جب مسلم لیگ ق اقتدار میں آئی (حصہ دوم)


اکتوبر 2002 ء کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعتیں جلد از جلد اسمبلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر رہی تھیں تو مشرف کابینہ کے وزراء قانونی پیچیدگیوں کو جواز بنا کر پیش کر رہے تھے، تحریک برائے بحالی جمہوریت کی جماعتیں تو ابتدائی اجلاس میں تاخیر کا سبب مشرف کابینہ پر مسلم لیگ ق کے لیے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد کا بندوبست کرنے کو قرار دے رہی تھیں۔ 2 نومبر کو مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر چوہدری شجاعت حسین اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی نے صدر مملکت سے حکومت سازی کے امور سے متعلق ایک طویل ملاقات کی جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ، قومی اتحاد، مسلم لیگ جونیجو، ضیاء و دیگر کی حمایت کے ساتھ حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت حاصل کر لینے کا دعویٰ کر دیا، اور ظفر اللہ جمالی، خورشید محمود قصوری، غوث بخش مہر، ہمایوں اختر خان میں سے میر ظفر اللہ خان جمالی کو اپنا وزارت اعظمیٰ کا امیدوار قرار دیا تاہم باقاعدہ نامزدگی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ چند روز بعد کرنے کا اعلان کیا۔

4 نومبر 2002 ء کو مسلم لیگ قائد اعظم کی مرکزی قیادت اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزارت اعظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا۔ اسی اثناء میں مشرف حکومت نے 8 نومبر کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کر لیا۔ تحریک بحالی جمہوریت کی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے ساتھ اتحادی حکومت بنانے پر بات چیت جاری رکھے تھیں۔ بہت سی سیاسی جماعتیں لیگل فریم ورک (عبوری آئین) کے تحت اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھانے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھیں جنہیں منانے کا کام چوہدری شجاعت حسین کر رہے تھے۔

مسلم لیگ کے کئی مرکزی رہنما متحدہ مجلس عمل کے ساتھ اتحاد کا مشورہ دے رہے تھے کہ کسی بڑی جماعت کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی جائے کیونکہ چھوٹی جماعتوں کے ساتھ بنائے جانے والی معمولی اکثریت کی حامل حکومت زیادہ پائیدار نہ ہوگی۔ جبکہ دوسری طرف تحریک بحالی جمہوریت کی جماعتوں، متحدہ مجلس عمل و متحدہ قومی موومنٹ کو ساتھ ملا کر سادہ اکثریت حاصل کرنے کی چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔

ان مسائل کو جواز بنا کر مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر چوہدری شجاعت حسین نے مشرف حکومت کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی، مسلم لیگ کے رہنما حامد ناصر چٹھہ نے دیگر وجوہات کے ساتھ 8 نومبر کو رمضان المبارک کا پہلا جمعہ ہونے کا جواز بنا کر اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر امین فہیم کے صدر مشرف کو لکھے گئے مبینہ خط میں بھی اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی، اس خط سے امین فہیم نے انکار کیا، تحریک بحالی جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان نے اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کی خبروں پر اسے 1970 ء کے انتخابات کے بعد اسمبلی اجلاس بلائے جانے میں تاخیر کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا ”تاریخ خود کو دہرا رہی ہے“ ۔

مشرف حکومت نے اسمبلی اجلاس سے دو روز قبل اجلاس ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا، یہ فیصلہ تحریک بحالی جمہوریت کی 15 جماعتوں اور 6 جماعتی اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سپیکر و وزیراعظم کے انتخاب میں اتحاد کے اعلان کے ایک دن بعد کیا گیا، ان جماعتوں کا دعویٰ تھا کہ پیپلز پارٹی کی 81، ایم ایم اے کی 60، مسلم لیگ نواز کی 19 نشستوں کے علاوہ انہیں مجموعی طور پر 174 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔

مسلم لیگ قائداعظم ایک طرف حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے دعویٰ کے ساتھ اسمبلی اجلاس بلائے جانے میں تاخیر کے جواز تراش رہی تھی تو دوسری طرف مشرف کابینہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 63۔ اے میں ترمیم کا سوچ رہی تھی۔ ڈان کے مطابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا جو مسلم لیگ کے سینیٹ کے ممکنہ امیدوار تھے، اس سلسلے میں پیش پیش تھے، جب یہ خبر شائع ہوئی تو وزارت قانون کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی اور ساتھ ہی وضاحت بھی کی گئی جب آئین ہی معطل ہے تو آرٹیکل 63۔اے کیونکر لاگو ہو سکتا ہے۔ یہ تردیدی وضاحت دراصل مشرف حکومت کے عزائم کو ظاہر کر رہی تھی۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے جھنگ سے نو منتخب رکن اسمبلی مخدوم فیصل صالح حیات مسلم لیگ قائد اعظم کے ساتھ حکومت بنانے کے حامیوں کی آواز تھے یوں ان پر فارورڈ بلاک بنانے کی الزام تھا۔ جبکہ خود دربار شاہ جوانہ کے گدی نشین مخدوم فیصل صالح حیات پارٹی کو خبردار رہے تھے اگر حکومتی بینچز پر نہ بیٹھے تو پارٹی تقسیم ہو جائے گی۔

اسی اثنا ء میں مسلم لیگ نواز کے صدر جاوید ہاشمی جو ایک برس سے نیب کی حراست میں تھے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تصدق حسین جیلانی و جسٹس آصف سعید کھوسہ پر مشتمل بینچ نے ضمانت منظور کی (یہ دونوں جج صاحبان بعد ازاں عدالت اعظمیٰ کے چیف جسٹس بنے اور کئی مشہور کیسز کے فیصلے کیے ) ۔ 13 نومبر کو وفاقی وزیر اطلاعات نثار میمن نے افطار ڈنر کے موقع پر صحافیوں کو 16 نومبر کو اسمبلی کا ابتدائی اجلاس بلائے جانے کی خبر دی، اسی روز مسلم لیگ قائداعظم کے پارلیمانی لیڈر چوہدری شجاعت حسین نے متحدہ مجلس عمل، متحدہ قومی موومنٹ اور گرینڈ نیشنل الائنس کے ساتھ حکومت بنانے کا اعلان کیا اور عبوری آئین (ایل ایف او) و ماضی کی حکومتوں کو نگلنے والے آئین کے آرٹیکل 58۔ 2 ب پر سیاسی جماعتوں کے درمیان کئی نکات پر اتفاق رائے کی نوید دی۔ جب ان سے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے ممکنہ فارورڈ بلاک کی حمایت سے متعلق سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا جو بھی جمہوریت و جمہوری حکومت کی مضبوطی کا خواہش مند ہے اسے خوش آمدید کہیں گے۔

بالآخر 16 نومبر 2002 ء کو ملکی تاریخ کی گیارہویں قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلایا گیا، اجلاس کی صدارت مارشل لاء کے تحت ختم ہونے والی اسمبلی کے سپیکر جناب الہیٰ بخش سومرو نے کی۔ اجلاس کے آغاز ہی میں متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر قاضی حسین احمد، مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر جاوید ہاشمی اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سید نوید قمر نے مطالبہ کیا کہ ان کے اراکین صرف 1973 ء کے آئین کے تحت ہی اسمبلی رکنیت کا حلف لیں گے جس پر سپیکر نے انہیں تسلی دی کہ ایسا ہی ہو گا اور حلف کے الفاظ میں بھی کسی قسم کا رد و بدل نہ ہو گا۔

یوں 342 کے ایوان میں 324 اراکین نے حلف اٹھایا، بعض اراکین جو صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں بھی کامیاب ہوئے تھے انہوں نے قومی اسمبلی رکنیت کا حلف نہ لیا، 7 اراکین (قاضی حسین احمد، اعتزاز احسن، شیخ رشید، چوہدری شجاعت، فضل الرحمان، سردار آصف نکئی، سردار فاروق لغاری) جو ایک سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے انہوں نے ایک نشست پاس رکھی۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے فارورڈ بلاک بنانے والے فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر اقبال جب اسمبلی رجسٹر پر دستخط کرنے آئے تو بعض اراکین کی جانب سے ”لوٹا، لوٹا“ کے نعرے لگائے گئے۔

اراکین کی تعلیمی اہلیت کے لیے بی اے کی لازمی شرط کے سبب، پاکستان کی گیارہویں اسمبلی کو ایشیا ء کی پہلی تمام گریجویٹ اراکین پر مشتمل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 16 نومبر ہی کو صدر مملکت نے اسمبلی کے پہلے اجلاس سے چند گھنٹے قبل ایک بار پھر پرویز مشرف نے صدر مملکت کی پانچ سالہ مدت کے لیے حلف اٹھایا۔ 19 نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اسمبلی کا انتخاب ہوا جس میں مسلم لیگ قائد اعظم کے چوہدری عامر حسین 167 ووٹ لے کر سپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے مخالف پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے اعتزاز احسن 71 اور متحدہ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ 80 ووٹ لے سکے۔

ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں مسلم لیگ قائد اعظم کے سردار یعقوب 163 ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے، متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد 82 اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے نبیل گبول 69 ووٹ حاصل کرسکے۔ متحدہ مجلس عمل، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین، مسلم لیگ نواز نے ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاجی واک آؤٹ کیا۔

بالآخر 21 نومبر 2002 ء کو وزیر اعظم کا انتخاب ہوا، 58 سالہ سابقہ ہاکی کے کھلاڑی مسلم لیگ قائد اعظم کے میر ظفر اللہ خان جمالی 172 ووٹ حاصل کر کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے، انہیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے منتخب وزیر اعظم ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوا جو اب تک کسی کو بھی حاصل نہ ہوسکا۔ 342 کے ایوان میں انہیں محض ”ایک“ ووٹ کی برتری حاصل تھی اس میں بھی پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے 10 پیٹریاٹ اراکین کی حمایت شامل تھی (جو آئین معطلی کے سبب فلور کراسنگ کی بنا پر نا اہلی سے بچ گئے ) ، ان کے مد مقابل متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمٰن 86 اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے شاہ محمود قریشی 70 ووٹ حاصل کرسکے۔

معروف صحافی حامد میر کہتے ہیں اس انتخاب میں ایک وقت ایسا آیا تھا جب اندیشہ پیدا ہوا کہیں مولانا فضل الرحمٰن وزیر اعظم نہ بن جائیں سو پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین میں سے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بنانا پڑی۔ مولانا فضل الرحمٰن کو مسلم لیگ نواز اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، اس وقت واحد نشست رکھنے والی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مولانا کو ووٹ دیا تھا اور پیپلز پارٹی کے شاہ محمود اور مسلم لیگ ق کے ظفر اللہ جمالی کو کرپٹ اور ڈکٹیٹر کا نمائندہ سمجھتے ہوئے ووٹ نہ دیا تھا، سیاست کے رنگ ہیں آج وہی مولانا عمران خان کی نظر میں کہاں ہیں اور باقی ذکر شدہ اشخاص کہاں۔

342 کے ایوان میں دستیاب 329 اراکین میں سے 166 اراکین تحریک بحالی جمہوریت میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے جبکہ مشرف کی کنگز پارٹی اور اس کے حامی 162 اراکین کی حمایت رکھتے تھے اسی لیے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین میں ایک اور ”پی“ کا اضافہ کرنا پڑا اور پیپلز پارٹی نے اپنا الگ امیدوار بھی نامزد کیا۔ انتخاب کے بعد جیتنے ہارنے والوں نے تقاریر کیں، جمہوریت و جمہوری اقدار پر زور دیا، پارلیمان کی بالادستی، اور آئین کی بحالی کا بھی اعادہ کیا گیا، نو منتخب وزیر اعظم جمالی نے اپنی تقریر میں یہ بات بھی کی کہ ”(اقتدار کی ) کرسی کسی کی بھی وفادار نہیں رہی“ ۔ کیونکہ پچپن سالہ ملکی تاریخ میں تقریباً نصف وقت غیر منتخب مارشل لاء حکومتیں قائم رہیں اور کبھی بھی کوئی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا۔

ظفر اللہ جمالی کی کابینہ میں پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کو نمایاں نمائندگی دی گئی، ابتدائی طور جن پر فیصل صالح حیات کو داخلہ، راؤ سکندر اقبال کو دفاع کا قلمدان سونپا گیا۔ مسلم لیگ قائد اعظم کے خورشید محمود قصوری کو خارجہ، شیخ رشید کو اطلاعات، ہمایوں اختر کو کامرس، غوث بخش مہر کو ریلوے کی وزارت ملی دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی مناسب نمائندگی دی گئی۔ سب سے اہم وزارت وزارت خزانہ کے لیے مشرف کابینہ ہی کے وزیر خزانہ شوکت عزیز کو بطور مشیر خزانہ مقرر کیا گیا انہیں سینیٹ کا رکن بنانے کی تیاری جاری تھی۔

صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ قائد اعظم کے چوہدری پرویز الہیٰ، صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی، صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ قائد اعظم کے میر جام محمد یوسف، صوبہ سندھ میں مسلم لیگ قائد اعظم کے علی محمد مہر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

اقتدار میں آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی وزیر اعظم جمالی اور باوردی صدر مشرف کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے، اسی سبب 26 جون 2002 ء کو میر ظفر اللہ خان جمالی وزارت اعظمیٰ سے مستعفیٰ ہو گئے۔ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین مستقل وزیر اعظم کے منتخب ہونے تک قریبا دو ماہ کے لیے عارضی وزیر اعظم منتخب ہوئے، ان دو ماہ میں سینیٹر وزیر خزانہ (اقتدار مشرف کے ابتداء سے وزیر خزانہ ) شوکت عزیز کو دو حلقوں سے انتخاب لڑایا گیا، اٹک کی نشست وزیر اعظم شجاعت حسین کی بھانجی اور تھرپارکر کی نشست وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے بھانجے نے چھوڑی۔

ان دونوں پر سرکاری امیدوار شوکت عزیز کامیاب ہوئے اور بعد ازاں 27 اگست 2004 ء کو قومی اسمبلی کے ایوان میں ”گو مشرف گو“ اور ”جعلی وزیر اعظم نا منظور“ کے نعرے کی صداؤں میں 191 ووٹ لے کر وزیر اعظم منتخب ہو گئے ان کے حریف مسلم لیگ نواز کے صدر جاوید ہاشمی جو تحریک بحالی جمہوریت کے مشترکہ امیدوار اڈیالہ جیل میں قید، ہائی کورٹ میں اپیل کے منتظر تھے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیے جانے پر تحریک کی جماعتوں نے بائیکاٹ کر دیا، موجود 145 اراکین نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا یوں انہیں ایک بھی ووٹ نہ مل سکا۔

Facebook Comments HS