نئے ہندستان میں جمہوریت کا مستقبل


ہندستان تبدیلی کے دورانیہ سے گزر رہا ہے۔ اس تبدیل ہوتے ہندستان کی دو توضیحات ممکن ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس عبوری ہندستان کا مستقبل ترقی پذیر ہے جس میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے دو مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ اولین توضیح تو یہ ہے کہ ہمارے سامنے جو ہندستان ہے وہ تتر بتر ہو چکا ہے۔ اس بر صغیر کی دیواریں متزلزل ہوتی جا رہی ہیں، اپنے ہم سایہ ممالک اور ریاستوں سے اس کے رشتے ٹھیک نہیں ہیں، یہ جغرافیائی اور سماجی طور پر اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، نیز اسے سیاسی طور پر متحد رکھنا ناممکن نظر آ رہا ہے۔

مزید تہذیبی اور تمدنی طور پر بھی اس پر کئی طرح دباؤ پڑتے آرہے ہیں۔ جن سے اس تہذیب کا روایتی توازن اور پائے داری بگڑ سکتی ہے۔ حالاں کہ کئی لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ تمدن پہلے بھی کئی طرح کے حملوں کو جھیلنے کے باوجود کسی نہ کسی طور ٹکا رہا ہے، لیکن اس بار صورت حال تشویش ناک ہے۔ ہندستان پر ایک طرف صارفیت اور عالمگیریت کا حملہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف نت نئے تصادم کے شروع ہو جانے سے بڑھتے فرقہ ورانہ فسادات کے رجحانات اس کے سماجی تانے بانے کو اندرونی طور پر تار تار کیے دے رہے ہیں۔

ثالثی، صلح اور گفت و شنید کے ذریعہ سے تنازعات کو نمٹانے کی روایت طویل عرصہ تک ہندستانی جمہوریت کا خصوصی گن رہی ہے، لیکن فرقہ پرستی کی موجودہ صورت حال کے سبب یہ رجحانات اس تہذیب کی خوبیوں سے پرے چلے گئے ہیں۔ یعنی ہم جس ہندستان کو جانتے ہیں وہ صرف ’بحران‘ میں ہی نہیں ہے بلکہ اپنی تباہی اور بربادی کے آخری دور میں داخل ہو چکا ہے۔

لیکن اس عبوریت کی بالکل مختلف طریقہ سے بھی توضیح یہ کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب ایک نئے ہندستان کی پیدائش کا لیبر پین (درد زہ) ہی ہے۔ اس توضیح کے مطابق ہندستانی ساخت خاصی کثیر الوسعت بلکہ تہہ دار ہے، شاید اسی لیے یہ اپنے کسی بھی صاف ستھرے، واضح اور متعین خد و خال طے کرنے کی کوشش کو ناکام بناتی رہتی ہے۔ اظہار رائے کے اس مسئلہ کا ایک سبب یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ایک مختلف نوعیت کی حقیقت کو دانشورانہ سطح پر سمجھنے، سماجی بنیاد پر اس کے ساتھ تال میل رکھنے اور اسے قبول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ ایسی حقیقت ہے جو عملی طور پر قائم غیر منظم گروہوں اور ’دیسی‘ طبقۂ اشرافیہ کے ابھرنے کے اثرات لیے ہوئے ہے۔ ہم اسے سمجھنے اور اس سے تال میل رکھنے میں اس لیے ناکام رہے کیوں کہ ہم اب تک وطن کو بلندیوں پر بیٹھ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے مسلسل ایک ’سسٹم‘ اور ’سسٹم کی تبدیلی‘ کی جستجو میں مصروف رہے ہیں۔

یہ نقطۂ نظر نہ صرف قومی سطح کے رہ نماؤں، نوکر شاہوں اور منصوبہ سازوں کا ہے، بلکہ اکیڈمیشین اور عالی شان دفاتر کے بند کمروں میں بیٹھے میڈیا محنتوں کا بھی ہے۔ علاوہ ازیں یہی نظریہ ان سوشل ورکرز اور این جی اوز کے مراکز میں براجمان کارکنان کا بھی ہے جن کے ذریعہ سماجی اصلاحات کی ڈھیر ساری مہمیں چلائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ معلومات کی بہتات کے شکار ہیں۔ ڈھیر ساری اطلاعات اور آگاہی رکھنے کے باوجود ان کی فہم ناقص ہے۔ (اعلیٰ طبقات کے مفاد اور اشرافیہ کے عدم تحفظ کے احساس کے سبب علم و آگہی بھی مسخ ہو کر رہ گئی ہے ) ۔

عوامی ’فکر‘ کے متعلق ان نام نہاد اعلیٰ مراکز میں سے ہر ایک کافی واویلا مچا چکا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کوئی قانون کی تعمیل نہیں کر رہا ہے۔ طویل عرصہ سے منظور شدہ عوامی مفادات کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اخلاقی سطح میں کافی گراوٹ آ چکی ہے اور ہر فرد آئین میں مذکور اقدار اور وعدوں کے بنیادی ڈھانچوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔ باوجود اس کے، کیا اس کا سبب یہ تو نہیں ہے آج عوام کے جم غفیر کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ ان مسائل سے بنیادی طور پر مختلف ہیں جن کا وہ گزشتہ 25۔30 برسوں سے سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عوام الناس ایسی ہجرت کے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ماقبل میں مروجہ ضابطۂ اخلاق غیر متعلقہ ہو کر رہ گیا ہے اور نئے ضابطہ کا اب تک جنم ہی نہیں ہوا ہے؟ دراصل اقدار اور وعدوں کے نظر انداز کرنے کا شوروغوغا ان خود ساختہ قوانین کی طرف سے سنائی دیتا ہے جو ایسی اقدار اور نظام میں بندھا ہوا ہے جو عوام کے جم غفیر کے لیے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

قصہ یہ ہے کہ ایک وطن کے روپ میں ہماری خود اعتمادی ختم ہو گئی ہے اور یہی اس بے چینی کا اہم سبب ہے۔ اس ملک کو اب تک جس طرح کے لوگوں کے اقتدار کے ذریعے چلایا جاتا رہا ہے، ان کے رجحانات صاف طور پر مفاہمتی اور قومیت کے تھے۔ یہ لوگ ملک کو آگے لے جانے کی خاطر مکمل نہ سہی مگر کچھ حد تک متعین اقدار اور پہلے سے طے شدہ طریقوں کا استعمال کرتے تھے۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس میں کافی ٹھہراؤ تھا، جس میں ’نمو‘ اور ’ترقی‘ کا تسلسل تھا اور ملک/ریاست ٹکے نظر آتے تھے۔

آج نہ صرف ہماری خود اعتمادی ختم ہو چکی ہے بلکہ وہ امید بھی ختم ہو گئی ہے جس کے سبب زیادہ تر لوگوں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ رمق نظر آتی تھی۔ (حالاں کہ بالکل نچلے درجے پر نظر انداز کردہ لوگوں کو اس وقت بھی امید نہیں تھی۔ ان لوگوں کی پروا کسی کو بھی نہیں تھی۔ لیکن ایسے محروم کردہ لوگوں کو اتنا ضرور لگتا تھا کہ ایک نہ ایک دن ’ارتقائی ماڈل‘ انھیں اس پستی سے نکال لے گا۔ ) پہلے ہمیں لگتا تھا کہ ہم ایک ایسے ملک کا حصہ ہیں جو کسی نہ کسی طرح ہمیں آباد رکھے گا، ہمیں صحت، تعلیم اور معقول بودوباش کی کم ازکم سہولیات مل جائیں گی۔ سارے انڈیکس گروتھ کرتے رہیں گے، اوسط عمریں بڑھتی رہیں گی، نوزائیدہ اموات کی شرح گھٹتی رہے گی، لوگ سطح غربت سے اوپر اٹھتے رہیں گے۔ اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں گی، خواندگی سست رفتار سے ہی سہی لیکن بڑھتی رہے گی۔ ان شہروں کی ترقی ہوتی رہے گی جو اپنی گندگی اور اپنی گم نامی کے باوجود کمزور طبقات کی صورت حال میں بہتری کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ بکثرت لوگوں کی زندگی میں تحریک و عمل کے متعدد مواقع آتے رہیں گے، مثلاً نئے کاروبار، دست کاری سے بنی اشیا کی مارکٹنگ، تخلیقی آرٹ، ڈیزائن اور گرافک کی دنیا، سائنس دانوں اور عوام جدید سائنس کے اسرار کے متعلق واقفیت کرانے میں لگے دیگر لوگوں کے وسیع تجربات جاری رہیں گے۔

دقت یہ ہے کہ ان سارے کاروبار کے جاری رہنے اور اس کی توسیع کے باوجود ہم میں جوش اور جذبہ جیسے ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اب یہ سب کاروبار اجتماعی کوششوں کا جزو نہیں لگتے۔ ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ سب ہندستانی سماج کی تصویر بدل رہے ہیں۔ اب اس میں پہلے جیسی ہم آہنگی اور خوداعتمادی نظر نہیں آتی ہیں۔

بالخصوص اب یہ توقع تو ختم ہی ہو چکی ہے کہ قومی بہبود و خوش حالی میں ہر شخص حصے دار ہو گا۔ غریب سے لے کر متوسط طبقہ تک عوام کے وسیع تر طبقات میں عدم تحفظ کا احساس نمایاں طور پر بڑھ رہا ہے۔ صرف سماج کے امیر ترین طبقہ ہی کو اس کی رعایت حاصل ہے جس کی بد نما اور بے رحم طریقۂ زیست نے لوگوں کے من میں نا انصافی اور علیحدگی کے تئیں غصہ بھر دیا ہے۔ یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ جو امیر ہوسکتے ہیں، ہوجائیں اور جو نہیں ہوسکتے، انھیں ان کے حال پر چھوڑ کر بھلا دیا جائے۔

یہ ذہنیت ترقی پذیر متوسط طبقے کے پروفیشنل لوگوں کی بھی ہے۔ ان میں نہ صرف وکیل، ڈاکٹر اور پی ڈبلیو ڈی کے کرپٹ انجینئر شامل ہیں، بلکہ اکیڈمیشین، صحافی اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنان اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں غیر ملکی نوکریاں مل سکتی ہیں، یا جنھیں بیرونی ممالک کے دورے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن، ابھی تک ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے میں مصروف اس متوسط طبقے میں بھی نزول کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی، پیٹرول جیسی پر تعیش میٹریل اور رہائش کے ہائی پرائس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت جیسی ضروری خدمات میں آئی کمی انھیں تنگ کر رہی ہے۔ ان صورت حالات نے ترقی اور اچھی زندگی کے بارے میں ان کے قدیم مفروضوں کو باطل کر دیا ہے۔

زندگی کے ممکنات کے بارے میں خود اعتمادی اور رجائیت کے اس کشیدگی کے ساتھ اچھا کام کر سکنے کی ریاست کی صلاحیتوں پر سوال کھڑا کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شناخت، بالخصوص قومی شناخت کا نقصان تو ہوہی رہا ہے، راج دھانی یعنی نئی دہلی کی اہمیت بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے وقار اور اختیار میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ وزیراعظم، دیگر وزرا، انڈر سیکرٹریز سے لے کر حکومتی بندوبست اور متعدد کمیشنز کے ممبران اور سب سے اوپر ’نیتی آیوگ‘ کے تئیں لوگوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔

یہی وہ حالات ہیں جن میں شناخت کی تلاش ہو رہی ہے۔ ماقبل میں قائم شدہ شناخت کے آر پار نئے رشتے کے قیام کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تعلقات میں ہو رہی تبدیلیوں کو نئے ڈھنگ سے سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ چہار جانب ہو رہی سخت مخالفت اور عدم تحفظ کے ماحول میں نئی قیادت کے مکمل فقدان نیز نئی اور متعلقہ نظریات کی کمی کے باعث اس جدید فہم کے تئیں لوگ ابھی غیر مطمئن ہیں۔ باوجود اس کے جدید فہم اور اعتبار کی علامات نظر آ رہی ہیں۔

قدیم بندھنوں سے گلو خلاصی ہونے کا احساس پیدا ہونے لگا ہے، معاً ممکنہ جدید رشتے کے متعلق بے چینی بھی ہے کیوں کہ یہ نئے بندھن موجودہ بندوبست کو درہم برہم کر سکتے ہیں اور اس کے سبب کشیدگی اور انارکی کا بھی خدشہ ہو سکتا ہے۔ قدامت سے آزادی اور جدت کے خوف کا ملا جلا احساس پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ وہ خاص نوعیت کا مزاج جسے ’آزادی میں موروثی خوف‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی میں اس خوف سے آزادی کا امکان رہتا ہے جو نہ جانے کب سے کتنے ہی لوگوں کو نئے نئے رستے اختیار کرنے کا خطرہ اٹھانے سے روکتا رہتا ہے۔

چوں کہ اکثر لوگوں کے لیے مستقبل ابھی غیر متعین ہے۔ اس لیے اس کے متعلق رجائیت پسندی یا مایوس ہونے کی کوئی تک نہیں ہے۔ چاروں طرف گہرے ابہام کا راج ہے۔ بائیں بازو والے ہوں یا دائیں بازو والے، مذہبی ہوں یا مذہب بے زار، روایت پسند ہوں یا مغرب زدہ سبھی اس کی زد میں ہیں۔ حالاں کہ ہندوستانیوں کے لیے یہ ابہام کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن اس مرتبہ نیا رجحان زبردست شکل و صورت سے تبدیل شدہ سماجی اور سیاسی ماحول میں ظاہر ہوا ہے۔ مزید برآں یہ احساس بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ادارے اب توقع کے مطابق فرائض انجام نہیں دے رہے ہیں۔ عوام کا گمان ہے اشیا منتشر ہو رہی ہیں، مگر ایسے لوگ بھی ہیں جو ان حادثات کو اہم مانتے ہیں کیوں کہ ماضی میں ان کے کچھ خاص تھا بھی نہیں۔

یہ صورت حال شہری علاقوں اور ان میں بھی بڑے شہروں میں زیادہ صاف نظر آتی ہے۔ اسے کچھ لوگوں نے پوسٹ ماڈرن کی اصطلاح بھی دی ہے۔ شہری آبادیوں میں تیزی سے ہوتے اضافے کا حقیقی مقصد ہم اب تک نہیں سمجھ سکے ہیں۔ ہم اس حقیقت کا ادراک بھی ابھی پوری طرح سے نہیں کرپائے ہیں کہ بڑھتی بدامنی شہروں میں خود کو ایک دم نئے طریقے سے ظاہر کرے گی اور بالکل نئی طرح کے گروہوں اور سماجی تنوع کے نئے تاثرات کے ابھرنے کا امکان پیدا ہو گا۔

ہم شہر کو طویل عرصے سے نظر انداز کر رہے ہیں اور وہ بھی ایسے دور میں جب دیہات کے علاقوں اور ماحولیات کو اس سے بھی بڑے پیمانے پر نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نظر اندازی کے سبب گاؤں کی کام کا جی آبادی شہروں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہے۔ یہ صورت حال ہمیں بالکل مختلف نوعیت کے مسائل پر دھیان دینے پر مہمیز کر رہی ہے۔ ایسے مسائل کو بالعموم ’شہریت‘ کے مسائل کے دائرے میں نہیں سمجھا جاسکتا۔

’غیر منظم علاقہ جات‘ کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس میں ذات پات اور طبقات کی نئی ساخت ابھر رہی ہیں۔ گاؤں سے شہر آنے والے طبقوں میں پس ماندہ، دلتوں اور سماجی بنیادوں سے کٹے ہوئے افراد کے وجود میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم اعتمادی سے تمتمائے لوگوں اور غیر مطمئن خواتین کا گروہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لاکھوں کروڑوں بے گھر بچے محنت مزدوری اور جسم بیچنے پر مجبور ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اپنے مسائل سے دوچار روایتی اعتقادات کو ترک کر رہے ہیں اور ہم نئی قسم کے خیالات، رویہ اور طریقوں کے استعمال میں مصروف ہیں۔

نئے اعتقادات اور رویہ و طریقوں کا فریم ورک واضح نہیں ہے۔ سماجی اور دیگر علاقوں میں سرگرم ہو کر نئے مواقع حاصل کر رہے نوجوانوں، نادار خواتین اور روایتی دست کاروں و ہنر مندوں کے سامنے ذات پات اور خاندان کے مستقل ڈھانچے کے علاوہ کوئی اور ماڈل نہیں ہے۔ مگر نئے چیلنجز کا سامنا کرنے میں مذہبی عقائد کم سے کم مفید ثابت ہو رہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہمیں اقتصادی حیات کے برعکس بالکل نئے حوالوں، سیکولر سیاست کے نئے ڈھانچوں اور عوامی سماج کے اژدہام سے دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔

’رجحان سازی‘ کا مطلب صرف نوکریوں میں ریزرویشن اور متوسط طبقے کے من میں اقتصادی اندیشے پیدا کرنے سے کہیں زیادہ انھیں سمجھنا ہے۔ اس رجحان نے ایسے موقع پر غریبوں کے سیاسی اور سماجی دعوے کو ظاہر کیا ہے۔ جب لبرلائزیشن کی اقتصادی پالیسیاں اور ہندوتو کے سوشل چیلنجز اس کے وجود کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ لیکن لبرلائزیشن اور ہندو تو، دونوں ہی ناکامی کے اندیشوں کے شکار ہیں۔ یہاں پر یہ کہنا بے محل نہ ہو گا کہ موجودہ ہندستان کے پاس سماجی قوتوں کے اس نئے اجتماع کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے جب کہ یہ طاقتیں سیکولر اقدار جمہوری طرز کی نئی تعبیرات کی مانگ کر رہی ہیں۔

اندرا گاندھی نے ایک بار کہا تھا کہ ہندستان میں بکثرت دو ہی طبقے پائے جاتے ہیں۔ ایک غریب اور دوسرے نوجوان۔ غریبوں کے مطالبات کو عہد بہ عہد درکنار کیا جاتا رہا ہے۔ اس ضمن میں متوسط طبقے کی اخلاقی حمایت کا بھی اظہار ہو چکا ہے۔ لیکن جب غریبوں کی اکثریت نوجوان ہو تو وہ اپنی موجودگی تسلیم کروا کے ہی رہتی ہے خواہ وہ بڑھتا مطالبہ بدامنی کا باعث اور قدیم ڈھانچے میں اتھل پتھل پیدا کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ بہر حال مستقبل کے لیے کسی بھی ٹھیک ٹھاک اندازے کے تعین کے لیے نوجوان نسل کے ممکنات اور ارادوں سے پوری آگہی لازمی ہے۔

اسی نقطے پر موجودہ نوجوان نسل کے اندر زبردست تناؤ کی کیفیت اور کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف معاشی طور پر خوشحال نوجوان نسل کے اندر مغربی طرز کی صارفیت، منشیات کا بے دریغ استعمال اور گھر پریوار کے دائروں سے باہر طبقۂ اشرافیہ کی سی لطف اندوزی کے تئیں کشش بڑھتی ہے۔ دوسری جانب زیادہ سے زیادہ خوش حالی اور فارغ البالی حاصل کرنے کے لیے نوجوان نت نئے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان سے بعض شرپسند افراد اور فرقہ پرست گروہ طاقت کے مظاہرے کی غرض سے سڑکوں پر غنڈہ گردی اور فرقہ واریت یا فساد یا خود کے خلاف تشدد (جیسے خود سوزی) وغیرہ کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ غریب نوجوانوں کو بازار اور ماس کمیونیکیشن کے مایا جال میں پھنسانے کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ امکان اس بات کا رہتا ہے کہ وہ سسٹم کے اندر اپنی جگہ بنانے کے لیے ہی کوشاں رہیں، خواہ وہ جگہ فٹ پاتھ پر بسیرا کرنے والے بچوں یا چائلڈ لیبر کی شکل میں ہی کیوں نہ ملے۔

اس نظام کے دروازے ایسے نوجوان کے لیے نہیں کھل سکتے اور یہ ہرحال میں محدودیت (نوکریوں کی کمی، حسد اور عدم اعتمادی کی کثرت) ہوتی ہی چلی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ نو آبادیاتی منصوبہ بنانے والی بیرونی طاقتوں سے انضمام اور بہتر انصرام کی منصوبہ بندی کی توقع لاحاصل ہی ہے۔ ان حالات میں نئی قدروں کی بحالی کی تو کوشش کرنی چاہیے۔ کم از کم اس کی فعال جستجو تو ہونی ہی چاہیے۔ اس دوران مفادات کا ایک نیا گٹھ جوڑ بھی ابھر سکتا ہے جو طبقات اور ذاتوں کی پنپتی تحریک سے قوت حاصل کرتے ہوئے ایک نئی تحریک کو صورت و ہیئت عطا کرے گا۔ یہ نئی تحریک ’تعلیم‘ نئے کاروبار کی تربیت اور ترسیل کے نئی طرح کے تجربات کی جدید ضروریات پر مبنی ہو گا۔ موجودہ آزاد خیال طریقے شاید نوجوانوں کی ان ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے، اس لیے ’مضبوط جمہوریت‘ کی اپنی تلاش کو مضبوط کرنے کی غرض سے نئی نسل نئے طریقے ایجاد کر سکتی ہے۔

طبقہ، نوجوان، عورت اور ذات پات کے ان ہی ابھرتے سوالوں کے پس منظر میں آنے والے برسوں اور دہائیوں میں ہندستانی کشمکش کی تعمیر نو کے چیلنج سے ہمیں نمٹنا ہو گا۔ ریاست جیسے جیسے انصاف یقینی بنانے اور ابتدائی سماجی فلاح و بہبود کے کاموں، تعلیم اور صحت، آبادکاری اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمے داری کو ترک کرتی رہے گی، ویسے ویسے نئے ادارہ جاتی ماڈلس کی ضرورت پیدا ہوتی جائے گی۔ نئی مفاہمت ’مزدوروں‘ کے ذریعے جاری کردہ نئی تنظیموں (کمانی تجربہ ایک مثال ہے ) کی شکل میں نئے خود مختار طبقے بنتے ہیں۔ نتیجتاً عوامی گروہ کے ذریعے فراہم کردہ گنجائشوں کو نئی شکل و صورت دینی پڑتی ہے۔ اس گنجائش پر اب تک ایک مرکزیت اور کلونین نوکر شاہی حاوی تھی۔ نئے حالات میں اسے حیات نو اور نئی ’آزادی‘ ملنے کی توقع ہے۔

ان صورتِ حالات میں ایک نئی جدا سیاسی ہیولہ بھی اُبھر سکتا ہے۔مرکز یعنی نئی دہلی میں ہی سب کچھ نہ دیکھنے کی ابتدا کافی پہلے ہوچکی ہے۔نہ صرف نسلی تشخص اور علاقائی خود مختاری کی تحریکات مرکز سے دور جا رہی ہیں بلکہ سماجی اور معاشی انصاف کی تحریکات بھی اس سے چھٹکتی جا رہی ہیں۔اسی فہرست میں عورت کا وجود بالکل نئے طرح کا دعوا پیش کر رہا ہے۔اس دعوے میں جبر کے ملکی ڈھانچے کے خلاف بغاوت کے گہرے جذبات ہیں۔یہ جذبات شہروں اور بین الاقوامی رجحان والے حقوق نسواں کے علم برداروں میں نہیں پائے جاتے تھے۔

(حالاں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ دوسرے والے حقوق نسواں کے علم بردار پہلے والوں کے لیے گنجائش پیدا کر رہے ہیں ) اسی سلسلے میں ’ہندستان‘ کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے والے عمل کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ہندستان شرد جوشی کے ذریعے (نام نہاد ترقی پسند کسانوں کی طرف سے ) درجہ بندی کرنے والا ہندستان نہیں ہے۔ بلکہ قبائلی اور مختلف دیسی گروہوں میں پائی جانے والی زمینی جمہوریت کی اصلیت اور سنجیدہ جستجو کے ذریعے متعین کردہ ہندستان ہے۔ یہ ان روایتی دست کار طبقوں کا ہندستان ہے جو ہندستانی دست کاری اور تمدن کے احیا کی کوشش میں مصروف شہری اور بین الاقوامی صنعت کاروں سے دو دو ہاتھ کر رہے ہیں۔ یہ ان فن کاروں، کارکنان اور متبادل میڈیا کے حامی افراد کا ہندستان ہے جو اپنے اور اپنے ملک کے لیے نئی قدروں کی جستجو کر رہے ہیں۔

یہ سب ہی مل کر نئی قسم کے ’خصوصی خود غرضیوں‘ یا اقتدار کے گلیاروں میں گروہ بندی کر رہے پیشہ ور اور صنعت کار گروہوں کے خلاف یعنی غیر ملکی مفادات سے مفاہمت کرنے والے ان ملک دشمن عناصر کے خلاف ہیں جو ’قومیت‘ کا بھیس زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں قدیم سوشل بیان بازیاں بھی ان لوگوں کے گلے سے نہیں اتر رہی ہیں۔ اس عالم میں طاقتوں کی نئی گروہ بندیوں کے ابھرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس نئے ماحول کی تاثیر کیا ہے؟ یہ تشخیص موجودہ نسل کو بے چین کر سکتی ہے۔ مگر یہ ان ممکنات اور نئی امیدوں کے در کھولتی ہے جو ملک کو جمہوری با اختیار بنانے کی نئی پہل کی جانب لے جائیں گے۔ اس سے ان سماجی طبقوں کا اوپر اٹھنا لازمی ہو جائے گا جنھیں اس ’ترقی پذیر‘ سماج میں حاشیے پر رہنے کو مجبور کر دیا گیا تھا۔ آج وہ طبقہ نیا کردار ادا کرنے کے لیے پر اعتماد ہے۔ اس قدر بے یقینی، اتنے تصادم اور اتنے امتیازی سلوک کے باوجود اس طبقے کو اوپر اٹھانے کے ساتھ ایک نئے شعور اور نئی ہم آہنگی کی بنیاد قائم کرنی پڑے گی۔

ہندستانی تہذیب کا ایک قدیم تمدن خو بی شعور کے تئیں اس کی گہری رواداری کی صورت میں ہو رہا ہے۔ آج کا ہائی ٹیک طبقۂ اشرافیہ کسی نہ کسی طرح کے مقصدی جوڑ توڑ کے مطابق چیزوں کو چلانا اور خدشات کو دور کرنا چاہتا ہے۔ نیز درمیانی صورت حال کو قبول نہ کرنے والے دلائل کے سہارے جینا چاہتا ہے۔ ان جدیدیت پسندوں اور ان کے ’مابعد جدید‘ وارثین کا دور اس ملک میں ہی نہیں، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی خاتمے کے دہانے پر ہے۔ اس کا مطلب کسی قدیم ماضی کی طرف مراجعت نہیں ہے کیوں کہ ’نشاۃ ثانیہ‘ کے لیے ’ماضی‘ ہمیشہ موجود نہیں رہتا۔

ہمیں نئے طریقے سے یہ قبول کرنا ہی ہو گا کہ ہمارے جیسے سماجوں کے لیے تنوع قدرتی کیفیت ہے۔ امتیازی برتاؤ ایک تمدنی رجحان ہے اور اقدار کی اکثریت کی حامل ریاست کے اوتار کی تشکیل کا عمل ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ کسی ایک مرکز کے بغیر ہی ہماری تہذیب کا وجود ہے۔ اس تہذیب میں با اختیار نیا اشرافیہ طبقہ تو ہے مگر وہ آمرانہ صلاحیتوں کا مالک نہیں۔ یہ تہذیب ایک غیر متعینہ حقیقت کی توضیح کو صحیح اور غلط کی نئی شناخت کے تناظر میں، ’مذہب‘ کے تناظر میں، ہمارے اپنے لوگوں کے ذاتی کارناموں کے تناظر میں اور نیچے سے اوپر کی طرف جانے والی ایکتا ہی ایک نئے قومی (وفاقی) تصور کے تناظر میں کر سکتی ہے۔

یہی ہے وہ فضا جس میں ایک نئی بیداری اور بہترین اقدار کی تشکیل نو کے امکانات ہیں۔ یہ فضا فوری طور پر اپنی وسعتوں کے تعلق سے غیر متعینہ ہے تاہم امکانات کی آہٹوں سے پر ہے۔

ہم اس ڈی سنٹرلائزڈ سماجی/سیاسی ڈھانچے کی طرف نہیں لوٹ سکتے جسے اس قدیم ملک میں کبھی مستحکم کیا گیا تھا۔ لیکن اس ابھرتے تصور کے تئیں تسلسل ایک ایسے تمدنی مزاج کو پھر سے متحرک ضرور کر سکتے ہیں جو ایک ’ریاست‘ کے اکثریتی ڈھانچے کے لیے مناسب ہو۔ اس لیے نظریاتی کوششوں کے ایک سلسلے کی ضرورت ہے۔ اس میں قومی اقدار کا احیا، ’ریاست‘ کی تشکیل نو، ہندستان کے نام سے معروف ہونے والے تمدنی اور تہذیبی رشتوں کے عناصر کی دوبارہ تلاش (نہرو اور رادھا کرشن سے آگے ) شامل ہیں۔

اس کی جغرافیائی، سماجی، تمدنی، نفسیاتی اور کلاسیکی جمالیات کی ایکتا کے تصور کو دوبارہ گڑھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ان سب کے ذریعے سے رپبلکن سسٹم کو فوری ڈی سنٹرلائزڈ کرنے اور اس کا نیا مرکز متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اس نظام کو نیچے سے مستحکم کیا جائے، اس کا علاقائی استحکام (پنجاب، کشمیر اور تمل ناڈو کے چینلجز کے تناظر میں ) اور سماجی استحکام (متعینہ حلقوں کے تناظر میں ) بھی کیا جائے۔

اس میں گہرے حالات کا شعور (جیسے کہ نرمدا اندولن کا چیلنج ہے ) اور وسیع اقتصادی فلسفے (عالمگیریت کے خلاف جدوجہد کے چیلنج کے پیش نظر) کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح ایک نئے اور نو تشکیل جمہوری ڈھانچے کو بنانے کی ضرورت ہے جو سماجی کائنات میں مچی تازہ اتھل پتھل اور ماقبل کے تہذیبی رجحانات سے تحریک حاصل کرتا ہو۔ ان ہی قدیم تہذیبی رجحانات نے ہندستان کو آغاز سے ہی جمہوری راستہ اختیار کرنے کے لائق بنایا تھا۔

واضح ہے کہ اس بدلتے ہوئے ہندستان کی دوسری توضیح سے ہم متفق نہیں ہیں کہ ایک نیا ہندستان لیبر پین سے گزر رہا ہے۔ اسی تصور کے ذریعے ہم مستقبل کی ایک جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ان نئی طاقتوں کے متعلق مناسب ذہنی ارتقا کی ضرورت پڑے گی جو مستقبل کو خد و خال دے رہی ہے۔ یہی تاریخ کا فرمان ہے اور اس سے بہرہ ور ہونے کے لیے ایک نئے سیاسی استحکام کی ضرورت پڑے گی۔ ذہنی ارتقا اور سیاسی عمل کا یہ اتفاق تاریخی حقائق کے تئیں مناسب وقت پر مناسب ردعمل کی بنیاد پر اور مناسب افراد کے ردعمل کے قابل بنا کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مشغول ہونے کا رجحان ترک کرنا پڑے گا۔ جلدی پہل کردینے یا عمل کرنے کے فتنے سے بھی ہر حال میں بچنا ہو گا۔ منسلکہ اور غیر منسلکہ کے باہمی ربط میں ہی دانش مندی ہے۔ یہ نئے ممکنات کے در کھولتی ہے مگر ان پر قبضہ جما کر بیٹھ نہیں جاتی۔

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah