مشہور موسیقار نوشاد علی کے بارے میں 11 دلچسپ حقائق
’موسیقار اعظم‘ نوشاد علی وہ موسیقار تھے جنھوں نے بمبئی کی فلمی صنعت کو بہت کچھ دیا۔ وہ اپنے نغمات میں خالصتاً ہندوستانی آلات موسیقی کو خوبصورتی سے استعمال کر کے دھیمی لیکن دل و دماغ پر چھا جانے والی دھنوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ ان کی المیہ دھنیں سب سامعین کے دلوں کو ناشاد کرنے اور طربیہ دھنیں سب کو نوشاد کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
نوشاد علی 26 دسمبر 1919 ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور 5 مئی 2006 ء کو بمبئی میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے، زیل میں ان کے بارے میں گیارہ دلچسپ حقائق پیش کیے جا رہے ہیں۔
1:فلمی موسیقی میں کلاسیکی ہندوستانی طرز موسیقی کو نہ صرف شامل کرنے، بلکہ اسے قبولیت عام کا رتبہ دلانے کا سہرا صرف نوشاد علی کو ہی جاتا ہے۔ انہوں نے 35 سلور جوبلی، 12 گولڈن جوبلی 3 ڈائمنڈ جوبلی گانوں کی موسیقی ترتیب دی۔
2: انہوں نے قدیم روایتی موسیقی اور کلاسیکی ہندوستانی موسیقی کے سنگم سے ایک نیا انداز موسیقی ایجاد کیا۔
3: کلاسیکی ہندوستانی موسیقی دینے کے حوالے سے شہرت پانے کے باوجود ان کی دھنوں میں اکثر آرکیسٹرا اور مغربی آلات موسیقی بھی استعمال ہوتے تھے جیسے کہ وائلن اور تانبے کے بھونپو۔
4: انہوں نے 65 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔
5: انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہارمونیم کی مرمت کرنے سے کیا تھا۔
6: جب ان کے والد، جو قدامت پرست خیالات کے حامل مسلمان تھے اور موسیقی کو حرام سمجھتے تھے، کو بیٹے کی موسیقی میں دلچسپی کا پتا چلا تو انہوں نے ان سے موسیقی یا گھر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا تو نوشاد گھر چھوڑ کر ممبئی چلے آئے۔
7: پہلے پہل فلموں کی موسیقی پر زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا تھا لیکن نوشاد علی کے اصرار پر کاردار پروڈکشنز کے مالک کاردار میاں نے سنہ 1942 میں فلم ’رتن‘ کی موسیقی پر پچھتر ہزار روپے خرچ کیے جو اس زمانے میں بڑی خطیر رقم تھی لیکن پہلے ہی سال محض رائلٹی کی مد میں ہی انہیں تین لاکھ کی آمدن ہوئی۔
8: انہوں نے کئی مرتبہ پنجاب، راجھستان، گجرات اور مہاراشٹرا کے مشہور مقامی فوک گیتوں کو اپنی دھنوں میں شامل کیا۔ جیسے مشہور زمانہ ”پیار کیا تو ڈرنا کیا“ اصل میں ایک مقامی گیت ”پیار کیا کا چوری کری“ سے ماخوذ تھا۔
9: ’مدر انڈیا‘ جس کی موسیقی نوشاد نے ہی ترتیب دی تھی، آسکر اعزاز کے لیے نامزد ہونے والی پہلی انڈین فلم ہے۔
10 : 1981 ء میں انہیں انڈین سینما کی لیے گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر دادا صاحب پھالکے اعزاز سے نوازا گیا۔
11 : 2005 ء میں 86 سال کی عمر میں انہوں نے فلم تاج محل کی موسیقی ترتیب دی۔

