حقے کا کرشمہ

قریبی عزیزوں میں ہونے والے شادی کے اجتماع کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تو آپ ان بہت سے عزیزوں سے مل لیتے ہیں جن سے عام دنوں میں ملنے کا امکان نہیں ہوتا، اور دوسرا بہت سی ایسی باتیں سن لیتے ہیں جو عام ملاقاتوں میں کوئی نہیں سناتا۔ ماموں زاد کی شادی تھی اور ہم ماموں کے ہاں ان کے مرکزی کمرے میں بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ ماموں کہاں غائب ہیں، کوئی کہنے لگا وہ سیڑھیوں میں بیٹھے حقہ پی رہے ہیں اور ایسے پی رہے ہیں جیسے کوئی لمبے سفر پر جانے سے پہلے پیتا ہو۔ میں نے کہا آخر سیڑھیوں میں کیوں، کسی ڈھنگ کی جگہ ہر کیوں نہیں۔ کوئی کہنے لگا ہر طرف اتنے مہمان بکھرے ہوئے ہیں کہ ان کے لیے کسی کمرے میں حقہ پینے کی جگہ نہیں بچی، اور کسی اور نے لقمہ دیا کہ یہ تمھاری ممانی کا خوف ہے جو اب ماموں کو حقے کے لیے سیڑھیوں میں لے آیا ہے۔
دونوں باتیں ہی معقول تھیں، پہلی پر موقع گواہ تھا اور دوسری پر ماموں کی اپنی زندگی۔ ویسے تو ہر شادی شدہ شخص ہی شریف ہوتا ہے مگر ماموں کی پسپائی کا سلسلہ اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ حقہ پینے کی کوئی ڈھنگ کی جگہ نہیں بچی۔ ویسے بھی اب حقہ شہروں میں ایسے ہی کم ہو رہا ہے جیسا تانگہ کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا تھا۔ ہم باتوں میں مگن تھے کہ اتنے میں ماموں بھی آ بیٹھے۔ وہ کہیں پس منظر میں ہماری باتیں سن رہے تھے، بیٹھتے ہی کہنے لگے آج جو کچھ تیرے نانا کے پاس ہے وہ حقے کا کرشمہ ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے۔ کہنے لگے پچاس برس پہلے جب تیرے نانا نے قریبی گاؤں میں سنار کی دکان کھولی تو کئی مہینوں تک کوئی بھی گاہک نہ آیا یہاں تک کہ نوبت فاقوں تک آ گئی۔
نانا اپنے نو بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے بڑے ہیں، نارووال کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں اور اب کچھ سالوں میں نوے برس کے ہونے والے ہیں۔ نانا کے والد خود تقریباً گھر داماد تھے اس لیے ان کی پرورش ان کے نانا نے کی جنہیں سب میاں جی کہا کرتے تھے، وہ جن کے سکھوں کے ساتھ یارانے تھے۔ نانا مجھے تقسیم سے پہلے کی بہت کہانیاں سنایا کرتے ہیں، ان میں سے وہ بہت مرتبہ سنائی کہ جب وہ چھوٹی عمر میں اپنے نانا کے ساتھ ان کے ایک سکھ دوست سے ملنے قریبی گاؤں گئے تو انھیں سکھ نانی کی طرف سے پانچ روپے اور کٹے ( بھینسیں کا بچہ) کا تحفہ ملا۔ نانا نے نوجوانی میں پولیس کی نوکری کی مگر تربیت کے دوران ہی چھوڑ گئے۔ ان کے ابا کے ہاں دستور یہ ہوا کہ جس بچے کی شادی کرتے اسے گھر سے چلتا کرتے۔ میں نے ان کا آبائی گھر دیکھا ہے، بظاہر وجہ جگہ کی تنگی تھی۔ خیر جب گھر سے نکال دیے گئے تو بیوی بچوں کو لے کر گوجرانوالہ آ گئے۔ یہاں آ کر کوئی ڈھنگ کا کام نہ ملا تو کبھی قریبی دیہاتوں سے انڈے اکٹھے کرتے اور اسے شہر میں بیچ کر دال روٹی کرتے اور کبھی کچھ اور۔
آخر کار انھوں نے شہر سے متصل ایک گاؤں میں سنار کی دکان کھول لی جو کئی ماہ تک کوئی بھی گاہک نہ کھینچ سکی۔ وہ تب تو گاؤں ہی تھا مگر اب اتنا پھیل گیا ہے کہ شہر کا ایک حصہ ہو گیا ہے۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں ہم بچپن میں جایا کرتے تو نانا کا دوست بابا عبدالرحمن ایسے آؤ بھگت کرتا جیسے اپنے نواسوں کی کرتے ہیں۔ ماموں کہنے لگے جب نانا دکان نہ چلنے پر بہت پریشان ہوئے تو ایک بابے نے مشورہ دیا کہ ایک حقہ رکھو اور پھر کرشمہ دیکھو۔ نانا پہلے ہی مالی طور پر تنگ تھے مگر انھوں نے دکان پر حقہ رکھنا شروع کر دیا۔ حقہ رکھا تو اس کے کرشمہ سے کچھ دنوں میں دکان چلنے لگی۔ میں نے اس کرشمے کی سائنس پوچھی تو ماموں کہنے لگے حقہ رکھتے ہی بابے آ کر دکان پر بیٹھنے لگے، ایک جاتا تو دو چار اور آ جاتے، دو گھڑی بیٹھتے، حقہ پیتے اور آگے بڑھ جاتے۔ حقے کی برکت سے نانا کی شناسائی میں اضافہ ہوا، کچھ دوستیاں بھی پیدا ہونے لگیں۔ ایسا نہیں تھا کہ اس گاؤں میں کوئی بھی سنار کبھی آیا نہیں تھا، بہت آئے مگر اعتبار پیدا نہ کرسکے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد جاتے رہے۔
حقے نے جو حلقہ یاراں پیدا کر دیا تھا اس نے دو کام کیے، پہلا یہ کہ سنار کی دکان کا پیغام گھر گھر پہنچ گیا اور دوسرا جب کوئی لوگوں سے سنار کے اعتبار کا پوچھتا تو وہ حقہ پینے والے بابے یقین قائم کر دیتے۔ آہستہ آہستہ گاہک آتے گئے اعتبار بنتا گیا اور حقے کے کرشمے سے نانا کی دکان چلنے لگی۔ نانا اب بھی دکان پر بیٹھتے ہیں اور حقہ کچھ دیر پہلے تک رکھا ہوتا تھا مگر اب شاید نہیں ہوتا۔ حقہ اب صرف ماموں کے ہاں ملتا ہے۔ ماموں نے بات سنائی تو مجھے لگا وہ حقے کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ دوست جو کرشمہ دکھا چکا ہو اسے کون چھوڑتا ہے۔

