونوں طرف مالٹوں کی باغات تھیں، تھوڑی دور جانے کے بعد ہمارے میزبان ہمیں ایک جنگل کے قریب لے گیا، یہ جنگل چاروں طرف سے خاردار تاروں سے محفوظ کیا گیا تھا۔ بقول ہمارے میزبان کے یہ جنگل شاہ کے بھائی نے محفوظ بنوایا تھا۔ یہ جنگل دیو قامت درختوں سے بھرا ہوا تھا، اس جنگل کو جنگلی حیات کو قدرتی ماحول میسر کی گئی۔ جنگل میں ہرنوں کی بہت بڑی تعداد ہے، اور بھی بہت سارے جانور یہاں پر محفوظ ہیں۔ ہم تھوڑی دیر کے لئے جنگل کے باہر کھڑے رہے، ہم نے ہرنوں کو چلتے پھرتے اور گھاس چرتے دیکھا۔ موجودہ حکومت نے اس جنگل ایک حصے زمین کو لے کر ایک بہت بڑے مالٹوں کے باغ میں تبدیل کیا۔ شاہ ایران کے زمانے یہ جنگل بہت بڑا تھا۔
میں نے پہلی مرتبہ کینو کے درخت اور ان پر کثیر تعداد میں پھل دیکھے۔ جب ہم باغ میں داخل ہوئے ایک گاڑی میں کینو کی لوڈنگ جاری تھی۔ ہم جب باغ کے اندرونی حصے میں گئے، کچھ لوگ باغ میں ایک بڑے کپڑے کو پھیلا کر درختوں سے پرتقال چن کر پھیلے ہوئے کپڑے میں ڈال رہے تھے۔ اور آپس میں بلوچی زبان میں بات چیت کر ہے تھے۔ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ بلوچستان سے کوسوں دور مازندران میں بلوچ موجود ہیں اور ہمارے ہی لہجے میں بلوچی زبان میں بات چیت کر ہے ہیں۔
چونکہ ہم نے شلوار قمیص زیب تن کیا ہوا تھا۔ وہ آپس میں بلوچی زبان ہمیں پاکستانی کہ رہے تھے۔ میں ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مازندران میں ہی رہتے ہیں۔ اور بڑی تعداد میں رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جتنے بلوچ قبائل ہیں، سب قبائل کے لوگ مازندران میں صدیوں سے رہتے ہیں۔ ہم اپنی کلچر اور زبان کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک عورت تھی ان کے بقول وہ بلوچ عورت ہے، لیکن یہ عورت ہمارے لہجے میں بلوچی نہیں کر ہی تھی۔
باغ سے ہم نکل کر ایک بڑے ڈیم دیکھنے چلے گئے۔ ڈیم دو پہاڑوں کے درمیان بنا گیا تھا۔ اور ان دو پہاڑوں کے درمیان زمین بہت زیادہ گہرا تھا۔ ہمارے میزبان نے اس بڑے ڈیم کا تمام حصہ ہمیں دکھایا۔
ڈیم دیکھنے کے بعد لنچ کے لئے پہاڑی کے اوپر ایک خوبصورت ہوٹل میں گئے۔ یہ ہوٹل نہایت ہی خوبصورت تھا۔ ہوٹل سے باہر کا منظر قابل دید تھا۔ ہمارے ٹیبل کے آگے کی ٹیبل پر دو عمر رسیدہ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اور سگریٹ کے کش لگا رہی تھیں۔ اور آپس میں ہنس کر بات کر رہی تھیں، بالکل یہی منظر اس سے آگے والے میز پر بھی تھا۔ اس میز پر تین عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اس میں دو نوجوان عورتیں اور عمر رسیدہ عورت سگریٹ کے کش لگا کر خوش گپیوں میں مگن تھیں۔
ایران میں عورتیں سگریٹ پیتے ہوئے آپ کو بہت نظر آتی ہیں۔ ہم چونکہ ہوٹل کے بیرونی حصے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں سردی محسوس ہوئی، ہم ہوٹل کے اندرونی حصے میں چلے گئے۔ ایرانی ہوٹل میں جب آپ کھانے کا آرڈر دیتے ہیں تو بیرا ایک ٹرالی لے کر آتا ہے اس میں ہر قسم سلاد آپ کو مل سکتا ہے ہر شخص اپنے سلاد کا آرڈر دیتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور بہرا آتا ہے، اس کے ہاتھ میں ایک ٹیبلٹ ہوتا ہے، اس میں وہ آرڈر لکھتا ہے، ہمارے میزبان نے ہمارے لئے میٹھے پانی کی مچھلی، مختلف قسم بنائے گئے چاول، دو تین قسم کی روٹیاں، اور چلو کباب کا آرڈر دیا۔
کھانا چند منٹوں کے بعد ہمارے میز پر چنا گیا۔ ایران میں اوپر کے جتنے علاقے ہیں ان تمام علاقوں میں کھانا کھانے کے لیے ہاتھ کے بجائے چھری، کانٹا اور چمچ استعمال کی جاتی ہے۔ ابتدا میں آپ کو ان کے استعمال میں مشکلات پیش آتی ہے، دراصل ہم اپنے علاقوں میں کھانا ہاتھ سے کھاتے ہیں، لیکن جب چھری، کانٹا اور چمچ کا استعمال متواتر آپ کرتے ہیں، تب آپ کو مزہ آتا ہے۔ میٹھے پانی کا مچھلی میں نے پہلی مرتبہ کھایا، جو بے حد لذیذ تھا۔
ہوٹل کے لوکیشن اور اس کے باہر منظر نے کھانے کا مزہ دوبالا کر دیا۔ ہوٹل سے باہر سبزہ کو خراش تراش کر بہت ہی خوبصورت بنا گیا تھا، سامنے ایک پہاڑی تھا، اس میں سبزہ تھا۔ ہوٹل انتہائی خوبصورت اور صاف ستھرا تھا۔ لوگ پرسکون انداز میں کھانا کھا رہے تھے، اور خوش گپیوں میں مصروف عمل تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ہوٹل سے باہر نکل کر کچھ خوبصورت مناظر کی تصاویر کھینچیں اور اپنے گاڑی سے واپس اپنے ٹھکانے چمان گاؤں کی طرف چلے۔
اس وقت دن ڈھل چکا تھا، اور سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا۔ ہمارا ارادہ رات کو واپس تہران کا تھا۔ ہمارے میزبان کا اصرار تھا کہ ہم رات ان کے ہاں بسر کریں، صبح سویرے تہران کے لئے نکل جائیں، لیکن ہم نے انکار کیا۔ لیکن جیسے ہی وقت گزرتا گیا ہم نے آپس میں مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ رات چمان میں ہی گزاریں گے، لیکن ایک شرط ہم نے میزبان کے سامنے رکھی کہ ہمیں رات کا کھانا مت کھلائیں، کیونکہ لنچ ہم نے لیٹ کیا ہے، میزبان نے عارضی طور پر ہماری بات مان لی، لیکن وہ گھر پہنچ کر رات کے کھانے کے بندوبست میں مصروف ہو گیا۔
ہم واپس اپنے میزبان یحییٰ کے گھر پہنچ گئے۔ یحییٰ کا گھر نہ صرف صاف ستھرا بلکہ انتہائی خوبصورت تھا۔ ایک چیز جس سے میں متاثر ہوا جب آپ گھر سے باہر نکلتے ہیں واپسی پر خاتون خانہ آپ کی استقبال کرتی ہے اور خوش آمدید کے لئے کچھ پرتکلف الفاظ استعمال کرتی ہے۔ اس کے جواب میں مہمان بھی اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جتنے وقت تک مہمان گھر پر موجود ہوتا ہے ٹیبل پر فروٹ موجود ہوتا ہے۔ اور وقفے وقفے سے فروٹ کھانے کا دور چلتا ہے۔
یہ فروٹ عموماً گھر کے باغات کے ہوتے ہیں۔ کھانا زیادہ تر مختلف قسم کے چاول، اور مختلف قسم کے گوشت، طرح، طرح کے سلاد، مختلف قسم مشروبات پر مشتمل ہوتا ہے۔ روٹی کی بھی ایک سے زیادہ اقسام رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ کھانا اگرچہ زیادہ نہیں ہوتا لیکن مختلف قسم کی وجہ سے پوری دسترخوان بھرا ہوتا ہے۔ رات کے کھانے کے انکار کے باوجود ہمارے میزبان نے ہماری خدمت لذیذ کھانوں سے کی۔ یہ مختلف قسم کے چاول اپنے کھیتوں میں کاشت کرتے ہیں۔
چاول کو دو، تین طریقوں سے بنا کر دسترخوان پر سجاتے ہیں۔ اور خاتون خانہ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ کھانا آپ کے شایان شان نہیں، لیکن ایسا ہوتا بالکل نہیں ہے، کھانا انتہائی لذیذ اور پرتکلف ہوتا ہے۔ کھانا چھری کانٹوں اور چمچ سے کھایا جاتا ہے۔ فروٹ کے ساتھ چائے کا بھی دور چلتا رہتا ہے۔ چائے بغیر چینی کا ہوتا ہے۔ چینی کی جگہ پر کھجور، کند، توت، اور مختلف قسم کے چاکلیٹ رکھا جاتا ہے۔ جس سے آپ چائے کے ساتھ استعمال کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ صبح چونکہ ہمارے واپسی کا سفر تھا، ہم جلدی سو گئے۔
صبح سویرے تقریباً پانچ بجے ہماری سواری آ گئی ہمیں جلدی جلدی تہران واپس پہنچنا تھا۔ ہمیں خاتون خانہ نے مختلف الفاظ اور ایک خاص رسم کے ساتھ خدا حافظ کہا، اور ہمارا میزبان ہمارے گلے ملا، ہمیں مختلف دعاؤں کے ساتھ خداحافظ کیا۔ جب تک ہماری گاڑی روانہ نہیں ہوئی تب تک خاتون خانہ اور میزبان اپنے دروازے پر کھڑے رہے۔ چمان گاؤں میں کچھ باتوں کا مشاہدہ کیا۔ دیہاتی علاقے کے باوجود شرح تعلیم 100 فیصد ہے۔ گاؤں میں جوان آپ کو بہت کم ملیں گے، زیادہ تر جوان کام یا تعلیم کے سلسلے میں شہروں میں ہوتے ہیں۔
جمعرات کی شام کو گاؤں والے شہروں سے اپنے گاؤں آتے ہیں۔ جب بچے کی شادی ہو جائے، وہ والدین سے الگ ہو کر اپنے گھر میں چلے جاتے ہیں۔ اس میں اس بات کی تفریق نہیں کہ لڑکا ہو لڑکی، جب بھی اس کی شادی ہوتی ہے وہ اپنے والدین سے الگ ہوجاتی ہے۔ مجھے یہ رسم ان کا اچھا نہیں لگا، میں نے یحییٰ حسینی سے استفسار کیا کہ اس والدین تنہا ہو جاتے ہیں۔ ان کے بقول ایسا نہیں ہے۔ جب بچے کو شادی کے بعد الگ کیا جاتا ہے، وہ ذمہ دار ہوتا ہے۔
والدین کے ہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہم اگر چاہیں کہ شادی کے بعد بچے کو الگ ہونے کی اجازت نہ دیں بھی ہم ایسا نہیں کر سکتے یہ یہاں کا رواج ہے۔ ایرن میں رشتہ داروں کے بجائے کلاس فیلوز آپس میں رشتہ ازدواج میں بندھے ہوتے ہیں۔ کسی بھی گھر میں مرد اور عورت دونوں جاب کرتے ہیں۔ شرح طلاق بھی بہت زیادہ ہے۔ بچے کی تربیت اور تعلیم کسی بھی خاندان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
اب ہم تہران کے لئے روانہ ہو گئے۔ تہران تقریب دو سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ایک مرتبہ پھر وہی مناظر دیکھنے کو ملے۔ پہاڑ، خوبصورت سبزہ، بڑے بڑے باغات اور مین روڈ پر تیز چلتی ہوئی گاڑیاں۔ مختلف دیہاتوں اور چھوٹے بڑے شہروں کے درمیان چلتے ہوئے تہران کی طرف گامزن تھے۔ مختلف علاقوں اور شہر کے متعلق ہمارے گاڑی کو چلانے والا جو کہ مقامی تھا ہمیں گائیڈ کر رہے تھے اور ان شہروں اور دیہاتوں کی افادیت سے ہمیں روشناس کرا رہے تھے۔
ایک شہر آلاشت کے نام سے تھا۔ ہمارے ڈرائیور جو ہمارے لئے گائیڈ تھا، آلاشت کے بارے میں بتانے لگا کہ شاہ ایران کی آبائی علاقہ یہی ہے۔ آلاشت ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ شاہ کا جائے پیدائش یہی ہے۔ شاہ نے اپنے عمر کا کچھ حصہ یہی گزارا۔ ان کے بقول شاہ ایران چونکہ خود شمال سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے اس زمانے میں اس علاقے میں ترقی کے بہت سارے کام کرائے، کوئی ایسا دیہات نہیں ہے کہ وہاں بجلی، گیس، اور دیگر بنیادی سہولتیں نہ ہوں۔ پکی سڑک کے علاوہ ٹرین کی لائنیں بچھائی گئیں ہیں۔ اور شمال کے تمام دشوار گزار علاقوں میں سڑک کے ساتھ ریل گاڑی کے پٹری بچھانا اس زمانے کے حوالے سے کمال کی بات تھی۔ شاہ ایران نے پورے ایران میں ترقیاتی کام کیے ہوں گی لیکن شمال میں انہوں نے بالخصوص بہت اچھے کام کیے۔
ان دشوار گزار پہاڑوں میں، بجلی، گیس، روڈ اور ریلوے کا ہونا وہ بھی ساٹھ ستر سال پہلے کمال کی بات تھی۔ ان دشوار گزار پہاڑوں پر ٹنل بنانا، ریلوے ٹریک بچھانا ذرائع آمد و رفت کو آسان بنانا قابل ستائش ہے۔
ہمارے سامنے کوہ دماوند تھا۔ جو دور تک پھیلا ہوا تھا، شمال کو اس کے سبزہ اور جنگلات اور پہاڑوں نے بہت خوبصورت بنایا ہوا ہے۔ یہاں کے لوگ صحت مند اور توانا ہیں۔ ان کی صحت کا راز شمال کی خالص خوراک اور آب ہوا ہے۔


