شمال سے تہران
جب چمان گاؤں سے صبح سویرے تہران کے لئے نکلے تقریباً پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد تہران پہنچے۔ درمیان میں ہم ایک ریسٹورنٹ میں ناشتہ کے لئے روکے۔ ریسٹورنٹ بہت ہی خوبصورت اور صاف ستھرا تھا۔ ریسٹورنٹ کے بیسمنٹ میں واش روم بنے ہوئے تھے۔ واش روم سے فارغ ہو کر ہم نے ناشتہ کیا۔ رسیپشن پر بیٹھے ہوئے شخص نے بڑے بڑے مونچھ رکھی ہوئی تھی۔ اور ان مونچھوں کو اس نے تاؤ دیا ہوا تھا۔ یہ مونچھوں والا شخص مجھے منفرد لگ رہا تھا۔ مونچھوں کی وجہ سے اس میں ایک خاص رعب تھا۔
ناشتہ کرنے کے بعد ہم تہران کی جانب رواں ہوئے۔
تہران شہر میں جیسے ہی آپ داخل ہوں گے ، آپ کو محسوس ہو گا کہ تہران کے سڑکوں پر ٹریفک بہت زیادہ رش ہے۔ گاڑیاں بہت سست رفتاری سے آگے جانب رواں ہوتے ہیں۔ تہران میں ٹریفک بیزار کن کیفیت میں مبتلا کرتی ہے۔ اس ٹریفک میں ہم تقریبا، ایک گھنٹے سے زیادہ پھنس نے کے بعد اپنے منزل کو پہنچے۔ ہم نے ایک فلیٹ کرایہ پر لیا۔ ہاتھ منہ دھوکر ہم پیدل اپنے رہائش گاہ تہران کے مارکیٹوں دیکھنے نکلے۔ مارکیٹوں میں بے تحاشا رش تھا۔ گداگر جابجا بھیک مانگتے پھررہے تھے۔ ایرانی پولیس ان مارکیٹوں میں گشت کر رہی تھی۔ مارکیٹ میں دکانیں صاف ستھرے اور مال سے بھری ہوئی تھیں۔ ہم پیدل چلتے ہوئے ایک ہندوستانی ریستوران میں گئے۔ ایرانی کھانا کھا کھا کر ہم بیزار ہوچکے تھے۔ جب ہم نے اس ریستوران کو دیکھا ہم جلد ہی اس میں گھس گئے۔
بیرا جب ٹیبل پر آیا ہم نے بریانی اور چکن کڑاہی کا آرڈر دیا۔ کھانا کھانے کے بعد ایک عورت ہندوستانی روایتی ساڑھی میں ملبوس ہمارے پاس آئی۔ اور ہمیں کھانے کے متعلق پوچھنے لگی۔ میں نے انہیں بتایا کہ کھانا نہایت ہی لذیذ تھا۔
شام کو مارکیٹوں میں گھومنے کے بعد ہم اپنi جائے رہائش میں آئے۔
شام ڈھل چکی تھی، اور رات کا وقت ہو چکا تھا۔ پورے دن کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے ہم جلدی سو گئے۔
پرسکون نیند سے بیدار ہوا۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر کمرے میں رہا۔ کل کی تھکاوٹ ختم ہو چکی تھی۔
صبح سویرے ناشتے کا انتظام کرنے کے لئے اپنے ساتھی کے ساتھ اپارٹمنٹ سے باہر نکلا۔ چہل قدمی کرتے ہوئے تہران میں صبح کی موسم سے لطف اندوز ہوا۔ تہران میں صبح کی موسم سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے ہاں بارش کے بعد کا موسم ہوتا ہے۔ لوگوں کی چہل پہل تھی۔ مردوزن اپنے دفاتر میں جا رہے تھے۔ اپنے رہائش کے قریب مارکیٹ میں ایک نان وائی کے دکان سے روٹی لینے گئے، ہم نے دیکھا لوگوں کی لمبی قطار ہے۔ اس قطار میں مرد عورتیں ایک لائن میں کھڑے تھے۔
میرا ساتھی بھی قطار میں کھڑا ہوا۔ قطار میں موجود لوگوں میں کسی کو جلدی نہیں تھا۔ ہر شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد میرے ساتھی کی باری آئی۔ روٹی لینے کے بعد ہم اپنے جائے رہائش کا رخ کیا۔ تہران میں صبح سویرے دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ تہران میں کوہ البرز موجود ہے۔ میں نے جب کوہ البرز پر نگاہیں دوڑائیں وہ اپنے جگہ پر ایستادہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کوہ البرز بلوچوں کا اصل وطن ہے۔ تاریخی کتابوں میں درج ہے کہ بلوچ پہاڑوں میں رہتے تھے۔
ضرورت کے مطابق کبھی کبھار پہاڑوں سے نیچے اترتے تھے، کوہ البرز سے ہی بلوچ پورے دنیا میں پھیل گئے۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے، اس میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ کچھ تاریخی کتابوں البرز کوہی بلوچوں کی اصل وطن کہا گیا ہے۔ آج کا پورا دن تہران میں گزارہ۔ ناشتہ کرنے کے بعد ہم لوگ پھر کام کے سلسلے میں تہران کے مضافات گئے، جیسے ہی تہران شہر سے نکل کر مضافات کا رخ کیا جاتا ہے وہاں آپ کو بڑے بڑے باغات نما کھیت ملیں گے۔ شام کو ہم نے تہران کی مارکیٹوں کی سیر کی اور کچھ ضروری سودا سلف کے بعد رات گئے واپس اپنی رہائش گاہ آئے، صبح کی فلائٹ سے ہمیں ایران کی سرحدی شہر ارومیہ
کام کے سلسلے میں جانا تھا۔ چنانچہ کل کی سفر کے لئے جانے کی تیاری کے بعد سو گئے تاکہ کل صبح جلدی اٹھ سکیں، اور آگے کی سفر جاری رکھ سکیں۔
ہمیں ارومیہ شہر کے سفر کے لئے صبح جلدی اٹھنا پڑا۔ صبح کے چار بجکر سینتالیس منٹ پر مہر آباد ائرپورٹ کے لاونج میں موجود تھے۔ ارومی شہر کے فلائٹ پکڑنے کے لئے ہمیں سویرے ائر پورٹ آنا پڑا۔ جلدی جہاز جانے کا اعلان ہوا۔ تہران سے ارومیہ کی سفر جہاز سے تقریباً ایک گھنٹے کی تھی۔ سفر ہموار اور خوشگوار تھا۔ ایرانی فلائٹ میں سفر کرنے کا تجربہ خوشگوار تھا۔ جہاز کا عملے نے اچھی خاطر مدارت کی۔ ارومیہ شہر ایک سرحدی علاقہ ہے۔
یہ ایک ایسا شہر ہے اس کی ایک طرف ترکی، دوسری طرف عراق اور آذربائجان ہیں۔ ایران میں ایک صوبے کا نام بھی آذربائجان ہے، ارومیہ ایرانی آذربائیجانی صوبے میں واقع ہے۔ اس کی آبادی بیس لاکھ نفوذ پر مشتمل ہے۔ ارومیہ ایک ایسا شہر ہے یہاں فارس مقامی آبادی کا حصہ نہیں۔ یہاں کی مقامی لوگ ترک اور کرد ہیں۔ ان کی ثقافت، رسم و رواج ایرانی فارسیوں سے مختلف ہیں۔ ایرانی شہروں کے برعکس یہاں کی زیادہ تر آبادی سنی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔
ائر پورٹ سے نکل کر جب ہم شہر کی جانب جانے لگے ہمیں محسوس ہوا کہ تہران کے مقابلے میں یہاں ٹھنڈ زیادہ ہے۔ ارومیہ شہر میں تہران کے مقابلے میں رش بہت ہی قلیل تھا۔ فضا خوشگوار تھی، شہر نہایت ہی صاف ستھرا تھا۔ یہاں پر رہائش کے لئے بڑے بڑے ہوٹل تھے۔ ہم ایک فور اسٹار ہوٹل میں گئے، جہاں رش کی وجہ سے رہائش کا انتظام نہ ہوسکا۔ چنانچہ ہم نے یہاں پر پرتکلف ناشتہ کیا۔ ناشتے میں مختلف قسم کے نان، کئی قسم کے انڈے، جام جیلی، دال، چولہے رکھے ہوئے تھے۔ کھانا لینے کے لئے سلف سسٹم تھا۔ آپ جو بھی کھانا ہوتا تھا، آپ چنے ہوئے کھانے میں سے اپنے لئے منتخب کر سکتے تھے۔ ہوٹل نہایت ہی شاندار تھا۔
ارومیہ شہر اگرچہ تہران کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا شہر ہے لیکن اس میں بھی آپ کو بڑی بڑی مارکیٹیں ملیں گیں۔ شہر کو پلاننگ کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد ہمارے ساتھیوں کو اپنے بزنس کے سلسلے میں کام تھے، کام ختم کرنے کے بعد جس شخص کا ہاں ہمارے ساتھیوں کا کام تھا، انہوں نے ہمیں کھانے پر روکا۔ لنچ بہت ہی پرتکلف اور لذیذ تھا۔ ہوٹل کے علاوہ یہاں مقامی لوگوں کے گھر بھی کرایہ پر ملتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے ایک رات کے لئے گھر کرایہ پر لیا۔
یہ گھر دو کمروں، ایک کچن، ایک چھوٹا سا ہال پر مشتمل تھا۔ ہمیں ارومیہ کے قدیمی مارکیٹ کو دیکھنا تھا۔ جلدی جلدی تیار ہو کر ہم نے ایک ٹیکسی کرایہ پر لیا، اور شہر کے بڑی اور قدیمی مارکیٹ میں گئے۔ مارکیٹ میں بہت رش تھا، ہم نے کچھ گرم کپڑے خریدے۔ راہ چلتے ہوئے ایک جگہ پر ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو ایک بس اسٹاپ پر اپنے سازینے لے کر ساز بجا رہا تھا۔ چلتے راہ گیر ان کو پیسے دے رہے تھے۔ ارومیہ اگرچہ ترکی کی سرحد پر واقع ہے لیکن یہاں کی مقامی آبادی کردوں پر مشتمل ہے۔
مقامی لوگوں کی استفسار پر معلوم ہوا کہ سرحد کی دونوں اطراف کرد رہتے ہیں، اور اس کے علاوہ عراق کا کردستان ارومیہ شہر کی نزدیک ہے۔ یہاں تک ارومیہ کے کرد ترکی اور عراق کے کردوں میں اب بھی آپس میں رشتہ داریاں ہیں، اور ان کے درمیان آپس میں شادیاں ہوتی ہیں۔ ارومیہ میں پانچ وقت اذان کی صدا آتی ہے، بڑے بڑے مساجد بھی موجود ہیں۔
رات تک ہم نے ارومیہ کے مختلف مارکیٹوں میں سیر کی، رات گئے واپس گھر آئے، اور صبح ہمیں جلدی اٹھنا تھا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح کے ساڑھے تین بجے بیدار ہوئے۔ جلدی اٹھنے کا مقصد بذریعہ فلائٹ واپس تہران جانے کا ارادہ تھا۔ گھر میں جلدی جلدی ناشتہ بنایا اور تقریباً صبح ساڑھے پانچ بجے ائر پورٹ روانہ ہوئے۔ جس وقت ہم ائرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے ارومیہ کا موسم انتہائی سرد مجھے محسوس ہوا۔ جب میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے موسم سرما کے بارے میں استفسار کیا، انہوں نے کہا کہ ارومیہ میں موسم سرما میں بہت سردی پڑتی ہے۔
ان کے مطابق، درجہ حرارت سردیوں میں ہمیشہ نقطہ انجماد پر پہنچتی ہے۔ درجہ حرارت منفی بیس تک بھی ہوتی ہے۔ ارومیہ شہر میں سردی کی وجہ سے شاہراہوں اور گھروں میں موجود درخت مرجھائے جاتے ہیں۔ فروٹ کے درختوں کے تمام پتے سردی کی وجہ سے گر جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق موسم بہار میں ہرطرف سبزہ ہی سبزہ ہوتا ہے


