گمبھیر مسائل میں گھرا پاکستان اور انتخابات 2024


نئی حکومت منتخب ہونے میں چند روز باقی رہ گئے ہیں، ملک نازک نوعیت کے متعدد چیلنجز میں گھرا کھڑا ہے، جبکہ عوام منتخب ہو کر آنے والی حکومت سے مسائل کے حل کے لیے فوری توجہ کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

عالمی مالیاتی اداروں کی جانچ پڑتال مطابق ملک کی متوقع شرح ترقی % 9۔ 2 فیصد سے نیچے گر کر مالیاتی سال 2023۔ 2024 میں % 2 فیصد یا اس سے کم % 9۔ 1 ہو گی۔ نازک معاشی منظر نامہ آئندہ حکومت سے مضبوط حکمت عملی کا متقاضی ہے تاکہ معاشی ناہمواری کو مستقبل میں ناقابل ترمیم بحران میں تبدیل ہونے سے بچا سکے۔ % 9۔ 1 فیصد کی شرح نمو % 2 کی رفتار سے ملک کی 25 کروڑ آبادی میں مسلسل اضافہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارے (UNDP) یو این ڈی پی کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) 192 ممالک میں 161 ویں نمبر کی خطرناک سطح کو پہنچ چکا ہے، جب کہ اسی سال کی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار مطابق غربت کا پھیلاؤ % 38.3 فیصد کی خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے، حکومتی اعداد و شمار مطابق ملک کی % 22 آبادی غربت کی سطح سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جب کہ غربت کی سطح جنوبی ایشیا کی اوسط % 29.0 سے بھی % 7 فیصد زیادہ ہے، یہ اعداد و شمار جنوبی ایشیا میں پاکستان کو افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر رکھتے ہیں جب کہ بے ہنگم طور پر % 2 کی سالانہ شرح سے بڑھتی آبادی اس صورتحال کو مزید تشویشناک بنا رہی ہے۔

کساد بازاری اور 30 فیصد افراط زر سے پیدا ہونے والی معاشی ناہمواری درحقیقت مسلسل سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے، غربت کی شدت کا اندازہ گزشتہ دو سالوں میں خودکشی کے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے، ان روح فرسا واقعات میں خاندان کے لیے روزی روٹی کمانے والے اشخاص روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں ناکامی سے تنگ آ کر اپنے خاندان سمیت موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

موجودہ نگران حکومت کی بدانتظامی کا اندازہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں عدم استحکام اور اس کی وجوہات سے لگایا جا سکتا ہے، منافع خوری کے لالچ نے ذخیرہ اندوزی اور بازاری قوتوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، قومی قیمتوں کی نگران کمیٹی (NPMC) کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے تبادلہ خیال ضرور کیا جاتا ہے، لیکن قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی کوشش ناپید ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ہولناک اضافہ عام میڈیا کی سرخیوں تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے یا میڈیا اس معاملے میں بے حس ہو چکا ہے۔

این پی ایم سی (NPMC) کے علاوہ کابینہ کی میٹنگز میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد مفقود ہے، نگران حکومت کی اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کا فقدان ایک جانب اس مسئلے میں باقاعدہ معاونت پیدا کر رہا ہے تو دوسری جانب حکومت بجلی اور گیس کے نرخ میں ہوشربا اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے، بجلی کا 2018 کا بنیادی ٹیرف 12 روپے سے بڑھ کر اب 43 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے۔ گھریلو گیس کا اوسط ٹیرف 641 روپے کے مقابلے میں اب 1,327 روپے فی یونٹ ہے۔

کمرشل گیس ٹیرف پانچ سال پہلے کے 980 روپے کے مقابلے میں اب 3,900 روپے فی MMBTU تک پہنچا دیا گیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر اوسط قیمت جو سال 2018 میں 95 روپے اور 113 روپے تھی بڑھ کر اب 260 روپے اور 277 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ سی این جی کی قیمت 76 روپے سے بڑھ کر 200 روپے فی کلو سے زائد کی جا چکی ہے، سیمنٹ کے تھیلوں اور سٹیل کی سلاخوں کی قیمتوں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

بلا شبہ فروری 2024 کے انتخابات ایک فیصلہ کن مرحلہ ہیں، پاکستان جس اہم موڑ پر کھڑا ہے اس کے کثیر جہتی چیلنجز سے ہر خاص و عام پریشان ہے، درحقیقت پاکستان اس وقت ماضی میں دوغلی جمہوریت کے ناکام تجربات کے تباہ کن نتائج بھگت رہا ہے، ہمارے پاس مزید تجربوں کا وقت ختم ہو چکا ہے، صرف تیزرفتار ترقی واحد حل ہے، ان سنگین چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے، منتخب ہونے والی حکومت کے سیاسی رہنماؤں سے امید ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی پائیدار ترقی کے لیے غیر متزلزل طور پر پرعزم ہو کر ذیل میں دیے گئے مسائل سے فوری نمٹنے کا آغاز کریں گے :

1۔ تعلیم:
موجودہ 7۔ 1 فیصد بجٹ دگنا کر کے کم از کم % 5۔ 2 فیصد تک فوری اضافے کا متقاضی ہے، نصاب میں تاریخ کے سچ کو درج کرنا اور بین الاقوامی سطح کے نصاب میں تبدیل کرنا پراعتماد بنانے کے لیے ضروری ہے، مضامین میں طاق اساتذہ کی ضرورت ہے جنہیں سرکاری ملازمت کی ذہنیت سے آزادی دلا کر طلبا میں شعور بیدار کرنے میں دلچسپی لینے کا انتظام یقینی بنانا آئندہ حکومت کا فرض اول ہے، یہی تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے بنیادی نکات ہیں۔

2۔ آبادی میں اضافہ:

2% فیصد کی رفتار سے بڑھتی آبادی کو روکنے کے لیے عقل، فہم اور شعور بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش۔ کیونکہ، ترقی کی سالانہ % 9۔ 1 فیصد کی شرح کے مقابلے میں 2 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھتی آبادی ترقی کی شرح کو آگے بڑھنے سے روکے رکھے گی۔

3۔ افراط زر:

اسٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی کے شرح سود 22 فیصد تک پہنچا دینے کے باوجود افراط زر سال 2022 میں % 12.15 سے بڑھ کر دسمبر 2023 میں % 30 فیصد کی خطرناک سطح تک پہنچ کر معاشی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا کھڑا ہے، % 22 کی شرح سود نے کاروباری سرگرمیاں تقریباً معطل کردی ہیں، اس ضمن میں فیصلہ کن قدم آئندہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

4۔ ایندھن اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں :
آئندہ حکومت کے لیے مہنگائی کی مسلسل بلند شرح کے معاشی چیلنج سے نمٹنا بے حد اہم ہو گا۔

آئی ایم ایف کے دباؤ پر ایندھن کی سبسڈی میں کمی ماضی کی حکومتی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ ملک کی 98 فیصد آبادی بھگت رہی ہے، سبسڈی میں کمی یا خاتمہ ٹارگٹڈ رکھنا ہو گا، اشرافیہ کی ٹیکس سے فرار کے تمام راستے مسدود کر کے غربت سے ستائی عوام میں تقسیم کرنا ہوں گے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو فوری انقلابی اصلاحات کا متقاضی ہے تاکہ محصولات کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔ اشرافیہ سے براہ راست ٹیکس وصولی کے بجائے تنخواہ دار، غریب اور نادار طبقے سے بجلی بلوں اور ایندھن کی فروخت سے ٹیکس وصولی کے ظالمانہ نظام کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔

5۔ ماحولیات:

پاکستان کے بڑے شہروں کا ائر کوالٹی انڈیکس (AQI) تشویشناک حد تک بگڑ چکا ہے۔ کراچی اور لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہری مراکز کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ ٹرانسپورٹ فضائی آلودگی کے اس بحران کا مرکز ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی کل کھپت کا 78.5 فیصد ہے۔ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سڑکوں کے ذریعے مہنگی نقل و حمل کی جگہ تباہ حال ریلوے کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنا حکومت کی ترجیح ہونا چاہیے، سی پیک (CPEC) میں شامل ایم ایل۔

1 (ML۔ 1 ) منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم بھی ہے سستا اور سفر کے لیے آرام دہ بھی۔ اس منصوبے پر تیزرفتار عملدرآمد انقلابی قدم ثابت ہو گا جو فضائی آلودگی میں کمی لانے کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، اس کے علاوہ سالڈ ویسٹ (Solid Waste Management) اور واٹر ٹریٹمنٹ ( Water Treatment) پراجیکٹس ہر بڑے شہر کے لیے ضروری ہو چکے ہیں، کوڑا کرکٹ جلا کر فضا آلودہ کرنے کے بجائے بجلی پیدا کرنے اور آبادیوں کے استعمال شدہ گندے پانی کو نہروں، دریاؤں اور سمندر برد کر کے آبی حیات کے لیے مہلک بنانے کے بجائے صاف کر کے قابل استعمال بنانے سے بڑے شہروں میں پانی کی کمیابی سے بھی نمٹا جاسکتا ہے۔

نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرنے اور فرنیچر بنانے کی خاطر جنگلات کاٹ پھینکنے کی جہالت کا خاتمہ ماحول بہتر بنانے کا بڑا ذریعہ ہے، ان کوششوں میں رکاوٹ کے لیے باقاعدہ قانون سازی ضروری ہے، نیز شہروں اور دیہاتوں میں سبزہ اگانے اور درخت لگانے کے لیے حوصلہ افزائی فضاء کو صحت مند بنانے میں بہت کارآمد ثابت ہو گی۔ ملک کے تمام بڑے شہروں کے لیے اندرون شہر ٹرانسپورٹ کی سہولت عوام کا بنیادی حق ہے جسے ملک کے معاشی حب کراچی اور ملک کے بیشتر علاقوں میں مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے، شہریوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا مناسب انتظام ( Productivity) پیداواری عمل بڑھانے اور ٹریفک جامز سے پیدا ہونے والی نفسیاتی کیفیت اور آلودگی سے صحت کے مسائل سے بچاؤ کے لیے مہیا کرنا حکومت پر لازم ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی شہریوں کا بنیادی حق بھی ہے اور بے ہنگم ٹریفک سے نجات اور شہروں کی فضائی آلودگی میں خاطرخواہ کمی لانے کا ذریعہ بھی۔

6۔ مقامی حکومت (لوکل باڈیز) :

خوشحال اور پائیدار پاکستان کے لیے مقامی حکومتوں کے موجودہ ڈھانچے کو خودمختار بنانا لازمی ہو چکا ہے، پارلیمنٹ کا کام قانون سازی اور مقامی حکومت کی ذمہ داری عوام الناس کی روزمرہ زندگی کے معمولات کو آسان بنانا ہے، قانون ساز اسمبلی کے ممبران کو فرائض کی ادائیگی کی جانب مائل رکھنے کے لیے ممبران اسمبلی میں فنڈز کی تقسیم بند ہو جانی چاہیے۔ یہ سرمایہ مقامی حکومت کے جائز تصرف میں لانا وقت اور سیاسی استحکام کے لیے بے حد اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

مقامی حکومتوں کے موجودہ نظام کو مضبوط بنانے سے عوام مقامی سطح کی فیصلہ سازی میں شامل ہو سکیں گے، تمام سرکاری محکموں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے پر کام میں مزید سستی معیشت کی بحالی میں سستی پیدا کرنا سمجھی جائے گی، مقامی حکومتوں کی فعالیت جانچنے کے لیے شکایات اور ان کے حل سے متعلق ماہانہ کارکردگی کی آن لائن اشاعت کو یقینی بنانا مقامی حکومتوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کا نسخہ ہے۔

ان 6 بنیادی نکات پر فوری توجہ اور عملدرآمد معیشت کی بحالی اور سیاسی استحکام لانے میں بے حد مدد گار ثابت ہوں گے۔

قوی امکان ہے کہ دوغلی جمہوریت کے تجربوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو قومی سلامتی، خارجہ پالیسی پر کنٹرول اور پڑوسی ممالک سے تعلقات کے بارے میں دلچسپی میں تبدیلی آئی ہو گی، ملکی سیاست بشمول انتخابات اور گورننس میں مبینہ مداخلت ماضی کے بیشتر نتائج سمیت 2018 کا تجربہ مستقبل محفوظ بنانے کے لیے کافی ہیں۔

جمہوریت کے لیے فوج کے سرکاری بیانات، عدلیہ کے آئین اور قانون پر عملدرآمد کے لیے عدالت کا براہ راست کارروائی نشر کرنا مثبت اشارے ہیں جو آئندہ بننے والی حکومت کے لیے بہت تقویت کا باعث ہیں۔ پاکستان جن کثیر جہتی چیلنجز کے درمیان گھرا ہوا ہے، آئندہ حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لے کر چلتی رہی تو بیان کیے گئے بحران سے نمٹنے میں دشواری نہیں ہو گی۔ حالیہ برسوں میں دوغلی جمہوری نظام کے نتائج فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ہیں، لیکن سول قیادت کو فوج کے نمایاں اثر کو مدنظر رکھنا ضروری ہو گا۔ انتخابات کے نتیجے میں حکومت بنانے والی سیاسی جماعت یاد رکھے کہ غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے، ہر قدم محتاط رہ کر اٹھانے میں توازن قائم رکھنا آسان ہو گا۔

اجتماعی کوششوں اور دور اندیش قیادت کے ذریعے ہی پاکستان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر شہریوں کے لیے ایک روشن کل کی تعمیر کر سکتا ہے، سلجھی ہوئی قیادت موجودہ تمام مشکلات پر قابو پا کر پاکستان کو ایک پائیدار ایشیئن ٹائیگر ضرور بنائے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments