یوم یکجہتی کشمیر اور ای میل مہم


دنیا میں دو ایسے مسائل ہیں جو 75 سال سے حل طلب ہیں، ان میں ایک مسئلہ فلسطین ہے اور دوسرا مسئلہ کشمیر ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزاد کرانے کے لئے پاکستان 5 فروری سن 1991 سے ہر سال باقاعدہ یوم یکجہتی کشمیر مناتا ہے۔ اس سال بھی یہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آزادی پسند جماعتوں کی جانب سے مقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں میں پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں جن پر یہ پیغامات درج ہیں ”گو انڈیا گو بیک، 5 فروری کو یوم یکجہتی منانے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں“ نریندر مودی کی حکومت جس طرح بھارت میں مسلمانوں کے مقدس مقامات اور مساجد کی جگہ مندر بنانے کے مشن پر عمل پیرا ہے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مودی حکومت نے چند ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر کے 33 کالجز، سکولز اور سڑکوں کے نام تبدیل کر کے انھیں ہندو ناموں سے منسوب کر دیا ہے جبکہ اس سے قبل بے شمار تعلیمی اداروں، سڑکوں اور اہم مقامات کے نام بھی تبدیل کیے جا چکے ہیں دوسری جانب مسلمانوں کی املاک پر ناجائز قبضے کیے جا رہے ہیں جبکہ آزادی کی آواز بلند کرنے والے رہنماؤں اور مظلوم کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں بند کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق جیلوں میں قید کشمیری رہنماؤں کو سلو پوائزن دیا جا رہا ہے۔ نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کے ساتھ جیل میں نجانے کیا سلوک کیا جا رہا ہے کہ ان کی صحت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔ یاسین ملک کو دل کا عارضہ اور گردوں کے مسائل ہو گئے ہیں اور جب ان کے علاج کے لئے ان کی والدہ نے عدالت سے رجوع کیا تو جیل حکام نے عدالت میں جھوٹا بیان جمع کروا دیا کی یاسین ملک اپنا علاج نہیں کروانا چاہتے۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی عدالت نے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت رواں برس بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی خاطر یاسین ملک کو سزائے موت دلانے کی تاک میں ہے۔

مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں اس پر انڈیا کے ہندو سیاسی رہنماؤں نے بھی اسے مودی حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر میں دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے ایک بڑی تزویراتی (اسٹریٹیجک) غلطی کی ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارت کا تزویراتی ہدف یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ چین اور پاکستان کو ایک دوسرے سے دور رکھتا لیکن نریندر مودی نے جو کچھ کیا اس سے دونوں ملک مزید قریب آ گئے ہیں جو بھارت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

راہل گاندھی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ ان کا ملک (انڈیا) کمزور ہو چکا ہے۔ اسی طرح بھارتی ریاست تامل ناڈو کے وزیر اعلی ”ایم کے سٹالن“ نے 37 مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ بھارت کو کٹر پن، تعصب اور مذہبی بالادستی کے خطرے کا سامنا ہے اس لئے مودی حکومت ہر شخص کو یکساں معاشی، سیاسی اور معاشرتی حقوق و مواقع فراہم کرے۔ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور اس کے فوری تصفیہ کے لئے کشمیری نوجوانوں نے ”کشمیری ای میل مہم“ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو 10 لاکھ ای میلز بھیجی جائیں گی جن میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ حکومت کے دوران اب تک مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ تاریخ کے بدترین دن بن چکے ہیں خصوصاً سال 2019 کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس سال ایک طرف دنیا بھر میں کورونا کی وبا نے جنم لیا تو دوسری جانب اسی سال نریندر مودی کی گھناونی سازش نے جنم لیا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں جبری کرفیو لگا کراس لی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔ بدلتی ہوئی سیاسی جغرافیائی صورتحال میں دیرینہ تنازعہ کشمیر کا باوقار اور پرامن حل ناگزیر ہے جس کے لئے بھارتی قیادت کو سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہو گا نہیں تو خطہ میں ایٹمی جنگ کے بادل چھائے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments