قیام پاکستان سے قبل کے سنیما – قسط نمبر 2


میں نے قسط نمبر ایک میں لاہور کے قیام پاکستان سے قبل کے سنیماؤں کا ذکر کیا تھا، اب ذکر کریں گے کراچی کے ان سنیماؤں کا جو قیام پاکستان کے وقت ہمیں ورثے میں ملے۔

قیام پاکستان کے وقت کراچی میں 29 سنیما تھے، جن میں سے تین عدد سنیما فوجی علاقوں میں تھے۔ باوجود کوشش کے میں یہ معلوم کرنے سے قاصر رہا، کہ ان سنیماؤں میں سب سے پرانا سنیما کون سا ہے۔ اس لیے بلا امتیاز اپنے ذہن کے مطابق ان سنیماؤں کو بلا ترتیب اپنی تحریر کا حصہ بنا رہا ہوں۔

سب سے پہلے ذکر کروں گا راکسی اور کمار سنیما کا۔

1920 میں ایک ہندو اداکارہ و گائیکہ نے شیو رام تھیٹر کے نام سے قائم کیے گئے اس تھیٹر کو 1930 میں سنیما میں تبدیل کیا، 1934 میں ایک ہندو سیٹھ نے اسے خرید کر راما ٹاکیز نام رکھا، پاکستان بننے کے بعد راما ٹاکیز کا نام راکسی سنیما رکھا گیا، تا حال اسی نام سے چلنے والے اس سنیما کے مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی اگر فرش کی ٹائلوں کو غور سے دیکھا جائے، تو اس میں چند ٹائلوں پر لکھا ہوا راما ٹاکیز منقش ہے۔ ہرچند کہ لکھائی گھس گھس کر اپنی اصلی حالت کھو چکی ہے، لیکن غور سے دیکھنے پر راما ٹاکیز لکھا ہوا نظر آتا ہے۔

سنیما ابتداء سے ابھی تک چالو حالت میں ہے۔ کبھی کبھی گردش دوراں کا شکار رہنے والے اس سنیما نے کبھی بھی مستقل طور پر حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ لیکن اب راکسی اور کمار سنیما کے مالک آغا سراج درانی نے دونوں سنیما زبیر موتی والا کے ہاتھ فروخت کر دیے ہیں۔ زبیر موتی والا دونوں سنیما کی جگہ پر پلازہ بنانا چاہتا ہے، اس وجہ سے انہوں نے کمار سنیما کو اندر سے مسمار کر دیا ہے، جہاں اب خالی پلاٹ ہے۔

تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے تعمیر کیے گئے اس تھیٹر کے ابتدائی مالکان جمنا داس اور رتی لال تھے۔ اسٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ یہاں خاموش فلموں کی نمائش بھی ہوتی تھی، باوجود کوشش کے تھیٹر کا ابتدائی نام کا پتہ تو نہیں چلا، لیکن جب تھیٹر کو ایل سی سیلتانی نے خریدا تو انہوں نے تھیٹر کو سنیما میں تبدیل کر کے اس کا نام اپنے بیٹے کے نام پر کمار سنیما رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد 1969 میں سنیما کو آغا عطاء محمد خان نے 8 لاکھ روپے میں خریدا۔ جب میں راکسی سنیما کے فوٹو لینے شاد ولی بھائی کے ساتھ راکسی سنیما گیا، تو شو ٹائم ہونے کی وجہ سے مجھے سنیما کی اندر باہر سے تصاویر لینے میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

میرے خیال سے لاہور کے پاکستان ٹاکیز سنیما اور کراچی کے راکسی سنیما کو آثار قدیمہ والوں کو مالکان کو قیمت ادا کر کے اپنی حفاظت میں لینا چاہیے۔

سن 80 سے سن 82

پھر سن 85 سے سن 87 کے دور میں مجھے اکثر سیشن کورٹ میں پیشی کے لیے جانا ہوتا تھا تو پیشی کے بعد پہلے نگار، پھر کمار، راکسی، سپر اور نور محل سنیما کا دیدار اپنے پر فرض سمجھتا تھا۔ اس کے بعد کبھی کبھی کمار سنیما ورنہ بندر روڈ، گارڈن روڈ، یا مارسٹن روڈ کے کسی سنیما پر ایک یا دو شو دیکھ کر گھر کی راہ لیتا۔

راکسی سنیما کے تقریباً سامنے سپر سنیما تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے کا قائم اس سنیما کی جگہ پر اب رہائشی پلازہ ہے۔ سپر سنیما سے چند قدم آگے نور محل سنیما تھا۔ نور محل کی جگہ پر بھی اب پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ نہایت ہی پرانے طرز تعمیر کا حامل اس سنیما پر میری دیکھی ہوئی واحد فلم جنگجو ہیرو لالہ سدھیر کی باغی تھی۔

اس کے بعد آتے ہیں نگار سنیما کی طرف نگار سنیما کا ابتدائی نام موتی رام تھیٹر تھا، پھر پربھات سنیما آخر میں نگار سنیما جو اپنی اوریجنل وجود کے ساتھ ابھی تک قائم ہے۔ اب چلتے ہیں صدر کے علاقے میں فاطمہ جناح روڈ پر جہاں اب ریکس سنٹر قائم ہے یہ پہلے مے فیئر سنیما تھا۔ بغیر چھت کا یہ سنیما بھی ہمیں پاکستان بنتے وقت ورثے میں ملا تھا۔ تھوڑا آگے چوک کی طرف آئیں تو پیراڈائز سنیما تھا، جہاں اب اسی نام سے ہوٹل ہے۔ پیراڈائز سے زیر زمین راستے کی طرف آئیں تو سامنے گلی میں جو گل پلازہ ہے، یہ کیپٹل سنیما تھا۔

اب چلتے ہیں میٹرو پول ہوٹل، جس کے عقب میں پیلس سنیما تھا، جس کی جگہ پر اب شادی ہال اور گارڈن ہیں۔ اب ریگل چوک چلتے ہیں۔ یہ جگہ شروع سے ریگل سنیما کی نسبت سے ریگل چوک کہلاتی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل قائم اس سنیما کی نئی بلڈنگ کا دوبارہ افتتاح 24 مئی 1955 عیدالفطر کے موقع پر صبیحہ اور سدھیر کی فلم سوہنی سے ہوا تھا۔ اس سنیما کی خاص بات اس کے کھٹمل تھے جو پورے کراچی میں مشہور تھے۔ 1991 میں سنیما کو مسمار کر کے تجارتی پلازہ بنا دیا گیا ہے۔

یہاں سے واپس رنچھوڑ لائن مشن روڈ چلتے ہیں، یہاں قسمت سنیما تھا۔ مختصر ترین اس سنیما پر تقریباً 1955 تک نئی بھارتی فلموں کی نمائش ہوتی تھی، آخری دور میں مخصوص فلموں کے لیے مشہور اس سنیما کا ابتدائی نام ایمپائر سنیما تھا۔ قسمت سنیما کو 1981 میں بند کرنے کے کچھ عرصہ بعد مسمار کر کے پلازہ بنا دیا گیا، جس میں نیچے الائیڈ بینک اور دکانیں اور اوپر رہائشی فلیٹس ہیں۔ اب باری آتی ہے سنگیت سنیما ملیر کی، جو اب بھی اپنے اوریجنل حالت میں گودام کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے قائم اس سنیما کا نام مالا پھر شاہین اور آخر میں سنگیت رکھا گیا۔

اب بات کرتے ہیں گلستان سنیما لانڈھی کی، جو اب بھی اپنی اوریجنل حالت میں قائم ہے، اس سنیما پر میری دیکھی ہوئی واحد فلم ناوے دہ یوے شپے ہے۔

لانڈھی کے بعد ملیر چلتے ہیں، یہاں پر گلزار سنیما تھا، جس کی جگہ پر اب مسجد بنا دی گئی ہے۔
اس کے بعد پاک کالونی میں قائم چمن سنیما کا ذکر کریں گے، پاکستان بننے سے پہلے قائم یہ سنیما اب بھی اپنی اوریجنل حالت میں بند پڑا ہے۔ اس سنیما پر رنگیلا کی بہت ساری فلموں سمیت پرورش اور پشتو فلم ( دہ وینی تگی ) دیکھی تھی۔

اس سنیما سے میری ایک بہت تلخ یاد بھی وابستہ ہے۔ جسے بھلانا آسان نہیں۔ اللہ مغفرت فرمائے۔
اس کے بعد ناولٹی سنیما تین ہٹی کا ذکر کریں گے۔
ناولٹی سنیما کا پارکنگ ایریا بہت وسیع تھا یہاں میں نے عید کے دن رنگیلا کی فلم کبڑا عاشق دیکھی تھی۔

اس کے بعد باری ہے ریجنٹ سنیما کی، ناظم آباد کے اس سنیما پر میں نے لا لا سدھیر کی فلم خبردار، اور اس کے علاوہ بشیرا، صدقے تیری موت توں، خطرناک، موت کھیڈ جواناں دا، دلہن ایک رات کی، سرہ جوڑا، خانہ بدوش، اور ٹوپک زما قانون سمیت بے شمار فلمیں دیکھی تھی۔ شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے ریجنٹ سنیما کو جنگل میں منگل کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ اب سنیما کی جگہ پر پیپسی والوں کا گودام ہے۔

اب یہاں سے ذرا لمبا سفر کر کے کیماڑی مسان روڈ چلتے ہیں۔ جہاں پاکستان بننے سے پہلے بدر سنیما تھا۔ 1967 کو بند کیے گئے اس سنیما کی جگہ پر کچھ عرصہ بعد کے پی ٹی اسکول بنایا گیا، جو تاحال قائم ہے۔ بدر سنیما پر میں نے حال ہی میں تفصیلی پوسٹ دی ہے۔

اب باری ہے بندر روڈ کے ان سنیماؤں کی جو پاکستان بننے سے پہلے کے تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے بندر روڈ پر قائم سنیماؤں کی تعداد آٹھ تھی۔ ٹاور کی طرف سے اگر بندر روڈ پر آئیں تو پہلا سنیما جو پاکستان بننے سے پہلے تھا وہ لائٹ ہاؤس سنیما تھا۔

لائٹ ہاؤس کا ابتدائی نام پارسی تھیٹر تھا، 1921 سے 1928 تک پارسی تھیٹر کے نام سے چلنے والے اس سنیما کا نام 1929 میں گلوب سنیما رکھا گیا، 1946 میں ایک میمن خاندان نے خرید کر لائٹ ہاؤس نام رکھا، جو 80 کی دہائی کے اختتام تک قائم رہا۔ اس سنیما پر میں نے اپنے استاد، یارو استاد کے ساتھ لیجنڈ اداکار بدر منیر کی فلم باغی دیکھی تھی۔ اب لائٹ ہاؤس سنیما کی جگہ پر قائم بلڈنگ میں لنڈے کا کاروبار ہوتا ہے۔ لائٹ ہاؤس کے بعد چند قدم کے فاصلے پر پکچر ہاؤس سنیما تھا۔ اس سنیما میں اسکرین کی جگہ دیوار پر سفیدی کر کے فلم چلائی جاتی تھی۔ سنیما کی جگہ پر پہلے پٹرول پمپ اور بعد میں دکانیں بنا دی گئی، جو اب بھی موجود ہیں۔

پکچر ہاؤس سے تھوڑا سا آگے جو لکھنو کلاتھ مارکیٹ ہے، یہ کبھی میجسٹک سنیما تھا، میجسٹک کے بالکل ساتھ اللہ والا مارکیٹ ہے۔ اللہ والا مارکیٹ کے سامنے رٹز سنیما تھا، اب وہاں شاپنگ مال ہے۔ اس سے بھی آگے ریڈیو پاکستان کے سامنے تاج محل سنیما تھا، جس پر میں نے آصف خان اور رخسانہ کی فلم ہیبت خان سمیت کئی فلمیں دیکھی تھی۔ تاج محل کی جگہ پر اب تاج اپارٹمنٹ ہے۔

کراچی کے تاج محل، کمار، اور لاہور کے ترنم، سنیماؤں میں ایک چیز قدر مشترک تھی کہ اگر آپ کو گیلری میں سائڈ والی سیٹ مل جائے تو پھر گیلری کی چھت کا ایک پلر آپ کے اور اسکرین کے درمیان حائل ہوتا۔

بندر روڈ تبت سنٹر کراس کر کے دائیں طرف پلازہ سنیما تھا، جس کا ابتدائی نام کراون ٹاکیز تھا، یہاں اب پلازہ زیر تعمیر ہے۔ 1980 سے 1994 تک کے مختلف ادوار میں جب پولیس والے ہم کو لانڈھی جیل اور سنٹرل جیل سے قیدیوں کی گاڑی میں سیشن کورٹ پیشی کے لیے لے کر آتے تھے، تو پرنس، کیپری، نشاط اور پلازہ سنیماؤں پر فلم بینوں کا رش دیکھ کر ہم لوگ فلم کے ہٹ یا سپر ہٹ ہونے کا اندازہ لگاتے تھے۔ ان سنیماؤں پر فلم بینوں کی رش کی وجہ سے اکثر اوقات بندر روڈ پر ٹریفک جام کا مسئلہ رہتا تھا۔

بندر روڈ پر گارڈن روڈ کراس کرتے ہی دائیں طرف جو بہت بڑا پلازہ ہے، یہ پاکستان بننے سے پہلے رادھا سنیما تھا، پاکستان بننے کے بعد رادھا کا مسلمان نام ناز رکھا گیا۔ جو آخر تک قائم رہا۔

ناز کے بالکل سامنے ہی کرشنا سنیما تھا۔ قیام پاکستان کے وقت جب سنیما کا پارسی مالک گودریج کانڈا والا پاکستان چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا، تو نئے مسلمان مالک نے 25 دسمبر 1947 کو سنیما کا نام نشاط رکھا۔ نشاط کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح کے ہاتھوں فلم ڈولی سے ہوا تھا، سنیما کو 1963 میں کلیم مانڈوی والا نے خریدا۔ 21 دسمبر 2012 کو ہنگاموں کی نظر ہونے والے اس سنیما کو 2019 میں مکمل طور پر گرا دیا گیا۔

ماضی کی خوبصورت داستان سنانے کے لیے اب وہاں خالی پلاٹ موجود ہے۔
قیام پاکستان سے قبل قائم ان 26 سنیماؤں کے علاوہ 3 سنیما فوجی علاقوں میں بھی تھے۔
1 : پکاڈلی سنیما ملیر کینٹ
2 : امپیریل سنیما ڈرگ روڈ کنٹونمنٹ کینٹ
3 : شاہین سنیما پی اے ایف بیس مسرور
ماری پور روڈ
اب یہ تینوں سنیما بھی اپنا وجود کھو چکے ہیں۔
دوستو یہ تھے پاکستان بننے سے قبل کراچی کے سنیما جن کی تعداد 29 بنتی ہیں۔

ہمارے ایک دوست کے مطابق کیماڑی کے تھانے کے بالکل ساتھ میٹرو نام کا ایک سنیما تھا، جسے سن 52 یا 53 میں ختم کیا گیا، لیکن اس بارے میں ٹھوس ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے اسے مضمون میں شامل نہیں کیا۔

اگلی اور اس سلسلے کی آخری قسط میں پاکستان کے دوسرے شہروں کے ان سنیماؤں کے بارے میں لکھا جائے گا، جو ہمیں پاکستان بنتے وقت ورثے میں ملے تھے۔

قیام پاکستان سے قبل کے سنیما – قسط نمبر 1

Facebook Comments HS