اقبال ایک عہد ساز شاعر


در بود و نبود۔ من، اندیشہ گمان ہا داشت
از عشق ہویدا شد، این نکتہ کہ ہستم من
( سوچ اس گمان میں تھی کہ میں ہوں یا نہیں ہوں ؛ عشق سے یہ نکتہ ظاہر ہوا کہ میں موجود ہوں۔ )

بلا شک و شبہ اقبال بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ جتنی شہرت ہندوستان میں انھیں نصیب ہوئی اتنی ہی عالمی سطح پہ بھی ملی۔ اقبال اردو کے ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں جنھوں نے بہ یک وقت فارسی، انگریزی اور اردو کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ انھوں نے نظم بھی لکھی اور غزل بھی کہی۔ ان دونوں میں ہمیں ذرا سا بھی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اقبال اپنے فن کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔

ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ارنسٹ ہیمنگ وے نے ایک بار کہا تھا ”جس طرح کسی شہر سے طوفان گزرے تو شہر کے سب باسی متاثر ہوتے ہیں اسی طرح کسی بھی سنجیدہ شاعر یا ادیب کا ایذرا پاؤنڈ کے ادبی طوفان سے متاثر نہ ہونا ناممکن ہے۔“

اردو شعری روایت میں یہ کلمات اگر کسی پہ صادق آتے ہیں تو وہ صرف اور صرف اقبال ہیں۔ اقبال کے شعری اور فکری طلسم سے کسی کو مفر نہیں۔ خواہ وہ فیض ہوں، ن م راشد یا کوئی اور۔

اقبال کے ہاں تراکیب کا کینوس بہت وسیع ہے جس میں ایک کائنات آباد ہے۔ تشبیہات اور استعارات کا الگ جہان سانسیں لیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ خود کہتے ہیں

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

جمیل جالبی نے کہیں لکھا تھا کہ ”بڑا ادب بڑی بے چینی پیدا کرتا ہے۔“ اقبال ان معنوں میں اتنے بڑے ہیں کہ ان کا لکھا ہمارے اندر بے چینی پیدا کر دیتا ہے اور ہمیں سوچنے پر اکساتا ہے۔ یہ اقبال کا ہی خاصہ ہے جو اسے شعرا کی ایک طویل فہرست میں ممیز کر دیتا ہے۔

یقیناً ہر عہد بلکہ ہر صدی اپنے عظیم آدمی سے زندہ رہتی ہے۔ یہی ہوا بیسویں صدی کے ساتھ کہ اسے اقبال جیسا عظیم شاعر میسر ہوا۔ جس کی غمازی اقبال کا یہ شہرہ آفاق جملہ کرتا نظر آتا ہے۔

” Civilization is the thought of powerful man.“

گویا یوں تصور کر لیں کہ بیسویں صدی اقبال کے گرد طواف کرتی ہے۔ جس کی گونج مشرق اور مغرب تک سنائی دیتی ہے۔ علامہ کہتے ہیں کہ

اک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک۔ بخارا و سمرقند

فکری سطح پہ بھی اقبال اتنے ہی عظیم شاعر ہیں جتنے فنی سطح پہ ہیں۔ ان کے ہاں نت نئے موضوعات ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اقبال اتنے توانا شاعر ہیں کہ ان کے کلام کو کسی اور شاعر کے کلام سے تشبیہ دینا محال ہے۔ جو باتیں بیسیوں لوگ کہہ گئے اقبال نے انھیں یوں کہا جیسے کسی نے نہ کہا ہو اور آئندہ بھی نہ کہ پائے گا۔ گویا میر کا یہ شعر اقبال کی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے

نکتہ دانان۔ رفتہ کی نہ کہو
بات وہ ہے جو ہو وے اب کی بات

بنیادی طور پر اقبال مسلم امہ کی نشاۃ الثانیہ کے حامی تھے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں بیسیوں بار امت۔ مسلمہ کی عظمت۔ گم گشتہ کا سراغ لگانے کی سعی کی

میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ
مری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو

درحقیقت اقبال ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک سطح پر اکٹھے دیکھنا چاہتے تھے۔ امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کا جتنا درس اقبال نے دیا ہے شاید ہی کسی اور نے دیا ہو جیسے طلوع اسلام، پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ جیسی شاہکار نظمیں اس کی مثالیں ہیں۔ اقبال نے اپنی شاعری میں مسلمانوں کو یہاں تک کہا کہ ساری دنیا کے مسلمان اپنا الگ پلیٹ فارم بنائیں جس کا صدر مقام تہران ہو وہاں مسلمانوں کے مسائل کا حل پیش کیا جائے۔ یہ شعر اس کی غمازی کرتا ہوا نظر آتا ہے

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

تہران میں سارے مسلم ممالک اپنے مسائل رکھیں اور ان کی بابت تفکر کریں۔ اتنی عظیم سوچ اتنے عظیم شاعر ہی کی ہو سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے مسلم دنیا نے اس سوچ پر عمل نہیں کیا اور وہ بہت پیچھے رہ گئے۔ وہ کیا خوب صورت بات کہی تھی انگریزی زبان کے شاعر پر سی بی سی شیلے نے کہ

” Poets are the unacknowledged legislator of the world.“

یعنی شاعر ادیب کسی بھی سماج کے نا تسلیم شدہ قانون دان ہوتے ہیں۔ اس وسیع تناظر میں اقبال نے مسلم دنیا کو اپنی شاعری سے جو جواز فراہم کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اور ہم نے اس پہ کتنا عمل کیا ہے یہ اب سب کے سامنے ہے۔ ان نظریات کو اقبال کے اس شاندار آدرش کو ہم نے پس۔ پشت ڈال دیا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ PB Shelly نے درست کہا ہے۔ ہم نے اقبال کا کہا تسلیم نہیں کیا جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔

Facebook Comments HS