پاکستانی نوجوان کیا سوچتے ہیں؟


دور حاضر میں نوجوانوں کی اہمیت اور ضرورت مسلمہ ہے۔ یہ طبقہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہی طبقہ بے راہ روی کی نذر ہو جائے تو ملک اور معاشرے کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے اور وہ یقینی طور پر دوسروں کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے ریڑھ کی ہڈی ناکارہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان کی ساتویں مردم شماری 2023 کے مطابق پاکستان اس وقت یوتھ پاپولیشن ( پندرہ تا تیس سال) کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے، پندرہ اور انتیس سال کی عمر کے لحاظ سے جنوبی ایشیا میں دوسری پوزیشن پر ہے۔

پاکستان کے پاس سنہری موقع تھا اور ہے کہ اس نوجوان طبقے کی اصلاح کر کے اس کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا لے لیکن شاید یہ موقع ضائع کر دیا گیا ہے کیونکہ مذہب کے بعد اب سیاست کے اندر نفرت اور تشدد کی دہکتی بھٹی کا ایندھن یہی طبقہ ہے۔ آگ بجھانے والے تمام ساز و سامان ناکارہ ہوچکے ہیں اور کسی کو آگ کا یہ الاؤ بجھانے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ آج کے پاکستان کا نوجوان کیا اور کیسے سوچتا ہے اس بارے ایک جھلک ایک سروے کے بعد دیکھنے کو ملی ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے ادارے وائس آف امریکہ اردو نے حال ہی میں مختلف موضوعات پر پاکستانی نوجوانوں کا ایک سروے کیا ہے۔ میری دلچسپی صرف قومی معاملات سے متعلق رہی کہ ان سے متعلق آج کا پاکستانی نوجوان کیا اور کیسا سوچتا ہے اور یہ کہ ان کی سوچنے کی سمت درست ہے یا کہ بھٹکی ہوئی ہے؟ سروے میں جو 9 سوالات پوچھے گئے تھے وہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ سروے کی ترتیب کے مطابق پہلا سوال غربت سے خاتمہ سے متعلق تھا، پھر بیروزگاری میں کمی، اس کے بعد دیگر سوالات میں تعلیمی سہولیات میں اضافہ، صحت کی سہولتیں، قانون کی عمل داری، داخلی امن و سلامتی، انفراسٹرکچر میں بہتری کرپشن اور نا انصافی کا خاتمہ اور سب سے آخری سوال معاشی استحکام سے متعلق تھا۔

سروے کے مطابق 59 فیصد نے غربت کے خاتمہ کو ترجیح دی ہے، 58 کی رائے میں بیروزگاری میں کمی ہونی چاہیے۔ قانون کی عمل داری کو صرف 23 فیصد نے اہم قرار دیا۔ داخلی امن و سلامتی کو 22 فیصد نے ترجیح دی۔ کرپشن اور نا انصافی اور معاشی استحکام کی اہمیت و ضرورت کو ترجیح دینے والے نوجوانوں کی تعداد محض دس فیصد تھی۔ مقام حیرت ہے کہ معاشی استحکام، قانون کی عمل داری اور داخلی امن و سلامتی کو ترجیح دینے والے نوجوانوں کی تعداد پچیس فیصد سے بھی کم ہے۔

سروے کے مندرجات اور نوجوانوں کی ترجیحات پر نگاہ ڈالیں تو نظریں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ ان کے تعلیم یافتہ اور باشعور ہونے کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ان جوابات سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوان ایک ملک چلانے کی صلاحیت سے کوسوں دور ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ ایک بد امن معاشرے میں جہاں ہر طرف کرپشن کا راج ہو اور نا انصافی کا بول بالا ہو وہاں کیونکر غربت اور بیروزگاری ختم ہو سکے گی؟ سیاسی استحکام سے متعلق سوال سروے میں موجود نہیں لیکن اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔

پاکستان کو آج کل اسی خطرناک بحران کا سامنا ہے کہ یہاں سیاسی استحکام نہیں ہے۔ دس فیصد نوجوانوں نے معاشی استحکام کو ترجیح دی ہے حالانکہ معاشی استحکام کے بغیر کسی بھی شعبہ میں ترقی ممکن نہیں ہو سکتی ہے؟ اسی طرح اگر قانون کی عمل داری موجود نہیں اور داخلی امن و سلامتی کمزور ہے تو بے روزگاری کیسے ختم ہوگی؟ غربت اور بیروزگاری دونوں کا خاتمہ معاشی استحکام اور اندرونی امن و سلامتی اور قانون پر عمل داری سے گہرا تعلق ہے۔

سروے کے مطابق قانون کی عمل داری اور داخلی امن و سلامتی ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ شاید انہوں نے جب سے آنکھ کھولی ہے انہوں نے نہ قانون کی عمل داری دیکھی اور نہ داخلی امن و سلامتی دیکھی۔ آج کا نوجوان نہیں جانتا کہ قانون کی عمل داری کس چڑیا کا نام ہے۔ اپنے ملک میں ہر سطح پر خصوصاً سیاست کے اندر قانون شکنی نسل در نسل دیکھنے کے بعد آج کے نوجوان کے نزدیک اس کی اہمیت زیرو برابر ہو چکی ہے۔ اس کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب وہ بیرون ملک پہنچتے ہیں اور پھر جانتے ہیں کہ قانون اور عمل داری کیا ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں کے فرسودہ نظام تعلیم اور نصاب نے بالکل نوجوانوں کی راہنمائی نہیں کی بلکہ ان کو جھوٹ کی راہ کا مسافر بنایا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں سے زیادہ ملک کے اندر ہونے والی بدترین کرپشن اور نا انصافیوں کے قومی سطح پر رونما والے والے واقعات نے آج کے نوجوان کو یہی سبق سکھایا ہے کہ کرپشن اور نا انصافی کوئی ناسور نہیں ہے بلکہ یہ سماجی نعمت ہے جس کی وجہ سے یک دم پہلی سیڑھی سے چھلانگ لگا کر منزل مقصود تک پہنچ جانا ممکن ہے اور راتوں رات ککھ پتی سے لکھ پتی بن جانا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ صرف دس فیصد نے کرپشن کو کوئی مسئلہ سمجھا ہے۔ حالانکہ یہی دونوں بنیادی سیاسی اور سماجی برائیاں ہیں جن کی نشاندہی بانی پاکستان نے 1947 میں کردی تھی اور متنبہ کر دیا تھا کہ ان سے بچنا ہو گا۔ پاکستانی نوجوان کو کم از کم پہلی دستور ساز اسمبلی کی تقریر ہی سکول سطح سے پڑھائی ہوتی تو شاید نوجوان نسل اتنا برباد نہ ہوتی جتنی اب ہو چکی ہے۔ اس سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان نے ملکی سیاست، تعلیمی نصاب، سماجی زندگی سے عملی طور پر جو کچھ سیکھا ہے، اب اسی کی تمنا کرتا ہے۔

وہ نفرت کرنا، ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ لوٹ مار کو قومی مشغلہ خیال کرتا ہے اور موقع ملتے ہی بلوائی کا روپ دھار لیتا ہے۔ گویا ایک منظم طریقے سے پاکستانی نوجوان کو سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا ہے تاکہ اسے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے اور یہی کچھ ہو بھی رہا ہے گو کہ ہمارے ہاں سروے قسم کے جدید تصورات کو مانا نہیں جاتا لیکن ترقی یافتہ ممالک اور دور حاضر میں ان کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ غیر مذہبی حکمران ان نوجوانوں کی قدر و منزل سے بخوبی آگاہ ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ جرمنی کینیڈا آسٹریلیا ایسے ممالک نے ایسے تمام نوجوانوں کے لئے اپنے اپنے ممالک کے دروازے کھول دیے ہیں جو اپنے ہی ملک میں اقرباء پروری، سماجی امتیاز، نا انصافی اور مذہبی منافرت کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ پاکستانی نوجوان طبقے کو قومی اثاثہ بنانے کی بجائے اس کو سیاسی، مذہبی اور حکومتی بنیادوں پر تقسیم کر کے ہم خیال بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور اس سے بڑی ملک دشمنی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔

Facebook Comments HS