الیکشن: ظفر وال دنیا کے سٹیج پر


اب جب کہ الیکشن کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، یخ بستہ جنوری بھی ختم ہو چکا ہے۔ جنوری کے اختتام نے سیاسی درجہ حرارت کو جہاں بڑھایا ہے وہیں جاتے جاتے آخری دو دنوں میں سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کو لمبی سزاؤں کا سندیسہ ملا ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں کہ جب برسراقتدار تھے تو مخالفین کو چور ڈاکو کے لقب سے نوازنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ایسا ہی کچھ انھوں نے احسن اقبال کے ساتھ کیا اور بھرے مجمعے میں ان پر بھی ایسے ہی کیچڑ اچھالا، جس کے جواب میں اس وقت احسن اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا ”یا باری تعالی اگر میں نے پاکستان کو لوٹا ہے تو مجھے نیست و نابود کر دینا اور اگر اس نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو اسے نشان عبرت بنا دینا“ ۔ حسن اتفاق کہیں یا قدرت کا انتقام کہ جس دن سابق وزیراعظم کو ان کے کیے کی سزا ملی، اس دن احسن اقبال ہزاروں کے مجمعے کے سامنے اپنے قائد کی بیٹی کے ساتھ ضلع نارووال کے مستقبل اور اس کی تحصیلوں متعلق امن، ترقی اور تعلیم کا جامع منصوبہ پیش کر رہے تھے۔

اکتیس جنوری کو ظفر وال میں مسلم لیگ نون نے پاور شو کیا جس کی قیادت مریم نواز شریف اور احسن اقبال نے کی۔ جلسے میں شرکت کے لیے ضلع بھر سے عوام صبح سے ہی ظفر وال پہنچ رہے تھے۔ یہ ایک ایسا جلسہ ثابت ہونے والا تھا جس کا چرچا ملکی سطح پر تو یادگار ہوا ہی، مقامی سطح پر دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ مریم نواز کا پرتپاک استقبال کیا گیا جس کا تذکرہ انھوں نے اپنے خطاب میں کچھ یوں کیا ”یقین جانیں میں آج جب یہ جلسہ دیکھ رہی ہوں تو مجھے نواز شریف کی وہ بات یاد آ رہی تھی جو وہ کہا کرتے ہیں کہ میں آگے دیکھوں، دائیں دیکھوں، بائیں دیکھوں، کہاں کہاں دیکھوں اتنا بڑا جلسہ ہے یہ اور وہ کہتے ہیں نا کہ چھکا مارا تو بال سٹیڈیم سے باہر، پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ اتنا بڑا جلسہ ہے کہ سٹیڈیم سے باہر چلا گیا ہے۔ میں نے نارووال کے بارے میں اتنی باتیں سنی تھیں مگر میری بدقسمتی کہ میرا نارووال آنا نہیں ہوا۔ اس بار جب احسن اقبال صاحب نے کہا کہ آپ نے نارووال آنا ہے تو یقین جانیں میری خوشی کی کوئی حد ہی نہیں تھی۔ میں اپنی انگلیوں پر دن گن گن کر نارووال، شکرگڑھ آنے کا انتظار کر رہی تھی اور آج مجھے سمجھ آئی کہ نارووال، شکرگڑھ اور ظفر وال مجھے کیوں بلایا جا رہا ہے۔“

احسن اقبال نے اپنے خطاب نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ظفر وال کا جلسہ ان کے نام کرنا چاہتا ہوں کہ میرے قائد آپ نے جو پاکستان کے لیے خدمات کیں، آپ نے جو پاکستان کی عوام کے لیے جدوجہد کی سزائیں کاٹیں، لوگوں نے آپ کے خلاف مہمیں چلائیں، آپ کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے، آپ کی کردار کشی کی، لیکن وہ آپ کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکے۔ آپ نے اس ضلع کو اور بارڈر پر ہر ضلع پر پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر احسان کیا ہے جو ہم نہیں اتار سکتے۔

ہر پانچ، چھ سال بعد یہ لوگ بارڈر سے نقل مکانی کیا کرتے تھے، لیکن آپ نے بھارت کے پانچ دھماکوں کے جواب میں چھ دھماکے کر کے پاکستان پر ایٹمی چھتری رکھ کر ہمارے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ آئندہ پاکستان پر میلی نگاہ ڈالنے کی جرات نہ کرنا۔ ہم آپ کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہمارے قائد نے پاکستان میں نوجوانوں کے لیے معیشت کو مضبوط کیا۔ وہ عوام جو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ میں ہوتی تھی، اس کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دی۔

وہ پاکستان جہاں ہر چوبیس گھنٹے میں خودکش بمبار اپنے دھوئیں سے ملک کو آلودہ کرتے تھے۔ ہمارے خیبرپختونخوا کے بھائیوں کے کندھے شل ہو گئے تھے جنازے اٹھا اٹھا کے۔ وہ کراچی جہاں کوئی باہر نکلتا مزدوری کے لیے تو اس کی ماں بہن مصلیٰ پر بیٹھ کر دعا کیا کرتی تھیں کہ میرا شوہر، میرا بیٹا، میرا بھائی خیریت سے واپس آ جائے۔ اس کراچی کو آپ نے امن دیا۔ آپ نے پورے ملک کے اندر سی پیک کے ذریعے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے اور وہ نو اکنامک زونز جو آپ کی حکومت بنا رہی تھی، اگر عمران نیازی کی حکومت نہ آتی اور وہ اکنامک زونز چل رہے ہوتے، آج لاکھوں نوجوانوں کو روزگار مل رہا ہوتا۔ آپ نے جو موٹر ویز بنائیں اس نے لوگوں کی زندگی آسان کر دی اور پورے ملک کو جوڑ دیا۔ آپ کے پاس مشن تھا۔ آپ ترقی کی علامت تھے۔ اسی لیے آپ لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔

آخر میں احسن اقبال نے کہا کہ میں نارووال، ظفر وال، شکرگڑھ کی عوام کو سلام کرتا ہوں کہ آپ نے جس طرح اس بہادر بیٹی کا استقبال کیا ہے۔ آپ نے ہمارا مان رکھا ہے۔ اور میں محترمہ مریم نواز صاحبہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ نارووال ضلع مسلم لیگ کا قلعہ کل بھی تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ آج اس جلسے نے 8 فروری کا نتیجہ نکال دیا ہے۔ نارووال کی ہر نشست مسلم لیگ نون جیتے گی، شیر جیتے گا۔ ان جذبوں کو کون شکست دے سکتا ہے؟

یہ نواز شریف کے شیر ہیں اور آخر میں ایک مطالبہ دینا چاہوں گا کہ یہ ظفر وال اور شکرگڑھ اس کو جن لوگوں نے پیچھے رکھا، ہم نے ان کو بدل کے نئے نمائندے دیے ہیں اور یہ میں آپ کو نواز شریف قائد کی طرف سے اور آپ کا اس دھرتی کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے وعدہ کرتا ہوں کہ جیسے نارووال بدلا ہے ایسے ہی ظفر وال اور شکرگڑھ کو بدلیں گے۔ شکرگڑھ کی ریلوے بحال کریں گے۔ ان شا اللہ ظفر وال کو اس پانی سے نجات دلائیں گے جس میں اس کے پرانے نمائندے اس کو ڈبو کر گئے ہیں۔ اس کی ٹوٹی سڑکیں بنائیں گے، سکول بنائیں گے اس کے اسپتال بنائیں گے اور ظفر وال، شکرگڑھ ترقی کا نمونہ بنیں گے۔

مریم نواز نے جلسہ میں احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بہن آج آپ کی وفاؤں کو سلام پیش کرنے آئی ہے۔ سنا ہے آپ نے نارووال کی دن رات خدمت کی ہے اور آپ کو اسی خدمت کی سزا ملی ہے۔ کون سی سزا ہے جو آپ نے نہیں کاٹی۔ بازو پہ گولی بھی آپ نے کھائی ہے اور مجھے اس دن بہت تکلیف ہوئی جب ایک عاشق رسول ماں کا عاشق رسول کا بیٹا، اس پر تہمت اور بہتان لگایا گیا۔

اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو اللہ تعالٰی نے دوبارہ عزت دی ہے، تو یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ مکافات عمل کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے جھوٹے الزام لگائے۔ کون سا ایسا جھوٹا الزام ہے جو انہوں نے نواز شریف پر نہیں لگایا۔ مسلم لیگ نون کے لیڈران پر نہیں لگایا۔ آپ کی بیٹی اور بہن پر نہیں لگایا۔ اللہ کے فضل سے آج سب سرخرو ہوئے اور یہ جو جھوٹے الزام لوگوں پر لگاتے تھے آج ایک ایک الزام ان پر لگا اور سچ ثابت ہوا۔

کل عمران خان کو دس سال سزا ہو گئی، قومی راز افشا کرنے پر قومی سلامتی سے کھیلنے پر، آج اس کی بیوی کو سزا ہو گئی۔ یہ لوگوں کو چور چور کہتے رہے وہ کہتے ہیں نا کہ وچوں وچوں کھائی جاؤ اتوں رولا پائی جاؤ۔ یہ لوگوں کو چور کہتے تھے اللہ تعالٰی نے ان سب کو سرخرو کیا اور یہ پورے خاندان سمیت اللہ کے فضل سے چور ثابت ہوا ہے۔ میں اس کی بیوی کی گرفتاری پہ خوش نہیں ہوں، میں کسی کی تکلیف پر خوشی نہیں مناتی، لیکن ایک نظام آسمان سے بھی چلتا ہے، میرے پہ کیا الزام تھا؟

میرے پہ کوئی چوری کا الزام نہیں تھا، میں بھی کسی کی بیٹی تھی، کسی کی بہن تھی، کسی کی ماں تھی، میرے پہ چوری کا الزام نہیں تھا، مجھے سزا صرف اس بات کی ملی کہ باپ کا ساتھ کیوں دیا؟ باپ کے ساتھ کھڑی کیوں ہوئی؟ لیکن بشری بی بی پر یہ الزام نہیں تھا، بشری بی بی پر توشہ خانہ سے ہیرے جواہرات لے کر، ہیروں کے سیٹ لے کر، گھڑیاں لے کر بیچنے کا، چوری کر کے بیچنے کا الزام تھا، جو ثابت ہوا آج۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ آج صبح میں ٹی وی دیکھ رہی تھی تو کچھ میڈیا والے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بڑی جلدی جلدی میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے، جی یہ جلد بازی میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ مریم نواز نے نارووال، شکرگڑھ اور ظفر وال کی عوام کو مخاطب کرتے ہوا کہا کہ کیا یہ جلدی جلدی میں فیصلہ کیا گیا ہے؟ ڈیڑھ، دو سال سے تو یہ تماشا ہم دیکھ رہے ہیں، پوری قوم اپنی ٹی وی سکرین پہ دیکھ رہی ہے کہ جب پولیس اسے عدالت لے کر جانے کو زمان پارک آتی تھی، تو کبھی پٹرول بموں سے حملہ کرتے تھے، کبھی ڈنڈوں سے پولیس والوں کی ہڈیاں توڑتے تھے اور پھر جب جانے کا موقع آیا عدالت، حساب کتاب دینے کا موقع آیا تو ویل چیئر پر بیٹھ گئے، کبھی پلاسٹر چڑھا لیا ٹانگ کے اوپر۔

چھ مہینے میں عمارتوں کے لنٹر اتر جاتے ہیں، ان کی ٹانگ سے پلستر نہیں اترتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب چوری کی ہوتی ہے، جب انسان کا دامن آلودہ ہوتا ہے، جب انسان کے ہاتھ چوری سے رنگے ہوئے ہوتے ہیں تو پھر پلاسٹر چڑھانا پڑتا ہے ٹانگ پر اور جب آپ کے لیڈر کا دامن صاف ہو، نواز شریف کی طرح ہاتھ صاف ہوں، تو نواز شریف شیر کی طرح دو سو پیشیوں پہ سینہ تان کر عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ جب انسان بے گناہ ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی کی طرف سے بہادری اس کے سینے میں آجاتی ہے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ میں ظفر وال سے، شکرگڑھ سے، نارووال سے یہ کہنا چاہتی ہوں اور میں احسن اقبال سے بھی یہ کہنا چاہتی ہوں کہ احسن اقبال صاحب جس طرح نارووال کو آپ نے ترقی دی، نارووال کو سجایا، نارووال کو بنایا اب آپ کی یہ ذمہ داری ہے اور میری ذمہ داری ہے کہ ہم شکر گڑھ اور ظفر وال کو بھی اسی طرح سجائیں گے، بنائیں گئے اور ترقی دیں گے ان شاء اللہ اور احسن اقبال صاحب نے کہا کہ عوام کا مطالبہ ہے کہ نارووال، شکرگڑھ ریلوے سیکشن کو بحال کیا جائے، تو ان شاء اللہ یہ وعدہ رہا کہ آپ شیر کو ووٹ دو، یہاں سے شیر جیتے گا ان شاء اللہ تعالٰی تو نواز شریف سے کہہ کر یہ نارووال، شکرگڑھ ریلوے سیکشن بحال کرائیں گے۔

مریم نواز نے اقلیتی کارکنان کو سلام پیش کیا اور ایک مرتبہ پھر نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا نوجوان ہاتھ کھڑے کر کے بتائیں کہ آپ کو اپنے ہاتھ میں پٹرول بم چاہیے یا لیپ ٹاپ چاہیے؟ آپ کو نوکریاں، تعلیم اور روزگار چاہیے یا کیلوں والے ڈنڈے چاہئیں؟

اختتام پر انھوں نے کہا کہ 8 فروری نواز شریف کی فتح کا دن ہو گا ان شاء اللہ اور 8 فروری کے بعد ایک ایک کر کے آپ کی ساری تکلیفیں، آپ کے سارے مسائل، آپ کے سارے دکھ درد اللہ تعالی ایک ایک کر کے آپ سے دور لے جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالٰی۔

Facebook Comments HS