ووٹ مگر کس کودیں


8فروری پاکستان میں یہ دن الیکشن 2024 کے لئے مخصوص ہے۔

جہاں چار لوگ جمع ہوں وہ سائبر اسپیس ( سوشل میڈیا سائٹس) ہوں یا کوئی اور مقام ن م راشد کا یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ آدمی کس سے مگر بات کرے

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں
بات کہنے کے بہانے ہیں بہت
آدمی کس سے مگر بات کرے
بات جب حیلۂ تقریب ملاقات نہ ہو
اور رسائی کہ ہمیشہ سے ہے کوتاہ کمند
بات کی غایت غایت نہ ہو!

بات کی غایت، غرض، مقصد اور مطلب کچھ بھی ہو کسی نہ کسی عنوان یہ بات نکل ہی آتی ہے کہ ووٹ کسے دے رہے ہو۔ لوگ اگرچہ اس جمہوری نظام سے بیزار ہیں لیکن حکمران چننے کا کوئی دوسرا طریقہ چونکہ ان کے پیش نظر ہی نہیں وہ اسی نظام کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے پر مجبور ہیں۔

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں
آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،
اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں
اور پھر کس کے لیے بات کروں

ووٹ کی پرچی کا بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھائیں اس ضمن میں رہنمائی کے لیے سیاسی جماعتیں جماعتیں اپنا اپنا منشور لوگوں کے سامنے پیش کر رہی ہیں :

کوئی راہ دکھا رہا ہے کہ سڑکیں، انڈر پاسز، موٹرویز، میٹرو بس سروس کی فراہمی ترقی کا راستہ ہے، لہٰذا عوام کو انہیں منتخب کرنا چاہیے۔

کہیں سے صدا آ رہی ہے کہ لوگوں کی ضروریات ہسپتال، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے ہیں، لہٰذا عوام کو انہیں ووٹ ڈالنا چاہیے۔

کوئی پیٹ کے خالی دہکتے ہوئے تنور کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے، اور وہ اس کے خاتمے کے لیے کام کریں گے، لہٰذا عوام ان کی حمایت کریں۔

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ میرے رب کے پیمانے جدا ہیں۔ جو ہمیں بحیثیت مسلمان اپنے حکمران چننے کے کچھ اور ہی پیمانوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ سورۃ الحج میں اللہ کی آخری کتاب رہنما ہے :

” یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں۔“ (الحج، 22 : 41 )

سورۃ الحج میں اللہ نے واضح فرما دیا ہے کہ انھیں کیسے حکمران مطلوب ہیں

٭ وہ جو نماز قائم کریں ٭وہ جو زکٰوۃ وصول کریں اور اسے مستحق افراد تک پہنچائیں ٭ اور وہ جو نیک کام کرنے کا حکم دیں ور برے کام سے روکیں۔

نماز دین کا ستون ہے۔ عالی مرتبت ﷺ کا فرمان ہے : ”جس نے اس نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اس کو نظرانداز کیا اس نے دین کو تباہ کر دیا۔“ اس حدیث کی روشنی میں نماز کا قیام درحقیقت دین کا قیام ہے۔ پورے کے پورے اسلام کا نفاذ۔ نماز اس ایمان کا قولی و فعلی اظہار ہے کہ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا رب نہیں مانتے اور چونکہ وہی واحد رب ہے لہٰذا عبادت کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر معاملے میں بھی صرف اسی کا حکم مانا جائے گا۔

اسی طرح امر بالمعروف ہر اس کام کے حکم دینے کے معنی میں ہے جسے شریعت اچھا کام سمجھے، اور نہی عن المنکر، ہر اس کام کے روکنے اور منع کرنے کے معنی میں ہے جسے شریعت برا کام سمجھے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس ایک مختصر سی آیت میں یہ واضح کر دیا ہے کہ وہی شخص یا جماعت ہمارا حکمران بننا چاہیے جو پورے کے پورے دین کو نافذ کرے، یعنی عبادات سے لے کر معیشت، عدالت، حکمرانی، خارجہ امور، معاشرت، تعلیم، غرض ہر شعبہ زندگی میں صرف اور صرف اسلام کو ہی نافذ کرے۔

تو درحقیقت ہمارا اپنے لیے حکمران چننے کا معیار یہ نہیں ہو سکتا کہ کون ہمیں سڑکیں، موٹر ویز، انڈر پاسز، یونیورسٹیاں، سیوریج لائنیں، پارکس بنا کر دے گا۔ حکمران چننے کا معیار یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کون ہمیں نوکریاں دے گا، گھر بنا کر دے گا، یا مہنگائی کا خاتمہ کرے گا۔ حکمران چننے کا معیار یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کون بجلی، پانی، گیس کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ حکمران چننے کا معیار صرف اور صرف یہ ہے کہ جو اسلام کو عدالت، معیشت، حکمرانی، معاشرت، خارجہ پالیسی اور تعلیم کے شعبے میں مکمل طور پر نافذ کرے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنے والے انتخابات کے ذریعے بھی ہم کسی ایسی جماعت یا شخصیت کو منتخب کر سکتے ہیں جو اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں پر نافذ کرے۔ آج پاکستان کے لوگوں پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ الیکشن میں کوئی جماعت کتنے ہی زیادہ ووٹ لے لے، حقیقی اقتدار اسے منتقل نہیں ہو گا۔

جن کے پاس حقیقی اقتدار ہے اسلام ان کی منزل نہیں۔ ہم 2017 سے دیکھ رہے ہیں کہ حکمرانوں کو کبھی عدالتی فیصلے کے ذریعے تو کبھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے جبکہ ان حکمرانوں نے اسلام کے نفاذ کی کوئی کوشش بھی نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے صرف معاشی مسائل، یا خارجہ امور پریا فوج میں تعیناتیوں کے حوالے سے فوجی قیادت کی رائے سے مختلف طرز عمل اختیار کیا تھا۔

دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ کسی شخص یا جماعت کو اقتدار سے نکالا جائے یا نہ بھی نکالا جائے تو بھی یہ موجودہ نظام اسے اسلام کے نفاذ کی اجازت نہیں دیتا۔

Facebook Comments HS