بلبل چودھری: پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا ایک گم گشتہ باب


یہ سن 1953 کی بات ہے، پاکستان کو آزاد ہوئے چھ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا۔ آج کا بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ اور اس کا ایک صوبہ تھا جو اس وقت مشرقی بنگال کہلاتا تھا۔ جولائی 1953 میں پڑوسی ملک بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو پاکستان کے دارالحکومت کراچی تشریف لائے۔ ان کی خیر مقدمی تقریب میں بلبل چودھری کا تمثیلی رقص بھی شامل تھا۔ جس کا عنوان تھا ”حافظ کا خواب“ ، بلبل چودھری 1949 میں ہی سرکاری طور پر پاکستان کے قومی ڈانسر قرار دے دیے گئے تھے۔

وزیراعظم ہندوستان پنڈت جواہر لال نہرو ان کے رقص کو دیکھ کر جھوم جھوم اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ ”اس اسلوب کے موجد ہمارے ہاں کے رقاص اودے شنکر ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اس موضوع کو جس فنکارانہ انداز میں بلبل چودھری نے پیش کیا ہے یہ ان ہی کا خاصہ ہے“ ۔ صرف یہ ہی نہیں۔ اس سے کچھ عرصے بعد بلبل چودھری غیر ملکی دورے پر تشریف لے گئے تو غیرملکی اخباروں میں ان کی شاندار کارکردگی پر کئی کالم لکھے گئے۔ کہا جاتا تھا کہ یہ ایک ایسے فنکار ہیں جو شعبہ رقص میں ایجاد اور اختراع کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔

نیم ڈرامائی شکل میں پیش کردہ مقبول رقص میں ”بنگال کا قحط“ اور ”ایرانی تیل کا مسئلہ“ اس درد ناک انداز میں پیش کیا جاتا تھا اور اس کے پردے میں نفع خور قوتوں کی سازشیں اس طرح نمایاں کی جاتی تھیں کہ جسم و جان کے تار جھنجھنا اٹھتے تھے۔ ان کا سب سے مقبول تمثیلی رقص ”بنگال کا قحط“ تھا اور شائقین کے پر زور اصرار پر ان کو یہ رقص کئی کئی بار دکھانا پڑتا تھا۔ عوام کے اس مطالبے پر الجھنے کی بجائے وہ خوش ہوتے تھے کہ لوگوں میں زندگی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، اور اپنے معاملات کی پہچان کرنے لگے ہیں۔

”ایرانی تیل کا مسئلہ“ اس وقت کی تازہ ترین ترتیب تھی۔ اور یہ اس وقت کا اہم بین الاقوامی مسئلہ بھی تھا، ایران میں تیل کی صنعت کو قومیانے کی تحریک مصدق کی قیادت میں زور شور سے جا رہی تھی۔ اس موضوع کے رقص کا بھی کا فی خیر مقدم ہوتا تھا۔ ان تذکروں سے پتہ چل سکتا ہے کہ بلبل چودھری اچھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے انسان تھے۔ اور ان کی سوچ کا حلقہ وسیع تھا، بلکہ یہ غاصبانہ ذہنیتوں کے خلاف نبرد آزمائی کی صلاحیتوں سے بھی لیس تھے۔

ان کے علاوہ علاقائی موضوع بھی ان کے پیش نظر تھے۔ ماہی گیروں کے رقص سپیروں کے رقص، مور کا رقص دوسروں کے ذریعہ بھی دیکھنے میں آتے تھے لیکن جس فنکارانہ انداز میں ان کے طائفے کے رقاص ان کو پیش کرتے تھے وہ کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتے تھے۔ قدم کی سچائی، بھاؤ کی نوک پلک سنوری ہوئی اور مناسب وضع ان کا خاصہ تھا۔

بلبل چودھری کا اصل نام ”راشد احمد چودھری“ تھا۔ وہ پہلی جنوری 1919 کو موجودہ بنگلہ دیش سابق مشرق پاکستان کے شہر چٹاگانگ کے قریب گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن میں گھر ہی میں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی، بعد میں اسکول اور کالج کی منزلیں طے کرتے ہوئے 1943 میں کلکتہ یونیورسٹی سے فنون لطیفہ میں ماسٹر کیا۔ ان میں بچپن سے ہی موسیقی اور ڈانس کا شوق پیدا ہو گیا۔ وہ بنگال کے اعلی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

اس وقت اعلی طبقے کے بچے موسیقی اور رقص جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے اس زمانے کے معاشرے کی قدامت پسند روایات کسی ایسے خاندان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتیں تھیں۔ جس کا بچہ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہو اس لیے راشد احمد چودھری کو بھی اپنی خواہشات کو دبانا پڑا۔ لیکن 1934 میں کلکتہ منتقل ہونے کے بعد پریزیڈنسی کالج میں تعلیم کے دوران ان کے بچپن کے شوق کو ایک نئی تحریک ملی۔ وہ اودے شنکر اور سادھنا بوس جیسے رقاصوں سے واقف ہوئے، جنہوں نے ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انہیں اپنے ساتھ پرفارم کرنے کی دعوت دی۔ راشد احمد چودھری نے قدامت پسند مسلم گروہوں کے رد عمل سے بچنے اور اپنی شناخت کو مذہبی طور پر پوشیدہ رکھنے کے لیے اپنا نام ”بلبل چودھری“ رکھ لیا۔

بلبل کی کوریوگرافی نے بنگالی لوک کہانیوں اور ہندو افسانوں کو ملایا، اور اس طرح کی پیش کشوں کی وجہ سے، انہوں نے کلکتہ کے سیکولر، لبرل بورژوا حلقوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ تاہم، انہوں نے محسوس کیا کہ قدامت پسند بنگالی مسلمانوں میں رائج رقص کے منفی تاثرات کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مغل درباروں میں اس کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رقص بھی مسلم وراثت کا حصہ ہے۔ اس نے صوفی رقص کے عناصر اور اسلامی روایات کی کہانیوں کو بھی اپنے ڈانس ڈراموں میں ڈھال لیا۔

ان ڈراموں میں سب سے زیادہ قابل ذکر ”انارکلی“ تھا جو سلیم اور انارکلی کی افسانوی محبت کی کہانی پر مبنی تھا۔ اس ڈرامے نے رادھا کرشن کے موضوعات کی بازگشت کی اور اس سے تحریک بھی لی، لیکن بلبل نے اسے مسلمان سامعین کے مطابق ڈھال لیا۔ اس نے آہستہ آہستہ بنگالی مسلمانوں کی طرف سے بھی اپنے لئے تہنیتی جذبات حاصل کرنا شروع کر دیے اور ان کے رقص ثقافتی حلقوں کے ساتھ مذہبی حلقوں میں بھی مقبول ہونے لگے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1942 میں ایک ناول اور کئی مختصر کہانیاں بھی تحریر کیں۔

جب مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش)، جہاں سے چودھری کا تعلق تھا، 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستانی حکمرانی میں آیا تو بلبل نے پاکستان میں رہنے کا انتخاب کیا۔ حکومت پاکستان نے بھی بلبل کی کاوشوں کو سراہا۔ لیکن جب ان کو مقبولیت اور شہرت حاصل ہونے لگی تو ان کو نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور قدامت پسند مسلم طبقہ کی طرف سے ان کو دیوار کے ساتھ لگانے کا عمل شروع ہو گیا۔ 1949 میں قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد پاکستان کو سرکاری طور پر مذہبی ریاست بنانے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ ریاست میں موجود مختلف قومیتوں کو اپنی ثقافتی شناخت ترک کر کے مسلم شناخت اختیار کرنے کی ترغیب دی جانے لگی تھی۔ بلبل کو ان کی پرفارمنس، ’ہندو لباس‘ پہننے اور نوجوان مسلم لڑکیوں کو ایسا کرنے کی ترغیب دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

افسوس کہ حالات کے اس جبر نے عین عالم شباب میں، جب اس فنکار نے ذہن و دماغ میں بھرے ہوئے موضوعات کو رقص کا روپ دینا شروع کیا تو موت کے ظالم پنجہ نے آ دبوچا اور وہ 17 مئی 1954 کو انتقال کر گئے۔ ان کی بے وقت موت پاکستان کے شعبہ رقص میں ایک زبردست خلا پیدا کر گئی۔ ان کے فن کی وارث اور امین ان کی رفیقہ حیات افروزہ تھیں، لیکن جب سوتا ہی مر جائے تو ندی بے جان ہو کر رہ جاتی ہے۔ اپنی روانی اور رفتار کھو دیتی ہے۔

انہوں نے اپنے شوہر کی یادگار کے طور پر بلبل اکیڈمی آف فائن آرٹ ڈھاکہ اور کراچی میں قائم کی تھی۔ ان کے انتقال کو 70 سال گزر گئے۔ اس دوران پاکستان میں سینکڑوں انقلابات برپا ہوئے یہاں تک کہ 1971 میں پاکستان کا وہ صوبہ جہاں سے بلبل چودھری کا تعلق تھا ایک آزاد اور خود مختار ملک بن گیا اور باقی ماندہ پاکستان ثقافتی طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بانجھ ہو گیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments