مسئلہ گھڑی کا نہیں


جب آپ چھوٹے ہوتے ہیں تو جو برائی آپ کے آس پاس نہیں ہوتی آپ کے لئے دنیا میں بھی اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور آپ اس کو زیادہ سنجیدہ بھی نہیں لیتے۔ مثلاً آپ جھوٹ نہیں بولتے تو آپ کو لگتا ہے سامنے والا جو کچھ کہہ رہا ہے وہ بھی درست ہی ہے۔ آپ کے سامنے کوئی کسی غلط کام کو برا کہتا تو آپ کو لگتا کہ یہ شخص یہ کام کیسے کر سکتا جس کی خرابی وہ اپنے منہ سے بیان کر رہا ہے مگر جب آپ بڑے ہو جاتے ہیں تو ان شفیق ہستیوں کے حصار سے نکل کر جنہیں دنیا والدین کہتی ہے ایک ایسی خوفناک حقیقت سے آ ملتے ہیں جس کو ہم نے کبھی دنیا کے نام سے سن رکھا ہوتا ہے۔

میری ایک دوست کی شادی بھی تقریباً میری شادی کے دنوں میں ہوئی اور وہ بھی ہماری طرح سعودی عرب میں پلی بڑھی تھی۔ وہ ایک ایسی دنیا سے آئی تھی جہاں بیوی عزت اور محبت کا استعارہ تھی اور اب جس دنیا میں تھی وہاں بیوی کے بغیر ہر جگہ جانا آپ کی خود مختاری کی علامت۔ گویا مجنوں نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے۔ ان کو کسی نے شادی کے بعد دعوت پر مدعو کیا تو میزبان دوست کئی سماجی برائیوں کو اپنی زندگی سے منسوب کر کے یوں سنانے لگا جیسے یہ کوئی فخر کی بات ہو ؛ بھئی ہم تو آزاد پنچھی ہیں، ہر جگہ بیوی کے بغیر جاتے، بھئی میری تو بہت لڑکیوں سے بات چیت رہتی ہے، شادی کے بعد میرے کئی معاشقے میری بیوی کے سامنے آ گئے، میں ادھر پکڑا گیا، میں ادھر پکڑا گیا مگر شکر ہے یہ اچھی تھی۔

اس نے اوور ری ایکٹ نہیں کیا۔ اور اوور ری ایکٹ نہ کرنے والی سوپ میں محض چمچہ ہلانے کے بہانے سر کو سوپ کے کپ میں ڈال کر جھکی بیٹھی تھی کہ جیسے یہ سب بیہودگیاں اس کے شوہر کی نہیں بلکہ اس کی ہیں۔ اور واپسی پہ کسی نے یہ تک نوٹ نہ کیا کہ وہ اس گھٹیا آدمی کی بیہودہ باتوں کی وجہ سے ریسٹورنٹ سے بغیر کچھ کھائے پئے ہی واپس جا رہی ہے۔

جس معاشرے کے اخلاق کی پستی کا عالم یہ ہو وہاں توشہ خانہ کی گھڑیوں کو کون روئے کہ سزا دینے والے بھی وہی اور ملزم بھی۔ عوام کی حالت سوپ کے کپ میں چمچ ہلاتی اس بیوی جیسی ہے جو بے قصور ہونے کے باوجود بھوکی ہی رہی کیونکہ ایک ہزیمت اور شرمندگی اس کا مقدر بنا دی گئی اور گھٹیا پن چہکتا پھرتا ہے۔

ہم ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے ہیں جہاں جو جتنا بڑا جرم کرتا ہے وہ اتنا طاقتور سمجھا جاتا ہے۔

الیکشن قریب ہے اور ساتھ ہی کچھ سیاسی فیصلے پے در پے ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ لوگوں نے ماضی کے اخبارات کی سرخیاں سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں جن میں یہی سزائیں سنائی گئیں بلکہ گھر گھر ذکر عام تھا کہ منصف بھی وہی ہیں۔ جرائم بھی وہی ہیں۔ اور سوپ میں چمچ ہلاتے خجل خجل سے عوام بھی وہی ہیں۔ اس سب میں میرے دل سے کچھ شکوے دہائی بن کر نکلے ہیں۔

مسئلہ گھڑیوں کا نہیں ہے جہاں پناہ!

وہ گھڑیاں جو توشہ خانے سے گئیں یا پھر وہ جن کے وڈیو کلپس وائرل ہوئے باوجود اس کے کہ ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جہاں اعمال ہی نہیں، خیال تک کی خیانت کو حرام قرار دیا گیا ہے مگر افسوس کہ ان کو تو ہم سماجی طور پر برا سمجھتے ہی نہیں ورنہ ہم سوشل میڈیا یا کھانے کی ٹیبل پر ٹھٹھے نہ لگاتے اور اپنے سکینڈلز کو اپنی بڑائی بنا بنا کر نہ سناتے۔ مسئلہ ان صدیوں کا ہے جس میں یہ بت تراشے گئے جس پر ہمارے وسائل بھی ضائع کیے گئے اور وقت بھی۔ جب ہم ان کو پوجنے لگے تو آپ نے ان کے پرخچے اڑانا شروع کر دیے۔

عالی جاہ!

مسئلہ اس ہار کا بھی نہیں جو ایک سابق وزیراعظم نے اپنی بیوی کو گفٹ کر دیا تھا بلکہ اس ہار کا ہے جس کا سامنا ہم بحیثیت قوم ایک صدی سے کر رہے ہیں۔ توشہ خانے سے ایک وزیراعظم کا کوئی تحفہ لے لینا تو عام سی بات ہے یہ چلن ہمارے ہاں سماجی طور پر قابل قبول رہا ہے جب تک تب تک اقتدار کی راہداریوں میں آپ منظور نظر ہیں۔ یہ عمل تو گناہ اس وقت گناہ بنتے ہیں جب ان بتوں کی عمر پوری ہو جاتی ہے۔ تب محرم سے مجرم، ہیرو سے زیرو بنانے کا وقت آ جاتا ہے اور اپنے ہی تراشے ہوئے بت محرم سے محروم کیے جاتے ہیں۔ مگر اس سب میں قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ ایک قدم آگے بڑھتی قوم سو قدم پیچھے چلی جاتی ہے اور یہی ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ ہم جب بھی آگے بڑھنے لگتے ہیں صدیوں پیچھے دھکیل دیے جاتے ہیں مگر ہمیں اپنا اصلی مجرم نہیں ملتا اور طاقت کا یہ بھیانک کھیل جاری رہتا ہے۔

Facebook Comments HS