بل فائٹنگ میں کپڑا لال کیوں ہوتا ہے؟
ہمارے زمانے میں سیانے کہتے تھے پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب۔ کھیلو گے کو دو گے تو ہو گے خراب۔ اسی چکر میں الیکٹریکل، الیکٹرانکس، سول انجینئرنگ کے ساتھ کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم اس دور میں حاصل کرلی۔ جب کمپیوٹر کی اسپیلنگ لکھنے والے لوگوں کو بھی کمپیوٹر کی نوکری مل جاتی تھی۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ سعودی عرب کے دفاع المدنی (شہری دفاع) کے ساتھ کمپیوٹر ایڈوائزر کی نوکری کر کے پاکستان واپس آیا تو فضائیہ میں گھروں کی تعمیرات دیکھنے والے لوگ کسی ایسے نابغہ روزگار شخص کو ڈھونڈ رہے تھے۔ جو سول اور الیکٹریکل انجینئرنگ دونوں سے واقف ہو۔ کمپیوٹر سے پوچھا گیا تو ایک ایسے افسر کا نام سامنے آیا جس کا اصل پیشہ کمپیوٹر تھا۔ چپڑی اور وہ بھی دو نہیں بلکہ تین تین۔ یوں بدوؤں کے صحرائی خیموں سے نکل کر ائرفورس کی ہاؤسنگ میں گھر بنانے پر دھکیل دیا گیا۔ ڈھائی سال کی مشقت کے بعد دو ہزار چار شروع ہو چکا تھا۔ جب میں بہت منتوں اور مرادوں سے چک لالہ پنڈی کے دفتر سے اسلام آباد میں قائم اپنے اصل کام کمپیوٹر کی برانچ میں واپس آ گیا۔
میرے نئے باس کے علم میں تھا کہ میری ترقی دو سال سے محض اس لئے رکی ہوئی تھی کیونکہ ہاؤسنگ والے مجھے ترقی کے لئے درکار لازمی امتحان کو پاس کرنے کے لئے چھٹی نہیں دیتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے پہلی فرصت میں مجھے اس کورس پر بھجوا دیا تاکہ میں کامیابی کے بعد وہاں سے واپسی پر سکون سے، ان کی حسب منشا نوکری کر سکوں۔ جبکہ ہاؤسنگ میں میرے پرانے باس (ایک تھری اسٹار ائرمارشل تھے ) جن کا دعوی تھا کہ وہ مجھے اس امتحان کو پاس کیے بغیر ترقی دلوا کر رہیں گے۔
یہ اور بات کہ اس چکر میں فدوی اور اس کی ترقی دو بڑے دفاتر کے درمیان فٹ بال بنی ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ اس وقت میری شہرت، تین انجینئرنگ والے افسر سے زیادہ کسی راکٹ سائنٹسٹ سے کم نہیں مانی جاتی تھی۔ کیونکہ ائر ہیڈ کوارٹرز کے مقتدر حلقوں میں ہر شخص مجھے پاور پوائنٹ ایکسپرٹ کے طور پر جانتا تھا۔ مزید یہ کہ میں اپنے سینیئرز کے حسب ذائقہ اور حسب منشا، بیگم بچوں سے دور رہتے کئی کئی دن تک یہ کام کر لیتا تھا۔ تو ایسے نابغہ روزگار ہیرے کو ان دنوں کوئی بھی کھونا نہیں چاہتا تھا۔
کراچی میں فیصل بیس کے ائروار کالج میں یہ کورس شروع ہو چکا تھا۔ مختلف موضوعات پر دھڑا دھڑ امتحانات ہو رہے تھے۔ زمینی عملے کا یہ افسر جسے نہ جنگ کی الف بے کا علم تھا اور فضائیہ میں رہنے کے باوجود بھی اس کے جہازوں تک کو پہچاننے کا کوئی شوق نہیں تھا (سوائے سی ون تھرٹی) تو فضائی معاملات یا اس کی اصطلاحات کا مجھے کیا خاک علم ہو گا۔ ایسے وقت میں اندازہ کریں کہ جب میرا اگلے دن ”ائر آپریشنز“ کا پرچہ تھا تو میں کس عذاب سے گزر رہا ہوں گا۔
مغرب اور عشاء کے درمیان۔ ٹرن ٹرن گھنٹی بجی تو بادل نخواستہ فون اٹھانا پڑا کیونکہ لینڈ لائن پر کوئی بھی انسٹرکٹر چھاپہ مار کر یہ چیک کر لیتا تھا کہ طالب علم کمرے میں پڑھ رہا ہے یا کسی نا آسودہ خواہش کی تکمیل کے لئے میلوں دور شہر خرابات میں پہنچا ہوا ہے۔ دوسری طرف سے ایک ایسی مانوس آواز سنائی دی جو میں اس وقت سننا نہیں چاہتا تھا۔ یہ پچھلے ائرمارشل کے اے ڈی سی (یا اسٹاف افسر) اشعر کی آواز تھی۔ جس کا واضح مطلب تھا کہ ائرمارشل شاید کراچی میں موجود ہیں۔
خشک گلے کو تر کرتے میں نے ناپ تول کر سوال پوچھا۔ کہاں سے بول رہے ہو۔ پچاس فی صد جان میں جان آئی۔ کیونکہ وہ اسلام آباد میں تھا۔ دوسرا سوال باس کہاں ہیں۔ کہنے لگا۔ شہر سے باہر۔ میرا دم نکل گیا کہ وہ کراچی میں ہوں گے اور کوئی پاور پوائنٹ کا پیچیدہ مسئلہ آ گیا ہو گا۔ فون اس نے کیا تھا لیکن تیسرا سوال بھی میں نے داغا۔ کہاں گئے ہوئے ہیں۔ لگ بھگ جان میں، یہ جان کر ، جان آ گئی کہ سکیسر گئے ہوئے ہیں۔
میں جو اب تک مرنجا مرنج تھا یکایک شیر ہو گیا۔ بات کرنے کا انداز ہی بدل گیا۔ پوچھا خیریت مجھے کیوں فون کیا۔ کہنے لگا سر جی ایک مسئلہ ہے۔ ایک سوال کا جواب چاہیے۔ کہا پوچھو۔ کہنے لگا۔
”سر یہ بتائیں کہ بل فائٹنگ میں جو کپڑا استعمال ہوتا ہے وہ لال کیوں ہوتا ہے؟“
سوچیں کمپیوٹر کا کیڑا وہ شخص جسے چند منٹ پہلے ”ائر آپریشنز“ کا پرچہ پاس کرنے کے لئے موت آ رہی تھی اس سے یہ مذاق کیا جائے تو اس پر کیا بیتے گی۔ لگ بھگ ناراض ہوتے میں نے کہا۔ اشعر میرا تیرا مذاق ہے لیکن اتنا سیریس نہیں کہ صبح میرا ”ائر آپریشنز“ کا پرچہ ہے اور تم مجھ سے یہ سوال کر رہے ہو۔ کہنے لگا سر میں سیریس ہوں اور یہ سوال میری طرف سے نہیں بلکہ یہ ”عارفانہ“ کلام، ائرمارشل صاحب کی طرف سے ہے۔ میں نے کہا پھر ٹھیک ہے۔
اب میں نے فی البدیہہ اس کو ’بل فائٹر‘ جسے میٹاڈور کہا جاتا تھا۔ اور یہ کھیل جو کہ اسپین، میکسیکو اور پرتگال میں لگ بھگ قومی کھیل مانا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ بتائی کہ میسوپوٹیمیا یعنی عراق اور بحر روم کے پاس بسنے والے یونانی علاقوں کی دیومالائی کہانیوں میں ایک بلا (عفریت) سانڈ یا بل کی شکل میں ہوتی تھی جسے طاقت کی معراج سمجھا جاتا تھا اور ناقابل تسخیر تھی۔ کئی لوگوں نے مارنے کی کوشش کی لیکن مارے گئے۔ دو بھائیوں نے مل کر اسے مارنے کا فیصلہ کیا۔
سانڈ کو رقص بہت پسند تھا۔ ایک بھائی نے اس کے سامنے آ کر رقص کرنا شروع کیا جس سے سانڈ بھی محو رقص ہو گیا۔ لیکن کئی کئی دن ناچنے کے بعد بھی سانڈ نہ تھکا۔ بہرحال دوسرا بھائی ساتھ گیا اور ایک ایسے لمحے جب سانڈ رقص میں محو تھا یا مخالف کی اداؤں سے تنگ آ گیا تھا۔ دوسرے نے اس کے سر میں تلوار گھونپ کر اسے مار دیا۔ اور اس واقعے کے بعد سے ان علاقوں میں سانڈ کو مارنا۔ طاقت اور بہادری کی نشانی سمجھا جانے لگا۔
کہنے لگا، ”سر جی، لال کپڑے پر آئیں“ ۔ میں نے کہا ہاں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ کپڑا جسے مولیٹا کہا جاتا ہے لال ہو یا سفید اس سے سانڈ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ گائے، بیل، سانڈ، بلی، کتا: یہ سب جانور کلر بلائنڈ ہوتے ہیں۔ ہاں البتہ بعض اوقات اس کپڑے مولیٹا میں ایسی خوشبو ضرور ملا دی جاتی ہے جو سانڈ کو تنگ کرے۔ جبکہ لال رنگ اصل میں تماش بینوں کے لئے ہوتا ہے کہ کچھ دیر بعد یہاں خون گرے گا۔ یا سانڈ کا یا بل فائٹر کا ۔
اشعر نے ایک لمبا سانس کھینچ کر شکریہ ادا کیا۔ میں نے پوچھا۔ اب بتاؤ کہانی کیا ہے۔
کہنے لگا۔ دوپہر کو ائرمارشل ہیلی کاپٹر پر سکیسر جانے کے لئے سیڑھی پر پیر رکھ چکے تھے کہ پلٹے اور کہا کہ میرے بیٹے کو اسکول میں اسائنمنٹ میں سوال ملا ہے کہ ”بل فائٹنگ میں کپڑا لال کیوں ہوتا ہے“ ۔ تم کم از کم پانچ سو الفاظ کا مضمون لکھ کر بیٹے کو دے دینا۔ میں نے دل میں خود کو کوسا ہی تھا کہ وہ پھر پلٹے اور بولے اور دیکھو۔ مغرب تک اگر جواب نہ ڈھونڈ سکو تو مولانا رضی کو ڈھونڈ کر اس سے پوچھ لینا بشرطیکہ وہ تمہارے قابو میں آ جائے۔ اب کوسنے کی باری میری تھی۔ میں نے کہا تمہارے ائرمارشل کو میں اسی کام کے لئے یاد آیا۔ زور سے ہنسا اور کہنے لگا۔ سر جی اس کی اس مردم شناسی کی داد دیں اس نے جو کہا تھا وہ آپ نے خود صد فی صد درست ثابت کر دیا۔
میں فون بند کرتا ہوں، ”آپ رٹے ماریں“ ۔


