مداری، سانپوں کا بادشاہ اور سیاست دان


یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے کہ میں گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول بوریوالہ میں زیر تعلیم تھا ہمارے سکول کے مین گیٹ کے بالکل سامنے ایک سپیرا مجمع لگایا کرتا تھا۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر ایک پٹاری کھولتا جس میں ایک بڑی جسامت کا سانپ متحرک ہوتا تھا۔ وہ اس سانپ کو آدھا پٹاری کے اندر رہنے دیتا اور آدھا فٹ پاتھ پر چھوڑ دیتا۔ اتنے بڑے سانپ کو دیکھ کر آس پاس سے گزرنے والے لوگ اس کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتے۔

جب تک پندرہ بیس لوگ اکٹھے نہ ہو جاتے تب تک وہ سانپ سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا اور حاضرین بڑی دل چسپی سے اس منظر کو دیکھتے جاتے اس کے بعد جب لوگوں کی معقول تعداد جمع ہو جاتی تو وہ سانپ کو اٹھا کر پٹاری میں ڈال دیتا لیکن پٹاری کا منہ کھلا رہنے دیتا تاکہ وہ تماشائیوں کو دکھائی دیتا رہے اور اس کے بعد وہ سانپوں کے حریف گگے پیر کی کہانی شروع کر دیتا۔ لیکن کہانی کے آغاز میں ہی وہ ایک چھوٹا سے کوزہ نکال کر پٹاری کے قریب رکھتا اور لوگوں کو اس کے متعلق بتاتا کہ اس میں اڑنے والا سانپ بند کر رکھا ہے اور یہ سانپ اپنی جگہ سے اڑتا ہے اور سامنے والے کی پیشانی پر ڈنک مار کر پھر واپس اسی جگہ پر آ جاتا ہے۔

وہ مجمع کے آخر میں لوگوں کو اس سانپ کے درشن کروانے کا مژدہ بھی سنا دیتا۔ اپنی کہانی کے دوران بار بار مٹی کے اس کوزے کو چیک کرتا رہتا کہ اس کا منہ تو مضبوطی سے بندھا ہوا ہے۔ اس کے متعلق چھوٹے چھوٹے فقروں پر مشتمل تبصرے کر کے لوگوں کی توجہ اس طرف بھی مبذول کراتا رہتا۔ اس کے بعد گگے پیر کی کہانی بڑے ہی دل چسپ انداز میں آگے بڑھتی جاتی۔ اس کہانی میں گگے پیر اور سانپوں کے درمیان کئی مقابلے ہوتے۔ لڑائیوں ہوتیں کبھی گگا جیت جاتا اور کبھی سانپ۔ کہانی کے آخر میں سانپوں کا شہنشاہ باشک ناگ گگے کی جوتی میں چھپ کر بیٹھ جاتا اور جونہی گگا اس میں پاؤں ڈالتا ہے تو باشک ناگ اپنی پوری قوت سے ڈس کر اپنے جسم کا تمام زہر اس کے جسم میں منتقل کر دیتا ہے۔

باشک ناگ اس قدر زہریلا سانپ ہے کہ اس کے سانس سے خارج ہونے والی ہوا کی زد میں آنے والی ہر چیز جھلس جاتی ہے۔ اب تو گگا مرے ہی مرے اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ اس کا جسم فوراً ہی نیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے مرنے کا منظر وہ اس قدر دل چسپ انداز میں بیان کر رہا ہوتا ہے کہ مجمع سننے والوں کو اپنی نبضیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہاں پر پہنچ کر وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ اڑنے وائے سانپ کے کوزے سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتا ہے۔

اس سے باقاعدہ مخاطب ہوتا ہے ہاں بھئی اب تمہاری باری آنے والی ہے لیکن خبردار اگر کسی کو ڈنک مارا تو بس پیشانی کو چوم کر ہی واپس آجانا ہے۔ لوگ پرانی کہانی کے سحر میں ہی جکڑے ہوتے اور انہیں یہ سب باتیں ناگوار گزرتیں۔ انہیں جس قدر گگے پیر کا انجام جاننے کے متعلق بے قراری ہوتی سانپوں والا اسی قدر ہی اس کے بارے میں تساہل اور بے نیازی کا مظاہرہ کرتا۔ غرض کہ جب لوگوں کا تجسس اپنی انتہا کو پہنچ جاتا تو وہ ایک کھنگورا مار کر کہانی کو آگے بڑھاتا۔

گگے پیر کے جسم کا رنگ گہرے نیلگوں سے سیاہی مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ آنکھیں ابل کر اپنی جگہ سے باہر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ سانس رک رک کر آنے لگتی ہے۔ بس آخری سانس لینے سے عین پہلے ایک جوگی باوا بین بجاتا ہوا کہیں سے نمودار ہوتا ہے۔ گگے پیر پر نظر پڑتے ہی وہ نعرہ لگاتا ہے کہ واہ بھئی واہ آج تو ناگوں کے شہنشاہ کے درشن ہو گئے۔ آج تو اپنی قسمت ہی بدل گئی ہے۔ پھر وہ اپنے کندھے کے ساتھ لٹکے ہوئے جھولے میں سے تلاش بسیار کے بعد دوائی کی ایک پڑیا نکال کر گگے کے منہ میں انڈیل دیتا ہے۔ دوائی کے جسم میں داخل ہوتے ہی اس کے طلسمی اثرات سامنے آنے لگتے ہیں۔ گگے کی حالت ہر لمحہ بہتر ہوتی جاتی ہے۔ اور چند ہی منٹوں میں وہ بھلا چنگا ہو کر اٹھ بیٹھتا ہے۔

اب جوگی بابا گگے سے التجا کرتا ہے کہ اسے باشک ناگ کی نشانی کے طور پر گگے کے پاؤں پر سانپ کے کاٹنے سے بنا ہوا چھالا اٹھانے کی اجازت دی جائے۔ اجازت ملنے پر وہ چھالا اٹھا کر اپنی ایک ڈبی میں رکھ لیتا ہے اور لوگوں کو بتاتا ہے کہ اس زہر سے وہ ایسی دوا تیار کرے گا۔ جو تمام مردانہ پوشیدہ و ظاہری امراض کے شافی علاج سے لے کر مکھی، مچھر، چھپکلی، سانپ، چوہا او ر دیگر حشرات کو مارنے کے لیے بھی یکساں کار گر ہو گی اور وہ جوگی میرا دادا تھا۔

اس کی بنائی ہوئی صرف چند پڑیاں ہی میرے پاس باقی بچی ہیں۔ ضرورت مند اپنی اپنی جیبوں سے دس دس روپے نکال کر اپنے ہاتھ میں کر لیں۔ لوگ پیسے نکال کر اپنے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتے وہ جلدی جلدی انہیں یہ پڑیاں تھما کر ان سے پیسے بٹورتا۔ پھر انہیں اس کا طریقہ استعمال بتاتا۔ اس کے بعد اپنا سامان اٹھاتا اور چلتا بنتا۔ اگلے دن پھر وہ اسی جگہ پر اسی انداز میں مجمع جماتا، وہی کہانی، وہی دوائی اور وہی کمائی۔ وہ مدتوں اسی جگہ پر یہی مجمع لگاتا رہا۔ لیکن اڑنے والا سانپ دکھانے کی نوبت اس نے کبھی آنے ہی نہ دی اور وہ دکھاتا بھی کیسے کوزہ تو خالی تھا۔ اس کے اندر کچھ بھی نہیں تھا خالی کوزے کے منہ کو ہی کپڑے کے ساتھ مضبوطی سے باندھا ہوا تھا اور باقی اس کی زبان کی کاریگری تھی۔ جس کی کھٹی اور کمائی وہ مسلسل کھائے جا رہا تھا۔

آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مداریوں شعبدہ بازوں اور زبان کی کھٹی کھانے والے کاری گروں نے جگہ جگہ یہ مجمع جما رکھے ہیں۔ کچھ لوگ مذہب کے نام پر جگہ جگہ یہ مجمعے لگائے بیٹھے ہیں۔ اپنے تماشائیوں کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے دس دس روپے وصول کرتے جاتے ہیں اور بدلے میں انہیں جنت کے ٹکٹوں کی پڑیاں تھماتے جاتے ہیں۔ تعویذ گنڈے، جھاڑ پھونک اور نوری اور سفلی علوم کے زور پر لوگوں کے مسائل اور بیماریوں کے معالج بھی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس وقت سیاست میں مجمع بازی کا کام پورے عروج پر ہیں۔ کوئی عوام کو دو دو سو بجلی کے مفت یونٹس کی پڑیاں بیچ کر ان سے دس روپے کا نوٹ لینے کی بجائے ان سے ان کا ووٹ ہتھیانے چکر میں ہے۔ یہ سیاسی مجمع ہر پانچ سال کے بعد لگتا ہے اور سیاسی مجمع باز اپنے اپنے مجمع میں موجود تماشائیوں کو نت نئے نئے ایسے ایسے وعدوں کی پڑیاں فروخت کر جاتے ہیں جن کا پورا ہونا مشکل ہی نہیں۔ بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے لیکن یہی تو مجمع جمانے والے کی کاری گری ہے اور کچھ اس کے تماشائیوں کی سادہ لوحی بھی ہے کہ عرصہ دراز سے وہ سہانے مستقبل کے وعدوں کی پڑیاں مسلسل ہی بیچے چلا جا رہا ہے اور نہ صرف وہ بکتی جا رہی ہیں۔

بلکہ اس کے تماشائی اور شیدائی دل و جان سے اس کے کالے اور گورے ہمہ قسم کے کرتوتوں کا دفاع بھی خود ہی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سیاسی دنگل اور مجمعے سے اس وقت تک خیر کے پہلو کی برآمدگی کی توقع نہیں ہے۔ جب تک کہ سامعین اپنے اپنے مجمع باز سے اس کے سابقہ وعدوں کی عدم تکمیل پر اس کی باز پرس نہیں کرتے اس کا مواخذہ نہیں کرتے لیکن وطن عزیز میں تو یہ کلچر پنپ ہی نہیں سکا۔

تماشائی ڈھول کی تھاپ پر اپنے اپنے پسندیدہ مجمع سازوں کی تعریف و توصیف اور مخالفین کی تنقید و تشنیع کے گیت گانے چلے جا رہے ہیں اور ہماری اسی معاشرتی اور سماجی کمزوری نے جمہوریت کے پودے کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا۔ ہمارے یہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی نہ صرف یہ کہ اپنے اپنے نام نہاد سیاسی راہنماؤں کی خامیوں اور کوتاہیوں پر خود تنقید نہیں کرتے بلکہ کسی مخالف کے ایسا کرنے پر اس کا منہ نوچنے تک چلے جاتے ہیں اور ہمارے اسی سماجی رویے کا ہمارے سیاسی لیڈر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ان کو عمومی طور پر ووٹ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسی گروہ بندی کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ لوگوں کی اس تقسیم در تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند مخصوص سیاسی گھرانوں نے اقتدار و اختیار کو اپنی وراثتی جاگیر بنایا ہوا ہے۔ جس کی نسل در نسل منتقلی ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے اور ہم ہیں کہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں سے ہی باہر نہیں نکل پاتے۔ ویسے اس بار یہ سیاسی میلہ، دنگل اور مجمع بہت پھیکا، بے رنگ اور بے رونق سائے کہ سب سے بڑا پہلوان اور مجمع باز تو اس مقابلے سے ہی باہر ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments