ریاست پاکستان اور عوام


پاکستان کی بنیاد 1947 ء میں مسلمانوں کو علیحدہ ملک ملنے سے رکھی گئی تھی۔ یہاں کی عوام مختلف تعلقات، زبانیں اور ثقافتوں سے مل کر متنوع ہیں۔ پاکستان کا ریاستی نظام جمہوری اور اسلامی ہے، جس میں پارلیمانی نظام اور قانون ساز ادارے بھی شامل ہیں۔ اس کے مختلف صوبے اپنی حکومتیں چلاتے ہیں اور ملک کی ترقی اور تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن اہم ہے، خاص طور پر بحری راستوں، مواصلات اور ذرائع آمدو رفت کی تیزی سے بدلتی رتیں ایک طرف چیلنجز تو دوسری جانب نئے مواقعوں کی نوید سناتی ہیں۔ پاکستان کا ساحل جنوب مشرق ایشیاء سے گزرتا ہے اور اس کی بندرگاہیں بحر العرب اور بحر الہند کے مواصلات و ذرائع آمدورفت کے لحاظ سے اسٹریٹیجک فریم فراہم کرتا ہے۔ اس کی قریبی سرحدیں چین، ہندوستان، افغانستان اور ایران کے ساتھ ہیں۔ جس سے اس مملکت خداداد کے ریاستی معاملات و امور پر اثرات پڑتے ہیں۔ یہ ملک دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ نہیں رہ سکتا اس کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے ایک اہم ریاست بنایا ہے جو اسے خود مختار ریاست ہونے، دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ان تعلقات کو بہتر بنانے بارے سب امور اس کے لئے اہم ہو گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے ریاست ماں ہوتی ہے۔ لیکن در حقیقت ریاست ماں نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک علامتی اظہار ہے جس سے مراد ریاست کا اپنے باشندوں کو حفاظت فراہم کرنا ان کی دیکھ بھال کرنا جیسے ماں اپنے بچوں کے لیے کرتی ہے۔ ریاست کے اجزائے ترکیبی چار ہوتے ہیں :

1۔ حکومت (Government) : ہر مملکت قانونی اختیارات رکھتی ہے اور عوام کے لئے فیصلے صادر کرتی ہے۔ حکومتیں عوامی نمائندگی سے بنتی اور تعطیل ہوتی رہتی ہیں۔ جس سیاسی پارٹی کو عوام کی اکثریت اپنی رائے دہی سے منتخب کرے اسے حکومت سازی اور حکومت کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

2۔ ریاست کا رقبہ (Territory) : ریاست کا مخصوص رقبہ و علاقہ ہوتا ہے، جو اس کی حدیں معین کرتا ہے۔ جس میں اس کے عوام اس کے عملداری والے رقبے کے دائرے میں رہ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ جو ان کا حق ہوتا ہے۔

3۔ عوام (People) : عوام جو اس ریاست میں رہتے ہیں اور اس کی معاشرتی زندگی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہوئے اپنے تعلقات کو نبھاتے ہیں۔ جن کی اپنی سماجی قدریں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن قومی مفاد سب پر غالب آتا ہے۔

4۔ قانون (Law) : قانون کے بغیر معاشرہ نہ تو قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی پھل پھول سکتا ہے۔ قانون کی عملداری ہی معاشرے کے اندر توازن برقرار رکھتی ہے۔ انصاف مہیا کرنا ریاست کا فرض بنتا ہے۔ جہاں انصاف کا بول بالا ہو گا وہاں سماجی و معاشرتی ترقی دیکھنے کو ملے گی۔

دنیا میں ریاستوں کا طرز حکومت مختلف ہوتا ہے اور اس میں مختلف اقسام کی حکومتیں ہوتی ہیں۔ کچھ عوامل جو طرز حکومت کو متاثر کرتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں۔

1۔ جمہوریت (Democracy) : جہاں عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے حکومت کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور یہ نمائندے ان کی نمائندگی کا حق پارلیمان میں ادا کرتے ہیں۔ اگر عوامی نمائندے ان کے حق کو دیانت داری سے ادا نہیں کرتے تو خائن ہوں گے۔ جس کے بارے قانون ہونا چاہیے جہاں ان کی گوشمالی ہو۔ ویسے عوام ہی بہترین منصف ہوتے ہیں جو انہیں اگلی مدت کے الیکشن میں دوبارہ منتخب نہیں کرتے۔

2۔ شہنشاہیت (Monarchy) : جہاں حکومتی اختیارات خصوصی خاندان یا شاہ کو مختص ہوتے ہیں۔ جہاں ان کا کہا آخری حکم ہوتا ہے۔ برطانیہ اور کچھ یورپی ممالک کے علاوہ موجودہ تمام بادشاہتیں جمہوری طرز حکومت سے دور ہیں۔ جس کی مثال مشرق وسطٰی کے ممالک و دنیا کے کیے دوسرے ممالک جہاں شہنشاہیت قائم ہے۔ وہاں گو کہ ترقی نوٹ کی گئی ہے لیکن ماحول گھٹن کی غمازی کرتا ہے۔

3۔ اشتراکیت (Socialism) : جہاں معاشی اموال اور حکومتی اختیارات عوام کے مابین تقسیم ہوتے ہیں۔ لیکن ایسی آئیڈیل سوسائٹی بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ گو کہ دنیا کے بعض ممالک اشتراکیت کے پرچارک اور اس پر عمل کرنے کے دعوے دار ہیں۔ لیکن وہاں بھی واضح اونچ نیچ نظر آتی ہے۔

4۔ وفاقی طرز حکومت (Federal) : جہاں مختلف اکائیاں یا صوبے مختار اختیارات رکھتے ہیں لیکن ایک وفاقی ملکی حکومت بھی ہوتی ہے۔ جیسے متحدہ امریکہ۔

5۔ مطلق العنانیت (Totalitarianism) : جہاں حکومت میں زیادہ اختیارات مختار خاص کے پاس ہوتے ہیں اور عوام کی حیثیت پر شدت سے قابو رکھا جاتا ہے۔

ریاست اور عوام کا آپس میں تعلق و تعاون کا رشتہ ہوتا ہے۔ ریاست کے لئے عوام موثر آواز ہیں کیونکہ حکومت عوام کی ضروریات اور حفاظت کا ذمہ لئے ہوئے ہوتی ہے۔ عوام حکومت کو منتخب کرتی ہیں اور حکومت عوام کے مفادات کے لئے فیصلے کرتی ہے۔ یہ مشترکہ رشتہ ڈیموکریٹک نظام میں مخصوص ہوتا ہے جہاں عوام کے پاس اہم حقوق اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

گو کہ ریاستوں کی بہتری کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہر ریاست مختلف معیارات، ثقافت، اور معاشرتی نظامات کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بہتر ریاست کا تعین مختلف افراد کی سوچ و فکر پر منحصر ہونا ہوتا ہے۔ اس کا طرز حکومت عوام کی فلاح و بہبود و عوام کی امنگوں کا ترجمان ہونا ہوتا ہے۔

ہر ریاست اپنی خصوصیات اور مضمرات کے ساتھ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، اور ایک ریاست کی بہتری دوسری ریاستوں کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ بہتری کا تعین افراد کے اہلیتوں، معیشتی حالات، اور اہداف کے مطابق ہوتا ہے۔

پاکستان میں مختلف قسم کے مسائل موجود ہیں، جن کی نشان دہی از حد ضروری ہے۔ ان میں سر فہرست:

1۔ معاشی مسائل: معاشی ترقی، رواں سالوں میں مختلف حکومتیں ہونے کے باوجود ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ اور اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

2۔ تعلیمی مسائل: تعلیمی نظام میں بے ترتیبی، بڑھتی ہوئی تعلیمی کمی، اور عوام کو کوالٹی تعلیم کی فراہمی میں مشکلات موجود ہیں۔ اس پر قابو پانا از حد ضروری ہے۔

3۔ صحت کا نظام: صحت کے شعبے میں مختلف مسائل ہیں۔ جیسے جیسے صحت کی سہولتوں کا فقدان ہوا صحتیابی کے مسائل پاکستان میں واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کی فیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتیں سنگین مسئلہ ہے۔ جن کا تدارک وقت کی اشد ضرورت ہے۔

4۔ سماجی امور: سماجی امور میں تعصب، خواتین کے حقوق کی پامالی، اور غیر موافق رشتوں کے تنازعات، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک معاشرے کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

5۔ سیاسی تنازعات: مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان چند سالوں سے جڑے تنازعات، ایک دوسرے پر بھروسا نہ کرنا اور مختلف حکومتوں کی مدت پوری نہ ہونے دینے کا معاملہ بھی موجود ہے۔ جہاں سیاسی عدم استحکام ہو گا وہاں ترقی کی شرح نمود میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے۔

یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جن کی نشان دہی کی گئی ہے انہیں پاکستان میں فوقیت دیتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ مختلف شعبوں میں سیاستدانوں، عوام، اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ آئیے! اس عہد کے ساتھ کہ ہم تمام چیلنجوں کا مقابلہ مردانہ وار کرتے ہوئے پاکستانی معاشرہ کو دوبارہ از سر نو منظم کرتے ہوئے اسے مثالی معاشرہ بنانے میں اپنا اپنا کردار دیانت داری سے نبھانے کے لئے پر عزم ہوں گے۔ جس میں ایک صورت قومی و صوبائی الیکشنز میں مثالی قیادت کا انتخاب بھی از حد ضروری ہے۔ اب عوام کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہ وہ کیسی قومی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments