کیا عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کو خوابوں میں آ کر ڈراتے ہیں؟

گزشتہ دن پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس سال کی سزا سنائی گئی۔ یہ بات اگرچہ غیر متوقع نہیں تھی لیکن اس سزا کو عالمی سطح پر قابل ذکر میڈیا نے نشر کیا۔ جس سے عمران خان کی سزا کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا۔ اور اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا یہ سزا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔
انصاف کے تقاضے پورے ہوئے یا نہیں۔ یہ کہانی بھی کسی شوخی تحریر کی محتاج نہیں ہے اور چشم بینا کو سب کچھ نظر آ رہا ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزارت عظمی سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔
یہ اضافہ عوام کی نظروں میں ہوا اور کیوں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہٹائے جانے کے طریقہ کار پر بڑی تنقید ہوئی اور بعد میں خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ اس سے عوام کی نظروں میں خان صاحب مظلوم ٹھہرے۔ اور عام لوگ مظلوم کو حق پر سمجھتے ہیں۔ اور اگر ان کا بس چلے تو اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ چونکہ عام آدمی اس وقت خود مہنگائی اور ملکی حالات کی ابتری اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ اگر وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تو ووٹ دے کر وہ عمران خان کا ساتھ دے سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں عمران خان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سائفر کیس کی وجہ سے دی گئی۔ یہ بات خود خان صاحب نے بتائی۔ کہ سائفر کو بنیاد بنا کر مجھے حکومت سے نکالا گیا۔
جب سائفر والا معاملہ سامنے آیا تو عمران خان نے قومی سلامتی کے اجلاس میں امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔ کہ مجھے ہٹانے کی سازش میں ملوث ہو کر امریکہ نے ہمارے قومی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ عمران خان کی مداخلت والی بات کو بعد میں آنے والی شہباز شریف حکومت نے بھی تسلیم کیا تھا۔ لیکن وہ حکومت یہ بات نہیں مانتی تھی کہ یہ سازش بھی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیشہ پاکستان میں سازشی تھیوریوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ تو سائفر والے معاملے کو لے کر طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔پورا پاکستان سائفر کو لے کر اپنی رائے دینے لگا کسی نے سائفر کے وجود سے ہی انکار کیا۔ اور اسے عمران خان کا نیا شوشہ قرار دیا تو کسی نے سارے معاملے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سائفر خط جھوٹ ہے تو عمران خان کو سزا کس چیز کی ہوئی؟
اب سزا کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ کیا عمران خان دس سال کی سزا پوری کریں گے۔ یا پھر بالآخر چھوٹ کر باہر آ جائیں گے اور حسب سابق اپنی مخالفین پر زمین گرم کریں گے۔ یا پھر جیل میں قید ہو کر مخالفین کے خوابوں میں آ کر ان کو ڈراتے رہیں گے۔
یہ بات بھی آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گی۔ گزشتہ دنوں کئی ماہ سے زیر عتاب رہنے والے مشہور صحافی عمران ریاض خان کے مطابق کچھ ذرائع سے سائفر خط والے معاملے پر عمران خان کا جو موقف سامنے آیا ہے۔ اس کے مطابق انہوں نے بتایا کہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اصل سازش کیسے ہوئی۔
عمران خان کے بقول وزیراعظم ہاؤس کے سکیورٹی کے معاملات ملٹری سیکرٹری کے سپرد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائفر خط میرے دفتر میں تھا۔ پرنسپل سیکرٹری اور ملٹری سیکرٹری کسی بھی ڈاکومنٹ کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ساڑھے تین سال کے دوران بطور وزیراعظم میرے آفس سے صرف ایک ڈاکومنٹ غائب ہوا ہے جو سائفر تھا۔ میں نے سائفر کی گمشدگی پر ملٹری سیکرٹری بریگیڈیر احمد سے پوچھا کہ اس کی انکوائری کریں۔ جبکہ اس معاملے میں آرمی چیف جنرل باجوہ ڈرے ہوئے تھے۔ پھر بریگیڈیر احمد میرے پاس آئے انہوں نے کہا کہ سائفر کی انکوائری ہو گئی ہے سائفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ اس طرح دو کروڑ تیس لاکھ ووٹ لے کر وزیراعظم بننے والا شخص حکومت سے نکالا گیا۔
عمران خان نے جنرل باجوہ اور ایک اعلی امریکی عہدے دار کو اس سازش میں شریک قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی وزیراعظم ہوتا وہ اس سازش کے خلاف عوام میں جاتا میں نے بھی وہی کیا۔ عمران خان نے کہا کہ میرے نکالے جانے کے بعد شہباز شریف اور نواز شریف کو لایا گیا۔ اس سلسلہ میں حسین حقانی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ حالانکہ حسین حقانی وہ شخص ہے جس نے ہمیشہ پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف کام کیا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے میمو گیٹ سکینڈل میں آصف زرداری کو بچایا تھا۔ میری حکومت گرانے کے لیے حسین حقانی کو پینتیس ہزار ڈالر دیے گئے۔ ان سے ٹویٹ کرائی گئی کہ عمران خان امریکہ کے مخالف ہیں جبکہ جنرل باجوہ امریکہ کا حامی ہے۔
حسین حقانی نے جنرل باجوہ کی ایما پر امریکہ میں میرے خلاف رائے ہموار کی۔ اس کے بعد ہمارے اتحادیوں کو توڑا گیا۔ میں نے جب اس سلسلہ میں جنرل باجوہ سے رابطہ کیا۔ تو جنرل باجوہ نے صاف انکار کیا کہ ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں اسد عمر، پرویز خٹک، اور شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے۔ لیکن مجھے دھمکی دی گئی کہ بارہ سال کے لیے اندر ہو جاؤ گے یہ دھمکی واضح طور پر مجھے جنرل باجوہ نے دی تھی کہ اپنی سمت درست کرلو ورنہ بارہ سال کے لیے اندر چلے جاؤ گے۔
عمران خان نے کہا کہ روس کے دورے سے قبل میں نے جنرل باجوہ کو آگاہ کیا کہ یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے جنرل باجوہ نے مجھے یقین دلایا کہ اس دورے سے متعلق تمام کمانڈروں سے بات ہو گئی ہے۔ تین دن کے بعد جب میں روس سے واپس آیا تو شاہ محمود قریشی نے مجھے سائفر کے پیغام سے آگاہ کر دیا۔ یہ میرے لیے حیران کن بات تھی۔
اکیس اور بائیس مارچ کو اسلام آباد میں اسلامی سربراہ کانفرنس ہوئی۔ اس کے بعد میں عوام کو سائفر کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا۔ پھر میں نے عوام کو بتایا کہ میرے خلاف دھمکی آئی ہے اور میری حکومت کو گرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ عمران خان نے کہا اب میرا موقف یہ ہے کہ میں عوام کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ معیشت ڈوب چکی ہے مہنگائی عروج پر ہے۔
پندرہ اگست کو عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا گیا۔ ٹرائل شروع ہوا لیکن بعد میں ہائی کورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا۔ کیونکہ ہائی کورٹ کے بقول انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد اوپن ٹرائل شروع ہوا۔ جس میں الزامات لگائے گئے تھے۔ جس کے چار نکات تھے۔ اول عمران خان نے سائفر خط لہرایا۔ دوم اس کے مندرجات پبلک کیے۔ سوم بالآخر اس خط کو غائب کر دیا۔ اور چہارم اس سارے معاملے کا غلط استعمال کیا۔ جو کہ سراسر غلط حرکت ہے۔
بقول شخصے الزامات ثابت نہ ہو سکے۔ اب کچھ ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ عمران خان کو سنائی گئی سزا میں اس قدر قانونی کمزوریاں موجود ہیں۔ کہ بہت جلد ہی یہ سزا موقوف کردی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف چاہتی ہے کہ اس سزا کے حوالے سے نو مئی جیسا ناخوشگوار واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے اور عوام آٹھ فروری کو بھاری اکثریت سے عمران خان کو ووٹ ڈالیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی منشا اور خواہش اپنی جگہ آٹھ فروری کو کیا ہو گا اس کو لے کر کچھ حلقوں کو تشویش ہے۔ کیونکہ اس وقت لاکھوں لوگوں کی ہمدردیاں عمران خان کے ساتھ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے مقابلے میں دوسرے سیاسی رہنما حد درجہ غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ اور ان کی غیر مقبولیت میں اس سلوک کا ہاتھ ہے جو اقتدار سے علیحدگی سے لے کر اب تک عمران خان کے ساتھ روا رکھا گیا۔
عوام نے اس سارے معاملے کو ایک الگ نظر سے دیکھا۔ اب اگر بروقت اور شفاف الیکشن ہوتے ہیں تو نتائج پی ڈی ایم کی خواہشات سے بالکل الگ ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پی ڈی ایم اتحاد بہت بڑی مشکل میں پڑ سکتا ہے۔

