یادوں کی برسات میں بھیگا دن


ناشتہ کرتے سمے میں سوچ رہی تھی کہ یہ مٹھی بھر اناج کتنا اہم ہے گر پیٹ میں نہ پڑے تو زندگی کی گاڑی ہچکولے کھانے لگتی ہے۔ دنیا کو درپیش مسائل میں سر فہرست بھوک ہے۔ زمین اتنا اناج ضرور پیدا کرتی ہے جس سے بھوک کا سدباب ہو سکے مگر سرمایہ داری پہ مبنی بین الاقوامی معاشرت میں ایک طرف اپنی ضرورت سے زائد اناج پیدا کر کے سمندر برد کر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ انسان ہیں جنہیں دن بھر میں مٹھی بھر اناج بھی میسر نہیں آتا۔

دنیا تضادات کو مجموعہ نہیں تو اور کیا ہے کہ اسی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک امیر ترین شخص وسائل رکھنے کے باوجود چند کپڑوں میں گزر بسر کرتا ہے۔ ذاتی مکان نہیں رکھتا اور اپنی بھوک چھ ڈالر کے برگر سے مٹاتا ہے۔ اپنی دولت کا بڑا حصے رفاہی تنظیموں کے لیے مختص کر دیتا ہے۔ دوسری جانب غریب ملکوں کے سرمایہ دار ہل من مزید کی راگنی راگتے نہیں تھکتے۔ عام لوگ کیا کم ہیں؟ جس کا جہاں داؤ لگتا ہے وہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ پیٹ کی بھوک تین وقت مٹھی بھر اناج مٹا دیتا ہے پھر اتنا فساد کیوں؟

مایا کی دنیا میں سب کچھ مشروط ہے۔ سرمایہ دار اندھے کنویں میں پیسہ نہیں ڈالتے سرمائے کا ڈول وہیں ڈالا جاتا ہے جہاں منافع ملنے کی قوی امید ہوتی ہے البتہ جہاں فی الفور منافع ممکن نہ ہو تو نقصان میں نفع کی امید کے مفروضے پہ وفاداری خریدنے کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ دام اچھا ہو تو مایہ کے پجاری ضمیر بیچنے میں پل نہیں لگاتے۔ یوں یہ بکاؤ وفادار آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی رہن رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

سرمایہ دار خوب جانتا ہے کہ بھوک و ننگ سے بھری دنیا میں مجبور کی مجبوری کوڑیوں کے مول بکتی ہے۔ انسانی اقدار جیسے کھوکھلے الفاظ محض تحریر و تقریر کو بھاری بھرکم بنانے اور سادہ لوح انسانوں کو فریب دینے کو استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ اتنے ہی موثر ہوتے تو انسانیت بارود کے ڈھیر پہ نہ بیٹھی ہوتی۔ گولی چلانے والا ضرور سوچتا کہ ہدف کوئی اور نہیں اسی جیسا گوشت پوست سے بنا انسان ہے۔

مغرب میں بادشاہت چند ملکوں میں ڈیکوریشن پیس کی حد تک رہ گئی ہے مگر مشرق کے بچے کھچے بادشاہ آج بھی مطلق العنان ہیں۔ طویل عرصے بادشاہت کے زیر اثر رہنے سے مشرقی خطے کے اکثر حکمرانوں کے مزاج بھی مطلق العنانیت پہ مائل ہیں۔ تیسری دنیا کے بادشاہ گر بادشاہوں سے زیادہ طاقتور اور عیار ہیں۔ بساط پہ پٹے ہوئے مہروں کو جیوت کرنا اور جیتنے والے گھوڑے کو بھرے میدان میں لنگڑانے پہ مجبور کرنا یا مار دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

حکم کا غلام ریس جیت کر سمجھتا ہے کہ وہ حکمران ہے۔ اصل راج تو اس کا ہے جس کے قبضے میں ہما ہے وہ جس کٹھ پتلی کے سر پہ چاہے بٹھا دے اور اسے انگلیوں پہ نچائے۔ بادشاہ گر کے اصطبل میں گھوڑوں کی کمی نہیں۔ راج کی بساط پہ چوں چرا کرنے والے کو کوئی بھی اسپ تازی ڈھائی گھر چل کر مات دے سکتا ہے۔ مکر و فریب کے اس کھیل میں سادہ لوح انسان اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ بازی ہم نے مار لی ہے۔ حقیقت کھل بھی جائے تو کیا کر سکتے ہیں کہ پلے کچھ بھی نہیں۔

تطہیر فاطمہ تم پھر موضوع سے ہٹ رہی ہو۔ نہیں مہرو اس نکتے کو سمجھو کہ کہانی عصر سے جڑی ہوتی ہے۔ ہم سب تو زمان و مکان کے اس دریا کی موجیں ہیں جس سے باہر ہم کچھ نہیں اور نہ ہی ہماری کہانیاں با معنی رہتی ہیں۔

سوچ کے صحرا میں بھٹکتے بھٹکتے مجھے خیال آیا کہ بے چارے حسن چچا بھی زندگی کی بساط پہ ایسا ہی پٹا ہوا مہرہ تھے جسے ہر کسی نے قدم قدم پہ مات دی تھی۔ پیپر سائن کرتے وقت ضرور سوچتے ہوں گے کہ بازی انہوں نے مار لی ہے مگر جب تباہی کا بگل بج چکا ہو اور وقت آنکھیں دکھانے لگے تو سایہ بھی اپنا نہیں رہتا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اس پیپر پہ دستخط ثبت کر کے وہ دنیا کے بازار میں اپنی آخری پونجی بھی گنوا چکے ہیں۔ انہیں کامل یقین تھا کہ حویلی کے بدلے انہیں سرکاری کواٹر یا پلاٹ الاٹ ہو جائے گا اور زندگی کی رکی ہوئی گاڑی پھر سے لگے بندھے راستے پہ گامزن ہو جائے گی مگر وہ ایسے رکی کہ چل کے ہی نہ دی۔ کاغذات کی رو سے حویلی اب متروکہ جائیداد تھی۔ عدالت نے مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے یہ ضرور لکھا تھا کہ مدعی کو پلاٹ الاٹ کیا جائے مگر عدالتی حکم نامے کے اس حصے پہ کبھی عمل درآمد نہ ہوا۔ عدالتوں اور مختلف سرکاری دفاتر کے چکروں نے کمر توڑ دی مگر شنوائی نہ ہوئی۔ روپوشی کا عذاب الگ سے جھیلنا پڑ رہا تھا۔

امید کی ڈولتی ناؤ کے مسافر نے تب ہمت ہار دی جب چند ماہ کی بچی کو اسپتال سے ہاتھوں پہ قبرستان لے جاتے سمے ان کے ہمراہ کل چار افراد جن میں دو نوعمر برادر نسبتی، رشید اور اس کا بھائی شامل تھے۔ وہ رشتے دار جن کی ہر غمی خوشی میں وہ جی جان سے شریک رہے سب ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ کوئی تنہائی سی تنہائی تھی خدا ایسا وقت کسی پہ نہ لائے۔ ضبط کا بند ٹوٹا تو آنکھوں کا سیلاب صبر کے پشتوں کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے گیا۔

وہ اپنی کسمپرسی پہ دھاڑیں مار مار کر اس قدر روئے کہ دیکھنے والوں کا کلیجہ ہل گیا۔ مہرو نے پہلی اور آخری بار اپنے باپ کو یوں روتے دیکھا تھا۔ اپنوں کے ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ابا جب تک حیات رہے ہر رشتے ناتے سے منکر رہے۔ یہی حال دادی کا تھا، اٹھتے بیٹھتے وصیت کرتیں کہ ان کی موت کی خبر بھی کسی قرابت دار کو نہ دی جائے۔ اس کڑے وقت میں رشید وہ واحد شخص تھا جس نے ہر ممکن طور ابا کا ساتھ نبھایا حالاں کہ وہ خود بھی واجبی سے وسائل رکھتا تھا۔ روپوشی سے تنگ وہ فیملی کے ساتھ رہنا چاہتے تھے مگر کہاں کہ ٹھکانہ تو رہا نہیں۔

ایک روز رشید نے اطلاع دی کہ شاہ جی مضافاتی علاقے میں ایک مکان بہت ہی واجبی کرائے پہ مل سکتا ہے۔ یوں تو میرا گھر حاضر ہے مگر یہ جگہ خطرے سے خالی نہیں۔ وہ بستی شہر سے دور اور آپ کے شان شایان تو نہیں مگر۔ مگر کیا میاں؟ اور کیسی شان؟ وہ تو کب کی خاک میں مل چکی۔ رسوائی کی کڑی دھوپ ہے اور سر پہ سائبان تک نہیں۔ ایک کو تو مٹی کے سپرد کر آیا اب ان چار معصوموں کو جیتے جی قبر میں گاڑ دینے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں۔ شاہ جی خدا پہ بھروسا رکھیں اور چل کر ایک نظر دیکھ لیں۔ شاید اس دربدری سے نجات کی سبیل نکل آئے۔ مکان جس کی ملکیت ہے وہ نامی گرامی ہسٹری شیٹر ہے مگر میرے بچپن کا دوست ہے، ہم ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ اس کے علاقے میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تو ان لوگوں کی کیا مجال کہ بال بھی بیکا کر سکیں۔

رشید اسے پورے حالات سے آگاہ کر چکا تھا۔ وہ بہت احترام سے ملا رسمی علیک سلیک کے بعد چابی پکڑاتے ہوئے بولا آج سے یہ مکان آپ کا ہے شاہ جی، کرایہ دیں یا نہ دیں آپ کو یہاں سے کوئی نہیں نکالے گا۔ میرے کالے کرتوت تو رشید نے بتا ہی دیے ہوں گے مگر یہ نہیں بتایا ہو گا کہ اس کے مجھ پر کتنے احسانات ہیں جن کا بدلہ میں چاہ کر بھی نہیں چکا سکتا۔ ہم برے لوگ کسی شریف آدمی کی آہ نہیں لیتے۔ کون جانے کس کی دعا بخشش کا در ہم گناہگاروں کے لیے کھول دے یا کسی کی آہ ہر کھلا دروازہ بند کر دے۔ آپ بابو لوگ اس بات کو نہیں سمجھ پائیں گے کہ ہم جس گندی نالی میں پڑے ہیں اس سے باہر نکلنا ہمارے بس میں نہیں۔ ہونی ہو کر رہتی ہے اگر یہ کملا آپ کو پہلے لے آتا تو شاید کوئی مناسب حل نکل آتا اور کچھ نہیں تو اپنی جان پہچان سے حویلی ہی اچھے داموں بکوا دیتا۔

واپسی پہ تمام راستے حسن چچا سوچا کیے کہ زندگی کے ڈھنگ کتنے نرالے ہیں۔ لکیر کے اس پار حسینیت کے وہ علمبردار ہیں جو حسینیت کی ابجد سے بھی ناواقف اور نفرت کی پھونکوں سے جلتا چراغ گل کرنے پہ تلے ہیں۔ اور لکیر کے اس پار قمار بازی کے اڈے چلانے والا وہ گنوار موالی ہے جو پناہ گاہ کی کنجی تھامے زندگی کا پیامبر بنا کھڑا ہے۔ پیچھے کھائی اور آگے کھڈا جائیں تو کدھر جائیں؟ اب تک کے تجربات اور دل میں ابھرتے خدشات کچھ اور کہہ رہے تھے دوسری جانب رشید کا اخلاص ہر شک و شبے سے بالاتر تھا۔

کیا کروں؟ لیکن انتخاب کا حق ان کے پاس تھا ہی کہاں؟ نا ختم ہونے والی آزمائشوں کے بھنور کے پیچوں بیچ تھکے ہارے مانجھی نے پہلی بار پتوار چھوڑ زندگی کی ناؤ کو وقت کی سرکش لہروں کے رحم و کرم پہ ڈولنے کے لیے چھوڑ دیا۔ کرم الٰہی سے لہریں شانت ہوئیں اور ڈولتی ناؤ ایک انجان ساحل پہ آ لگی۔ وقت کے آئینے نے دکھا دیا کہ شرافت کی دنیا کا اوباش شرفا کے مقابلے میں کہیں بہتر انسان تھا۔

کہاں اتنی بڑی حویلی اور کہاں تین چھوٹے چھوٹے کمروں، باورچی خانے، غسل خانے، بیت الخلا اور چھوٹے سے صحن پہ مشتمل ایک چھوٹا سا مکان جو سات افراد کی ضروریات پورا کرنے کو ناکافی تھا۔ دو اطراف ایسے قبرستان سے گھری بستی جس کی ویرانی ہر وقت دل پہ ہیبت طاری کیے رہتی۔ تیسری جانب پندرہ سولہ فٹ چوڑا جوہڑ نما بدبودار برساتی نالہ جس کے پار کھیت اور ان کے درمیان گائے بھیسوں کا بڑا سا طویلہ اور چند کچے مکان جن کی اپلے تھپی بیرونی دیواریں گاؤں دیہات کا سا منظر پیش کرتیں۔

اور چوتھی جانب ایک کچی پہاڑی ڈھلان جو برسات کے موسم میں اتنی پھسلواں ہو جاتی کہ اترنا چڑھنا مشکل ہو جاتا۔ اوپری سمت ایک ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی اور ریلوے کواٹروں کی قطار۔ یہی پگڈنڈی اس بڑی سڑک کو جاتی تھی جس کے دوسری جانب ریلوے کے مال گودام ہونے کی وجہ سے ہر وقت سڑک پہ مال بردار ٹرکوں کا ہجوم رہتا۔ مال گودام کا گیٹ کراس کرتے ہی ریل کی پٹریاں اور ان کے پار مسافر گاڑیوں کے پلیٹ فارم۔ رشید نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ یہاں آنا تو درکنار کوئی اس اسراروں بھری بستی میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

مصیبت کبھی اکیلی نہیں آتی لاؤ لشکر ساتھ لاتی ہے۔ ایک فکر سے نجات ملی تو نئی افتاد نے آن گھیرا۔ سن بہتر کے بعد وہ محکمہ ہی ختم کر دیا گیا جہاں ابا بحیثیت ہندی اور بنگالی مترجم آنے والے خطوط کا ترجمہ کرتے اور مشکوک متن کی سمری اعلٰی حکام کو بھیجتے تھے۔ اپنے ہی شہریوں کی جاسوسی ہر حکومت کا پرانا وتیرہ ہے۔ ملک دو لخت ہونے کے بعد خطوط کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا تو کئی افراد کو بیک جنبش قلم فارغ کر دیا گیا۔

ہر دن کنواں کھود کر پانی پینے والوں کے لیے مستقبل کی پلاننگ ناممکن ہوتی ہے اور اس پر یہ ناگہانی گویا قسمت لٹھ لے کر پیچھے پڑی تھی۔ ذریعہ آمدنی صفر اور ضروریات کا پہاڑ منہ پھاڑے کھڑا تھا۔ جو تھوڑا بہت فنڈ ملا اس سے کاروبار کی سوجھی کہ ہاتھ ہلائے بغیر کھانے سے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لشٹم پشٹم کاروبار چلایا مگر ناتجربہ کاری کے کارن خاطرخواہ کامیابی تو نہ ملی البتہ گزر اوقات ہوتی رہی۔ بچوں کو اچھے اسکولوں سے اٹھوا کر گورنمنٹ کے اسکول میں ڈالنا پڑا۔ بڑے تو بری بھلی گزار ہی لیتے ہیں مگر بچے کا ذہن حالات کے چکر ویو کو سمجھ نہیں پاتا تو وہ زودرنج اور چڑچڑا ہو جاتا ہے۔

اجنبی ماحول اور معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ اثر مہر بانو نے لیا۔ ابتداً اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ ایڈجسٹ تو وہ کبھی نہ ہوئی مگر وقت نے سمجھوتا کرنا سکھا دیا۔ پاس پڑوس میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ رہتے تھے جن کی بولی وہ سمجھ تو لیتی مگر اپنی بات سمجھانے میں ناکام رہتی تو جھنجھلا جاتی۔ اردو بولنے کی وجہ سے انہیں ہندستانی کہا جاتا تھا اس میں کہنے والوں کا اتنا قصور نہیں تھا کہ اس زمانے میں اردو بولنے والوں کے لیے یہ ہی لفظ مستعمل تھا۔

اس کے ناپختہ ذہن کو یہ لفظ ہتھوڑے برساتا محسوس ہوتا۔ سات آٹھ برس کا سن سیاسی تقسیم کی گتھیاں نہیں سلجھا پاتا۔ وہ وہی جانتی تھی جو تاریخ کی کتاب میں لکھا تھا۔ وہ اکثر سوچتی کہ میں یہاں جنمی تو ہندستانی کیسے ہوئی؟ کچھ ہی عرصے میں وہ مقامی بولی سیکھ گئی تو ترکی با ترکی جواب دینے اور مار پیٹ سے بھی گریز نہ کرتی کہ اپنی فرسٹریشن نکالنے کا یہی طریقہ اسے گھر اور باہر کا ماحول سکھا رہا تھا۔ آئے دن کی شکایتوں سے بیزار سلطانہ خالہ اسے روئی کی طرح دھنک ڈالتیں۔ مار پیٹ فرسٹریشن مزید بڑھا دیتی۔

مارے باندھے اسکول چلی جاتی مگر جی پڑھائی میں نہ لگتا بس اتنا پڑھ لیتی کہ پاس ہو جائے۔ اسکول میں دوستیاں پنپ نہ پائیں کہ گھل مل جانے کا ہنر وہ بھول چکی تھی۔ اس کی زندگی بس اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ سلطانہ خالہ دن بھر کولہو کا بیل بنی گھر کے کاموں میں جتی رہتیں اور حسن چچا کار جہاں سے گتھم گتھا ہونے کے بعد فرصت کے اوقات میں ریڈیو سے کان لگائے پرانے گیتوں میں درد کا مداوا تلاش کرتے۔ دادی بوڑھی ہو چلیں تھیں وہ بھی جب بات سمجھ نہ پاتیں تو وہ غصے میں پھنکتی رہتی۔

اسی زمانے میں اسے خود کلامی کی عادت پڑی۔ تنہائی میں وہ باتیں جو کسی سے نہ کہہ پاتی چپکے چپکے خود سے کرتی۔ ایک دن دادی نے اسے خود کلامی کرتے دیکھ کر بہو سے کہا بچی کو کسی سیانے کو دکھاؤ اس کے دماغ پہ کچھ اثر ہو گیا ہے۔ سلطانہ خالہ نے کہا میں ابھی اس کا بھوت اتارتی ہوں اور اسے پھر سے پیٹ ڈالا۔ دادی نے بمشکل چھڑایا اور چند دن بعد ایک تعویز جانے کہاں سے لا کر اس کے گلے میں ڈال دیا۔

کھڑکی سے باہر آسمان ویسے ہی کالے بادلوں سے بھرا ہوا ہے جیسے یادوں کے سیاہ بادل اندر امڈ رہے ہیں شاید بارش ہونے والی ہے۔ اس سے پہلے کہ یادوں کی بارش میں بھیگا یہ دن کسی انجانی دشا کی اور چل پڑے تازہ دم ہونے کو کافی بنائی جائے۔ دم میں دم آئے تو آگے بڑھیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments