دریا کے سات سبق


میں حسب معمول دریا کے کنارے پانی کے بہاؤ کی مخالف سمت میں چل رہا تھا۔ دریا کی موجیں کنارے تک مشکل سے پہنچ پا رہی تھیں۔ ہوا بھی قدرے سست ہی تھی۔ ماحول میں ایک عجب ٹھہراؤ تھا۔

میں ہمیشہ بائیں طرف مڑ کر ایک بڑے پتھر پر پانی میں پاؤں ڈال ایک دو گھنٹوں کے لئے بیٹھ جاتا تھا۔ خزاں کا موسم اپنے رنگ دکھا رہا تھا۔ کچھ مرے ہوئے پتے اور سوکھی ٹہنیاں دریا کے بہاؤ کو نمایاں کر رہی تھیں۔ چند دنوں سے میں یہ نوٹ کر رہا تھا کہ جیسے دریا کے پرسکون ہونے کے باوجود میرے ارد گرد لہریں کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کر رہی تھیں، بلکہ آج تو ہلکی سی طغیانی بھی مچل رہی تھی۔ میں اس سارے ماحول سے گھبرا سا گیا تھا اور پاؤں اوپر کرنا چاہے لیکن انہیں ہلا نہیں سکا۔

خوف نے مجھے ہر طرف سے دبوچ لیا۔ میں نے چیخنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی بے سود۔ موسم خشک ہونے کے باوجود میں بھیگا ہوا تھا۔ میں نے ارد گرد نظر دوڑائی لیکن سب معمول کے مطابق ہی تھا۔ چڑیاں چہچہا رہی تھیں، اکا دکا لوگ بھی اپنی مگن میں گھوم پھر رہے تھے۔ میں نے ایک بار پھر اپنی ساری قوت کو سمیٹ کر کھڑا ہونے کی کوشش کی تو میرے جسم میں سرسراہٹ شروع ہو گئی۔

میں نے چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی بھی مجھ سے مخاطب نہیں تھا۔ یہ کوئی صوتی لہریں نہیں تھیں بلکہ مجھے چھو کر جیسے میرے جسم میں سرایت کر رہی تھیں، کوئی طاقت جو مجھے ارد گرد کے مادی ماحول سے بے نیاز کر رہی تھی، میرے خوف کو سکون میں بدل رہی تھی، مجھے ایک پیغام دے رہی تھی۔ ’گھبراؤ نہیں، میں تمہارا دوست ہوں۔ تم میرے قدردان ہو، یہیں بیٹھے رہو۔ ‘

کتنے سریلے بے زبان بول تھے یہ، لیکن میرا جسم کانپ رہا تھا اس ما فوق الفطرت ہیئت سے۔ جب میرے حواس کچھ قابو میں آ گئے تو میں نے آہستہ سے اپنے ہونٹوں کی جنبش سے جواب دیا۔ ’تم کون ہو اور مجھے کیوں نہیں جانے دے رہے؟ ‘

’مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں، آگہی کی، شعور کی، باطنی دنیا کی باتیں۔ ‘
میں نے ہکلا ہکلا کر پوچھا۔ ’آخر تم کون ہو اور مجھے نظر کیوں نہیں آ رہے؟ ‘

دریا کی لہریں پتھر سے ٹکرا کر بکھر رہیں تھی۔ ’میں تمہارا دوست ہوں، دریا، جس کے پاس تم روز وقت گزارنے کے لئے آتے ہو، چلچلاتی دھوپ ہو یا ہونٹوں کو کاٹ دینے والی جاڑے کی ہوائیں، تم ہمیشہ میرے پاس آئے۔ تم میرے بہت قدردان ہو۔ اس لیے تم سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں اسرار و رموز کی۔ ‘

میں کچھ بھی نہ کہہ سکا سوائے یہ الفاظ دہرانے کے۔ ’اسرار و رموز کی؟‘

’تم یہاں سینکڑوں دنوں سے آرہے ہو، میرے ساتھ وقت گزارتے ہو۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ تمہیں کیا فائدہ ہوتا ہے میری پاس آنے سے؟ ‘

’کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے میرے یہاں آنے پہ؟ کیا میں نے تمہیں کوئی نقصان پہنچایا ہے؟ ‘ ایک سکون کی لہر میرے انگ انگ پہ پھیل رہی تھی۔

’نہیں نہیں، تم نے کبھی کسی طرح سے بھی مجھے نقصان نہیں پہنچایا لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے میری ہستی سے کچھ سیکھا کہ نہیں؟ ‘

’میں سمجھا نہیں سیکھنے سے تمہاری مراد کیا ہے۔ میں تمہارے حسن کا دلدادہ ہوں اسی لیے تو میں روز ادھر آتا ہوں۔ ‘

’میں کہنے کو ایک دریا ہوں لیکن میرے اندر علم کا سمندر مچلتا ہے۔ میں نے ہزاروں سالوں میں اپنے سفر سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں نے انسانوں کی بدلتی ہوئی نسلیں دیکھی ہیں۔ میرا اور انسان کا ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ میں تمہاری نسل کی خوبیؤں اور کمزوریؤں سے پوری طرح واقف ہوں۔ ‘

’لیکن، لیکن، مجھ ہی سے کیوں بات کرنی ہے؟ ‘

’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تم اپنے شعور سے آگہی رکھتے ہو۔ یہاں بہت لوگ آتے ہیں، میرے حسن کی تعریف کرتے ہیں، کئی میرے تر و تازہ پانی سے اپنی پیاس بھی بجھاتے ہیں لیکن ان کے پاس اس جسمانی پیاس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ وہ ناظر ہوتے ہیں لیکن بصیرت کی آنکھوں سے عاری ہیں۔ ‘ پھر ایک پراسرار خاموشی کے بعد مجھے یہ پیغام ملتا ہوا محسوس ہوا۔ ’اگر تمہیں مجھ سے کچھ سیکھنا ہے تو میرے پاس آتے رہنا۔ ‘

میں فوراً اٹھ کر تیز تیز قدموں سے سیدھا گھر واپس آ گیا۔ میں بہت پریشاں تھا کہ ایک بے روح شے جو ایک واضح شکل سے بھی محروم ہے وہ کیسے مجھ سے بغیر آواز کے بات چیت کر سکتی ہے، مجھے عقل و دانش کی کیا باتیں بتانا چاہتی ہے اور وہ بھی مجھے ہی کیوں؟ یہ غالباً میرے دماغ کی اختراع ہی ہے۔ آخر یہ معمہ ہے کیا؟ نہ میں رات کو سو سکا اور نہ ہی دن میں کچھ کھا سکا۔ ’بہر حال جو بھی ہے اسے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ لوگ مجھے ہی دیوانہ سمجھیں گے۔ ‘

پہلا سبق

اگلے روز میں یہی سوچتا رہا کہ دریا کی طرف نہ جاؤں لیکن اس کی سریلی سراعت مجھے اس طرف کھینچ رہی تھی۔ اس کشمکش میں ہی دو تین گھنٹے گزر گئے۔ ضرور کوئی رموز و اسرار کی باتیں ہیں جو اس نے ہزاروں سالوں سے یہاں بہتے بہتے سیکھ لی ہیں اور یہی وہ کچھ انسانوں کو منتقل کرنا چاہتا ہے۔ میں وقت سے پہلے ہی اس جگہ پہنچ گیا جہاں دریا بائیں طرف مڑتا تھا اور آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا، اور سوچنے لگ گیا کہ دریا مجھے کس چیز کے بارے میں سبق دے گا۔ میں اس ماحول میں کھو جانا چاہتا تھا کہ اچانک دریا میں ہل چل ہوئی اور میری نگاہیں پانی میں کسی کو ڈھونڈنے لگ گئیں۔ پھر وہی لہروں کی موسیقی میرے انگ انگ میں سرایت کر گئی۔ مجھ پہ ایک بے خودی کی کیفیت چھا گئی۔

’بہت اچھا ہوا تم وقت پہ آ گئے۔ ‘ اس سادہ سے جملے میں کتنی گہرائی تھی۔
’جی آپ کا شاگرد حاضر ہے۔ ‘ یہ بغیر سوچے سمجھے میرا رد عمل تھا۔
’ہمارا پہلا سبق میرے تضاد پہ ہے۔ کیا اندازہ ہے تمہارا میرے تضاد کے بارے میں؟ ‘
میں بت بنا رہا۔

’تم میری لہر کو دیکھ رہے تھے۔ یہی میری لہریں پانی بکھیرتی ہیں، بنجر زمین کو سر سبز کرتی ہیں تاکہ قدرت کی مخلوق اس سے پانی حاصل کرے، فصلوں کو پروان چڑھائے، خوراک آور اپنی دیگر ضروریات کو پورا کر سکے، مجھ پہ کشتیوں کے ذریعے سفر کر سکے اور ان پہ سامان کی ترسیل کر سکے۔ کبھی تم نے ان چیزوں پہ غور و فکر کیا؟‘

’نہیں میں تو ان موجوں کے اتار چڑھاؤ سے کبھی آگے ہی نہیں بڑھ پایا۔ کبھی میں نے ان لہروں کی افادیت کے بارے میں نہیں سوچا، واقعی میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ ‘

’لیکن کہانی یہیں نہیں ختم ہو جاتی۔ ‘
’جی! ‘ میں نے انکساری کے ساتھ کہا۔

’یہی لہریں اونچی اور تیز ہو جاتی ہیں تو یہ سیلاب لے آتی ہیں، جان اور مال کو غرق کر دیتی ہیں، کھڑی فصلوں کو نیست و نابود کر دیتی ہیں۔ ،

’کچھ سبق ملا اس تضاد سے تمہیں؟ ‘
’فائدہ اور نقصان دونوں کا ساتھ ہے۔ ‘

’ازل سے ابد تک! ہر شے میں تمہیں تضاد نظر آئے گا۔ یہی اس دنیا کی ریت ہے۔ تمہاری اپنی ذات بھی تضادات سے بھر پور ہے۔ کبھی تم کسی کو نقصان پہنچاتے ہو تو پھر کبھی اسی شخص کو فائدہ۔ کتنی اچھی اچھی ایجادات کرتے ہو پھر انہیں ایجادات کی تکنیکی مہارت سے کیسی کیسی بھیانک چیزیں بناتے ہو۔ کتنی محنت اور کاوشوں سے نظام بناتے ہو، پھر اسی نظام کو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرتے ہو۔ کبھی تم نے اپنی ذات میں تضاد کے بارے میں سوچا؟‘

’ نہیں، ‘ میں نے دور خلا میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’تمہارا وجود تین عناصر پہ مشتمل ہے۔ تمہارا جسم، تمہاری روح، اور تمہاری سوچ۔ تمہاری روح اور جسم کی ضروریات میں تضاد ہے۔ ان میں ایک جنگ جاری ہے۔ جسم کی بنیادی ضروریات کے علاوہ اس کی ہر خواہش تمہاری روح کو مجروح کرتی ہے۔ روح کی پذیرائی کے لئے ضروری ہے کہ تمہارا نفس یعنی تمہاری جسمانی خواہشات تمہاری سوچ کے تابع ہوں نہ کہ تمہاری سوچ تمہارے نفس کی محکوم ہو جائے۔ ‘

’جی، میں بھی یہی محسوس کرتا رہا ہوں لیکن کبھی اس کو اس زاویئے سے نہیں دیکھا۔ ‘
’کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ نفی اور ضد پوری کائنات پہ حاوی ہے؟ ‘
میں چونکا لیکن خاموش رہا۔

’یہ کائنات مادہ اور انرجی پہ مشتمل ہے اور اس مادہ کا اینٹی مادہ بھی موجود ہے۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو دونوں اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں اور انرجی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ‘

’مجھے تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں پتا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ سب سائنسی کہانیاں ہیں۔ ‘

’یہ کتنی گہری اور اہم بات ہے کہ تضاد ایک بہت بڑا سچ ہے۔ اس سے گھبراؤ نہیں بلکہ اسے قبول کر لو۔ اب اگلے ہفتے میرے پاس آنا۔ ‘

اور اس طرح میرا استاد غائب ہو گیا۔

میں کافی دیر وہیں بیٹھا رہا، پانی کو دیکھتا رہا جہاں وہ لہریں نظر آ رہیں تھی۔ میں کانپ رہا تھا پتا نہیں کیوں! دریا کی باتوں پہ غور کرتا رہا۔ واقعی ہم شاید اس کائنات کی ہر شے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ گچھ دیر بعد بخار چڑھنا شروع ہو گیا۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ میں اپنے استاد کے ایک ایک لفظ کو یاد رکھنا چاہتا تھا جس طرح یہ میری زندگی کا سب سے قیمتی ذخیرہ تھا۔ ہفتے بھر تنہائی میں اس پہ غور و فکر کرتا رہا۔

پورا ہفتہ میں اپنے بارے میں سوچتا رہا اور اپنی ذات میں تضادات کو ڈھونڈتا رہا۔ ساتویں دن گھڑی دیکھی تو ایک بجنے والا تھا۔

دوسرا سبق

استاد کی کشش مجھے کھینچے چلی جا رہی تھی وقت سے پندرہ منٹ پہلے ہی دریا کے کنارے جا کر بیٹھ گیا۔ ہر لہر کے ارتعاش پہ میرا دل دھک دھک کرنے لگتا۔ پھر اس کے بے آواز لمس نے مجھے چونکا دیا۔ ’مجھے پتا تھا کہ تم آؤ گے۔ ‘

’جی۔ اب میری پیاس اور بڑھی گئی ہے۔ مجھے اور راز و اسرار کی باتیں بتائیں۔ ‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔ ’آج کا سبق کیا ہے؟ ‘

’ان پتھروں کو دیکھو جن پر سے میں شور مچاتا ہوا گزرتا ہوں۔ ‘
’میں تو ہمیشہ اس خوبصورت منظر کو سراہتا ہوں۔ ‘
’کچھ باطنی سوچ؟‘
اور میں یہ سن کر کھسیانا ہو گیا اور خاموش رہا۔
’ان بڑے بڑے پتھروں کی سطح کیسی ہے؟‘
’بہت چکنی۔‘
’یہ کیسے ہو گئی۔‘ استاد کے پیغام میں جھلاہٹ تھی؟
’اب میں سمجھ گیا۔ مشقت! ‘

’مشقت تو تم لوگ بھی کرتے ہو لیکن استقامت کی کمی ہے۔ مجھے ان پتھروں کو ملائم کرنے میں ہزاروں سال لگ گئے۔ اب ان کے اوپر سے کیسی روانی سے گزر جاتا ہوں۔ یہ ہے میری استقامت کا پھل، ہمیشہ کے لئے۔ ‘

’جی،‘ مجھے خود پہ غصہ آ رہا ہے کہ میں اپنی سوچ کی بالائی سطح پہ ہی رک گیا تھا۔ میں دو دن تک اپنی کج فہمی اور اس سبق کے بارے میں سوچتا رہا۔ پیٹ میں مروڑیاں آٹھ رہی تھیں جیسے دریا کے اندر وہ چکنے سلیٹی سلیٹی پتھر کسی طرح میرے پیٹ میں گھس گئے تھے۔

تیسرا سبق

آج خنک ہوا کے جھونکے گالوں پہ تھپیڑے مار رہے تھے، بادل سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ میں کچھ دیر کے لئے اس منظر میں مجذوب ہونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ پھر مجھے اپنے سراپا میں سرایتگی کا احساس ہوا۔

’میں صرف محبت ہی محبت بانٹتا ہوں۔ کبھی میں نے کسی سے نفرت کی ہے؟ اور تم انسان نفرت اور لالچ کے عمل سے کتنی محبت کرتے ہو۔‘

میں چونک سا گیا۔ اور مجھے لگا کہ پوری انسانیت کی نفرتوں کا بوجھ مجھ پہ آن پڑا ہے۔

’نفرت انا کی نشانی ہے۔ تم لوگ اپنی انا کی پذیرائی کے لئے دوسرے انسانوں کو کمزور، کمتر، یا غلط سمجھتے ہو۔ اور اس طرح دوسروں پہ ظلم ڈھانے کا جواز تلاش کر لیتے ہو۔ تم انفرادی انا اور اجتماعی انا دونوں کا شکار ہو۔ میں نے اپنے کناروں پہ نفرت اور لالچ کے باعث ہزاروں بار بستیاں اجڑتی دیکھی ہیں، ان گنت زندہ اور مردہ لاشوں کو میرے اندر پھینک دیا گیا، خون کی ندیاں بہا کر میرے پانی کا رنگ لال کر دیا گیا۔

محبت ہر دکھ کا مداوا ہے اور انا صرف دکھ ہی دکھ بانٹتی ہے۔ ’
پھر کچھ لمحوں کے بعد مجھے احساس ہوا کہ نزدیک ہی دو پرندے دریا میں غوطے لگا رہے تھے۔

آج پہلی مرتبہ دریا کا سبق ختم ہونے پہ نجانے کیوں مجھے خوشی ہوئی۔ میں پھر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا اور خوشی خوشی گھر واپس آ گیا۔ لیکن جب رات کو بستر پہ لیٹا تو انا اور نفرت کے عفریت چار سو نظر آنے لگے اور ساری رات ان کو بھگانے میں گزار دی۔ روشنی ہوئی تو اجڑتی ہوئی بستیوں نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ آگ کے شعلے، آہ و بکا، گرتے پڑتے لوگ میرے حواس پہ چھائے رہے۔ کئی دنوں بعد میرا بوجھ ہلکا ہوا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں دریا کی طرف نہیں جاؤں گا۔ لیکن اگلے روز ہی میں غیر ارادی طور پہ اس مخصوص پتھر پہ بیٹھا ہوا تھا۔

چوتھا سبق
پانی میں ہلچل سی ہوئی اور میں چوکنؔا ہو گیا۔

مجھے شروع شروع میں بہت پریشانی تھی کی یہ سب میرے ساتھ کیا ہو رہا تھا لیکن اب میں خود کو خوش قسمت سمجھ رہا تھا کہ میں دانائی کی باتیں سیکھ رہا تھا۔ ’آج آپ کس موضوع پر بات چیت کریں گے؟‘

ایک لہر نے بائیں طرف سے پانی کو دھکیلا اور دائیں طرف سے پانی کو اپنی طرف کھینچا۔ میں ہکا بکا وہیں بیٹھا رہا۔

’میرا اشارہ لین دین کی طرف ہے۔ ‘
’لین دین یعنی، یعنی کاروبار! ‘ میں اضطراب کی دنیا میں چلا گیا۔
’تم پھر ظاہری دنیا ہی میں پھنس کے رہ گئے ہو۔ تم کائنات سے بہت کچھ لیتے ہو۔ اسے واپس بھی کرنا ہے۔ ‘
میں شرمندہ سا ہو گیا۔ ’معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کی بات سمجھ نہیں پایا۔‘

’دیکھو میری ساخت کو ، میں ہزاروں ندی نالوں، چشموں، جھیلوں سے پانی لیتا ہوں اور اس کو پھر ہزاروں ندی نالوں اور جھیلوں میں بانٹ دیتا ہوں اور جو باقی بچتا ہے اسے سمندر کے حوالے کر دیتا ہوں۔ تم بھی کائنات سے بہت کچھ لیتے ہو۔ کائنات کو واپس دینا بھی تمہاری ذمہ داری ہے۔ ‘

پھر دریا میں ہلکی سی ہلچل ہوئی۔ ’تم بولتے کیوں نہیں؟‘
’میں انسانوں کے بھلے کے لئے بہت کچھ کرتا ہوں۔ میں اور کیا کر سکتا ہوں! ‘
’مثبت لہروں کو پھیلاؤ۔‘
’وہ کیسے، میں سمجھا نہیں۔ ‘

’مثبت اور منفی سوچ کی لہروں کی فریکوئنسی الگ ہوتی ہے۔ تمہاری سوچ سے اردو گرد کے لوگوں کو فائدہ یا نقصان پہنچتا ہے۔ اور یہ عمل ہر وقت جاری و ساری ہے۔ تم کتنی آسانی سے لوگوں کا بھلا کر سکتے ہو۔ کائنات میں کچھ مثبت لہریں پھیلا سکتے ہو۔ تم انسان کائنات کو بہت نقصان پہنچاتے ہو۔ ‘

’کیا سوچ کی بھی لہریں ہوتی ہیں جو چاروں طرف پھیلتی ہیں؟‘
’اس کے بارے میں تم خود تحقیق کرو۔‘
پھر ایک خاموشی چھا گئی۔ مجھے نہیں پتا کہ یہ خاموشی ظاہری تھی یا باطنی۔
’کوئی سوال ہے تمہارا؟‘

میرے جسم میں جیسے ایک سرد لہر سی دوڑ گئی۔ میری زبان اور میرے ہونٹ ساکت رہے۔ لیکن میرے ذہن میں ہلکا سا ارتعاش ہوا۔

’نہیں۔ ‘ مجھے یہ سبق بالکل سمجھ میں آ گیا۔
’ایک اور چیز کے بارے میں بھی غور و فکر کرنا۔ کیا تم اور سننے کے لئے تیار ہو یا تھک گئے ہو؟‘
’جی، میری لغت میں تھکاوٹ کا لفظ شامل نہیں ہے۔ ‘

’بہت خوب۔ اگلا سبق، مگر ابھی نہیں! تم اسی سبق کے بارے میں پورے ہفتے سوچو۔ جتنا سوچو گے اتنا پی زیادہ تم اس سبق سے متاثر ہو گے۔ اگلے ہفتے اسی وقت پھر ملنا۔‘

’جی مجھے بے چینی سے اگلے ہفتے کا انتظار رہے گا۔ بہت بہت شکریہ۔ ‘
اور وہ بے خودی کی کیفیت نجانے کیسے ختم ہو گئی۔
پانچواں سبق

ابھی میں بیٹھا ہی تھا کہ مجھ پہ کسی شے کے حاوی ہو جانے کا عمل شروع ہو گیا۔ یہ سب کچھ میرے لئے جتنا آسودہ تھا اتنی ہی کبھی کبھی خوفناک بھی۔ ’کیا پتا کہ کبھی میں اس دریا کے جادو سے باہر ہی نہ نکل پاؤں! ‘ پھر ایک دم میں چونک گیا۔

’آج کا سبق تو راستے پہ ہو گا۔ ‘
میں نے دل میں سوچا۔ ’آخر راستے میں کیا رکھا ہے جس پہ مجھے سبق ملنا ہے۔ ‘

’راستہ۔ میرا راستہ کبھی سیدھا نہیں ہوتا اس میں بہت خم و پیچ ہوتے ہیں۔ کچھ انسانوں نے میرے راستے کو زبردستی سیدھا کر دیا تاکہ مال بردار جہازوں کا سفر آسان ہو جائے اور وہ جلدی اپنی منزل مقصود تک پہنچ پائیں۔ اس کے علاوہ سیلاب کا پانی بھی جلدی سے بہہ نکلے۔ لیکن میں نے اس کو نہیں مانا اور وقت کے ساتھ خم و پیچ دوبارہ اختیار کر لئے۔ ‘

’کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔‘
’میں زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں لینا چا ہتا۔ میں لمبے راستے سے نہیں گھبراتا۔‘
’آخر کیوں، خود کو مشکل میں ڈالنے والی بات ہے۔ ‘

’اے دوست، مشکل اور آسان ذہن کی اختراعات ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ میں دوسروں کے بنائے ہوئے راستے پہ چلوں، میں اپنے من کی پگڈنڈی پہ چلتا ہوں۔ عقل کہتی ہے کہ آسان راستہ لے لو، عشق اور جنون کہتا ہے کہ اپنی منزل خود بناؤ ور اس تک پہنچنے کا راستہ بھی خود ہی تلاش کرو۔ بس یہی تمہارا سبق ہے، بلکہ اس میں کئی اسباق پنہاں ہیں۔ میں آج اس سے زیادہ وزن تم پہ نہیں ڈالنا چاہتا۔‘

جب وہ پیغام ختم ہو گیا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے جسم کا ایک ایک حصہ درد کر رہا تھا۔ میں گھر جا کر بستر پہ گر گیا۔ جب میری آنکھ کھلی اور وقت دیکھا تو میں پوری رات اور پورا دن سوتا رہا تھا۔

چھٹا سبق

آج دریا میں غیر معمولی بہاؤ تھا۔ کبھی ایک دم تیز، کبھی ایک دم سست۔ ضرور اس کی کوئی وجہ ہے، ایسا تو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کیا اس کا تعلق آج کے سبق سے ہے! پھر وہی ہلکی سی طغیانی اور میں دریا کے پیغام کا انتظار کرنے لگا۔

’تم میرا انتظار کر رہے ہو۔ اچھی بات ہے۔ پیاس کبھی نہیں ختم ہونی چاہیے، جس دن تمہاری پیاس بجھ گئی وہ دن تمہاری زندگی کا آخری دن ہے۔ جسم تو زندہ رہے گا لیکن ایک سبزی کے پودے کی طرح۔‘

’جی، میں سمجھ گیا۔ آپ نے آخری سانس تک زندہ رہنے کا سبق دے دیا ہے۔ ‘
دریا خاموش رہا۔
آخری سبق

آج ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ سرد تیز ہوا بھی چل رہی تھی جو موجوں میں تلاطم پیدا کر رہی تھی۔ میں اپنے پسندیدہ ٹھکانے پہ پہنچ کر بیٹھ گیا۔ خنکی اور ٹھنڈے پانی کا امتزاج میرے جسم کے لئے اذیت بن رہا تھا۔ مجھے اپنی بے وقوفی پہ غصہ بھی آ رہا تھا۔ میں اٹھنے ہی والا تھا کہ مجھ پہ وہی سریلا پن حاوی ہونا شروع ہو گیا۔

’آج تمہارا آخری سابق ہے۔ ‘
’آخری سبق، وہ کیوں میں؟‘ میں بہت مایوس ہو گیا۔
’یہی تمہارے سفر کی منزل ہو گی۔ تمہیں اس خواب سے نکلنا ہو گا۔ ‘
’کون سا خواب؟ کیا یہ سب خواب ہے یعنی میرا یہاں آنا! ‘
کچھ دیر خاموشی رہی پھر سکوت ٹوٹا۔
’کیا تم نے رات میں کوئی خواب دیکھا تھا؟‘
’کئی دیکھے ہوں گے لیکن ایک ہی یاد ہے۔ ‘
’جب تم وہ خواب دیکھ رہے تھے تو کیا تمہیں معلوم تھا کہ تم ایک خواب کی حالت میں تھے؟‘
’نہیں۔ قطعاً نہیں، میں تو خواب میں کبھی کبھار آوازیں بھی نکالتا ہوں۔ ‘
’پھر تمہیں کب پتا چلتا ہے کہ وہ ایک خواب تھا؟‘
’جب میں بیدار ہو جاتا ہوں۔ ‘
پھر دریا میں ہلکی طغیانی سی آئی۔
میرا صبر مجھے آزما رہا تھا بلکہ شاید دریا مجھے آزما رہا تھا۔
’جب تم شعور کے ایک درجے اوپر آئے تو تمہیں پتا چلا کہ تم ایک خواب دیکھ رہے تھے۔ ‘
پھر وہی انتظار۔
’تمہیں یہ آخری سبق مل چکا ہے۔ ‘
’میں سمجھا نہیں۔ ‘ میں کھسیانا سا ہو گیا۔
’اگر تم شعور کے ایک درجے اور اوپر چلے جاؤ تو تمہیں پتا چلے گا کہ تمہاری یہ زندگی بھی ایک خواب ہے۔ ‘
’بتائیں میں یہ کیسے کروں، میں ضرور اپنے شعور کے اعلی مقام تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ ‘

’وہاں تم ریاضت سے پہنچ سکتے ہو۔ تنہائی میں بیٹھ کر خود کو خدا یا قدرت یا کائنات سے جوڑ لو جس طرح صوفی اور سادھو گھنٹوں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ اس عمل سے تمہاری کئی اور صلاحیتیں تم پہ آشکار ہو جائیں گی۔ تمہیں وہ سنائی دے گا جو تمہیں اب نہیں سنائی دے رہا۔ تمہیں وہ کچھ دکھائی دے گا جو تمہاری ان دو آنکھوں سے بعید ہے۔ تم تیسری آنکھ یعنی بصیرت کی آنکھ سے آشنا ہو جاؤ گے۔ کائنات کی حقیقی موسیقی تمہیں ایک نئی دنیا سے متعارف کروائے گی۔

تم اعلی شعور کی دنیا میں اپنا مقام پا لو گے۔ تم اپنی معراج تک پہنچ جاؤ گے۔ پھر تمہیں یہ معلوم ہو گا کہ یہ سب جس کو تم حقیقت سمجھتے ہو در اصل ایک دھوکا ہے، ایک نچلے درجے کا کھیل ہے، ایک بازیچہ اطفال ہے۔ اس شعور کی دنیا کے بچے چھوٹے چھوٹے کھلونوں سے اپنا دل بہلاتے ہیں اور بڑی عمر کے لوگ زیادہ اور بڑے کھلونوں کے حصول میں اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ بس یہی میرا آخری سبق ہے۔ ‘

’نہیں نہیں ابھی نہیں جائیں، مجھے اور بہت کچھ سیکھنا ہے۔ میں یہیں آپ کا انتظار کرتا رہوں گا۔

’میں نے تمہیں تمہاری منزل کے بارے میں بتا دیا ہے۔ اس منزل تک کا سفر تمہارا اپنا سفر ہو گا جو تمہیں خود کرنا ہو گا۔ ‘

ایک موج میرے قریب سے اٹھی اور دریا کے دوسرے کنارے پہ ٹکرا کر اپنا وجود کھو بیٹھی۔ میں وہیں کھڑا رہا نجانے کتنی دیر تک۔ جب مجھے اپنے وجود کا احساس ہوا تو بارش کا پانی میرے بالوں سے اور موٹے موٹے آنسو میری آنکھوں سے ٹپک رہے تھے۔ پھر بھی میں اسی حالت میں وہاں کھڑا رہا جب تک کہ شام کی تاریکی نے مجھے پوری طرح سے گھیر نہ لیا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے جسم کے دو ٹکڑے ہو جائیں گے۔ میں وہاں سے گرتا پڑتا بھاگ نکلا۔

پانچ سال بعد
میں پانچ سال تک اس دریا کے پاس نہیں گیا۔ پتا نہیں مجھ سے وہ کیا پوچھ لے۔ اپنے سفر کے بارے میں
میں اسے کیا جواب دوں گا!

آج پانچ سال بعد اس سے ملنے جا رہا ہوں آہستہ آہستہ، سہمے ہوئے۔ بائیں طرف مڑ کر اپنے ٹھکانے پہ پہنچ گیا۔ یہ جگہ تو ویسی کی ویسی ہے جیسے میں کل ہی یہاں آیا تھا۔ میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا، اپنے استاد کی تعظیم میں، ہر مچلتی ہوئی لہر کو اس کا پیغام سمجھ بیٹھتا۔ بے قراری کی جگہ مایوسی لے رہی تھی۔

پھر دفعتاً میرے چہرے پہ مسکراہٹ کی ایک لہر آ گئی۔ پانچ سال کی مشقؔت اور ریاضت نے مجھے بتایا کہ میں اور یہ دریا ایک ہی وجود کا حصہ ہیں۔ میں نے اپنی سوچوں پہ قابو پایا اور اسرار و رموز کی دنیا میں پہنچ گیا۔

Facebook Comments HS