باپ کے نام کھلا خط
چوہنگ، ملتان روڈ، لاہور
04۔ فروری 2024
السلام علیکم! پیارے ابا جان!
میں خیریت سے ہوں، امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گے۔ آپ سے بات کرنے کا من چاہتا ہے، برس ہا برس گزر گئے، آپ سے بے تکلف ہو کر بات نہیں کر پایا ہوں۔ آپ سے ملاقات تو ہوتی ہے لیکن اڑتیس برس گزر جانے کے باوجود یہ ملاقات خیریت و عافیت سے آ گے نہیں بڑھی۔ جب میں سات آٹھ برس کا تھا اور آپ فوج میں ملازم تھے، سال میں گرمیوں میں آپ دو ماہ کی چھٹی لے کر گھر آیا کرتے تھے تو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ آپ دو ماہ گھر میں رہیں اور میرے لیے مصیبت کا باعث بنے رہیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی غیرموجودگی میں اماں ہم بہن بھائیوں کو یہ کہہ کر ڈرایا، دھمکایا کرتی تھیں کہ آپ کے ابا آئیں گے تو ان سے آپ سب کو ایسی ڈانٹ پلواؤں گی کہ عمر بھر یاد رکھو گے۔ آپ نے مجھے بہت دفعہ مارا ہے لیکن اس مار کو میں درست سمجھتا ہوں لیکن اماں کے اس رویے کی وجہ سے مجھے آپ سے ایک طرح کی بیزاری سی ہو گئی تھی کہ آپ کے گھر سے دور رہنے پر خوشی اور گھر آنے پر رنجیدگی ہوتی تھی۔ یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہے، اس کا مجھے ہنوز علم نہیں، اماں نے غیر شعوری طور پر آپ کی شخصیت کا تعارف اس انداز سے ذہن میں بٹھا دیا تھا کہ میرے من میں آپ کے لیے احترام اور عزت ہونے کے باوجود اپنائیت اور عقیدت کا جذبہ پنپ نہ سکا۔
آپ جب گھر آیا کرتے تھے تو آتے ہی جھاڑ دیتے تھے اور مجھے یقین ہو جاتا تھا کہ اماں نے ہماری کرتوت کا جملہ احوال آپ پر کھول دیا ہے، اس لیے ہم سے پوچھے بغیر آپ نے ہماری سرزنش کر دی ہے۔ جب آپ گھر میں داخل ہوتے ہم سہم جاتے اور خاموشی سے کتابیں لیے کپکپاتے ہوئے آپ کے سامنے بیٹھے رہتے اور نیند کے جھونکے آنے کے باوجود خود کو بیدار رکھنے کی مصنوعی کوشش میں غرق رہتے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی جلاد کے سامنے مجھے بٹھا دیا گیا ہے اور وہ لمحہ بھر کی غفلت کو گوارا نہیں کرے گا اور ایکا ایکی گال پر تھپڑ رسید کرے گا جیسے اس شخص کو میرے پیدا ہونے پر اعتراض ہے جو مثالیں دے کر مجھ پر یہ واضح کرنے میں لطف لیتا ہے کہ میں ایک نالائق، کند ذہن اور شدید بیمار ذہنیت کا حامل بچہ ہوں جس نے بڑے ہو کر کچھ نہیں کرنا۔
آپ جتنے دن گھر میں رہتے، اماں سے آپ کا جھگڑا رہتا، رات کو واش جانے کے لیے میں اٹھتا تو آپ خاندانی قضیوں کے قصوں میں الجھے اماں پر غراتے دکھائی دیتے، اماں وضاحتیں اور دلیلیں دے کر آپ کو مطمئن کرتی، آپ کسی اور بات کو لے کر بیٹھ جاتے۔ آپ کی چھٹی اور ہر وقت گھر میں پڑے رہنا ہمارے لیے کسی عذاب سے کم نہ ہوتا، بطور خاص مجھے ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہ آپ پتہ نہیں کس بات پر ڈانٹ دیں گے اور کس بات پر پیار کریں گے۔
مجھے یاد ہے ایک بار جب آپ تین دن کی چھٹی لے کر آگاہ کیے بغیر اچانک گھر آئے تھے، ہم تو جیسے کانپ کانپ سے گئے تھے کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے جو ابا اچانک یوں گھر چلے آئے ہیں، اگلے دن آپ کو سٹیل کے گلاس میں روپوں سے بھرا بٹوا رکھتے ہوئے میں نے دیکھ لیا۔ اتنے زیادہ روپے دیکھ کر میر اجی للچایا، چھوٹی بہن کو ورغلا کر منصوبہ بنایا کہ پانچ والا نوٹ نکال لیتے ہیں، چونی چونی کر کے اڑائیں گے اور مزے کریں گے، کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوگی، ہم نے بڑی مشکلوں سے پانچ والا نوٹ نکال تو لیا لیکن رہ رہ کر یہی خیال آتا تھا کہ ابا پیسوں کو گن نہ لیں اور ہم کہیں پکڑے نہ جائیں۔
میرا اندیشہ درست ثابت ہوا، آپ نے ہم پانچوں بہن بھائیوں کو بلوا کر ایک قطار میں کھڑا کر کے باری باری سب سے پوچھا کہ پانچ روپے کا نوٹ میرے بٹوے سے کس نے نکالا ہے۔ کوئی نہ بولا، ہم دونوں کی نگاہوں میں چور کے کھٹکے کو محو رقص آپ نے بھانپ لیا، پھر ہم دونوں کو چور والی وہ مار ماری کہ آج تک اس کی ٹیس میری روح میں ناسور بن کر سرایت کر گئی ہے۔ اس سانحہ کے بعد ایک جگ بیت گیا، کبھی آپ کے بٹوے کی طرف دیکھا اور نہ یہ حوصلہ ہوا کہ آپ سے شدید ترین ضرورت کے باوجود پیسے مانگ سکوں۔
اس طرح کے سیکڑوں اور واقعات ہیں جنھوں نے مجھے آپ کی شفقت اور محبت سے رفتہ رفتہ اتنا دور کر دیا کہ آج آپ کا خیال ذہن میں آتے ہی ایک طرح کی بے اعتنائی اور بے رخی کے داعیات تصور میں ابھرنے لگتے ہیں اور جی میں بہت کچھ آنے اور کر گزرنے کے مہمیز کن واہمات کو ڈانٹ پلا کر دبا دیتا ہوں کہ وقت گزر گیا ہے، اب پرانے زخموں کو کریدنے کا کیا فائدہ، جو ہوا اچھا ہی ہوا۔ اماں ہماری بھولی تھی مگر فراخ دل کی مالک تھیں، وہ کمال ہوشیاری سے اپنے بہن بھائیوں کو آپ کی کمائی سے پالتی رہی اور آپ کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔
آج اماں کے سینچے ہوئے چھتنار ہمارے کے لیے ناسور بن گئے ہیں، ننھیال کا خشک اور بے حس رویہ دیکھ کر میں حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے منہ کے نوالے چھین کر جن کے تنور بھرے جاتے تھے، آج دن پھرنے اور موسم بہار سے مستفید ہونے والے یہی چھتنار اپنے خشک پتوں کی چھاؤں میں ہمیں بٹھانا گوارا نہیں کرتے۔ یہ کیسا زمانہ ہے اور وقت کا کیسا پھیر ہے کہ انعام و اکرام کے مستحق معتوب زمانہ ہو گئے ہیں۔ کیا یہ مکافات عمل ہے یا عمل کا خود ساختہ مکافات ہے، اس سانحہ کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔
مرور وقت کے ساتھ بہن بھائی بڑے ہوتے گئے اور ایک ایک کر بہنیں گھر سے جدا ہوئیں اور اپنے سسرال میں جا بسیں۔ بھائی شادی کے بعد اپنی دنیا میں مگن ہو گیا اور میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے در در کی خاک چھاننے کے بعد آوارگی کرتا ہوا لاہور چلا آیا اور یہیں کا ہو رہا۔ بچپن سے لڑکپن اور جوانی سے اس عمر تک آپ کی شخصیت اور اطوار کے اتنے رنگ دیکھے ہیں کہ ہزاروں کتابیں چاٹنے اور تصورات و افکار کی ایک دنیا کو شعوری آنکھ سے ٹٹولنے کے باوجود آپ کی اکلوتی شخصیت کو آج تک سمجھ نہیں سکا کہ آپ اصل میں ہیں کیا؟
آپ میرے بارے میں، میرے بہن بھائیوں کے بارے میں اور اماں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور خود اپنے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ ایک واحد انسان آپ ہیں جسے میں ہر طرح کی کوشش کے باوجود سمجھنے سے قاصر ہوں، مجھے جب آپ کی ضرورت تھی، آپ دشمنوں کے ساتھ شامل ہو گئے، مجھے جب آپ کی ضرورت تھی، آپ میرے مخالفین کے ساتھ کھڑے رہے، مجھے جب آپ کی ضرورت تھی، آپ میرے رقیبوں اور راستہ کاٹنے والوں کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ رہے۔
مجھے جب آپ کی ضرورت نہیں تھی، آپ میرے ارد گرد یہاں وہاں منڈلاتے رہے، مجھے جب آپ کی ضرورت نہیں تھی، آپ محبت، پیار اور لاڈ جتلاتے رہے، مجھے جب آپ کی ضرورت نہیں تھی، آپ ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرواتے رہے۔ میں جب ڈوب رہا تھا، آپ گرداب میں پھانسنے والوں کے ہمراہ مجھے ڈوبتا دیکھ کر ہنستے رہے، میں جب مر رہا تھا، آپ مارنے والوں کے ساتھ قہقہے لگاتے رہے، میں جب سسک رہا تھا، آپ پانی بند کرنے والوں کے ساتھ خوش گپیاں اڑاتے رہے۔
میں جب خوش تھا تو آپ نے میرے لیے گیت گائے اور چٹکیاں کاٹ کر مجھے خوب ہنسایا، میں جب بے فکر اور بے غم تھا، آپ میرے لیے تحائف لائے میری بھری جیب کو مزید بھرا، میں نے جب دنیا کو فتح کر لیا، آپ میرے خوشامدی بن کر میری کامیابی کے غلویانہ قصیدے پڑھا کیے۔ میں آپ کو نہیں سمجھ سکا، آپ میرے دشمن ہیں یا میرے رفیق و شفیق، آپ میرے لیے آلام و مصائب کا مخزن ہیں یا راحت و آرام کا مسکن، آپ میرے لیے خنک سایہ ہیں یا آگ برساتی دھوپ۔
آپ کیا ہیں، آپ کیوں ہیں، آپ کیسے ہیں، کیا آپ خود بھی ویسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا میں نے آپ کو دیکھا، پرکھا، ٹٹولا اور جانچا۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کے بارے میں جو رائے رکھتا ہوں، وہ مبنی بر حقیقت ہے اور سر تا پا جہل کل کا شاخسانہ ہے۔ آپ عمر کے سڑسٹھ برس اس دنیا میں گزار چکے۔ آپ مجھے بتائیے، کیا میں ایک نالائق، بے وفا، مطلبی اور حریص بیٹا ہوں، کیا میں نے آپ کے لیے اور آپ کی اولاد کے لیے کچھ نہیں کیا، کیا میں نے دوسرے باب کے بیٹوں کی طرح آپ کا بوجھ نہیں بانٹا، کیا میں آپ کے لیے ندامت و شرمساری کا سبب ہوں، کیا میں جو سمجھتا ہوں وہ سب غلط ہے۔
اگر یہ سب غلط ہے تو پھر مجھ میں اور آپ میں دوری کا سبب کیا ہے، کیا یہ دوری ایک دن، ایک واقعہ، ایک حرکت اور ایک لمحۂ ناموافق کی ہے یا صدیوں، قرنوں اور نامعلوم عہد کی ہے۔ کیا میں زبردستی آپ کے ہاں پیدا ہو گیا تھا یا آپ نے اپنی منشا سے مجھے پیدا کیا تھا۔ مجھ میں اور آپ میں سوچ کا ، تفکر کا، تدبر کا ، تعقل کا فرق کیوں ہے، یہ فرق کیسے کم ہو سکتا ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ اس فرق نے مجھے مستقل حالت اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ قیامت کے دن رب تعالیٰ کے روبرو جب ہم آمنے سامنے ہوں گے تو خدا کی بارگاہ میں کون کس کی شکایت کرے گا اور رب تعالیٰ کس کی بات اور دلیل کو حق اور کس کی رائے اور اندیشے کو باطل قرار دے گا۔ یہ ایک معمہ ہے جس نے میرے حواس کو مختل کر رکھا ہے، دولخت کر دینے والی اس تنقیدی اور تنقیسی سوچ سے میں عاجز آ گیا ہوں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کسی دن ہم دونوں باہم مل بیٹھیں اور اس لاینحل تخریبی سوچ کے داعیات کو باہمی افہام و تفہیم سے مثبت نتیجے پر پہنچا کر ہمارے درمیان حائل فراق کی دائمی کیفیت مفارقت کو پدر و پسر کے وصال تیقن کے انمٹ احساس سے مشروط کر دیں کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تفاوت و تضاد کا کوئی عنصر کسی نہج میں باقی نہ رہے۔

