انتخابات سیاسی بحران کا اختتام بنیں گے؟


اس حقیقت سے اغماض ممکن نہیں کہ اس وقت ہماری قومی سلامتی ان پیچیدہ مراحل کو عبور کرنے میں مصروف ہے، جن کی تشکیل کا جواز عوام کے لئے حق حاکمیت مانگنے والی سیاسی جماعتوں کی پیشقدمی محدود رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا، یعنی جس سیاسی قوت (پی ٹی آئی) کو قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے تخلیق کیا گیا، وہی اب عوام کے حق حاکمیت کی علمبردار بن کر ابھر رہی ہے، چنانچہ پھر ہمیں ان فرسودہ سیاسی جماعتوں کی ضرورت پڑ گئی، جو تقسیم اختیارات کے نظام میں ڈی جیورو سے زیادہ ڈیفیکٹو کی افادیت کے قائل ہیں لیکن تمام تر سرگردانی کے باوجود ہمارے نظام سیاست میں در آنے والی ان خطرناک تبدیلیوں کو روکنا ممکن نہیں ہو پائے گا جو گہرے عمرانی تصادم کی طرف بڑھنے والی ہیں۔

بلاشبہ عمران خان کو سالوں تک مقید اور ذہنی طور پہ محدود رکھا جا سکتا ہے لیکن جس سیاسی جدلیات کو وہ مہمیز دے چکے ہیں اس کا واپس پلٹنا اب دشوار ہو گا۔ اگرچہ ہم سب بانی پی ٹی آئی کی سیاست میں انٹری اور بعد ازاں وزرات اعظمی کے منصب تک پہنچانے کے عمل کو تاحال ایک بیہودہ تماشے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس میں مملکت کے تمام اعلیٰ ترین عہدوں کے تقدس کی پامالی سے گریز نہیں کیا گیا۔ تاہم ابھی یہ تعین کرنا دشوار ہے کہ اپنی جرات مندانہ اختراعی پیش قدمی سے خان نے ہماری مشترکہ سیاسی ثقافت کو پراگندہ کیا یا پھر اپنی کج روی سے اس ساختی بگاڑ کو طشت ازبام ہونے کی راہ فراہم کی جو ہماری پاور پالیٹکس کی تہہ میں پہلے سے موجود تھا۔

اس کشمکش کا سب سے اہم اور غیر مری پہلو یہ ہے کہ ماضی کی مقبول سیاسی قیادت کو عالمی مقتدرہ کی ایما پر عبرت کا نشانہ بنانے والی مقامی قوت اس وقت منقارزیر پہ ہے کیونکہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عالمی طاقتیں مقامی مقتدرہ کو اشتعال دلائے بغیر نہایت مہارت کے ساتھ زیر عتاب سیاسی جماعت کے بیانیہ کو مقبول بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت ہماری قومی نفسیات اور تجزیاتی بصیرت پر اثر ڈالتے ہوئے اپنی جارحانہ بیان بازی سے نہ صرف سیاسی میدان بلکہ ہمارے روزمرہ کے تعاملات پر بھی حاوی ہوتی جا رہی ہے۔

اس لئے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ریاست اور دیگر عوامی شخصیات کی دردمندانہ اپیلوں کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں وقوع پذیر ہوا، جب ملک 8 فروری کے عام انتخابات کی مہمات کی وجہ سے گراس روٹ لیول کی ریلیوں، جلسوں اور مظاہروں کی لپیٹ میں ہے اور بعض پہلووں سے اس نسلی، لسانی اور طبقاتی کشمکش میں بھی الجھا نظر آتا ہے جو مجموعی قومی تشخص کی تلبیس کا سبب بنتی ہے۔ اگرچہ آصف علی زرداری پر امید ہیں کہ الیکشن کے بعد سیاسی بحران ٹل جائے گا تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کے بعد بھی بحران کے خاتمہ کی امیدیں مدہم ہیں بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی خود بھی اسی جدلیات کا حصہ بن جائے جسے اب وہ نا آموختہ عمل سمجھ کے مسترد کر رہی ہے۔

ہم سب نے دیکھا کہ 28 جنوری کو ملک بھر میں پی ٹی آئی کی ریلیوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے ذریعے انتشار کو ہوا دے کر ریاست کے اس ڈیٹرنٹ کو تحلیل کرنے کی جسارت کی، جو پچھتر سالوں سے ہمارے متنوع سماج کو تھامے ہوئے تھا، اسی دن نارتھ ناظم آباد کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ورکرز کے مابین تصادم میں ایک کارکن ہلاک، دوسرا زخمی ہو گیا، اسی طرح مسلح حملہ آوروں نے قلات میں پیپلز پارٹی اور ضلع مستونگ میں نیشنل پارٹی کے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنایا۔

29 جنوری کی شب بلوچ باغیوں نے خود کش مشن کر کے مچھ شہر میں سنٹرل جیل سمیت سرکاری دفاتر کو ہدف بنایا، اس تصادم میں 9 دہشتگرد ہلاک 4 فوجیوں سمیت 6 افراد شہید ہوئے، اسی روز سبی میں پی ٹی آئی کی ریلی میں دھماکہ سے 4 کارکن شہید ہو گئے۔ ادھر انتخابات سے متعلق مہمات میں، مسلم لیگ نواز پنجاب کے 15 ڈویڑنوں میں 60 سے زائد ریلیاں اور پیپلز پارٹی 6 فروری تک ملک بھر میں 30 ریلیاں نکالے گی، اسی لئے مختلف سیاسی اور مذہبی گروہوں کی طرف سے ممکنہ جوابی مظاہروں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور دہشتگردی کی روک تھام کے لئے حکومت 8 فروری تک ملک بھر میں امن عامہ کو یقینی بنانے اور الیکشن کے دن ووٹنگ کے عمل کو ہموار رکھنے کی خاطر تقریباً 300,000 سیکیورٹی اہلکار تعینات کرے گی۔

گورنمنٹ، پولنگ سٹیشنوں، پرہجوم بازاروں، سرکاری عمارتوں، چوراہوں اور بڑے راستوں کے قریب سکیورٹی سخت رکھنے کی خاطر دفعہ 144 کے تحت ملک بھر میں پہلے ہی پانچ سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر چکی ہے، امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لئے سرکار بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کے علاوہ آنسو گیس سمیت طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گی کیونکہ کراچی میں فسادات کے بعد پولیس و سیاسی کارکنوں اور حریف سیاسی یا مذہبی جماعتوں کے ورکرز کے مابین مزید جھڑپوں کو خارج از امکان قرار نہیں۔

اکثر اہل دانش اس بات پہ قائل ہیں کہ ہمارا موجودہ سیاسی نظام متروک ہو چکا، چنانچہ سیاسی اشرافیہ اب اسی مخمصہ میں الجھی ہے کہ ملک میں سیاسی نظام کی تشکیل نو کے علاوہ معاشی خوشحالی اور غیر متنازعہ آئینی سسٹم کی تعمیر کیسے کی جائے؟ مغربی ماہرین کہتے ہیں کہ سیاسی نظم و ضبط صرف اداروں کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ جمہوریت تین الگ خصوصیات کے نازک توازن پر قائم رہتی ہے، جس میں سیاسی احتساب اور ایک ایسی مضبوط و موثر ریاست زیادہ اہم ہے جو قانون کی حکمرانی قائم کر سکے لیکن اصل احتساب لیڈروں کو ان کے عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے سیاسی میکانزم پہ محمول رہے گا، جس کا مطلب باقاعدگی سے آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے، صرف انتخابات ہی کافی نہیں، حقیقی لبرل جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے احتساب کے اداروں کو مضبوط مرکزی حکومت کی مدد حاصل ہو اور احتساب کے لئے ایسے اصول و ضوابط بنائے جائیں جو سب اداروں پر یکساں لاگو ہوں۔

گویا احتساب کے موثر نفاذ کے لئے مضبوط حکومت کا ہونا لازمی ہے، مثال کے طور پر ، چین نے یورپ کے طلوع سے بہت پہلے ریاست تیار کر لی تھی لیکن وہ قانون کی حکمرانی حاصل کر سکی نہ سیاسی احتساب کا طریقہ کار وضع کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اسی طرح مسلم دنیا نے ابتدائی طور پر قانون کی حکمرانی تو قائم کر لی لیکن مضبوط ریاستی نظام اور اداروں کی عدم موجودگی کے باعث عوام کے حق حاکمیت کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہیں۔

اہل دانش اس امر پہ متفق ہیں کہ آمریت، جمہوریت کے مقابلے میں ریاستی کمزوری پیدا کرنے کا زیادہ امکان رکھتی ہے کیونکہ آزاد میڈیا، ایک فعال سول سوسائٹی اور باقاعدہ انتخابات کے ذریعے سواد اعظم کی تلویث کے برعکس آمریت کے پاس جمہوریت کے مقابلے میں بدعنوانی، جمود پرور جاگیرداری اور بدنام لوگوں کو استعمال کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ 19 ویں صدی تک امریکہ کمزور اور بدعنوان ریاست تھی لیکن 20 ویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث پیدا ہونے والے سماجی انقلابات نے پرانے نظام سے اکتائے نئے سیاسی کرداروں کو متحرک ہونے کا موقعہ دے کر سیاسی ارتقائی یقینی بنایا۔

تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جو نظام ایک بار کامیاب اور مستحکم جمہوریت کا مقام حاصل کر لے، وہ ہمیشہ استوار رہے گا۔ پچھلی چند دہائیوں کے دوران، امریکی سیاسی ترقی الٹ گئی کیونکہ اس کی ریاست کمزور، کم موثر اور زیادہ بدعنوان ہو گئی، اسی سیاسی زوال نے سیاسی قیادت (ڈونلڈ ٹرمپ) کو کالے، گورے کے مابین نسلی تعصبات کو ابھارنے اور جمہوری و سماجی آزادیوں کو محدود کرنے کی راہ دکھائی۔ اب امریکی سیاسی اشرافیہ بھی سیاسی نظام پہ سفید فاموں کی بالادستی قائم رکھنے کی خاطر اوپن مارکیٹ اکانومی کی بجائے نیشنلائزیشن اور بنیادی حقوق کی تحدید کے ذریعے اتھاریٹیرین رجیم کے تصور کو اپنانا چاہتی ہے۔ یعنی امریکی مثال جہاں یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمہوری ریاستیں کس طرح ترقی کرتی ہیں، تو یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کس طرح زوال پذیر ہو سکتی ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments