جنت کا ٹکٹ
یہ تب کی بات ہے جب میں مسلم ہائی سکول نمبر1 راولپنڈی میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ جیسا کہ آپ جان چکے سکول، نام کی حد تک سراپا اسلامی تھا اور اس سے بھی بڑھ کر اسلامی سابقے یا لاحقے رکھنے والے سکولوں میں نمبر 1 بھی۔ ایسے سکولوں کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ ان کے اساتذہ ہماری اور اپنی دنیا کی نسبت آخرت کے بارے میں زیادہ فکرمند پائے جاتے ہیں، چنانچہ ہمارے اساتذہ کا رویہ بھی ویسا ہی تھا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ہم سے بڑے قد کاٹھ والا گہرے سانولے رنگ والا ایک طالب علم ہمارے سکول میں داخل ہو کر ہمارا ہم جماعت بن گیا۔ اس کا نام یوسف مسیح تھا۔ ابھی تک ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ مسیح لوگ غیرمسلم ہوتے ہیں۔ ایک دن یوسف کی غیر موجودگی میں ایک استاد نے ہمیں بتایا کہ یہ لڑکا عیسائی ہے اور آپ میں سے جو اسے مسلمان کرنے میں کامیاب ہو گیا سمجھو اس نے جنت کا ٹکٹ کٹا لیا۔
اس دن سے ہم سب نے لائن بنائے بغیر جنت کا ٹکٹ کٹانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اسلام کے بارے میں ہماری اپنی معلومات بھی محلے کی مسجد میں جمعہ کو بیان کیے گئے مسائل سے بڑھ کر نہ تھیں لہذا تڑپتی مچلتی خواہش کے باوجود شہدے یوسف کو مسلمان کرنا اپنے بس کی بات نہ بن پائی۔
اگلے سال یوسف نے ہمارا سکول چھوڑ دیا اور یوں ہمارے جنت کے ٹکٹ کے حصول کا آسان ترین نسخہ ہماری حسرت بن کے رہ گیا۔
کافروں کو مسلمان کرنے کے لیے چونکہ پہلے خود مسلمان بننا ضروری ہے لہذا میں دیکھتا ہوں اس سرزمین پاک میں اعلی عہدیدار اپنی کم عمری کے دور سے جنت کے ٹکٹ کو جیب میں رکھنے کے پالے ہوئے خواب کے زیر اثر بے شمار ایسے آسان قسم کے کام کرتے پائے جاتے ہیں جو ان کے خیال میں اس خواہش کی تکمیل کے ضامن ہوتے ہیں۔ ان میں گوروں کی تعمیر کردہ عمارتوں کو مسلمان کرنے کا کار خیر بڑی جانفشانی سے سرانجام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں بڑے بڑے ریلوے سٹیشنوں کی عمارات پہ کلمہ جڑنا مہان سرکاری افسران کے نزدیک ایک مقبول کام ہے۔ جنت کے ٹکٹ کے خواہش مندوں کی دست برد سے ریلوے سٹیشنوں کے ساتھ ساتھ چھاؤنیوں میں واقع تاریخی عمارتوں میں قائم دفاتر بلکہ سڑک بتیوں کے کھمبے تک اس کار خیر کا نشانہ بنے پائے جاتے ہیں۔
سوچتا ہوں ایسے بھاگوں والے مسلمان جو ایسی آسانی سے حاصل کردہ جنت کا ٹکٹ جیب میں رکھے پھرتے ہوں ان سے بڑھ کے مسلمان بھلا کہاں مل پائیں گے۔


