ایک نیا تجارتی راستہ
انسان نے جب سے تجارت شروع کی ھے تب سے زمینی راستوں کو استعمال کیا ۔ ایشیا اور یورپ کے درمیاں پچھلے دو ھزار سال میں انہیں راستوں پہ ھوتی رھی ھے ۔سمندری راستوں کا استعمال بہت بعد میں ھوا۔ چونکہ دنیا میں کچھ بھی پائیدار نہیں ھوتا لہذا وقت اور حالات معاملات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ھوۓ انسان اپنی بہتری کے لئے بہتر طریقے ڈھونڈنے میں مصروف عمل رھتا ھے ۔ اب جو عالمی واقعات ھیں ان کے پیش نظر ایک نیا راستہ ڈھونڈا گیا ھے جسے درمیانہ راستہ یا شاھراۂ ترقی کہتے ھیں ۔ وقت نے ثابت کیا ھے کہ سمندروں کا سفر اتنا قابل بھروسہ نہیں لہذا زمینی سفر شائد بہتری کی کوئی صورت نکال لے۔ روس اور ایران پہ بہت سی تجارتی پابندیاں لگی ھوئی ھیں لہذا ایشیائی اور یورپی تاجر اس نئے راستوں کے حوالہ سے خاصے سرگرم دکھائی دیتے ھیں۔ اب روس اور ایران کو چھوڑ کر سنٹرل ایشیاء سے یورپ تک کا یہ راستہ کوہ کاف کے علاقہ سے گذر کر یورپ تک جاپہنچے گا واضح رہے کہ یہ تقریبآ وہی راستہ ھے جو کبھی شاھراۂ ریشم کہلاتا تھا ۔کازکستان ، ازبکستان اور ترکمانستان سے ھوتا راستہ اب سیدھا یورپ میں جاۓ گا ۔ ماھرین سمجھتے ھیں کہ یہاں اچھی ٹرانسپورٹ کی ضرورت ھوگی اور فی الحال اس پہ اور کوئی سفری مشکلات اور روکاوٹیں نہیں ھونگی ۔
جارجیا، آذربائجان اور آرمینیا کے مابین جو تھوڑی سی چپقلش ھے اس وجہ سے کچھ خدشات بدستور قائم ھیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان پہ قابو پایا جاسکتا ھے۔ یہ شاھراہ 5000 کلومیٹر طویل ھوگی اور اس کے درمیان گانجا گیپ ھے جو آذربائجان کا علاقہ ھے اس کی ایک خاص اہمیت ھے یہ 190 کلومیٹر کا وہ علاقہ ھے جسے ایران اور روس سے علیحدگی والا یا بائ پاس کہہ سکتے ھیں یہاں ایک شاندار موٹروے ھے ، تیل و گیس کی تین بڑی پائپ لائنیں ھیں ریل کی پٹڑی ھے اور فائبر آپٹیکس بچھی ھوئی ھے۔ اس لئے گانجا گیپ کی اھمیت اور بڑھ جاتی ھے ۔کازکستان اب یورینیم بھجوا رھا ھے۔ یوکرائن کی جنگ کی وجہ سے ادھر کاروبار چمک اٹھا ھے۔ اس شاھراہ کی ترقی کے لئے مزید سرمایہ کاری کی جارھی ھے یورپی یونین مزید 10 ارب ڈالر سے اس کی ترویج کی خاطر منظور کرچکی ھے ۔ امریکہ بھی خاصی دلچسپی ظاہر کر رھا ھے نیز چین میں گہری دلچسپی لے رھا ھے اسے معلوم ھے کہ اس کی درآمدات یورپ تک بآسانی پہنچ سکتی ھیں اور گیس و تیل کے ذخائر وسط ایشیائ ممالک سے بآسانی مل سکتے ھیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی خاصی دلچسپی ظاھر کررھے ھیں کہ یہ نیا راستہ ان کے کاروباری مفادات کو خوب فروغ دے سکتاھے۔ اماراتی صدر شیخ محمد بن النھیان بھی آذربائجان کا دورہ کرچکے ھیں جہاں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ھے۔ ترکی نے ریلوے لائن بچھانے کا جو منصوبہ بنایا ھے وہ 2038 تک مکمل ھوجائیگا جس سے مڈل ایسٹ اور ترکی کا سامان براستہ عراق سیدھا اس نئی شاھراہ سے گزرے گا اور یورپ جاپہنچے گا ۔یہ خشک راستہ اس وقت انتہائی پسندیدہ خیال ھے ۔ فی الحال بس روسی اور ایرانی ناراضگی کا خیال سب کو ھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ھوسکتاھے کہ ان ممالک سے بھی تعلقات بہتر ھوجائیں تو دنیا میں ترسیلات کا ایک نیا انقلاب آجاۓ گا۔


