جمہوریت، انتخابی سیاست اور ہمارے رویے


جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جس میں ریاستی نظم و نسق اور حکومتی بندوبست لوگوں کے سر ہوتا ہے۔ قدیم یونان کی شہری ریاستوں میں لوگ براہ راست امور مملکت میں حصہ لیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ریاستوں کی جغرافیائی حدود میں توسیع ہوتی گئی اور آبادی میں بھی ہوشربا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ فی زمانہ ریاستوں کی آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ براہ راست لوگوں کی حکومت ممکن نہیں اس لیے اب جہاں جہاں جمہوری نظام قائم ہے وہ نمائندہ جمہوریت یا لوگوں کی بالواسطہ حکمرانی پر مبنی ہے۔

منتخب حکومت مستقل حکومت نہیں ہوتی۔ مختلف ممالک میں ایوان ہائے اقتدار کی مدت مختلف ہے کہیں دو، کہیں چار تو کہیں پانچ سال۔ اپنی آئینی و قانونی مدت کی تکمیل پر نئے سرے سے حکومت کے قیام کے لیے انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ اگلی مدت کے لیے اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کریں۔

جن ممالک میں جمہوریت مستحکم ہو چکی ہے وہاں لوگ اپنے انتخاب میں آزاد ہیں۔ وہ اگر گورے ہیں تو کبھی کسی حبشی النسل کو اپنے ملک کے سب سے بڑے عہدے پر بٹھا دیتے ہیں تو کہیں عیسائی اکثریت ایک مسلمان کو اپنے دار الحکومت کا نظم و نسق سونپ دیتی ہے۔ یوں جمہوریت اپنی بندہ نوازی کے جلوے دکھاتی ہوئی محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔

ہمارے جیسے ممالک کی جمہوریت مختلف محاذوں پر معرکہ آرا ہے۔ ملکی و قومی سطح پر کہیں اسے خاندانی بادشاہتوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے تو کہیں عسکریت پسندوں، انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے پے در پے خفیہ و علانیہ حملوں کا سامنا ہے۔ مقامی سطح پر، نوابوں، جاگیرداروں، سرداروں، خانوں اور چودھریوں کی ریشہ دوانیوں میں گھری ہوئی جمہوریت عافیت کی خواستگار ہے۔ یہاں انتخابات کا مطلب اپنی اپنی طبقاتی تقسیم کی پرچی پر مہر ثبت کرتے ہوئے اسے جواز، استحکام اور دوام بخشنا ہے۔

اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جمہور یعنی عوام کی اکثریت ابھی تک رعایا ہیں نہ کہ ایک جمہوری ریاست کے آزاد اور باوقار شہری۔ یہ منزل کبھی بھی قریب نہیں آ سکتی جب تک کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لاتے۔

حقیقی، پائیدار، مثبت اور دیر پا تبدیلی فطرت سے ہم آہنگ ہوتی ہے جو ترتیب صعودی یعنی نیچے سے اوپر کی طرف سفر کرتی ہے نہ کے ترتیب نزولی کی طرح اوپر سے نیچے کی طرف۔ امور سیاست میں اوپر سے نازل ہونے والی ہر تبدیلی کا تجربہ تلخ اور تباہ کن رہا ہے۔ جمہوری نظام اور اس کے تحت انتخابی عمل ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے سیاسی، معاشی و معاشرتی مقدر کے فیصلے کریں اور تبدیلی حالات کا سبب بنیں۔

سیاسی سرگرمی کو صحتمند، سودمند اور ملک و قوم کے لیے نیک شگون بنانا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کی احسن ادائیگی ہی ہمارے باشعور ہونے کی شہادت ہو گی۔ ہمیں اپنے رویوں سے ذمہ دار اور باشعور شہری ہونے کا ثبوت دینے کی اشد ضرورت ہے۔

جمہوریت ایک ارتقا پذیر عمل سے گزرتی ہوئی نمو پاتی اور پروان چڑھتی ہے۔ بہتر سے بہترین کا یہ سفر، عمل پیہم اور جہد مسلسل کا متقاضی ہے۔ یہ ایک ایسا سیاسی عمل ہے جو انسانی شعور کی پختگی کے ساتھ منسلک ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی تعلیم تو کجا، ایک غالب اکثریت کو عمومی تعلیم ہی میسر نہیں۔ اس محرومی کے نتائج سیاسی نظام اور اس کے کارندوں کا پول کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ سیاست میں غیر ذمہ دارانہ رویے بلکہ اوچھے ہتھکنڈے اپنانے کی روش نئی نہیں ہے۔ یہ تاریخ کا تسلسل ہے۔

ہم تاریخ کے بہتے دریا کے عین وسط میں بنے بھنور میں عرصے سے چکرا رہے ہیں۔ ہم چل رہے ہیں پر سفر طے نہیں ہو رہا۔ ہم حرکت میں منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ منزل پر پہنچنے کے لیے آگے کی طرف پیش قدمی شرط ہوتی ہے۔

سیاسی شعور کی بیداری، آبیاری اور پختگی کے لیے ہر شہری کے لیے علم سیاسیات کا ماہر ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ کام غیر رسمی تعلیم کے ذریعے ممکن بنایا جاتا ہے جس کے لیے سیاسی کارکنان کی ہی نہیں بلکہ ان کے رہنماؤں کی بھی سیاسی تعلیم و تربیت ناگزیر ہوتی ہے۔

انتخابی سیاست کی حرکیات کو سمجھنے اور سیاسی رویوں میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ انتخابات کو جنگ اور انتخابی مہم کو جھڑپیں بنانے سے گریز کیا جائے ؛ ماضی پر حملہ آوری سے احتراز، حال کو سنوارنے اور مستقبل کو محفوظ بنانے پر اپنی توانائیاں صرف کی جائیں ؛ تعلیم، صحت، روزگار اور خوشحالی کو منشور بنایا جائے۔ شخصیات کے حصار سے نکلتے ہوئے نظریات کو مطمح نظر بنایا جائے۔

امیدوار آزاد ہیں یا نہیں، یہ الگ بحث اور یقیناً حل طلب معاملہ ہے البتہ، دستیاب امیدواروں کے انتخاب میں آپ آزاد ہیں۔ آزادی کی یہ نعمت جنہیں حاصل ہے وہ اس کی قدر کریں جس کا عملی مظاہرہ گفتار میں شائستگی اور کردار میں تہذیب کا دامن پکڑے رہنے سے ہو گا۔ ہم سب کی آزادی ایک دوسرے کی ناک تک ہے۔ آزادی کی حدود و قیود کو سمجھنے اور ان کا لحاظ رکھنے سے ہی مہذب معاشروں کو قائم اور دائم رکھا جا سکتا ہے۔

سیاست کا تعلق امور اجتماعی سے ہے۔ یہاں فرد نہیں، معاشرہ مقدم ہوتا ہے۔ صلح کل اور خیر کثیر کا حصول پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اس میدان میں ضد، انا اور ہٹ دھرمی کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ رہنما ہوں یا ان کے پیرو کار، اس معرکے کو سر کرنے کے لیے عقل و خرد سے کام لیتے ہیں۔ باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم کے ذریعے اتفاقات میں بدلا جاتا ہے۔ مکالمے کو فروغ دیا جاتا ہے جہاں مضبوط دلیل ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

دل کی دنیا جذبات کی دنیا ہے جو ایک سیل رواں ہے جہاں طغیانی پل بھر میں کنارے بدل دیتی ہے۔ دل مہر و محبت، نفرت و کراہت، رحم و کرم اور غیض و غضب، ہر طرح کے جذبات کی آماجگاہ ہے۔ یہ انتہاؤں کی سرزمین ہے۔ اسے صرف ایمان اور تقویٰ کے مسکن کے لیے خالص کر لیا جائے تو عافیت کے سارے در وا ہو جائیں گے۔

تاریخ کا درس یہی ہے کہ افراد ہوں یا اقوام، جب جب امور اجتماعی کی الجھی گتھیاں دل کے سپرد کیں، تباہی مقدر ٹھہری۔

Facebook Comments HS