جماعت احمدیہ نے مذہبی امتیاز پر احتجاج کرتے ہوئے عام انتخابات 2024 سے اعلان لاتعلقی کر دیا


چناب نگر ( پ ر) جماعت احمدیہ پاکستان کے پریس سیکشن نے 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابات مخلوط طرز پر ہو رہے ہیں اس کے باوجود عقیدے کے اختلاف کی بنا پر مذہبی تفریق کرتے ہوئے صرف احمدیوں کے لئے الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی ہے۔ ووٹرز کی رجسٹریشن اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ عقیدے کے اختلاف کی بنا پر صرف احمدیوں کے لئے الگ ووٹر لسٹ واضح طور پر امتیازی سلوک ہے۔

اس وقت پاکستان میں ایک ووٹر لسٹ ہے جس میں مسلمان، ہندو، مسیحی، سکھ، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شامل ہیں جبکہ صرف احمدیوں کے لئے الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی ہے جس کے اوپر ”قادیانی مرد/خواتین“ تحریر ہے۔

محض مذہب کی تفریق کی بنا پر امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے الگ فہرست کا اجراء، احمدی پاکستانی شہریوں کو انتخابات سے الگ رکھنے اور ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کی ایک ارادی کوشش ہے۔ یہ تفریق اور امتیاز بنیادی انسانی حقوق، حضرت قائد اعظم کے فرمودات اور آئین پاکستان اور مخلوط طرز انتخاب کی روح کے سراسر خلاف ہے۔

جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے کہا ہے کہ درج بالا صورتحال کے پیش نظر جماعت احمدیہ پاکستان کی عام انتخابات میں شمولیت ممکن نہیں اس لئے جماعت احمدیہ پاکستان نے عام انتخابات 2024 سے اعلان لاتعلقی کا فیصلہ کیا ہے اور اگر ان انتخابات میں کوئی فرد بطور احمدی حصہ لیتا ہے تو وہ کسی صورت احمدیوں کا نمائندہ نہیں کہلا سکتا اور نہ ہی احمدی اسے اپنا نمائندہ تسلیم کریں گے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “جماعت احمدیہ نے مذہبی امتیاز پر احتجاج کرتے ہوئے عام انتخابات 2024 سے اعلان لاتعلقی کر دیا

  • 01/02/2024 at 9:58 شام
    Permalink

    الیکشن ایکٹ کے 48-Aکےذریعہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پہرہ دینے کے اغراض سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ قادیانی ، احمدی یا لاہوری گروپ کے افراد سمیت ہر وہ شخص جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت میں کسی جھوٹے شخص کو شریک بناتا ہو، کسی صورت اپنے آپکو بطور مسلمان انتخابی فہرست میں ووٹ کا اندراج نہ کرسکے۔ کیونکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 260(3)(a)کے مطابق مسلمان کی تعریف ان الفاظ میںکی گئی ہے کہ "مسلمان” سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ختم نبوت پر یقین رکھتا ہے، اور ایسے کسی فرد پر ایمان نہیں لاتا اور نہ ہی اسے تسلیم کرتا ہے جس نےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی لفظ یا کسی بھی وضاحت کے لحاظ سے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور آرٹیکل 260(3)(b)کے مطابق غیر مسلم” سے مراد وہ شخص ہے جو مسلمان نہیں ہے اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد،اور قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا فرد شامل ہے (جو خود کواحمدی کہتے ہیں یا کسی دوسرے نام سے پکارے جاتے ہیں)، یا بہائی۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 48-A-2کے تحت اگر کسی شخص نے اپنے آپ کو بطور مسلمان ووٹر کے طور پر اندراج کرایا ہے اور اس ایکٹ کے تحت نظرثانی کرنے والی اتھارٹی کے سامنے اعتراض دائر کیا گیا ہے کہ یہ فرد مسلمان ووٹرنہیں ہے، تو نظرثانی کرنے والی اتھارٹی ایسے شخص کو نوٹس جاری کرے گی کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر اس کے سامنے حاضر ہو اور اس سے مطالبہ کرے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کےمتعلق اپنے عقیدہ کے بارے میں پیش کردہ اعلامیہ ” میں، (ووٹر کا نام)، حلف کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا پیروکار نہیں ہوں جو اس کا دعویٰ کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی لفظ یا کسی بھی مفہوم میں نبی ہو، اور یہ کہ میں ایسے دعویدار کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی میرا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ لاہوری گروپ یا اپنے آپ کو احمدی کہتا ہوں۔”پر دستخط کرے۔ اگر وہ مذکورہ اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے، تو اسے غیر مسلم تصور کیا جائے گا اور اس کا نام مشترکہ انتخابی فہرستوں سے حذف کر دیا جائے گا اور اسی انتخابی علاقے کے ووٹرز کی ضمنی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا جو غیر مسلم ہے۔ نوٹس دینے کے باوجود ووٹر نہ آنے کی صورت میں اس کے خلاف یک طرفہ حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔

    • 02/02/2024 at 5:46 شام
      Permalink

      پہلی بات تو یہ آپ نے خبر پوری طرح پڑھی ہی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ بات صرف اتنی سی ہے کہ موجودہ انتخابات مخلوط بنیادوں پر ہو رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں صرف ایک ہی ووٹر لسٹ بننی چاہیے جس میں تمام مذاہب، فرقوں، گروہوں کی نمائندگی ہو۔ مگر احمدیوں کی الگ سے ووٹر لسٹ بنانے کا صرف ایک ہی مطلب یہ ہے کہ احمدی چونکہ آپ کی نظر میں ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے اس لئے ان کی الگ ووٹر لسٹ ہونی چاہیے۔ٹھیک ہوگیا۔ مگر جو دوسری ووٹر لسٹ ہے جس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، مسیحی، بدھ، پارسی ، سکھ وغیرہ شامل ہیں وہ سب آپ کی نظر میں ختم بنوت پر کامل اور غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں۔ سبحان اللہ تالیاں ہونی چاہییں ایسی مضحکہ خیز سوچ کے لئے۔

Comments are closed.