ارمان امر ہو گئے


آج شہید پروفیسر ارمان لونی کی پانچویں برسی منائی جا رہی ہے۔ مزاحمتی سیاست کے قبیل سے تعلق رکھنے والے انہیں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ ارمان صاحب اگرچہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے افکار و خیالات ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں۔ یہ بھی بلاشبہ بہت بڑا سرمایہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں عام طور پر چار قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔

اول الذکر وہ لوگ ہیں جو خود کو کسی سیاسی سازش اور تھیوری سے آگاہ نہیں کرنا چاہتے۔ زندگی کے نشیب و فراز کو اپنی سستی اور کاہلی کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ ہر چیز کو خدا کی طرف سے سزا اور جزا سمجھ کر بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ جس کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں یہ ساری چیزیں ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں۔ اس میں کسی انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنے بیانیے میں اس قدر کلیئر ہوتے ہیں کہ ٹیبل ٹاک پر آپ کو ساری تاریخ، سقراط سے لے کر کارل مارکس تک، غازی امان اللہ خان سے لے کر ڈاکٹر نجیب اللہ تک، باچاخان سے خان عبد الصمد خان تک ایک ہی نشست میں بتا اور سمجھا سکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی کہ وہ ان پر نازاں ہو جائیں۔ ان کے قول و فعل میں زمین، آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

تیسرا طبقہ ان کا ہے جن کے پاس منفی اور تخریبی سوچ کے علاوہ کوئی جائیداد نہیں ہوتی۔ وہ کوئی مفید یا تعمیری کام کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو ایسا کچھ کرنے دیتے ہیں۔ ہر عمل میں رکاوٹ بننے اور حوصلہ شکنی سے کام لیتے ہیں۔ ان کے پاس سوائے الزام تراشی اور بہتانوں کے کوئی مشغلہ نہیں ہوتا۔ اس قبیل کے لوگ معاشرے کے لئے کسی ناسور سے کم نہیں ہیں۔

چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو نہ صرف اپنے قول و فعل میں بلکہ اپنے نظریے اور بیانیے میں بھی صادق، پاکیزہ اور قابل فخر ہوتے ہیں۔ اپنی قوم اور اپنے معاشرے کے ہر مسئلے کے حل کے لیے صف اول میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ ہر شہری کے دکھ کو اپنا سمجھتے ہیں۔ اپنی بھوک، پیاس اور سکون کو عوام کی فلاح و بہبود پر نثار کر دیتے ہیں۔

ایسے لوگ کبھی نہیں مرتے، بلکہ یہ امر ہو جاتے ہیں اور ہمیشہ قوم کی مزاحمتی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔

پروفیسر ارمان لونی بھی موخر الذکر لوگوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنی جان و مال کی پروا کیے بغیر ہر فورم پر مظلوم عوام کے مسائل کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

انتہائی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزار کر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ سیاست کے لئے سرمایہ، جائیدادیں نہیں بلکہ ایک عزم کی ضرورت ہوتی ہے جن سے آپ بخوبی مزین تھے۔ میں جب بھی سیاست میں ایک ”پریکٹیکل انسان“ کا نام سنتا ہوں تو ذہن میں ایک ہی شخصیت آتے ہیں اور وہ ہیں پروفیسر ارمان لونی ارمان۔ میری ان سے بہت زیادہ ملاقاتیں تو نہیں ہوئیں لیکن جب بھی ملا ہوں ان کی زبان پر سماجی برائیاں، انسانی ظلم و جبر کے داستانیں، طبقاتی تقسیم، صنفی امتیاز اور اپنی قوم سے تاریخی جبر اور قومی حقوق کی غصب زبان پر زد عام پایا۔ ارمان لونی عدم تشدد کے پکے علمبردار اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ پانچ سال پہلے وہ اپنے قوم کے لئے سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے انتہائی بے دردی سے شہید کر دیے گئے۔ آج ان کی برسی کے موقع پر بھی یہ یقین نہیں آتا کہ وہ ابدی سفر پر نکل چکے ہیں۔

Facebook Comments HS