انتخابی منشور: وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
منشور وہ تحریر جس میں کسی جماعت کے اصول اور مقاصد درج ہوں، یعنی ایسی دستاویز جس میں کچھ حقوق و فرائض اور اقتدار و اختیار کو تسلیم کیا گیا ہو۔ منشور کو آسان الفاظ میں پالیسی اور مقاصد کے عوامی بیان، خصوصاً سیاسی جماعت یا امیدوار کی طرف سے انتخابات سے پہلے دیا گیا بیانیہ۔ منشور دو طرح کے ہوتے ہیں، 1۔ تاسیسی۔ جو سیاسی جماعت کے قیام کے موقع پر جاری ہو، جس میں جماعت کے اغراض و مقاصد اور رہنما اصول بیان کیے جائیں۔
یہ منشور مستقل نوعیت کا ہوتا ہے، تاہم حالات کے تقاضوں کے مطابق اس میں تبدیلی یا ترمیم ہوتی رہتی ہے۔ 2۔ انتخابی منشور، جو انتخابات سے قبل عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جس میں مختلف امور، معاملات یا مسائل پر متعلقہ جماعت کا نقطہ نظر اور انتخابات میں کامیابی کے بعد ان پر کس طرح عملدرآمد کیا جائے گا۔ منشور کو ایک لائحہ عمل بھی کہا جا سکتا ہے۔
جمہوری نظام میں انتخابی منشور، ہی کے ذریعے سیاسی جماعتیں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی سوچ اور فکر تک رسائی حاصل کرتی ہیں اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور برسراقتدار آنے کے بعد وہ اپنے منشور کے مطابق عملدرآمد بھی کریں گی۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں انتخابات کے دوران منشور کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے۔ عوام نہ تو آنکھیں بند کر کے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں نہ ہی سیاسی پارٹیاں منشور کے بغیر میدان عمل میں اترتی ہیں۔ ہماری اشرافیہ نے عوام کو اتنے طبقات میں تقسیم کیا ہوا ہے کہ ان کی اجتماعی طاقت ختم ہو کر رہ گئی ہے اور وہ انتخابات میں پارٹی منشور دیکھے بغیر محض ذات، برادری، قومیت، نسل اور ذاتی مسائل کے حوالے سے اپنے ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل 1946 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے پاکستان کے مطالبے پر مبنی منشور نے برصغیر کے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی۔ اس منشور کی اثر انگیزی کا یہ عالم تھا، کہ اس نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ نچلی ذات کے ہندو، عیسائی اور دیگر چھوٹے مذاہب کے پیروکاروں کو بھی متاثر کیا۔ اس منشور میں مسلم لیگ نے یہ باور کرایا کہ اقلیتوں کے حقوق اونچی ذات کی ہندو اکثریتی حکومت کے مقابلے میں مسلم اقلیت کے ہاتھوں میں زیادہ محفوظ رہیں گے، جو خود بھی اس اکثریت کے مظالم کا شکار رہی ہے۔ 1946 ء کے انتخابات میں تمام مسلم نشستوں پر کامیابی، اس امر کا بین ثبوت تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے مسلم لیگ کے منشور کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کیا ہے۔
منشور کی اثر انگیزی کی دوسری مثال، 1970 ء کے عام انتخابات میں دیکھنے میں آئی۔ پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ، کی کامیابی ان کے منشور کی رہین منت تھی۔ پیپلز پارٹی کے منشور میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔ دیگر نکات ”اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہمارا نظریہ ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے“ تھے، مگر ان سے کہیں زیادہ پرکشش نعرہ ”روٹی، کپڑا اور مکان“ تھا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے اپنے چھ نکات کی بنیاد پر انتخابی مہم منظم کی۔ یہ چھ نکات جس بھی ذہن رسا کی تخلیق تھے، عوامی لیگ کو مشرقی پاکستان میں ایسی کامیابی سے ہم کنار کیا جو بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوا۔
1977 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان قومی اتحاد، مد مقابل تھے۔ پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخابی منشور دہرانے پر اکتفا کیا۔ جب کہ قومی اتحاد نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور قیمتوں کو 1970 ء کی سطح پر واپس لانے کے وعدے کیے۔ بعد ازاں آمرانہ اور جمہوری ادوار میں کئی مرتبہ انتخابات ہوئے، مگر ٹھوس اور متاثر کن منشور نظر نہ آئے۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ملک فہم و فراست کے حامل سیاستدانوں سے محروم ہوتا چلا گیا اور ان کی جگہ ان سیاستدانوں نے لی، جن کی سیاست الزام تراشی اور مخالفین کی کردار کشی کے گرد گھومتی رہی۔
اسی طرح قوم پرستی، علاقائیت، فرقہ واریت اور لسانیت کے چرچے رہے۔ ان حالات میں غیرمعمولی دانش، تدبر اور فراست کے آئینہ دار منشور کی گنجائش کہاں ممکن تھی؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام انتخابی منشوروں پر توجہ نہیں دیتے۔ جہاں سیاست، شخصیات کے گرد گھومتی اور مختلف بالادست قوتیں انتخابی عمل پر اثرانداز ہوں، وہاں صاف ستھری، حقائق پر مبنی سیاسی روایات فروغ نہیں پا سکتیں۔ سید ضمیر جعفری نے ”میرا، انتخابی منشور“ کے عنوان سے ایک نظم کہی تھی وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منشوروں کی حقیقت کی عکاس ہے۔
خوشا اے ووٹرو! لو میں بھی اک منشور لایا ہوں
تمناؤں کی بھوری بیریوں پر بور لایا ہوں
نئے اسلوب سے جز بندی کار جہاں ہو گی
مرے سب ووٹروں کے گھر میں راشن کی دکاں ہو گی
اقبال عظیم کے الفاظ میں :
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
انتخابات 2024 کے لئے سیاسی جماعتوں نے جو وعدے کیے گئے ہیں ان پربھی نظر ڈال لیتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے منشور میں 300 یونٹ مفت بجلی، تنخواہیں دگنی، مستحقین کے لئے مکانات، بھوک مٹاؤ پروگرام، وظائف، ہیلتھ انشورنس پروگرام وغیرہ شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کا انتخابی سلوگن ”چنو نئی سوچ“ ہے۔
مسلم لیگ (ن) کا منشور ”پاکستان کو نواز دو “ کے عنوان سے جاری ہوا، جس میں آرٹیکل 62، 63 کی اصلی حالت میں بحالی، عدالت، قانون اور انصاف کے نظام میں اصلاحات، نیب کا خاتمہ، ضابطہ فوجداری 1898 ء اور 1906 ء میں ترامیم، ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی، معاشی ترقی، امن، باہمی احترام کی بنیاد پر بھارت سے تعلقات کی استواری وغیرہ۔ آئندہ مالی سال میں مہنگائی میں 10 فیصد کمی جبکہ چار سال میں مہنگائی کو چار سے چھ فیصد، پانچ سال میں ایک کروڑ ملازمتیں، تین سال میں اقتصادی شرح نمو چھ فیصد، جبکہ پانچ سال میں غربت میں 25 فیصد تخفیف اور فی کس آمدنی دو ہزار ڈالر تک بڑھانے کا عزم۔
تحریک انصاف کے منشور میں وزیراعظم کا براہ راست انتخاب، نیا پاکستان اور تبدیلی نظام، اسمبلی کی مدت 4 سال اور سینیٹ کی مدت پانچ سال کرنا، عوام کے بنیادی حقوق کے لئے کریمنل پروسیجر کی تبدیلی۔ اداروں کی نجکاری، صحت کارڈ اور سولر پر توجہ دینا۔ انتخابی سلوگن ’ایک قوم ایک قانون، سب ہوں گے برابر‘ ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے منشور میں اسلامی معاشرے کا قیام اور مدارس کی قومی دھارے میں شمولیت، ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کی مفت فراہمی، مزدور کی تنخواہ 50 ہزار، 300 یونٹس بجلی مفت، عوام کے لیے کم لاگت رہائشی منصوبے، موٹرسائیکل سواروں کو آدھی قیمت پر پیٹرول کی فراہمی، یوتھ اور خواتین کے لئے آسان شرائط پر بلاسود قرضے اور ملازمتوں کی فراہمی شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کے منشور میں غیر اسلامی قوانین، جاگیر داری، سودی معیشت، کرپشن، فحاشی و عریانی کا خاتمہ، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے حتمی، اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو، جمعہ کی چھٹی کی بحالی، شرعی سزاؤں کے نفاذ و دیگر اقدامات سے جرائم کی بیخ کنی کا موثر نظام، عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں، ماورائے آئین و عدالت گرفتاریاں، قتل اور لاپتا کرنے کا سلسلہ بند اور مساجد و مدارس کا مکمل تحفظ شامل ہے۔ ”اسلامی پاکستان، خوش حال پاکستان اور مضبوط پارلیمنٹ“ اس کا سلوگن ہے۔
ایم کیو ایم کے منشور میں ضلعی خود مختاری کے حصول کے لیے 3 آئینی ترامیم، نوجوانوں کے ذریعے 100 بلین ڈالر زر مبادلہ کما کر پاکستان کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے چنگل سے آزاد کرانا، انکم جنریشن پروگرام کا قیام، 10 سال کے لیے تعلیمی اور ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ، جبری گمشدگیوں اور 24 گھنٹے سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قانون پر عمل درآمد شامل ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک پاکستان نے اپنے انتخابی منشور میں اسلامی معاشرے کے قیام کے علاوہ حقوق نسواں کے تحفظ اور ان کے لیے روزگار کے مواقع یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔


