تقریب رونمائی سلیکٹر سے سلیکٹڈ تک


سنگھاسن پر کون؟

عام انتخابات سے گیارہ روز قبل پاکستانی سیاسی تاریخ و حالات حاضرہ پر عالمی شہرت کے حامل تجزیہ نگار مظہر عباس کے سیاسی کالموں کے مجموعے کی اشاعت، کراچی آرٹس کونسل میں اس کی تقریب رونمائی، پاکستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سیاسی علمیات سے وابستہ اور عملی صحافت سے پیوستہ مقررین کی شرکت۔ صاحب کتاب کی کرامت کہ سیاست و صحافت کے ساتھ علم و ادب بھی ایک چھت تلے تھے۔ اس تقریب میں کسی فلم یا ناول کی طرح نکتہ عروج (کلائمکس) بھی آیا جو اس موقع پر کہ انتخابات پس منظر بھی ہے اور پیش منظر بھی مجلس کو گرما گیا۔ اس تحریر میں گفتگو کے وہ پہلو مد نظر رکھے ہیں جن میں پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظریاتی بیانیہ پیش کیا گیا۔ نظامت اکرم قائم خانی، صدارت احمد شاہ (نام ہی کافی ہے ) ۔ تقریب کی روداد ملاحظہ کریں :

پہلے مقرر ڈاکٹر ریاض شیخ تعارف و حوالہ ماہر تعلیم اور استاد۔ انہوں نے گفتگو کا آغاز خالد علیگ کے ایک شعر سے کیا جس کی ہال سے بروقت تصحیح کردی گئی :

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے
ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا

”اس کتاب میں کل ایک سو پچاس کالم ہیں جو کہ 2020 سے 2024 کے درمیان لکھے گئے۔ یہ کتاب اسٹیبلشمنٹ کے اس عشق کے عروج و زوال کی ڈائری ہے جس کا آغاز جنرل حمید گل کے منصوبے کے تحت ہوا جس میں ہمارے اسیر کپتان سمیت ستار ایدھی اور حکیم محمد سعید کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی گئی۔ اس کھیل میں 1994۔ 95 میں ستار ایدھی ملک چھوڑ گئے اور حکیم صاحب اپنی جان سے گئے۔ اس بھیانک کھیل کے تیسرے کھلاڑی میرے محبوب کپتان آج اڈیالہ جیل میں کسی نئے کھیل میں شریک ہونے کے لیے، ایک بار پھر فیض یاب ہونے کے لیے کسی فیض کے منتظر ہیں۔ اس کھیل تماشے میں یہ ملک جس نہج پر پہنچ گیا ہے اس کے لیے میں حیدر آباد دکن کے عظیم انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کی ایک نظم ’گھر‘ کا ایک بند پیش کروں گا:

گھر کے ہر ذرے سے ناسور کی بو آتی ہے
قبر کی عود کی کافور کی بو آتی ہے
ہم اسیروں کی بھی اک عمر بسر ہوتی ہے
نہ تو موت آتی ہے ہمدم نہ سحر ہوتی ہے

اس کتاب میں نام نہاد حکمرانوں اور ان کو اقتدار کے منصب پر فائز کرنے والے بادشاہ گروں جن کا نیا نام سلیکٹر ہے کے نامہ اعمال کی طویل روداد رقم کی گئی ہے۔ شطرنج کی اس بساط پر اسلام آباد کے ایوان میں عارضی طور پر آ بسنے والے چند روزہ حکمران جیسے ہی اپنے دودھ کے دانت ٹوٹنے کے بعد یہ محسوس کرنا شروع کرتے ہیں کہ وہ اصل حکمران ہیں تو پڑوسی شہر سے صدا بلند ہوتی ہے ’اوئے پیادوں ہوش میں آؤ‘ ۔ کبھی 58۔ 2 B، کبھی عدالت عظمیٰ اور کبھی فکس تحریک عدم اعتماد کی صورت میں روانگی کا سندیسہ ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے ۔

جو خواجہ ناظم الدین اور جونیجو کی طرح خاموشی سے گھر جا بیٹھیں ان کی جاں بخشی کردی جاتی ہے اور جو ذرا سی بھی چوں چرا کرے ان کے لیے اٹک قلعہ یا اڈیالہ جیل اور جو زیادہ شور شرابا کرے تو پھر گڑھی خدا بخش کا قبرستان۔ اس کتاب کا اصل موضوع حق حکمرانی کا تضاد ہے۔ پاکستان جیسی نوآبادیاتی ریاست میں سیاسی جماعتوں کا کردار کمزور رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقت ور تھی جس کو پروفیسر حمزہ علوی نے ’اوور ڈیولپ اسٹیٹ‘ کا نام دیا ہے۔ ”

تقریب کے دوسرے مقرر محمد زبیر تعارف و حوالہ مسلم لیگ (نون) ۔ ”پاکستان کی کہانی ایسی ہے کہ ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر اب کچھ غلط ہو رہا ہے تو 2018 میں بھی تو ایسا ہوا تھا۔ اگر 2018 میں ہوا تھا تو اس وقت کہنا چاہیے تھا۔ اصل فائدہ پاکستانی عوام کو اس وقت ہو گا جب ہم آج یہ کہیں گے کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ غلطیوں کا موازنہ نہ کریں۔ اسٹیبلشمنٹ کے مخالف عمران خان کے اتنے مخالف ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت عمران خان کی حمایت ہوگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ آئین اور جمہوریت کو مانیں یا نہیں مانیں۔ یہاں ایک عسکری آمر اور جمہوریت پسند کا فرق باقی نہیں رہتا۔“

تیسری شخصیت وسعت اللہ خان تعارف و حوالہ بے باک صحافی۔ ”صحافی کا متوازن اور غیر جانب دار ہونا خوبی نہیں بلکہ عیب ہے۔ آپ کیسے متوازن ہوسکتے ہیں جب کہ لوگ غیر متوازن ہوں؟ آپ کیسے غیر جانب دار ہوسکتے ہیں جب آپ کے سامنے زیادتی ہو رہی ہو؟ غیر جانب دار مغربی میڈیا ہے اگر غزہ ہو ورنہ وہ بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں ایسے بہت سے معاملات ہیں کہ میرے خیال میں وہاں صحافی کا غیر جانب دار ہونا جانب دار ہونے سے بھی زیادہ برا ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو ہمارا صحافت سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے سیدھی سی بات ہے۔

جہاں تک سیاست کا تعلق ہے وہ اس ملک میں سو میٹر کی دوڑ کے بجائے رکاوٹوں کی دوڑ رہی ہے۔ ہر دفعہ رکاوٹیں بدل دی جاتی ہیں۔ ایبڈو لگادیا جاتا ہے ، اس سے کام نہیں چل رہا تو ایمرجنسی لگا دیتی جاتی ہے، اس سے بھی اگر کام نہیں چل رہا تو پہلے احتساب پھر انتخاب کی چھلنی لگا دی جاتی ہے، پھر بھی کام نہ چلے تو 58۔ 2 Bآجاتی ہے، اس سے بھی کام نہ چلے تو 62,63 کے تحت جو سب سے غاصب آدمی ہے وہ صادق و امین ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، اس سے بھی کام نہیں چلتاہے تو وہ کہتے ہیں کہ ووٹر تو خیر جاہل ہیں لیکن امیدوار کو تو کم از کم گریجویٹ تو ہونا ہی چاہیے، تو پھر 2002 میں ایسے ایسے گریجویٹ سامنے آتے ہیں کہ وہ شق خود ہی غائب ہوجاتی ہے، اس سے بھی کام نہیں چلتا تو پھر نیب کی چھلنی تخلیق ہوتی ہے کہ اس سے چھن کے جاؤ گے، اس سے بھی کام نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آپ انتخابات میں حصہ لے لیں لیکن ہم آپ کو انتخابی نشان نہیں دیں گے، اس سے بھی اگر کام نہ چلے تو بتایا جاتا ہے کہ بحیرۂ عرب میں ایسی دس پندرہ شارکیں ہیں جو 27 تاریخ کو ٹھیک ساڑھے چار بجے انٹرنیٹ کے تار کاٹ دیتی ہیں۔

اسٹیٹ ویلفیئر ہوتی ہیں، فاشسٹ بھی ہوتی ہیں، ہائبرڈ بھی ہوتی ہیں، پہلی مرتبہ مجھے یہ پتا چل رہا ہے کہ چھچھوری ریاست بھی ہو سکتی ہے۔ جو چلمن سے لگی بھی ہے، سامنے بھی نہیں آ رہی ہے، نین تارا بن کہ گھونگھٹ نکال کے حرکتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے، سیدھا سیدھا سامنے آئیں، ہم نے پہلے بھی صبر کیا، آگے بھی کر لیں گے، ہم میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہو، صبر کی خوبی تو بڑی مثالی ہے۔ ہم نے ہر تجربے کو برداشت کر لیا ہے۔ ہم نے ایسے سیاست دان بھی برداشت کر لیے ہیں جن کے لیے ایک کی مصیبت دوسرے کے لیے سنہری موقع بن جاتی ہے یہ سوچے بغیر کہ کل وہ بھی اسی شکنجے میں کسے جا سکتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ یا عسکری قیادت یا طالع آزمایا ہائبریڈ سسٹم ؛جو سبق حاصل کیا گیا وہ یہ کہ اب کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے لہٰذا چھوٹے چھوٹے مقناطیس علاقائی پارٹیوں، قومی پارٹیوں، مذہبی تنظیموں کی شکل میں طاقت کا توازن اپنے حق میں برقرار رکھنے کے لیے وجود میں لائے گئے۔

یہ جو آپ کو دیوانے نظر آتے ہیں بظاہر، ہو سکتا ہے یہ دیوانے نہ ہوں، ہو سکتا ہے یہ آپ کو دیوانہ بنانے کے لیے دیوانے بنائے گئے ہوں۔ آخر میں بس یہ کہ 8 فروری کو ووٹ دیں اور 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے رہیں۔ ”

اگلی شخصیت حافظ نعیم الرحمن، تعارف و حوالہ امیر جماعت اسلامی کراچی۔ ”کتاب کا موضوع پچیس کروڑ عوام اور ہمارے مستقبل کا موضوع ہے، اس پر بات کیے بغیر بات بنے گی نہیں۔ شکوہ ان سے جنہوں نے زمینی اصلاحات نہیں کیں اور جمہوری عمل پروان چڑھنے نہیں دیا اور شکوہ ان سے بھی کہ جو بس اپنی اپنی باری کی بات کرتے ہیں۔ سلیکٹرز کو سلیکٹرز بنانے میں ان کھلاڑیوں کا بڑا ہاتھ ہے کہ جو کسی بھی ٹیلنٹڈ کھلاڑی کو زخمی کر کے ٹیم میں اپنا نمبر بناتے ہیں۔

انہیں اپنی روش کو بدلنا ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات پر فیصلہ دیا اور عدالت عظمیٰ نے تکنیکی بنیادوں پر اسے درست قرار دیا۔ کون سی جماعت ہے جو اس اصول پر پورا اترتی ہے۔ یہاں سیاسی خاندان اور موروثی سیاست دان ہیں۔ انہیں خاندان کے کمزور ہونے کی فکر کھائے جاتی ہے، جمہوریت اور ملک کمزور ہونے کی انہیں فکر نہیں۔ یہ بس جمہوریت کا راگ ہی الاپتے ہیں۔ جب ان پر بات آتی ہے تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے حریف ہوتے ہیں اور جمہوریت خطرے میں وگرنہ یہی اسٹیبلشمنٹ کے حلیف اور جمہوریت محفوظ ہاتھوں میں ہوتی ہے۔

جمہوریت کی نرسری طلبا تنظیموں کے انتخابات ہیں جو چالیس سال سے نہیں ہوئے۔ 1985 میں صرف پنجاب میں ہوئے اور اس کے بعد کہیں نہیں ہوئے۔ طلبہ یونین ایک ماحول بناتا تھا جس میں ہر موضوع پر گفتگو اور بحث مباحثہ ہوتا تھا۔ جامعات میں شفاف انتخابات ہوتے تھے، جو جیت جاتا تھا وہ جیت جاتا تھا، کوئی کسی پر دھاندلی کے الزام نہیں لگاتا تھا۔ جمہوریت کی دوسری نرسری بلدیاتی ادارے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو خود کو ملک کی سب سے بڑی جمہوری جماعت کہتی ہے، جو کتنے سرد گرم حالات سے گزری ہے، سب سے زیادہ رکاوٹ انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں ڈالی ہے۔

مفادات سے بالا تر ہو کر اصولوں کی بنیاد پر سب کو ایک ہونا ہو گا۔ سلیکٹرز کو بھی سمجھنا ہو گا کہ تین سالہ مدتی پالیسی نہ بنایا کریں۔ ان سلیکٹرز کے بچوں کا مستقبل اس ملک سے وابستہ نہیں ہے۔ جب ان کا مستقبل اس ملک سے وابستہ ہو گا اور ان کے بچے غیر محفوظ ہوں گے تو ہمارے بچے محفوظ ہوں گے کیوں کہ پھر یہ اس ملک کے لیے کام کریں گے۔

آخری شکوہ صحافیوں سے، اب وہ لوگ نہیں رہے جو نظریے پر زندگی لگا دیتے تھے اور مفادات حاصل نہیں کرتے تھے۔ اس شعر پر اجازت چاہوں گا کہ :

دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم

اب وہ شخصیت کہ جن کی بے دھڑک تقریر محفل کا کلائمکس ثابت ہوئی۔ سہیل وڑائچ، تعارف و حوالہ بے لاگ صحافی: ”(اس وقت زبیر صاحب اسٹیج پر موجود نہیں تھے ) زبیر صاحب نے جمہوریت کی بات کی لیکن یہ بھول گئے کہ ان کے والد محترم جنرل غلام عمر وہ فوج کے وہ ستون بنے جس نے سب سے پہلے پیپلز پارٹی، عوامی لیگ اور عوامی نمائندوں کے خلاف سازشیں کیں، پیسے بانٹے جن کے ثبوت موجود ہیں۔ پہلے انہیں ان سے برات کا اعلان کرنا چاہیے۔

یہ اپنی وراثت کی بنیاد پر سیاست بھی کرتے ہیں پھر جمہوریت کی بات بھی کرتے ہیں، آپ ہی نے تو جناب جمہوریت کا بیڑا غرق کیا ہے اور آپ ہی کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت ہونی چاہیے۔ پھر آتے ہیں جماعت اسلامی کی طرف ماشاء اللہ جمہوریت کی بات کر رہے ہیں۔ بھئی آپ تو جنرل ضیاء الحق کے ساتھی تھے، آپ تو افغان جہاد کے سب سے بڑے علم بردار تھے، پاکستان کو تباہ کرنے میں، پاکستان کے نظریات تباہ کرنے میں آپ کا کردار تھا۔ آپ کم از کم یہ تو کہیں کہ ہم نے ماضی میں بڑی غلطیاں کی ہیں۔

آپ کون سے الیکشن کراتے ہیں، آپ کی مجلس شوریٰ نام دیتی ہے اور ان ناموں کو جیسے ایران میں ہوتا ہے آپ ووٹ دے دیتے ہیں یہ کون سا الیکشن ہے (حاضرین محفل کی طرف سے شیم شیم کی آوازوں پر حافظ صاحب کے بولنے کی کوشش، سہیل وڑائچ کا جواب میرے بعد جواب دے لینا، اسی وقت زبیر صاحب کی دوبارہ انٹری، حاضرین کی طرف سے وہ آ گئے وہ آ گئے کی صدائیں، سہیل وڑائچ او ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں، پھر زبیر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ) میں زبیر صاحب آپ کا ذاتی طور پر بہت احترام کرتا ہوں (حاضرین کی ہنسی، تالیاں اووو کی آوازیں ایک ساتھ) آپ کے کردار اور گفتگو کی بھی حمایت کرتا ہوں لیکن آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کے والد صاحب ریٹائرڈ میجر جنرل غلام محمد ان کا بھی پاکستانی سیاست کو گندا کرنے میں، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچانے میں بہت بڑا کردار تھا، وہ جنرل یحییٰ خان کے مشیر تھے اور انہوں نے سیاست دانوں میں پیسے بانٹے تو آپ کو بھی ان کے غیر جمہوری کردار سے برات کا اعلان کرنا چاہیے۔

(زبیر صاحب بھی اسٹیج پر بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو سہیل وڑائچ نے کہا کہ چلیں ٹھیک ہے آپ نے بات کرلی اب ہمیں بھی کر لینے دیں، حاضرین اس صورت حال سے خوب لطف اندوز، زبیر صاحب بیٹھ گئے ) ۔ پھر آ جاتے ہیں جناب فاروق ستار صاحب اور ایم کیو ایم کی طرف (تقریب میں اووو، ہنسی اور تالیوں کی پھر جھنکار، سہیل وڑائچ کا قہقہہ) گزارش یہ ہے کہ کراچی سب سے پڑھا لکھا شہر، سارے آپ لوگ پڑھے لکھے اور آپ کرتے کیا رہے ہیں کہ الطاف بھائی کے کہنے پہ آپ تشدد کی حمایت کرتے رہے، آپ لو گوں کو مارنے کی حمایت کرتے رہے، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے، آپ کو کچھ خیال نہیں آیا، آپ میں کوئی تعلیم ہے، آپ میں کوئی عقل ہے، بھئی آپ لوگ بھی کم از کم کچھ شرمندہ تو ہوں۔

میں دوبارہ گزارش کرنا چاہتا ہوں زبیر صاحب سے کہ مسلم لیگ نون میں آپ ان کے گورنر رہے ہیں تو سن لیں کہ جو کام عمران خان نے بیس سو اٹھارہ میں کیا تھا اس وقت وہ آپ کر رہے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی گاڑی میں بیٹھ کر آیا تھا اور سب کو روند کے انہوں نے اس کو وزیر اعظم بنا دیا اب آپ یہ کر رہے ہیں تو بھئی کیسے جمہوریت آئے گی؟ آپ سارے تو استعمال ہوتے ہیں، ہم آپ پر تنقید کرتے ہیں تو آپ پابندی لگا دیتے ہیں۔ سب نے میڈیا پر پابندی لگائی۔ گزارش یہ ہے بھائی کہ آپ بھی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں۔

پھر پیپلز پارٹی آ جائے (شریک محفل اس لتاڑ پہ محظوظ اووو اوووو کی آوازیں ) ۔ بھئی آپ نے دو رہنماؤں کی قربانیاں دیں، بڑی بات ہے، واحد پارٹی ہے جس نے اپنی لیڈر شپ کی قربانی دی مگر اب آپ کیا کر رہے ہیں، اب آپ فوج کے سیکنڈ کیا تھرڈ کمان کے سامنے بھی جھک کے سیاست کر رہے ہیں۔ کیا یہ عوامی سیاست ہے؟ کیا آپ اس سے محروم طبقات کو فائدہ دیں گے؟ تو بھئی بنیادی بات یہ ہے کہ ہم تو آپ سیاست دانوں کے ہمیشہ خیر خواہ رہے، میں نے زندگی بھر کسی سیاست دان پر کبھی الزام نہیں لگایا کبھی کوئی اسکینڈل نہیں کیا کیوں کہ میں سیاست دانوں کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن سیاسی جماعتوں کا کیا یہی کردار ہونا چاہیے؟ کیا یہی جمہوری کردار ہے؟ ہرگز نہیں۔ مظہر عباس اور میں اس کو نہیں مانتے اور ہم نہیں مانیں گے۔ تھینک یوویری مچ ”

اب شخصیت فاروق ستار، تعارف و حوالہ سیاست دان۔ ”شاید سب سے مشکل آج کی کتاب کی رونمائی پہ بولنا حافظ نعیم اور میرے لیے ہے کیوں کہ میری اس بات کو چاہیں آپ ازراہ مذاق لیں یا سنجیدگی سے لے لیں مجھے نہیں معلوم کہ میں یہاں جو بات کرنے جاؤں گا اس کے بعد 8 فروری کے لیے میں سلیکٹڈ تھا یا نہیں تھا، میں اگر سلیکٹڈ تھا تو مبادا میں کہیں نان سلیکٹڈ نہ ہو جاؤں، تو بڑی لینڈ مائینز بچھی ہوئی ہیں۔ مظہر عباس صاحب کی کتاب نے جو موضوع چھیڑ دیا ہے اس میں بڑی خوب صورتی کے ساتھ ہم سب سے 164 کے اقبالی بیانات لینے کا بھی آپ نے اہتمام کیا ہے۔

باقی سیاسی جماعتوں اور اکابرین کی طرح ہم سے بھی بہت ساری غلطیاں ہوئیں، دانستہ بھی ہوئیں اور نادانستہ بھی ہوئیں۔ مظہر عباس اسی شہر کے پروردہ ہیں لیکن اگر سہیل وڑائچ صاحب یہاں کے بارے میں بہت زیادہ دور سے بہت زیادہ اندر کی بات کریں گے تو شاید اپنے قلم کے ساتھ اس طرح حق ادا نہیں کرسکیں گے جس طرح شاید مظہر عباس کریں گے۔ ہماری غلطیوں کا تاثر بھی ہے اور کہا جاتا ہے کہ تاثر حقیقت سے زیادہ بڑا اور مضبوط ہوتا ہے۔

دنیا میں وہ کون سی تنظیم ہے جو اپنے بانی قائد سے الگ ہو کر خود کو قائم رکھ سکی ہو؟ اس کی وجہ ہمارا نظریہ تھا یعنی ایک عام آدمی کو اس کے بنیادی حقوق دلانا کہ وہ بھی سر اٹھا کر جی سکے۔ اگر ہم سے غلطیاں ہوئیں اور ہم اپنے اس اصل مقصد سے دو رہو گئے تو ہم نے اس کی سزا بھگتی ہے اور بھگت رہے رہیں اور اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا جیسا ہوا۔ کچھ میرے درد بھی سمجھیں۔ کسی ایک سلیکٹڈ حکومت کو چلانے کے لیے صرف اس کے لوگوں کو الیکٹ نہیں کرایا گیا بلکہ ایم کیو ایم کے اندر بھی اگر کوئی اگلی لیڈر شپ آ رہی تھی اس کو بھی پارٹی سے الگ کرایا گیا۔

وہ کس نے کیا تھا؟ جو ہمیں انصاف اور احتساب کا تحفہ دیا گیا تھا، اس کے بعد جو سب سے پہلا صدقہ دیا گیا تھا وہ ایک ایسی ایم کیو ایم بنانے کا دیا گیا جو آگے سلیکٹڈ کے ساتھ چل سکے، یہ بھی تو غور طلب ہے۔ آپ سب فیصلہ کریں کہ آج ہمیں معلوم ہے کہ پھر سلیکٹر اور سلیکٹڈ کا کھیل شروع ہو گیا۔ ان انتخابات میں کیا ہو گا یہ بھی آپ سب جانتے ہیں۔ جو اگلی حکومت بنے گی چھ ماہ کے بعد کیا ہو گا، ایک سال کے بعد کیا ہو گا، مظہر عباس کے کالم اسی طرح چل رہے ہوں گے، سہیل وڑائچ کے بے لاگ تبصرے اسی طرح چل رہے ہوں گے۔

تو کیا سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا؟ کالم آئیں گے کتاب آئے گی، وسعت اللہ خان اپنی بات کریں گے۔ تھوڑا سا ادب، تھوڑی سی تاریخ تھوڑے سے حوالے ہمیں بھی مل جاتے ہم سب بھی گھر چلے جاتے۔ ہمیں بھی تو کچھ سوچنا ہے۔ آئیں ایسی لابنگ کا سلسلہ شروع کریں اور یہ طے کریں کہ اگر ہر الیکشن کے بعد اور ہر الیکشن میں ایسا ہونا ہے تو ساری سیاسی جماعتیں کھڑی ہوجائیں اور وہ یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں الیکشن لڑنا ہی نہیں ہے۔ پہلے کھیل کے اصول درست کریں اس کے بعد الیکشن کریں ورنہ آج جو جیل میں ہے وہ ریل میں آنا چاہتا ہے اور جو ریل میں ہے وہ اس کو جیل بھیجنا چاہتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید سب بناتے ہیں، جس کے ہاتھ میں قلم ہے وہ لکھ سکتا ہے لیکن یہ بتائیں ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری کیا ہے؟ ہم جمہوریت کے نام نہاد نام لیوا کہاں کھڑے ہیں؟ ہم نے کوئی قومی ایجنڈا بنایا؟ ہاں ہمیں سماجی معاشی ایجنڈا بنانا ہے جس پر عمل ہم کرسکیں نہ کرسکیں۔ سیاسی استحکام کی ہم بات کرتے ہیں، حافظ نعیم کے علاوہ کسی نے بھی بات کی کہ جیسی بھی جمہوریت ہے کیا یہ سلیکٹیو جمہوریت نہیں ہے؟ سلیکٹڈ کی بات ہوئی سلیکٹرز کی بات ہوئی لیکن اسی سلیکٹیو ڈیماکریسی پر ساری بڑی جماعتوں کا اتفاق ہے۔ پہلے دو پارٹیوں کی باری آتی تھی اب تین پارٹیاں بن گئی ہیں اب تینوں کی باریاں آئیں گی۔ اب میں جو شعر تھوڑی ترمیم کے ساتھ پڑھنے جا رہا ہوں یہ سنسر کر دینا 8 فروری کو میرا سلیکشن ہے :

میں آج زد پہ اگر ہوں، تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے سپاہ کسی کی نہیں
اگر میں سلیکٹڈ تھا تو اس گفتگو کے بعد آگے میرا کیا مستقبل ہے؟

مہمان خصوصی رضاربانی تعارف و حوالہ سابق چیئر مین ایوان بالا۔ ”یہ کتاب نوجوانوں کے لیے پاکستان کی سیاسی تاریخ ہے کیوں کہ بدقسمتی سے پاکستان کی ریاست نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اور پاکستان کی عمومی تاریخ کو مسخ کیا ہے اور آج جو نصاب اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں پڑھایا جا رہا ہے اس میں تاریخ یقینی طور وہ نہیں جو حقیقت ہے۔ تو نوجوان نسل اگر آج کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینا چاہتی ہے تو یہ کتاب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

میری کوشش ہے کہ چند اشاروں میں مختصر بات آپ کے سامنے پیش کر سکوں۔ ہم بہت عرصے سے ایک دوسرے پہ الزام رکھتے چلے آئے اور آئندہ بھی یہ روش جاری رہے گی۔ اگر اس بھنور سے نکلنا ہے اور یقینی نکلنا ہے تو ایک قومی مباحثے کا آغاز ہونا لازم ہے۔ اگر آپ اس خطے کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں تو ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کے آج تک سلیکٹڈ اور سلیکٹر کی سیاست ایک یا دوسری شکل کے اندر چلتی چلی آ رہی ہے۔ پہلے برطانوی راج تھا، وہ سلیکٹرز تھے، وہ ارسٹو کریسی کو حکومت کرنے کے لیے سلیکٹ کرتے تھے، پھر برطانوی راج ختم ہوا، برطانوی سامراج یہاں سے گیا، بدقسمتی سے پاکستان سے سامراج تو چلا گیا لیکن نوآبادیاتی سوچ اور پولرائزیشن جو وہ کر کے گئے، وہ آج تک موجود ہے۔

آج بھی پاکستان کی نوکر شاہی چاہے وہ سول بیوروکریسی ہو یا ملٹری بیوروکریسی ہو اس کا وہی کالونیل مائنڈ سیٹ ہے۔ سینتالیس میں بھی آپ نے دیکھا کہ پاکستان کا جو مقصد تھا، قائد اعظم نے کہا کہ یہ ایک فلاحی ریاست ہوگی لیکن ان کے جانے کے بعد پاکستان کی سول و ملٹری بیوروکریسی نے پاکستان کا مقصد تبدیل کر دیا اور اس کو فوجی چھاؤنی بنا دیا۔ جب آپ ایک نیشنل سیکیورٹی اسٹیٹ بن جاتے ہیں تو پھر تقاضے مختلف ہو جاتے ہیں۔

ملٹری بیوروکریسی نے سول بیوروکریسی کو ساتھ ملاتے ہوئے مختلف ساتھیوں کی تلاش شروع کی۔ اس میں سیاسی جماعتیں شامل تھیں، اس میں مذہبی فرقے شامل تھے، اس میں پاکستان کی عدلیہ شامل تھی اور اس میں میڈیا کے کچھ اشخاص بھی شامل تھے۔ جس کی جب ضرورت پڑتی تھی وہ پسندیدہ ہوجاتا تھا۔ پاکستان کے سیاسی نظام کا ڈھانچہ کچھ یوں ہے کہ اس میں طاقت کا استعمال خواہ وہ ریاستی شکل میں ہو یا غیرریاستی شکل میں ؛وہی اس کا برہمن ہے اور جس کے پاس یہ ریاستی و غیر ریاستی طاقتیں نہیں ہیں وہ اس مثلث کا مسطح ہے۔

ہم نے یہ دیکھا کہ مختلف اوقات میں ( اور اس میں کوئی تفریق نہیں کیوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اس شیطانی دائرے کو توڑنا ہے تو پھر تنقید اور خود پر تنقید جو ماؤزے تنگ کا فلسفہ تھا، وہ لازم ہے ) سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کی خاطر سول یا ملٹری بیوروکریسی کا مختلف اوقات میں ساتھ دیا ہے۔ جب سیاسی جماعتوں نے مزاحمت کی تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اب وہ صرف تاریخ کا حصہ ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہا۔ کبھی پاکستان کی سیاسی جماعتیں حصہ بنیں، کبھی مذہبی فرقے حصہ بنے، اور کبھی عدلیہ اس کا حصہ بنی۔

بہت سی ایسے فیصلے آئے جنہوں نے مارشل لاء کی توثیق کیا۔ یہ فیصلے یہاں تک گئے کہ فوجی آمروں کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ پھر 58۔ 2 Bکو پارلیمان نے ختم کیا تو ہمیں لگا کہ ایک بہت بڑا کارنامہ کر دیا۔ شاید اب ایک نئی تاریخ عوام کی حکمرانی اور پارلیمان کے استحکام کی سامنے آئے گی۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ 58۔ 2 Bکی جگہ پاکستان کی عدلیہ نے لے لی اور جس طرح 58۔ 2 Bامنتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے استعمال ہوا کرتا تھا اس طرح عدلیہ منتخب حکومت اور وزیر اعظم کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے لگی۔

اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان تمام مسائل کو حل کرنے کا راستہ ایک قومی مکالمہ ہے۔ یہ بھی بہت کہا جاتا ہے کہ اگر قومی سطح پر مکالمہ ہو گا تو اس کی ابتداء کون کرے گا۔ اس کا آغاز کرنے کے لیے پاکستان کی پارلیمان اور با الخصوص پاکستان کی سینیٹ موجود ہے۔ سینیٹ میں چاروں صوبوں کی برابری کی سطح پر نمائندگی ہے۔ ایوان بالا و ایوان زیریں پر مشتمل کل ایوان مجلس (کمیٹی آف دی ہول ) میں تمام شراکت داروں میں مکالمے کا آغاز ہونا چاہیے۔

جب میں سینیٹ کا چیئر مین تھا تو 2017 میں کمیٹی آف دی ہول کی، چیف آف آرمی اسٹاف کو بلایا، چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اسی طرح ہم نے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی اور ایک الگ نشست میں وہ بھی آئے اور انہوں نے بھی گفتگو کی۔ قومی سطح کا مکالمہ ہی اس کا راستہ نہیں ہے، اس کے علاوہ جو تبدیلی ضروری ہے وہ مائنڈ سیٹ ہے۔ جب تک یہ پیراڈائم شفٹ نہیں ہو گا، اس وقت تک یہ ممکن نہیں ہے اور یہ کون کرے گا؟ یہ تبدیلی پاکستان کی سول سوسائٹی اور دانش مند لے کے آئیں گے ”۔

آخر میں صاحب کتاب مظہر عباس نے مہمانوں کا شکریہ اس امید کے ساتھ ادا کیا کہ ”آئندہ کتاب الیکٹ اور الیکٹڈ پہ لکھوں سلیکٹ اور سلیکٹڈ پہ نہ لکھوں“ ۔

Facebook Comments HS