ترکیہ کے مشہور گلوکار بارش مانچو

بارش مانچو (Manço Barış) کا اصل نام ”محمد بارش مانچو“ تھا۔ وہ ترکیہ کے مقبول ترین موسیقار، گلوکار، ٹی وی میزبان اور پروڈیوسر تھے۔ ترک راک اور پاپ میوزک میں انہیں بانی اور استاد مانا جاتا ہے۔
انہوں نے 200 سے زائد مقبول گانے گائے اور 12 سے زیادہ البم ریلیز کیے۔ ان کے گیتوں کا دنیا کے 9 بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان زبانوں میں انگریزی، عربی، جاپانی، یونانی بلغارین، ولندیزی، فرانسیسی، لاطینی اور عبرانی شامل ہیں۔ وہ خود بھی ان زبانوں میں سے اکثر کو جانتے اور بولتے تھے۔ انہیں موسیقی کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے سلسلے میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
بارش مانچو 2 جنوری 1943 کو اسکودار، استنبول میں پیدا ہوئے اور یکم فروری 1999 کو 56 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ ایک افسانوی کردار کے مالک تھے۔ ترک میوزک کو انہوں نے نئی جہت اور سمت سے متعارف کروایا۔ وہ نہ صرف اپنے زمانے کے مقبول ترین موسیقار اور گلوکار تھے بلکہ ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی نوجوانوں اور بڑوں کے لبوں پر ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی بہت سے گیت لکھے اور گائے جو بہت مشہور ہوئے۔
وہ اپنے لمبے بالوں، دراز قد اور مخصوص لباس اور حلیے کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے تھے اور شکل و صورت سے بھی گلو کار لگتے تھے۔
” بارش“ ترک زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”امن“ ہے۔ چونکہ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943 میں پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کا نام ”بارش“ یعنی ”امن“ رکھا گیا۔
انہیں بچپن ہی سے موسیقی سے خاص لگاؤ تھا۔ سکول اور جوانی میں ہی انہوں نے اپنے میوزک بینڈ کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ”بارش مانچو اور جگری یار“ رکھا۔ انہوں نے اپنا پہلا کنسرٹ اس وقت کیا جب وہ استنبول کے مشہور ادارے ”گلاتہ سرائے سکول“ کے طالب علم تھے۔
1962 میں ”ہارمونیز“ کے نام سے انہوں نے البم نکالا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 19 سال تھی۔
انہوں نے بیلجیم کی ”رائل اکیڈمی آف فائن آرٹ“ سے گرافک اور ٹیکسٹائل ڈیزائن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
1970 میں ان کا مشہور زمانہ البم ”داعلر داعلر“ کے نام سے ریلیز ہوا جس نے انہیں شہرت کی عروج پر پہنچا دیا۔ مختصر مدت کے دوران اس البم کی 7 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ انہوں نے پورے یورپ اور ترکی میں پرفارم کیا۔ 1988 میں انہوں نے ٹی وی کا مشہور پروگرام ”7 سے 77“ شروع کیا جو بے حد مقبول ہوا۔
ان کے گیتوں میں دوستی، امن، محبت، بھائی چارہ اور اتحاد کا درس ملتا ہے۔ ترکیہ، یورپ، جاپان اور پوری دنیا سے موسیقی کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے سلسلے میں انہیں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔
ان کا انتقال یکم فروری 1999 میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوا جس نے کروڑوں مداحوں کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔
ترکیہ میں موسیقی کے میدان میں ان کا نام اور مقام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور انہیں ایک ”لیجنڈ“ کی حیثیت حاصل ہے۔
ان کے مشہور گیتوں میں درج ذیل گیت شامل ہیں ؛
دنیا فانی ہے
آج عید کا روز ہے بچوں جلدی اٹھو
گل پمبہ
گدھا میرا دوست
مت ہنسو
نہیں
میں نہیں بھولا
سیاہ محبوب
جیسا جیسا
میں جانتا ہوں
بھوری لائنوں والا مہمت آغا
داعلر داعلر
ٹماٹر، مرچ، بینگن
دسترخوان ابراہیم خلیل اللہ
عمر کی آخری بہار
مشہور اقوال
1:
انسان کو سب سے پہلے جس زبان کو سیکھنا چاہیے وہ ہے ”شیریں زبان“ ۔
2:
سونا چاہے کوڑا کرکٹ میں ہی پڑا ہو اس کی قدر و قیمت میں کوئی کمی نہیں آتی
3:
اے میرے دل! صبر کر۔ ہرگز بغاوت مت کر۔ آخر کار زندگی کی چلا کشی ایک روز ختم ہونے والی ہے۔ یہ دنیا فانی ہے۔
4:
بے جدوجہد عمر کو زندگی نہیں کہتے۔
5:
اے دوست! لکھو کہ کوئی اس دنیا سے مال و دولت اپنے ساتھ نہیں لے کر گیا۔
6:
اے دوست! دولت اور تزک و احتشام سے مرعوب مت ہو۔ اندر سے خالی آدمی کو انسان نہیں کہتے۔ ایسے لوگوں کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔


