وحید نور ایک وجدانی شاعر
رب کائنات نے انسانوں کو جہاں دیگر حسیات سے نوازا ہے، ان میں ایک جمالیات کی حس بھی ہے، رب کائنات کی ذات جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتے ہیں، انسان خلیفۃ الارض ہے تو وہ بھی زمین کے ہر شے میں جمال تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اسے قوت گویائی ملی تو روزمرہ کی ضرورت کی بات چیت کے بعد اس نے شاعری کی جانب توجہ دی، شاعری جو سراپا جمال ہے انسان کی جمالیاتی حس اس کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔
میں بنیادی طور پر نثر کا آدمی ہوں لیکن ادب کے ایک ادٰنی طالبعلم کی حیثیت سے شاعری سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، مجھے بھی اچھے اشعار متاثر کرتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے اکثر اچھے اشعار دماغ کے نہاں خانوں میں جا کر ایسے پیوست ہو جاتے ہیں کہ وہ میری نثر میں خودبخود اپنی خوبصورت سی جگہ بنا لیتے ہیں۔ شاعری کے بارے میں میرا ذاتی فلسفہ بڑا سادہ سا ہے کہ دل سے بات نکلے اور دل میں جا گھر کرے یا یوں کہیں کہ ہمارے اردگرد کے حالات و واقعات کو یوں بیان کریں کہ گویا میرے دل کی آواز ہے۔
وحید نور لیاری کے ایک ایسے ہی فرزند ہیں جنہوں نے اپنے منفرد لب و لہجے اور بلند آہنگ سے صرف مجھے ہی نہیں، ہر اچھے شعری ذوق رکھنے والے فرد کو چونکا دیا ہے، بقول مبارک قاضی وحید نو ر فن کی اس بلندی پر ہیں جہاں عطا شاؔد، منیر مومؔن، ن۔ م۔ دانؔش، میر ساگؔر اور منظور بسمؔل جیسے دیوقامت موجود ہیں جن کے متعلق لکھتے یا کہتے ہوئے حقیقت میں دستار کو سنبھالنے کی حاجت ہوتی ہے کہ اس قدر بلند قامت ہیں یہ پراگندہ طبع لوگ۔
وحید نو ر نے جس طرح اپنے پیشے قانون دانی میں جس حد تک انصاف کیا، جس طرح وہ وکلاء تحریک یا انسانی حقوق کی بالادستی کی تحریک میں گرجتے برستے ہراول دستے میں نظر آئے، ویسے ہی ان کے اشعار میں بھی وہ جابجا گرجتے برستے نظر آتے ہیں۔ مجھے پہلی بار 2017 میں کسی نے وحید نور کے کلام سے متعارف کرایا جب میں لیاری کے نوجوانوں کے کارہائے نمایاں پر کچھ تحقیقی کام کر رہا تھا، جب میرے سامنے وحید نور کا یہ شعر آیا۔
آپ اس کو بھی بغاوت سمجھے۔ ہم نے تو صرف گزارش کی تھی
اور پھر جب یہ اشعار سننے کو ملے۔
تیرگی! کیا بنے گا اب تیرا
استعارہ ہے روشنی میرا
یا پھر
میں چوک کا بت نہیں بنوں گا
دلوں کے اندر سجاؤ مجھے
مجھے تو گویا وہ روشنی کا منبع مل گیا جہاں سے لیاری کے نوجوان منور ہو رہے تھے، میں نے وحید کو ایک نئے نظر سے دیکھا، اس کی شاعری کے نئے مفاہیم مجھ پر وا ہوئے، مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہی وہ آگ ہے جو لیاری کے تابناک ماضی کو ایک بار پھر منور کر رہی ہیں۔ میں نے پہلی فرصت میں وحید نور سے ملاقات کی ٹھانی اور میری خوش نصیبی کہ لیاری کے چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا محترم جناب رمضان بلوچ صاحب کی ایک کتاب کی رونمائی میں وحید نور سے ملاقات کا موقع ملا اور پھر میں گویا اس نوجوان کی شعلہ بیانی کا اسیر ہو گیا۔
بہت جلد وحید نور کی خون جگر سے سینچی ”سکوت بول پڑا“ کا مطالعہ کیا اور بار بار کیا یہاں تک کہ کتاب کے پیشتر صفحات آج تک نشان زد مڑے ہوئے ہیں کہ ان میں منٹو کے الفاظ میں آتش پارے رقم ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میؔر خدائے سخن ہیں اور ناقدین ادب نے مختلف ادوار میں ان کے بہتر نشتر منتخب کیے ہیں کہ جنہیں ہر دور میں شاعری کی اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا ہے لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ اگر تعصب کی عینک اتار کر وحید نور کے کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے اور خصوصاً ان معروضی حالات کے پس منظر میں ان اشعار کو دیکھا جائے تو یہ کسی طور پر بھی بہتر نشتر سے کم نہیں ہوں گے ، ہو سکتا ہے کہ بعض احباب کو اس میں مبالغہ آرائی محسوس ہو لیکن میں پھر یہی کہوں گا کہ تعصب سے بالاتر ہو کر اور معروضی حالات کو دیکھ کر قلب و نظر کی وسعت سے ان کا مطالعہ کیا جائے۔
پروفیسر سحر انصاری عصر حاضر کے ایک بڑے ناقد ہیں، وہ وحید نور کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ وہ ایک روشن خیال، انسان دوست او ر ترقی پسند شاعر ہیں اور معاشرے میں رونما ہر نا انصافی انہیں بولنے پر مجبور کرتی ہے، جب وہ بولتے ہیں تو اہل زبان نہ ہونے کے باوجود اردو میں اس خوبی سے وہ اپنا مطمح نظر پیش کر دیتے ہیں کہ اچھے اچھے اہل زبان بھی منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
حقیقیت تو یہ ہے کہ میں نے اپنی فطری کاہلی کے باعث عطا شاد کو نہیں پڑھا تھا، ن۔ م۔ دانش کو اپنے مادر علمی کو اپنے مادر علمی میں اپنے آس پاس پایا، ان کے ساتھ نشستیں ہوئیں، ان کے لیکچر اٹینڈ کیے اور اس دوران ان کی شاعری بھی سنی اور پھر ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ ہم اہالیان لیاری بھی ادب کی دنیا میں اپنا ایک الگ منفرد اسلوب بیان رکھتے ہیں، خواہ میدان نثر کا ہو یا نظم کا ، نادر شاہ عادل، عبداللطیف بلوچ، رمضان بلوچ اور عیسی ٰ بلوچ جیسے جغادری مشاہیر کو پڑھنے کا موقع ملا تو ثابت ہوا کہ وحید نو ر اپنے انہی اساتذہ کا علم بڑی شان سے سربلند کیے آرہے ہیں۔
وحید نور کہتے ہیں کہ۔
سب کچھ آنکھوں دیکھا ہے، یہ اخباروں کی بات نہیں۔ زندہ ہونٹوں کے قصے ہیں، دیواروں کی بات نہیں
تو میرے سامنے عمیر عبدالرزاق آ کھڑے ہوتے ہیں، یہ بھی ایک ایسے ہی نوجوان ہیں جنہوں نے لیاری کے سیاہ دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہاں کے عام انسانوں کی تکالیف سے خود بھی گزرے لیکن جب قومی میڈیا ان تکالیف اور مصائب کو کسی اور رنگ میں پیش کیا تو وحید نظم میں اور عمیر نثر میں چلا اٹھے اور لیاری کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے لگے۔
وحید یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ۔
فلک کا ٹوٹا ہوا ستارا تجھے گوارا، مجھے نہیں ہے۔ یہ تیرگی کا نیا اشارہ تجھے گوارا، مجھے نہیں ہے
میرے لیاری کے نوجوانوں کے جذبات جو تشدد اور پر آشوب دور کے بعد بھڑک رہے تھے، انہیں وحید نے کچھ یوں زبان دی۔
ہیں دوست بھی دشمنوں کے صف میں۔ مرے عزیزوں! بچاؤ مجھ کو
اسی دور میں لیاری بہت سے لوگوں کے لئے سونے کی کان بنا ہوا تھا جس کے نام پر بہت سے نام نہاد این جی اوز ان نوجوانوں کے جذبات کو اپنی دکانداری کے لئے استعمال کرنے لگے تو وحید نور کے وجدان نے ہی انہیں للکارا۔
میں خاک ہوں، میں خاک ہی میں خوش ہوں۔ نہ مسندوں پہ بٹھاؤ مجھ کو
محبتیں ہی مرا ہنر ہیں۔ محبتیں ہی سکھاؤ مجھ کو
آج میں جب لیاری کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ جس دور میں وحید نور خود بھی جدوجہد کے مراحل سے گزر رہا تھا یہاں تک کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی بھگت رہا تھا، ایسے میں بھی اس کی قوت مشاہدہ کیا ہی زبردست طریقے سے کام کر رہی تھی کہ اس نے لیاری کے نوجوانوں کے مستقبل کی تصویر کشی کی اور آج وہی نوجوان پاکستان سمیت پوری دنیا میں محبتوں کا تحفہ بکھیرتے نظر آ رہے ہیں، وحید نور کا ایک فلمی نغمہ لیاری کے ہر نوجوان کے دل کی پکار بن چکا ہے۔
خواب جل رہے ہیں راکھ ہے۔ دھواں دھواں ہے۔ کوئی ہے مسیحا تو کہاں ہے۔ یہ بستی ہے لیاری
گیت کیا ہے لیاری کا نوحہ ہے لیکن اس پکار کا جس طرح لیاری کے جوانوں نے جواب دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ کسی بھی شاعر کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ وہ وقت کی نبض تھام کر اس کا مرض بیاں کرے اور چارہ گر اس کا علاج کریں۔
وحید نور کے مجموعہ کلام ”سکوت بول پڑا“ کا عنوان میری نظر میں بڑا معنی خیز ہے، پروفیسر سحر انصاری اور قاضی مبارک جیسے نابغہ روزگار ہستیوں کی تحاریر کے بعد میرا جواز تو نہیں بنتا کہ میں وحید نور کے کلام کے فنی محاسن کا کوئی ذکر کروں لیکن اس عنوان نے مجھے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ یہ سکوت دراصل وہ سکوت ہے جو ایک مخصوص آمرانہ طرز فکر کے حکمرانوں نے دور آمریت میں بھی اور نام نہاد جمہوری ادوار میں بھی لیاری کے نوجوانوں کے زبان پر ہی نہیں بلکہ ان کے اذہان پر بھی یہی سکوت طاری تھا اور جب وقت آیا تو وحید کی زبانی یہ سکوت ایسا بولا کہ جس کی صدا چہار دانگ عالم میں سنی گئی کہ جب وحید پکارا۔
دیکھ غربت کو مٹانے سے غریبوں کا یہاں۔ کس صفائی سے صفایا ہوا رفتہ رفتہ
وحید مزید جب یہ کہتا ہے کہ۔
زندہ رہنا تھا مجھے ان بے حسوں کے درمیاں۔ رفتہ رفتہ میں بھی پتھر ہوتے ہوتے رہ گیا
اور پھر اس نے اپنے نوجوانوں کو کھل کر کہہ دیا۔
تیرگی، ان کا کیا بگاڑے گی۔ جو چراغ و کتاب رکھتے ہیں
یہ وہی انداز، وہی تیور ہیں جو کبھی لیاری کے مشہور زمانہ لینن گراڈ کی شان ہوا کرتی تھی، فرق صرف اتنا پڑا کہ اس زمانے کے لینن گراڈ کے بزرگوں کو مل بیٹھنے اور ان کے گرد پروانے ہمہ وقت منڈلاتے رہتے تھے اور آج وحید نور کو قلم و قرطاس کا سہارا لینا پڑا اور اس نے بڑی خوبصورتی سے اپنے جذبات و احساسات کو الفاظ کی ردا پہنا کر اہل نظر کے سامنے پیش کر دیا۔
وحید نور کے کلام کے اس پہلو پر بات کرنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ وہ صرف ایک انقلاب نو کا داعی ہے بلکہ اس کی شعلہ بیانی کے پیچھے اس کا ایک نرم و نازک جذباتی دل بھی ہے جو اپنے محبوب کے لئے کومل جذبات رکھتا ہے تاہم یہاں بھی اس کی پہلی محبت اس کی سرزمین بلوچستان ہی نظر آتی ہے جس کو وہ بڑے ہی پیار اور دلار سے یاد کرتا ہے، جس کے بیان میں اس کے لہجے میں ایک عجیب وارفتگی اور مٹی کی خوشبو واضح محسوس کی جا سکتی ہے جس کی محبت میں وہ کسی کی شرکت گوارا کرنے کو تیا ر نہیں، وہ فوراً اپنے روایتی جنگجو فطرت میں پکارتا ہے۔
یہ سب وسائل، یہ پھیلے ساحل، کروں میں کیسے حوالے اس کے؟ جو ہے ہمارا، نہ ہو ہمارا، تجھے گوارا مجھے نہیں ہے
وہ اپنی سرزمیں کے پہاڑوں کو کبھی نہیں بھولتا، کراچی میں رہ کر بھی اس کا دل ابھی تک بلوچستان کے پہاڑوں میں اپنے نوجوانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے جن کے لئے وہ کہتا ہے۔
جن کے ترانوں سے صحرا میں گل کھلتے دیکھے ہم نے۔ کیوں ہونٹوں پہ تیرے اے دنیا ان پیاروں کی بات نہیں؟
آج جب ہم طرف سی پیک کے نعرے بلند ہوتے سن رہے ہیں اور بلوچستان کی ترقی صدائیں بلند ہو رہی ہیں تو وحید نور کے وجدان نے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔
یہاں اس جگہ، اپنا گھر تھا کبھی۔ ترقی جسے نوچ کر کھا گئی
پہلے جو کی سو کی مگر اے دوستوں سنو! ۔ تم اب جو کر رہے ہو یہ سازش بھی کم نہیں
قارئین کرام! میں وحید نور کو جتنی بار پڑھتا ہوں، ہر بار مجھے اس میں نئے گنجینۂ معانی نظر آتے ہیں اور میں اگر اسی طرح قلم برداشتہ لکھتا رہوں تو صفحات کے صفحات کالے ہوجائیں لیکن وحید نور بلند پروازی اور وجدانی کیفیت کو بیان نہ کر سکوں تو آئیے وحید نور کے الفاظ میں ہی اس تحریر کا اختتام کریں۔
تمہارا نام بھی تاریخ کا حصہ بنے شاید۔ کوئی پرامن سا بچوں کو تم ماحول دے دینا۔
—


